مجھے چھوڑ دو، میرا دم گھٹ رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

‎امریکہ میں کسی سیاہ فام کی پولیس کے ہاتھوں موت کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، ایسے درجنوں واقعات ماضی میں ہو چکے ہیں لیکن اس واردات کے بعد ‎فسادات پھوٹ پڑے ہیں، یہ صرف اس سانحے کا رد عمل نہیں ہو سکتا، یہ ماضی میں ہونے والے اس نوعیت کے کئی واقعات کا ردعمل اور دہائیوں کی نا انصافی اور نسلی امتیاز کا غصہ ہے، بس ہوا یہ ہے کہ اس واقعے نے پہلے سے موجودسلگتی ہوئی چنگاریوں کو شعلوں میں بدل دیا ہے، لاوا پوری طرح پک چکا تھا اور یہ موت، اس آتش فشاں کے پھٹنے کا سبب بن گئی، اس سے پہلے 1991 میں روڈنی کنگ کو پولیس نے تشددکرکے قتل کر دیا جس کی ایک شخص نے ویڈیو بنا کر لوکل نیوز چینل کو بھیج دی۔

1999 میں ایماڈو ڈیال لو ( Amadou Diallo) کو پولیس نے ریپ کے شبہے میں کو 41 گولیاں مار کر وحشیانہ طریقے سے قتل کر دیا، 2006 میں نیویارک میں ہی شیان بیل کو، 2007 کیلیفورنیا میں بیکر فیلڈ کو، پھر شکاگو میں، میسوری، کینٹکی، فلوریڈا الغرض ایسے اندوہناک سانحات اور بے رحمی کا ایک نہ ختم ہونے ولا سلسلہ ہے۔ 1960 کی تحریک سے پہلے نسلی تعصب اپنی انتہا پر تھا، سیاہ فام طالبعلموں کو سکولوں کالجوں میں الگ بٹھایا جاتا تھا، بس پر ان کی نشستیں علیحدہ تھیں، ووٹ ڈالنے کے حق سے وہ محروم تھے، ملازمتوں کے دروازے ان پر بند تھے، تنخواہوں میں بے حد تفاوت تھا، ان کو ایک اچھوت خیال کیا جاتا تھا، ان کو کم فہم، کاہل، نالائق اور کند ذہن سمجھا جاتا تھا، سفید فام اپنے آپ کو اعلی اور برتر نسل خیال کرتے تھے، انیسویں صدی کا ایک سیاسی لکھاری جارج فٹر بورگ لکھتا ہے کہ ’نیگرو ذہنی طور پر نابالغ ہوتا ہے۔ لہذا اس سے بچوں کی طرح ہی برتاؤ کرنا چاہیے۔ غلام آزادی کی فضا میں پنپنے کے قابل نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ اور اس کا ذہن سست ہوتا ہے۔ اسں لیے وہ ذہین سفید فام نسل سے مقابلہ نہیں کر سکتا۔

‎انیس سو انتیس کا وہ دن کسی امریکن اور سیاہ فام کو نہیں بھول سکتا جب ایک سیاہ فام پادری کے گھر مارٹن لوتھر کنگ کی پیدائش ہوئی اور جس نے اپنی انتالیس سالہ زندگی میں امریکی تاریخ کا دھارا بدل دیا اور سیاہ فام کے حقوق کی تحریک کو جیسے پر لگ گئے، اس کی مشہور زمانہ تقریر کا یہ جملہ تو تاریخ میں محفوظ ہو کر ضرب المثل بن گیا کہ ”میرا ایک خواب ہے“ ، اس نے کہا کہ میرا خواب ہے کہ میرے چاروں بچے رنگ کی بجائے اپنے کردار سے پہچانے جائیں، اور ان چار طالب علموں کو کون بھول سکتا ہے جو 1960 کی تحریک کا سبب بنے اور اس کا نقطہ آغاز ثابت ہوئے، یہ چار طالب علم نارتھ کیرولینا کی ایک یونیورسٹی میں ایک ایسی میز پر بیٹھ گئے جو کہ سفید فام طالبعلموں کے لیے مخصوص تھی، ریسٹورنٹ نے اس ”جرم“ کی پاداش میں ان کو کھانا دینے سے انکار کر دیا، طالب علموں نے اٹھنے سے انکار کر دیا، ‎جم کرو ( Jim Crow ) قانون کے تحت سیاہ فاموں کے مخصوص ریسٹورنٹ، ہوٹل، اور تھیٹر الگ تھے اور اس قانون کے تحت ان کو سزا بھی ہو سکتی تھی، لیکن وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے، پھر یہ تحریک جو نہ صرف پوری امریکہ میں پھیلی بعد ازاں سیاہ فاموں کو کچھ حقوق اور انصاف دلانے کا سبب بنی۔

‎ اسی جدوجہد کے نتیجے میں انیس سو چونسٹھ کا شہری حقوق کا وفاقی قانون اور انیس سو پینسٹھ میں ووٹ کے مساوی حق کا قانون منظور ہوا۔ یہ دونوں قوانین اٹھارہ سو پینسٹھ میں تنسیخ غلامی کی آئینی ترمیم کے بعد سب سے اہم قانون تصور ہوتے ہیں۔

‎سیاہ فاموں نے شاید اپنی عظیم جدوجہد کے نتیجے میں آئینی اور قانونی طور پر تو اپنے حقوق حاصل کر لیے، لیکن سفید فام امریکیوں کی رنگت کی برتری پر قائم تصور کو ختم نہ کر سکے اور اس زعم فضیلت کے مظاہر کسی نہ کسی ظلم کی صورت میں آئے دن ظاہر ہوتے رہتے ہیں، اس احساس برتری کی علامات ٹرمپ کے آنے کے بعد شدت سے ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں، اس سانحے کے بعد امریکی صدر نے جو ٹویٹ کی ہے کہ ”جہاں لوٹ ہوگی وہاں شوٹ ہوگی“ وہ ان کی افتاد طبع اور سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

امریکی معاشرے کو انہوں نے تقسیم کر دیا ہے، شاید تقسیم پہلے ہی تھی موصوف کے زمانے میں ابھر کر سامنے آ گئی ہے، نسل پرستانہ واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے، حالات اتنے بگڑ گئے ہیں کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق سولہ ریاستوں کے پچیس شہروں میں کرفیو لگ چکا ہے۔ یاد رہے کہ موصوف کے زیادہ تر ووٹر سفید فام قدامت پسند امریکی ہیں۔

‎جارج فلائیڈ کے مرتے ہوئے الفاظ تھے کہ میرا دم گھٹ رہا ہے، ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ پولیس والے کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے چھوڑ دو میرا دم گھٹتا ہے، لیکن جس دل میں نفرت بھری ہو اس میں رحم کے جذبے کی گنجائش کہاں، اپنے جیسے انسان سے نفرت صرف اس لیے کہ اس کی رنگت سیاہ ہے اس کی جلد کالی ہے۔

‎کیا یہ جملہ ”میرا دم گھٹتا ہے“ کسی نئے مارٹن لوتھر کنگ کو جنم دے گا جو اپنی تقریر اسی جملے سے شروع کرے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ واقعہ کسی نئی بار آور تحریک کا پیش خیمہ بنے گا یا وقت کی گرد میں دب جائے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *