کنے کنے جانا بلو دے گھر: ابرارالحق کے لیے نیک خواہشات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل ابرار الحق صاحب کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے یہ خبر پڑھی کہ وہ کورونا کا شکار ہو گئے ہیں تو دل پریشان سا ہوگیا اور ساتھ ہی ماضی کی وہ یادیں بھی تازہ ہوگئی جو ان کے گانوں کی وجہ سے قائم ہوئیں۔

ہم بچپن میں یہ گانا بہت مزے سے سنا کرتے تھے ٹی وی پہ لگا ہونا تو بہت مزے کے ساتھ سننا اور پھر جب سکول میں آنا تو اس گانے کو عملی شکل دینا کہ بچوں کو لائن بنانے کا کہنا تو ”ٹکٹ کٹا لو لین بنالو، کنے کنے جانا بلو دے گھر“ ۔ ہمارے ایک دوست کی والدہ کا نام بلو تھا جب بھی اسے تنگ کرنا ہوتا تو سب دوست یہ گانے کا ورد شروع کردیتے اور وہ سیخ پا ہوجاتا تھا اور اس کی کوشش ہوتی تھی کہ میں ان سب کو مار دوں بس۔

پھر باری آتی ہے ”اج میلا ویکھن آیاں کڑیاں لاہور دیاں“ اس گانے کے ساتھ بہت خوبصورت یادیں وابستہ ہیں جب بھی کوئی لڑکی شہر سے گاؤں آتی یا کہیں کوئی باہر کی لڑکی نظر آجاتی تو یہ گانا زبان زد عام ہوتا کہ کڑیاں میلا ویکھن آیاں چاہے وہ ساہیوال ہی کی کیوں نا ہو۔

”تیرے رنگ“ اس گانے نے تو اس طرح اپنے سحر میں سننے والوں کو جکڑ لیا کہ جہاں جائیں یہی گانا چل رہا ہوتا تھا اور پھر اس کے ساتھ پوری ایموشنل اٹیچ منٹ ہوتی تھی اور میں نے جب یہ گانا سنا تو جو سر ہلا کر ناچ رہا تھا اسی دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ کوئی اتنی محبت میں گرفتار ہے۔

پی ٹی وی پر دن کے تین چار بجے گانے چلتے ہوتے تھے اور اس میں ابرارالحق صاحب کا گانا ”پردیسی ہویوں وے“ اکثر لوگوں کے دلوں پر وار کرتا ہوتا تھا۔ پردیس گئے لوگ بہت یاد آتے تھے اور مائیں یہ بول سن کر سوائے رونے کے کچھ نا کر سکتی تھیں ”اؤ امبڑی نوں تیری یاد مسیرا آوندی اے، گل لا کے فوٹو تیرا بک بک روندیں اے“ ۔ سہاگنوں کو یہ گانا زخموں کے اوپر نمک چھڑکنے جیسا لگتا تھا اور چوڑیاں اپنے پیاروں کے انتظار میں یہ گانا سنتے سنتے ٹوٹ جاتی تھیں۔

پھر گانا جو زبان زد عام ہوا ”پریتو میرے نال ویاہ کرلے“ ہمارے ایک دوست نے سکول جاتی لڑکی کو جب یہ آفر کروائی تو جب وہ واپس آیا تو اس کی بائیں گال لال تھی۔

ان کے قائد اعظم یونیورسٹی کے دوست بھٹی صاحب کی زندگی کے واقعات جتنی وہ خوش دلی اور اچھے انداز سے سناتے ہیں تو کتنے ہی لوگ اس سے محظوظ ہوتے ہیں اور وہ ایسا فنکارانہ انداز سے پیش کرتے ہیں کہ بندہ ہنسے بنا رہ ہی نہیں سکتا۔

ابرارالحق صاحب انسانیت کا دکھ رکھنے والی شخصیت ہیں مثلاً وہ مختلف فلاحی ادارے چلاتے ہیں اور انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ لیکن انسان کبھی غلطی بھی کر سکتا ہے اور میں احسن اقبال صاحب کے لیے بولے گئے ان کے الفاظ کو غلطی ہی سمجھتا ہوں۔

ہماری نیک خواہشات ابرارالحق صاحب کے لیے اور وہ جلد صحت یاب ہو کر خدمت کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ بھی کرتے رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *