آن لائن کلاسز اور طلبا کے مسائل
کئی برسوں تک جاپان کے برفیلے کامیشراٹاکی ریلوے سٹیشن، ہوکیڈو سے روزانہ دو مرتبہ ریل کا گزر ہوتا تھا۔ یہ سٹیشن کافی فاصلے پر تھا اور یہاں صرف ایک سواری ریل کا انتظار کررہی ہوتی تھی۔ صبح ایک ٹرین اس سواری کو پک کرتی اور پھر شام کو وہی ٹرین یا کوئی دوسری ٹرین اسے واپس وہی ڈراپ کرتی تھی۔ اس سٹیشن تک کا سفر چاپانی ریلوے کے لئے کافی خسارے کا پڑرہا تھا کیونکہ یہاں سے رواذانہ صرف ایک ہی سواری سوار ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود بھی برسوں تک اس سٹیشن پر یہی معمول رہا اور ٹرین کی آمدورفت برقرار رہی کیونکہ وہ واحد سواری ایک ہائی سکول کی سٹوڈنٹ لڑکی تھی۔ جی ہاں سٹوڈنٹ! اور ایک سٹوڈنٹ کی بروقت پڑھائی کے سامنے مہذب اقوام کی نظروں میں کاروباری فائدے کی ذرہ برابر اہمیت نہیں ہوتی۔
اوپر لکھی ہوئی یہ کہانی مجھے آج صبح اپنے ایک وزیرستان کے رہائشی کلاس فیلو جو کہ میرا ہاسٹل روم میٹ بھی ہے سے فون پر بات کرتے ہوئے یاد آئی۔ ہوا یوں کہ میں نے کل رات اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، فون نہیں لگا، بار بار کوشش کے باوجود نہیں لگا، پھر میں نے اسے مسیج کیا کہ اگر ممکن ہو تو مجھے فون کرلو۔ چونکہ ہماری آنلائن کلاسز یکم جون سے شروع ہوئے ہیں اور موصوف آن لائن کلاسز سے غائب ہے تو میں نے سوچا کہ معلوم کرلوں کہ کیا مسئلہ ہے۔
آج صبح اس کا فون آیا، رسمی گفتگو کے بعد میں نے کلاسز اٹنڈ نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ یار نیٹ ورک کا یہ حال ہے کہ میں صبح اپنے ماموں کو کال کرنے کے لئے تین، چار کلومیٹر ایک پہاڑی پر پیدل چڑھ کر آیا، یہاں تمہارا میسج بھی موصول ہوا۔ اس کی آواز میرے کانوں تک صاف نہیں پہنچ رہی تھی۔ اب میں سمجھ گیا کہ کیوں آنلائن کلاس میں صرف 40 سے 30 تک ہی اسٹوڈنٹ موجود ہوتے ہیں حلانکہ ہماری تعداد 65 ہیں۔ اب اگر نیٹ ورک کا یہ حال ہے کہ آنلائن کلاسز تو کیا، کال بھی ٹھیک طرح سے نہیں ہوپارہی ہو تو بندہ کیا کرے؟ اوپر سے ہاسٹلز بھی بند ہیں ورنہ ہم وہاں رہ کر کلاسز کو آسانی سے اٹنڈ کر سکتے تھے۔ میں یہ سب سن کر کافی افسردہ ہوا اور اس سے پوچھا کہ مطلب تم آنلائن کلاسز نہیں لے سکتے۔ اس نے کہا یار مجبوری ہے کیا کرے اب۔
دونوں کہانیاں تعلیم سے متعلق ہیں اور دو مخلتف ممالک کی ہیں۔ پہلی کہانی ایسے ملک کی ہے جس کے دو شہروں ناگاساکی اور ہیروشیما میں آج تک ایٹم بم کی تباہ کاریوں کے آثار موجود ہیں اور دوسری کہانی ایٹمی قوت کے حامل اسلام کے قلعے کی ہے۔ پہلی کہانی جس ملک کی ہے اس نے جنگی تباہ کاریوں کو دیکھنے کے بعد جنگ کی جانب مڑ کر دیکھنے کی بھی حماقت نہیں کی اور دوسری کہانی جس ملک کی ہے اس نے اپنا آدھا وجود کھونے کے بعد بھی دفاعی بجٹ کو تعلیم، صحت اور کھیل کے مجموعی بجٹ سے کئی گنا زیادہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ آج کے دور میں سہولت نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہنا ایک طالب علم کی مجبوری نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے ایٹمی قوت کے حامل جمہوری ملک کے حکمران طبقے کی اہلیت پر سوال ہے۔
پاکستان کے کئی علاقے خصوصاً بلوچستان، فاٹا اور خیبر پختونخوا کے کئی دیگر علاقے، اندرون سندھ و پنجاب کے کئی حصے اور گلگت بلتستان کا بڑا حصہ انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ کرونا کی عالمی وبائی صورتحال میں آنلائن کلاسز شروع کرنا بہت اچھا فیصلہ ہے لیکن اگر طلباء کی اتنی بڑی تعداد سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے آنلائن کلاسز لینے سے قاصر ہیں تو ذمہ دار کون ہیں؟ حکومت کو فوراً ملک بھر میں انلائن کلاسز کو روکنے کے احکامات جاری کرنے چاہیے۔
پہلے تمام سٹوڈنٹس کو انٹرنیٹ کی سولیات تک رسائی دینے کے بارے میں اقدامات کرنے چاہیے اور اگر تمام علاقوں تک اتنے کم وقت میں انٹرنیٹ کی رسائی ممکن نہ ہو تو کم از کم ان طلباء کے لئے ہاسٹلز کھولنے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ اس کے بعد اگر آنلائن کلاسز شروع ہو جائے تو طلباء کا ایک بڑا حصہ کلاسز سے محروم نہیں رہے گا۔


