وبائی حکومت، میرا سلطان اور ٹڈی دل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان پاکستانی سیاست کے طور طریقے بہت تیزی سے سیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ 7 سال میں انہوں نے بہترین سیاسی ذہانت کا مظاہرہ کیا ہے۔ آغاز سیاست میں عمران خان سولو فلائٹ اور صرف اپنے ورکروں اور امیدواروں کے ذریعے بازی پلٹنے کا مصمم ارادہ کیے ہوئے تھے لیکن 2013 ء کے الیکشن میں انہوں نے ”قابل انتخاب“ نظریے پر انحصار کرنا شروع کیا اور پہلی چھلانگ میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت لے اڑے۔

2018 ء کے الیکشن میں عمران خان نے اپنے دیرینہ کارکنوں کو مکمل نظر انداز کرکے ”قابل انتخاب“ پر بھروسا کیا اور پی ٹی آئی سرمایہ داروں اور صنعت کاروں کی پارٹی بن کر ابھری۔ اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان کرپشن ختم کرنے اور روزگار دینے کے دعوؤں پر ڈٹے رہے جو کہ اب تقریباً دم توڑ چکے ہیں۔ انسداد کرپشن کی صورتحال یہ ہے کہ جرم ثابت ہونے کے باوجود پی ٹی آئی حکومت میاں نواز شریف کو لندن بھجوانے پر مجبور ہوگئی اور یہی نہیں بلکہ ان کے بھائی شہباز شریف بھی ساتھ ہی چلے گئے تھے جو کو بعد ازاں کورونا کے ساتھ لڑتے لڑتے خود ہی پھنس گئے۔ اسی طرح آصف علی زرداری اور محترمہ فریال تالپور باعزت ضمانتیں کروا کر سندھ میں بھرپور اقتدار سے لطف اٹھا رہے ہیں البتہ خورشید احمد شاہ اپنی قیادت کے گناہوں کا بھی کفارہ ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

حکومت کا اینٹی کرپشن نظریہ اس قدر بودا تھا کہ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق بھی عدالتوں سے ریلیف لینے میں کامیاب ہوئے۔ اسی طرح رانا ثناء اللہ نے بھی منشیات کے مقدمہ میں گرفتاری کے بعد رہا ہوکر حکومتی ارادوں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ لہذا پی ٹی آئی حکومت کا اینٹی کرپشن کا نظریہ سپرد خاک ہوچکا ہے۔ اس کی زندہ مثال یہ ہے کہ حال ہی میں شوگر کمیشن رپورٹ نے ”سرکاری ملزمان“ کی نشاندہی کی ہے ان میں اسد عمر، عثمان بزدار، رزاق داؤد، جہانگیر ترین، ارباب شہزاد اور خسرو بختیار کو نامزد کیا گیا ہے لیکن عمران خان نے ان پر لاٹھی چارج کرنے کی بجائے نیب حکام کو میاں شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کی طرف سے دی گئی شوگر سبسڈی کی فائلیں کھولنے پر لگادیا ہے۔ درحقیقت فرانزک آڈٹ حالیہ بحران کا ہوا اور وزیراعظم نے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا کئی مرتبہ اعلان بھی کیا مگر رپورٹ کے آتے ہی موجودہ بحران کے ذمہ داروں کو سزا دینے کی بجائے ماضی کے ذمہ داران کا میڈیا ٹرائل شروع کروا دیا گیا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان پاکستانی سیاست کی اس باریکی کو بھی بخوبی سمجھ گئے ہیں جب حکومت پر بات آئے تو اپوزیشن کو لتاڑ دو اور اس زور سے پراپیگنڈہ کرو کہ سچ اور جھوٹ کی تمیز ہی ختم ہو جائے۔ ماضی میں حکمران اپنی بداعمالیوں کو چھپانے کے لئے ایسے ہی ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں اور جہاں تک معاملہ ہے روزگار کی فراہمی کا تو وزیراعظم نے اس معاملے میں بھی بہت بڑا یوٹرن لیا ہے کیونکہ عوام کو ایک کروڑ نئی نوکریاں تو نہیں ملیں لیکن اتنی ہی تعداد کے لگ بھگ لوگوں سے روزگار ضرور چھین لیا ہے۔

چھوٹی صنعتوں پر کلہاڑا چل گیا اور اس کی ابتدائی وجہ ٹیکس کا حصول تھا اور ابھی حکومت تاجر مذاکرات جاری تھے کہ کورونا نے آکر سب کو ہی تالے لگادیئے حتیٰ کہ مزدوروں کو بھی بے روزگار کرکے گھر بٹھا دیا گیا وزیراعظم عمران خان کی وزیر محترمہ زرتاج گل نے پی ٹی آئی کے اقتدار سنبھالتے ہی بارشوں میں اضافے کا کریڈٹ بھی ”میرا سلطان“ کو دے دیا تھا اور کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک ایسا بابرکت لیڈر دیا ہے کہ پانی کی قلت دور ہوگئی ہے۔

اب حقیقت عیاں یہ ہوئی ہے کہ اس بابرکت لیڈر کے صدقے بے وقت بارشوں نے فصلوں کو تباہ کر دیا ہے اور جو کسر باقی رہ گئی تھی اسے ٹڈی دل کی وبا نے پورا کر دیا ہے اور پانی کی اصل کمی اب عوام کے جسموں میں دکھائی دینے لگی ہے جنہیں غم روزگار نے لاغر اور کمزور کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت کی کارکردگی اور ٹڈی دل کی کارروائی میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ٹڈی دل نے کسانوں کی فصلیں اجاڑ دی ہیں اور حکومت نے چھوٹے تاجروں، مزدوروں اور اخبارات کا سانس بند کر دیا ہے۔

حکومتی عمائدین اس وقت ہزاروں ریجنل اخباروں کو بند کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں اور پی آئی ڈی میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی بھی زیر غور ہے وبائی حکومت کے ابھی تین سال باقی ہیں ابتدائی دو سالوں میں مہلک وباؤں نے عوام کا بھرکس نکال دیا آئندہ تین سال میں نہ جانے وبائی حکومت اور کیا کچھ کرے گی؟ قوم زیادہ سے زیادہ استغفار کرے کہیں آسمان سے پتھر ہی نہ برس پڑیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 92 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply