رنڈی اور مہذب سماج کا بدنما چہرہ


خان صاحب چلیں سب کچھ مل جائے گا ایک اجنبی سی آواز سن کر میں ایک دم چونک گیا گویا وجود میں ٹھنڈے پانی کا سیلاب امڈ آیا ہو آواز میرے عقب سے چلتی ہوئی کانوں کو ٹکراتے ہوئی دماغ تک سرایت کر گئی مڑ کر دیکھا تو ایک سترہ سالہ لڑکی نظر آئی جس کے ماتھے اور گول مٹول آنکھوں پر خوبصورت سیاہ بالوں کے شرارتی لٹھ بار بار آبشار کے پانیوں کی طرح گر رہے تھے۔

میں چند لمحوں کے لئے خاموش کھڑا رہا اور اس کے خدوخال کا جائزہ لیتا رہا اسی دوران لڑکی نے میری خاموشی کو توڑنے کے لئے ایک بار پھر ہلکی سی سرخی لگی پنکھڑی سی لبوں کو جنبش دی اور کہنے لگی۔

اوووئے! خان صاحب کہاں کھو گئے؟

دوبارہ اس کی آواز سن کر میں نے اپنی ساری توانائی یکجا کرنے کی کوشش کی کیونکہ میری زندگی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ تھا، کوئی دعوت تعلق دیے رہا ہو اور وہ بھی اجنبی شہر میں۔

اس دوران میرے حلق سے دبی ہوئی آواز نکلی کہاں جانا ہے؟

وہ گویا ہوئی ”وہاں جہاں میرے ساتھ اکثر لوگ جاتے ہیں آپ بھی ساتھ چلے پیسے کم لوں گی اور پولیس کا خطرہ بھی نہیں ہے اسٹیشن کے ساتھ ہی میں ہوٹل ہے بے فکر رہیں ہوٹل مالک اور پولیس کے ساتھ ہماری سیٹنگ ہے کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ”یہ تمام باتیں کسی زوردار طوفان کی طرح میرے وجود کو لرزا رہی تھی بالکل اسی طرح کہ جب قدرت ناراض ہو طوفان برپا کردیتی ہے۔

وہ مسلسل بولی جارہی تھی اس نے دوران گفتگو میرا ایک ہاتھ پکڑ لیا میں نے ہاتھ کھنچ کر چھڑایا اور اس سے کہا کیا کررہی ہوں لوگ دیکھ رہے ہیں۔ و ہ تھوڑی سی سہم سی گئی اور کہا چلو اس بینچ پر بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

اسٹیشن پر گہماگہمی تھی۔ جابجا ٹولیوں کی شکل میں لوگ کھڑے تھے مسافر اپنوں کے ساتھ الوداعی گلے مل رہے تھے۔ تو کہی پر لوگ اپنے پیاروں کی آمد کے منتظر تھے۔ ہم دونوں چہل قدمی کرتے ہوئے اسٹیشن کے انتظار گاہ تک جا پہنچے اور ایک خالی بینچ پر تشریف رکھتے ہی مختصر سی توقف کے بعد میں نوجوان لڑکی سے نصیحتاً پوچھا اب آپ کے پڑھنے کے دن ہے لیکن آپ اس دھندے میں لگی ہوئی آخر کیوں؟

”اوو چھڈ خان صاحب۔ ۔ ! وہ گویا ہوئی جب بھی کوئی مجھے ملتا ہے تو سب سے پہلے ہمدردی کے طور پر یہی کلمات ادا کرتا ہے، لیکن جیسے ہی بستر تک پہنچ جاتے ہیں، تو ہمدردی ہوس کی انتہا میں تبدیل ہوجاتی ہے، میرے گاہکوں نے جتنی بھی غیر اخلاقی فلمیں دیکھ رکھی ہوتی ہیں تمام داؤپیچ مجھ ہی پر آزمانے کی کوشش کرتے ہیں“

مجھے مجبور کرتے ہیں کہ میں ان کی ہر خواہش پوری کروں پھر یہ نہیں دیکھتے کہ میری عمر کیا ہے اور میں کیوں اس بازار میں ہوں۔

اس نے گفتگو کا سلہ جاری رکھتے ہوئے کہا

”خان صاحب! یہ جو معاشرہ آپ کو بڑا مہذب نظر آ رہا ہے اس مہذب معاشرے کے مہذب لوگ رنڈی کے کوٹھے پر غیر مہذب اور جنسی درندے بن جاتے ہیں“

میں اس کی باتیں غور سے سن رہا تھا اتنے غور سے کہ اسٹیشن کی گہما گہمی اب خاموشی میں بدل گئی تھی۔
نوجوان لڑکی گاہکوں کو بھیڑئے سے تشبہ دینے لگی

” یہ گاہک تو ہمارے جسم کو نوچ کر کھا جائیں، اس مہذب معاشرے کا امیر سے لے کر غریب تک اپنی ہوس کی پیاس بجھانے کی خاطر کوٹھے کا رخ کرتے ہیں یا اپنے محلات میں رنڈیوں کو بلاتے ہیں، صبح ہوتے ہی وہ پھر سے معزز اور ہم رنڈی بن جاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس مہذب معاشرے نے جس کو مردوں کا معاشرہ بھی کہا جاتا ہے نے ہمیں رنڈی کے خطاب سے تو نوازا ہے لیکن خود معزز کے نام پر ہی اکتفا کیے ہوئے ہے حالانکہ ہم جو کام پیسے لے کر کرتے ہیں وہی کام مرد پیسے دے کر کرتا ہیں۔ سوچنے کی بات ہے“

وہ مسلسل بولے جارہی تھی اب اس کی آواز میں اداسی کا عنصر بھی شامل ہونا شروع ہوگیا تھا میری توجہ حاصل کرنے کے لئے اس نے ایک بار پھر مجھے پکارا اور اپنی یادداشت پر زور دیتے ہوئے کہا۔

”خان صاحب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! چند سال پہلے میں اسی اسٹیشن پر سکول سے آنے کے بعد غبارے بیچا کرتی تھی اور بوڑھی ماں لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھ کر گزر بسر کرتی تھی۔ ایک دن سکول سے آنے کے بعد گھر میں ماموں کا بیٹا داخل ہوا اور میرے ساتھ زبردستی کی اور مجھے کم عمری میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اس دن کے بعد میری زندگی ختم ہوگی میں روز اس ریلوے اسٹیشن کا رخ کرتی ہوں بینچ پر بیٹھ کر اپنی قسمت کا رونا روتی ہوں۔ یہیں سے ایک دلال نے مجھے اس دھندے میں لگا دیا اب میں روز انہ چار پانچ مہذب آدمیوں سے ان کی ہوس اور اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر ہوس کا نشانہ بنتی ہوں“

آہ خان صاحب۔ ۔ ۔ ۔ !

جتنے بھی اس دھندے سے وابستہ عورتیں ہے ان میں سے اکثر کی کہانیاں بڑی درد ناک ہیں پر ہر دھندے والی عورت کی کہانی کا مرکزی کردار مہذب معاشرہ کا ایک مہذب شخص ہی ہوگا یہ جو مہذب معاشرہ ہے دراصل اس کا اصل چہرہ کالک زدہ ہے

تھوڑی دیر کے لئے اس کی باتوں پر اداسی نے غلبہ پالیا اور لڑکی کی باتیں ساکت ہوگئی لیکن چند لمحے بعد اس نے لاہور کی ڈھلتی گرم شام میں ایک سرد آہ بھری۔ آہ ایسی تھی کہ مجھے ڈر رہا لگا کہ کوئی آفت ہی نہ نازل ہو۔

”خان صاحب مدتوں بعد دل میں جمی غبار کو صاف کیا ہے اس کی گول مٹول آنکھوں کے پلکوں پر موتی جیسی آنسوؤں کی بوندیں کسی نایاب ہیرے کی طرح چمکنے لگیں۔

اندھیرا اپنی چادر پھیلا رہا تھا میں نے اسے الوداع کہا اور اپنی راہ لی۔

وہ روہانسی سی ہو گئی اور کہا سب چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اس دنیا میں ساتھ دیتا کون ہے۔

Facebook Comments HS