رائے عامہ بنانے والے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں چند شہرت یافتہ لوگ ہماری مجموعی سوچ پر اثرانداز ہو کر ہماری رائے بدلتے ہی نہیں بلکہ اپنے لحاظ سے ایک خاص پیرائے میں عوام کی رائے بنا بھی دیتے ہیں۔

پھر اس رائے کو اپنے خاص مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی کو بھی ہیرو بنانا ہو کسی کی بھی تذلیل کرنی ہو کسی بھی خبر کو پردے سے غائب کروانا ہو یا کسی بھی خبر کو اپنا بہت بڑا کارنامہ بنا کر پیش کرنا ہو۔ ایسے لوگ بروئے کار لائے جاتے ہیں۔ انہیں اخلاقیات سے یا پھر ٹھیک غلط کی کچھ رتی برابر پرواہ نہیں ہوتی۔ کیونکہ انہیں تو صرف پیسے سے غرض ہوتی ہے۔ وہ شے چاہے عوام کے مفاد میں ہو یا نہ ہو انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتی۔

ہم لوگ شیمپو، صابن، کاسمیٹکس، گھریلو استعمال کی اشیاء تک ٹیلی ویژن یا پھر سوشل میڈیا پر آنے والی اشتہاروں سے influence ہو کر خریدتے ہیں۔ عوام کو influence کرنے کے بدلے وہ بھاری مقدار میں معاوضہ جات لیتے ہیں۔ جو کہ غلط بھی نہیں ہے کیونکہ ہمارا معاشرہ آئیڈیل معاشرہ نہیں ہے جہاں سلیبریٹیز صرف اس چیز کو ہی endorse کریں گے۔ جس چیز کو وہ اپنے لیے بہتر سمجھتے ہوں۔ جو وہ خود استعمال کرتے ہوں یا جو چیز واقعی سود مند بھی ہو۔ لیکن ادھر تو اپنی شہرت کو منہ مانگے داموں بیچا جاتا ہے۔

یہ شہرت یافتہ لوگ کیسے اثرانداز ہوتے ہیں اس کی چند ایک مثالیں پیش کرتا ہوں۔

2019 میں جب بھارت میں الیکشن ہونے جا رہے تھے تو اس سے تقریباً آٹھ نو مہینے پہلے بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کی ایک ٹیم بالی وڈ سٹارز کے پاس گئی۔ کہ ہم آپ کو کروڑوں روپے صرف اس شے کے دیں گے کہ آپ نے وزیراعظم مودی کے حق میں بھرپور تحریک چلانی ہے۔ تاکہ آپ لوگ عوام کی رائے پر اثرانداز ہو سکیں۔ آپ لوگوں کی وجہ سے مودی کے حق میں الیکشن سے قبل دوبارہ سے رائے بنائی جا سکے۔

اس کام کے لیے خزانوں کے منہ کھول دیے گئے اور دوسری طرف سٹارز نے اپنے منہ کھول کر بڑھ چڑھ کر اپنے دام لگوانے شروع کر دیے۔ سوائے چار فلم سٹارز کے کسی نے بھی اس کو غلط، غیر قانونی اور unethically نہیں کہا۔ بلکہ ان سلیبریٹیز نے ایسے ایسے مشورے دیے جو شاید ”بی جے پی“ کی ٹیم خود بھی نہ سوچ سکتی تھی۔ اور ان کے وہم و گمان بھی نہ تھے۔ اس ٹیم کو کہا گیا کہ ہم ایسے ایسے طریقوں سے مودی صاحب کی پبلسٹی کریں گے کہ لوگوں کو شک بھی نہیں پڑے گا اور کام بھی ہو جائے گا۔

اس پبلسٹی سٹنٹ میں انہیں کہا گیا تھا کہ یہ سب خفیہ طور پر کیا جائے گا۔ کنٹریکٹ بھی خفیہ ہو گا۔ کسی کو نہیں بتایا جائے گا آپ یہ سب پیسے لے کر کر رہے ہیں۔ بلکہ آپ دکھائیں گے یہ سب آپ کے دل کی آواز ہے۔

جیکی شرف نے کہا جو کام آپ کروانا چاہتے ہیں اس کے لیے تو آپ کو تجوریوں کے منہ کھول دینے چائیے۔

سنی لیون نے کہا کہ میرے شوہر کو انڈیا کی شہریت دلوا دیں۔ میں مودی جی کی بھرپور کمپئین چلاؤ گی۔

مہیما چوہدری فرمانے لگی اگر آپ اس کام کے لیے آئے ہیں۔ تو ضرور دان بھی زیادہ دیں گے آپ کم از کم ایک کروڑ تک تو پیسے دیں۔

سونو سود کو ڈیڑھ کروڑ کم لگے انہوں نے ڈھائی کروڑ کی مانگ کی تھی۔

کیلاش کھیر نے سر لگایا کہ میں ایسے انداز میں مودی صاحب کی امیج بلڈنگ کروں گا لوگوں کو شک بھی نہیں پڑے گا کہ میں پیسے لے کر یہ سب کر رہا ہوں۔

یہ سارا پیسہ بلیک منی تھا۔ جو انہیں کیش میں ملنا تھا۔ صرف دس سے بیس فیصد وائٹ میں ملنا تھا۔ تاکہ کچھ حساب رکھا جا سکے۔ اس پر بھی کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ بلکہ اعتراض تھا تو یہ کہ دس بیس فیصد بھی کیش میں ہی کر دیں اس کا بھی کیوں تکلف کرنا۔

یہ چند ایک مثالیں ہیں ایسے تین درجن کے قریب مثالیں ہیں۔ اس کام کو اپنی اخلاقیات اور اصولوں کے خلاف جن چار لوگوں نے گردانا اور اس سے انکار کیا۔ ان میں ارشد وارثی اور وڈیا بالن قابل ذکر ہیں۔

پاکستان میں بھی مخصوص لوگوں کی جانب سے اس رائے بنانے کے عمل کو ہمیشہ سے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

پہلے ہمیں پڑھایا جاتا سکھایا جاتا تھا اور بتایا جاتا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد ہندوؤں سے بھی زیادہ مسلمانوں پر تشدد سکھوں نے کیا تھا۔ سکھوں نے ٹرینیں لاشوں سے بھر دی تھیں۔ بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی تھی۔ آپ پنجاب میں کسی بھی بزرگ سے مل لیں وہ تمام واقعات و حادثات آپ کے سامنے کھول کر رکھ دیں گے۔

اب تازہ مثال کرتارپور راہ داری کی دیکھ لیں۔ اس کے بننے سے کر بننے تک اور اس کے بعد اب تک ہمیں سکھوں سے محبت ہونی شروع ہو گئی ہے۔ وہی سکھ جو ہمیں اپنے دشمن لگتے تھے۔ اپنے قریبی ہمسائے محسوس ہونے لگے۔ ہمیں لگنے لگا یہ تو ہمارے اپنے ہی ہیں جو بس لکیر کھینچ جانے پر اس طرف رہ گئے تھے۔ اپنی دانست میں ہم سمجھ رہے ہیں ہم یہ سب خیر سگالی کے تحت کر رہے ہیں۔ لیکن کبھی سوچا ایک دم سے اتنا پیار کہاں سے امڈ آیا تھا۔ وہ ظالم و سفاک سکھ ہمیں اچانک سے کیونکر اچھے لگنے لگ پڑے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا کے ذریعے ہمارے رائے بنائی۔ اور ہم اس رائے کو خود پر مسلط کرکے چل پڑے۔ وہ چاہے رائے بنانے میں خالصتان کی پکھ لگائی گئی ہو یا پھر ہندوستان کو کمزور کرنے سے دل کو بہلایا گیا ہو۔

ایسا ہی کام 2011 میں تحریک انصاف کو ری لانچ کرتے وقت کیا گیا تھا۔ مین سٹریم میڈیا میں باقاعدہ منصوبے کے تحت انہیں وقت دیا جاتا۔ ان کو ایکسٹرا کوریج دی جاتی۔ ان کی فضا بنائی گئی تاکہ ان کو سازگار موسم بلے بازی کے لیے دستیاب آ سکے۔

آزاد معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا۔ آزاد معاشروں میں لوگوں کے سوچنے سمجھنے پر قدغن نہیں ہوتی۔ وہاں لوگ آزادانہ سوچ رکھنے کے اہل ہوتے ہیں۔ انہیں کسی طرح کے بھی تمسخر اور تذلیل کا نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ ان کی بیہودہ انداز میں ٹرولنگ نہیں کی جاتی ہے۔ تب ہی وہاں کے دماغ دنیا کے بہترین دماغ مانے جاتے ہیں وہاں کسی کو بھی تنقید سے منع نہیں کیا جاتا بلکہ مثبت تنقید کو سراہا جاتا ہے۔ وہاں مخالف سوچ رکھنے والوں کو بھی آگے بڑھنے کے یکسر مواقع میسر کیے جاتے ہیں۔ ناکہ ان پر بہتری کے تمام راستے بند کردیے جائیں اور بعض اوقات تو مخالفین کو سپرد خاک بھی کر دیا جائے۔ کیونکہ یہاں سوچ کو رائے کو دوسروں پر مسلط کیا جاتا ہے پھر کیونکر کوئی آزاد سوچے یا اپنی رائے رکھے۔ جب تک ہم آزاد معاشرہ نہیں بن جاتے۔ جب تک ہمیں سوچنے اور آزادانہ رائے رکھنے کی آزادی میسر نہیں آتی۔ ہم لوگ ایسے ہی influence ہوتے رہیں گے۔ ایسے ہی کوئی ہم پر اپنی رائے مسلط کرتا رہے گا۔ ہم اپنی دانست میں اس کو اپنی سوچ مان کر اس پر چلتے رہیں گے۔ آزادانہ سوچنے کی طرف کبھی دھیان ہی نہیں دیں گے۔ تب تک آئیں اس اجتماعی سوچ پر ماتم کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *