کرونا، آن لائن کلاس اور انٹرنیٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس نے جو دنیا کی حالت کی ہے اس سے کون واقف نہیں۔ جہاں اس عالمی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے وہاں یہ مضر جان بیماری کشمیر میں بھی موجود ہے۔ کشمیر میں اس بیماری نے خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ ابھی تک اکتیس افراد کو موت کے حوالے بھی کیا ہے۔ کشمیر کے ہر ضلع میں کوئی نا کوئی اس بیماری میں مبتلا ہے۔ اس سے ہر فرد گھر کے حصار میں زندگی گزارنے پہ مجبور ہے۔ سرکاری سطح پر بھی نت نئی احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کے احکامات صادر کیے گئے جس سے کسی حد تک اس بیماری کے پھیلنے کی رفتار کو کم کرنے میں مدد ملی۔

اس بیماری کے بارے میں مختلف شک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔ کوئی اسے اللہ کا عذاب گردانتا ہے، تو کوئی صرف تبیہ، کوئی سازش قرار دیتا ہے اور کوئی بہت بڑی چال قرار دے کر آگے اس کے اثرات سے آگاہی پھیلاتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے احکام آئے اور اس دوران جہاں بہت سے ادارے اور محمکوں کو تالا بند کیا گیا وہاں سرکاری و پرائیویٹ اسکولوں اور کالجوں کو بھی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر سرکاری احکامات کے تحت بند رکھا گیا۔ کرونا کے سبب اسکول اور کالج بند کرنے سے جو بچوں کا تعلیمی نقصان ہو رہا تھا اس کی بھرپائی گوگل کلاس اور دیگر آن لائن کلاسز کے ذریعہ سے پر کرنے کی بھرپور کوششیں کی گئیں لیکن یہ کوششیں تبھی کارگر اور ثمر دار ثابت ہوں گئیں جب انٹرنیٹ کو ساتھ جوڑا جائے۔

انٹر نیٹ گوگل کلاس یا دیگر آن لائن کلاسز دینے کے لئے ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔ المیہ کہے یا شومئی قسمت جب سے 370 کا خاتمہ ہوا پہلے چھ ماہ انٹرنیٹ تو مکمل کال کوٹھری میں بند رہا چھ ماہ قید بامشقت کے بعد رہائی ملی بھی تو ایک ایک انگ کو ملی۔ ابھی بھی انٹرنیٹ صحت سلامت ہمارے پاس نہیں پہچا، پیٹ کے بل رگڑ رگڑ کر چل رہا ہے اور امید ہی کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں رگڑ رگڑ کر چلنے کے بجائے صحت سلامتی کے ساتھ چلے۔

خیر آج کل یہ لنگڑا کر ہی چلتا تو کسی حد تک عوام الناس کا کام چل جاتا مگر آئے دن لاک ڈاؤن میں کئی پر بھی مسلح افراد کے مابین جھڑپ یا اس جیسی کوئی صورت حال پیش آتی ہے تو سب سے پہلے بچارا انٹرنیٹ بند ہوتا ہے۔ دوران لاک ڈاؤن جہاں سارے تعلیمی ادارے بند پڑے ہیں اور تعلیم کو جاری رکھنے کا واحد ذریعہ انٹرنیٹ ہے، وہاں آئے روز انٹرنیٹ کا بند ہونا المیے سے کم نہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران انٹرنیٹ کو میسر رکھا جاتا تو ہمارا تعلیمی مستقبل جو تاریکی میں پھنسا ہوا ہے اور تاریکی میں نہ دھنس جاتا۔ انٹرنیٹ نا صرف پڑھائی کے عمل کے لیے ناگزیر ہے بلکہ ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ موجودہ افراتفری اور وبائی صورت حال کے عالم میں انسان کا اپنے ارد گرد سے باخبر رہنا نہایت ضروری ہے۔ انسان بھوک پیاس برداشت کر سکتا ہے لیکن ایک دوسرے سے کٹ کر رہنا برداشت نہیں کر سکتا۔

لاک ڈاؤن میں اظہار ذات کا واحد ذریعہ انٹرنیٹ ہے۔ انسان اپنے خیالات، تجربات، محسوسات اور جذباتی کیفیات کو دوسروں تک صرف اور صرف انٹرنیٹ کے ذریعے ہی پہچا سکتا ہے۔ جب انسان میں خود کو بیان کرنے کے مادے کو دبایا جاتا ہے تو ظاہر ہے وہ بہت ساری الجھنوں اور ذہینی پریشانیوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ انسان کو ذہینی کرب اور تعلیمی نقصان کی بھر پائی کے لیے انٹرنیٹ کو میسر رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

موجودہ وبائی صورت حال میں اس بیماری سے نمٹنے کے لیے کون سی احتیاطی تدابیر کرنی چاہیے اور کن جگہوں سے دور رہنا چاہیے اس کی جانکاری مخلتف اداروں سے انٹرنیٹ کے ذریعے ملتی ہے۔ کن علاقوں اور شہروں میں اس وبا نے خطرناک صورت حال اختیار کی ہے اور کن علاقوں کی طرف جانے سے گریز کرنا چاہیے یہ خبریں بھی انٹرنیٹ کے ذریعے عوام الناس تک پہچتی ہیں۔ موسم کا حال دیکھنا ہو یا مختلف شہروں کے بارے میں جانکاری حاصل کرنی ہو، تعلیم کی پیاس بجھانی ہو یا مختلف ادیبوں کی طنزو مزاح سے بھری تحاریر پڑھنی ہو، صحت ہو، بزنس ہو غرض ہر شعبہ اس پہ منحصر ہے۔

اس کے بغیر موجودہ دور میں جینا محال ہی نہیں بلکہ دشوار تر لگ رہا ہے۔ ایسے میں سرکاری اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان پر آشوب حالات میں مزید لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ نہ کرے اور آئے روز انٹرنیٹ پہ جو قدغن لگائی جاتی ہے اس کو ہٹا کر کشمیری عوام کو بھی باقی دنیا سے باخبر رہنے کا موقع میسر رکھیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply