کیسا کرونا، کیسی وبا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک صاحب مجھے دیکھتے ہی کہا کہ میں تو پہلے دن سے ہی کہ رہا تھا کہ یہ کورونا، یہ وبا کچھ بھی نہی یہ سب ڈرامہ ہے۔ مجھے میرے بھانجے نے انٹرنیٹ سے معلوم کر کے بتایا کہ یہ اس کے پیچھے ایک ایجنڈا ہے، دنیا کے تمام لوگوں کو خوف میں مبتلا کر کے اطاعت کے لیے آمادہ کرنا ہے جس کے بعد پوسٹ کورونا ایک ”جدید عالمگیریت“ کے دور کی شروعات ہوگی۔ جس میں ایک ویکسین کے ذریعے انسانی جسم میں نینو ٹیکنالوجی کہ بدولت ایک چپ داخل کی جائی گی جس سے انسانوں کو موبائل فون یا کمپیوٹر کہ ذریعے باقی زندگی میں کنٹرول کیا جائے گا۔ اس کے لیے دنیا کی بیشتر ممالک کو بھاری فنڈنگ دی جا رہی ہے ان کے بدلے میں ان ممالک کی حکومتوں کو کورونا کے رونے کا کھیل کھیلنے کے لیے ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔

بس یار بٹ صاحب! میں تم کو اس سے زیادہ کیا بتاؤں یہ ایک بنا بنایا ڈرامہ ہے۔ اب تم خود ہی بتاؤ کہ وہ ہمارا ہمسایہ چوہدری بشیر جو تھا، وہ چند روز پہلے کیا کورونا کی وجہ سے فوت ہوگیا تھا؟

ارے بٹ صاحب! تم کیا بتاؤگے تمہیں تو ان ساری باتوں کا پتا ہی نہی ہے، آؤ یہاں قریب آکر صوفے پہ آرام سے بیٹھو اور اب یہ ماسک تو اتارو نہ! بعد میں یہاں سے جاتے ہوئے بیشک پہن لینا۔

ارے یار بٹ صاحب! تم بھی نہ عقل مند ہوتے ہوئے عام لوگوں کی طرح کورونا کہ خوف سے وہم اور وسوسوں کا شکار بن گئے ہو۔ مجھے دیکھو میں نہ پہنوں یہ ماسک، نا ہی لگاؤں وہ سینی ٹائر (سینیٹائزر) ۔ بس اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی زندگی ہے، اس کو اسی کی مرضی سے ہی گزارنا چاہیے۔ اگر وہ کسی دن ہم سے زندگی چھین لے گا، تو ہم بھلا اس کے آگے کیا کر سکتے ہیں۔ چلو اب آؤ تو بٹ صاحب! قریب آکر بیٹھو تو سہی میں نہ تو کوئی ڈاکٹر ہوں، نہ ہی تم کورونا پازیٹو ہو!

اری یار! اب تو ہم سب کو نیگیٹو کہلوانا بڑا اچھا لگتا!

جی ملک صاحب آپ نے بالکل صحیح فرمایا، آج کہ منفی دور میں تو منفی باتیں ہی اچھی لگتی ہیں ؛ خیر ایسی کوئی بات نہی ایک تو مجھے دھوئیں سے الرجی ہے، دوسرا آپ کو میں حقا پینے سے منع نھی کر سکتا، اس لیے آپ اپنی بات جاری رکھیں۔ مجھے یہاں سے آپ کی آواز اچھی طرح سے سنائی دے رہی ہے۔ آپ اس کو سماجی فاصلہ بالکل بھی نا سمجھیے گا۔ معذرت کے ساتھ! آپ کو اپنی بات کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ انٹرنیٹ پر آنے والی بر بات سچی نہ ہوتی اور اس کی سچائی ڈھونڈنے کے لیے مختلف ذرائع سے معلوم کر کہ بعد میں تصدیق شدہ معلومات کہ بنیاد پر کوئی حتمی رائے قائم کرنی پڑتی ہے۔

اب آپ ہی بتاؤ کہ کچھ دن پہلے انٹرنیٹ کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ یہ کورونا کا کھیل انسانی آبادی کو کم کرنے کے لیے کھیلا جا رہا ہے جب کہ صحت کے عالمی ادارے کہ مطابق موجودہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں نے اپنا زیادہ وقت گھروں میں گزارا ہے اور ان کی ”گھریلو سرگرمیوں، بشمول کوکنگ“ کی وجہ سے آئندہ ایک دو سال بعد آبادی میں خاصہ اضافہ ہوگا۔ اب آپ ہی بتائیں کس کی بات کو مانا جائے، صحت کے عالمی ادارے کی بات کو یا ان لوگوں کی افواہوں کو؟

ارے بٹ صاحب! چھوڑو ان فضول باتوں کو، میں اصل جو بات بتا رہا تھا وہ یہ ہے کہ وہ ہمارا ہمسایہ چوہدری بشیر جو کہ فوت ہوگیا تھا اس کی موت کا سبب لوگ تو کورونا کو ہی سمجھ رہے ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ چوہدری صاحب کی موت کا کارن (سبب) کوئی کورونا ہے۔ بٹ صاحب! مزے کی بات یہ ہے کہ اس کو تو کورونا کی کوئی علامت ہی نہی تھی۔ ۔ ۔ کچھ دن پہلے جب وہ صبح کی نماز پڑھ کر ساتھ والے پارک میں مجھ سے ہاتھ ملایا اور وہ تو اس وقت ماشاءاللہ بالکل ہی ہشاش بشاش لگ رہے تھے، چوہدری بشیر مجھے تو وہ پارک میں صبح کے وقت میں روزانہ ملتے تھے اور ہم چائے کے کپ پے روزانہ گپیں لگاتے تھے، اور بس اس دن بیچارا شوگر اور بلڈ پریشر کے مسائل سے تھوڑا پریشان تھا۔ یار اگر اس کو کورونا ہوتا تو کم سے مجھے تو بتاتا نہ! دو تین دن سے پارک میں واک کرنے نہیں آیا بعد معلوم ہوا کہ وہ بچارا تو فوت ہوگیا ہے۔ میں آج ہی ان کے بیٹوں سے فاتحہ کر کے آیا ہوں ان لوگوں نے بھی کورونا کا اتنا زیادہ کچھ نہیں بتایا بس یہ بتایا کہ کورونا ٹیسٹ پازیٹو تھا،

بٹ صاحب! یار کورونا ٹیسٹ تو آج کل ہم سب کا ہی مثبت آ رہا ہے۔ اب تم ابھی جا کے ٹیسٹ کر واؤ گے تو تمہارا بھی منفی نہی، بلکہ پازیٹو ہی آئے گا۔ بھلے لگا لو شرط! (ملک صاحب اپنا باتھ اوپر کرکے کہنے لگا۔ ۔ ۔ دے تالی۔ ۔ ۔ )

مین نے تو تالی دینے سے گریز کیا اور ملک صاحب کو عرض کیا کہ ملک صاحب ہمارے ملک میں کورونا کو مہلک وبائی وائرس کم اور کھیل زیادہ سمجھا جا رہا ہے۔ بیشتر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس میں بھی کسی ٹیسٹ میچ یا ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کی طرح کچھ دنوں بعد فائنل ہوگا اور کسی ایک ٹیم کو اس کے کیپٹن کے ہاتھوں ونر اپ کپ اور تمغے تھما دیے جائیں گے۔

لیکن ملک صاحب! یہ ایک جان لیوا وبا ہے اور پتہ نہیں کہ کب تک یا کئی سالوں تک ہم کو اس وبا کہ ساتھ ساتھ جینا بھی پڑیگا اور خود کو اور اپنے پیاروں کو بھی اس سے بچانا ہوگا۔ بس اب میں چلتا ہوں پھر ایک دو دن کی کہ بعد چکر لگاؤں گا۔ میں پیچھے کی طرح مڑ کر جانے لگا تو ملک صاحب اپنے آپ سے (انٹرا پرسنل کمیونیکیشن) کرتے ہوئے کہنے لگا کہ، ”کیسا کورونا، کیسی وبا، اب یہ کورونا کا کھیل کھیلا گیا ہے، تو کسی نہ کسی دن فائنل تو ضرور ہو گا“ ۔

کچھ دنوں بعد جب میں ملک صاحب کی بیٹھک پر گیا تو دیکھا وہاں ملک صاحب کے بیٹے اور کچھ لوگ نیچے بچھے ہوئے کارپٹ پر بیٹھے ہوئے تھے اور دعا مانگ رہے تھے اور جس صوفے پر ملک صاحب بیٹھتے تھے وہ بھی غائب تھے، میں بھی جا کر وہی بیٹھ گیا اور ان لوگوں کے بیچ دعا میں شامل ہوگیا جیسے دعا پڑھ کر باتھ منہ پر گھمایا تو، دعا میں شامل ایک ملک صاحب کا ہم عمر شخص اس کے بیٹے سے پوچھنے لگا کہ ”ملک صاحب کو اچانک ہوا کیا تھا؟“ تو اس کے بیٹے نے مختصراً جواب دیا ک، ”ابو کا کچھ دنوں سے کورونا پازیٹو آیا تھا!“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
صاحب خان بھنڈ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *