آصف صاحب!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اول اول کی محبت کا نشہ بھی عجیب ہوتا ہے، چاہے انسان سے ہو یا کتاب سے۔ انسان سے ہو تو معاملہ عموماً ً یوں ہوتا ہے کہ

تیرا ہی تذکرہ کرے ہر شخص
یا کوئی ہم سے گفتگو نہ کرے

لیکن محبت اگر کتاب سے ہو تو اسے پڑھنے کے بعد جی چاہتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے تبادلہ خیال کا موقع ملے جس نے یہ کتاب پڑھی ہو۔ عرصہ ہوا نوبل انعام یافتہ ادیب ہرمن ہیسے کی ”سدھارتھ“ پڑھ کر ہمارا بھی یہی حال ہوا تھا۔ لیکن جب کسی ہم ذوق دوست سے اس کتاب پر بات ہوئی تو دوران گفتگو انھوں نے ایک مشورہ یہ بھی دیا کہ اس کا اردو ترجمہ ضرور دیکھیے۔ کس نے کیا ہے یہ ترجمہ؟ میں نے جب پوچھا تو انھوں نے ایک نام لیا: آصف فرخی!

فکشن کے تراجم سے دلچسپی کی بنا پر ان دنوں راقم کے قلم سے جدید فارسی افسانے کے اردو تراجم ادبی پرچوں میں شائع ہو رہے تھے۔ ”سدھارتھ“ کا ا نگریزی متن تو پڑھ ہی چکا تھا۔ اب اردو ترجمہ پڑھا تو تو اندازہ ہوا کہ مترجم نے ترجمہ کرتے ہوئے متن اور زبان دونوں سے بھرپور انصاف کیا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ”دنیا زاد“ اور ”شہر زاد“ کے توسط سے آصف صاحب کی دیگر تحریریں بھی پڑھنے کا موقع ملتا رہا نیز ان کے ساتھ بذریعہ ای میل رابطہ بھی استوار ہوگیا جس سے ان کی وضع دار شخصیت بھی سامنے آتی گئی۔ میں جب بھی انھیں اپنی کوئی کتاب بھجواتا تو چند دن بعد وصولی کی رسید مع مختصر رائے سے ضرور مطلع کرتے جو اس بات کی دلیل ہوتی کہ انھوں نے ایک جونیئر ادیب کی کاوش کو پڑھنے کے لیے نہ صرف وقت نکالا بلکہ اسے رائے کے قابل بھی جانا ہے۔

روزنامہ ”ڈان“ کے لاہور سے اجرا ور بعد ازاں اس کے ہفتہ وار ادبی سپلیمنٹ ”بکس اینڈ آتھرز“ کی اشاعت سے ان کی انگریزی تحریریں اور کتب پر تبصرے وغیرہ پڑھنے کا موقع زیادہ باقاعدگی سے ملنے لگا جس سے میں ان کی وسعت مطالعہ اور ذو لسانی مہارت کا مزید قائل ہوگیا۔ اس دوران اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام کراچی لٹریچر فیسٹیول کا ڈول ڈالا جا چکا تھا جس کے روح رواں وہ اور امینہ سید تھے۔ ادب کے حوالے سے عالمی سطح کے ایسے پروگرام کا انعقاد پاکستان کی ادبی تاریخ میں ایک منفرد واقعہ ہے۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول کے مسلسل انعقاد سے جہاں ادبی حوالے سے ان کی انتظامی صلاحیتیں کھل کر سامنے آئیں وہاں ان کے دوستوں اور دشمنوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا تاہم وہ ہر قسم کے چیلنج سے کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہوتے رہے۔ اس دوران کراچی اور لاہور میں ان سے ملاقات کے کئی مواقع بھی ملے۔ خندہ روئی اور شائستگی سے ملتے ہوئے ہر بار یہ ضرور پوچھتے کہ آج کل کس موضوع پر کام ہو رہا ہے یا نئی کتاب کی اشاعت کب تک متوقع ہے۔

اردو ادب میں آصف صاحب کی بنیادی دلچسپی کے شعبے افسانہ، تنقید اور ترجمہ تھے۔ ان کی تحریریں پڑھ کر اور طویل وقفوں سے ہونے والی مختصر ملاقاتوں کی بنا پر مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ ان کے ہم عمر ادیبوں میں معاصر عالمی ادب کا ان جیسا وسیع مطالعہ کم ہی لوگوں کا ہوگا۔ اس پر مستزاد ان کا استحضار تھا جو برمحل کام آ کر ان کی گفتگو کو مزید موثر اور با اعتماد بنا دیتا تھا۔

آصف صاحب سے آخری ملاقات چند ماہ پہلے اس برس کے آغاز میں ہوئی جب وہ فیض فیسٹیول میں شرکت کے لیے لاہور تشریف لائے تھے۔ اس موقع پر یار طرحدار قاسم جعفری صاحب نے ایک شام مذکورہ فیسٹیول کے منتخب مندوبین کو اپنے ہاں کھانے پر مدعو کیا جن میں زہرا نگاہ، ضیا محی الدین اور مسعود اشعر کے ساتھ آصف فرخی بھی شامل تھے۔ یہ نشست ہر لحاظ سے یادگار تھی۔ یادوں کے کئی دفتر کھلے اور بیسویں صدی کے نصف دوم کی ایسی ادبی شخصیات کا تذکرہ ہوتا رہا جن کے دم سے ہماری ادبی تاریخ کے کئی حوالے زندہ ہیں۔ اس دوران آصف صاحب اپنی اسی متانت سے شریک گفتگو رہے جو ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔ انتظار حسین صاحب کا ذکر ہو کہ قرۃ العین حیدر کا، شاہد احمد دہلوی کے حوالے سے کوئی بات ہو کہ یاس یگانہ چنگیزی کا کوئی کٹیلا چٹکلا، آصف صاحب کی ہر بات نپی تلی، سنجیدہ اور برمحل ہوتی۔

یقین نہیں آتا کہ وہ اتنی جلد اتنا دور چلے جائیں گے کہ ہم انھیں پھر کبھی نہ مل پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *