دوست کی بیٹی کو کورونا، اللہ میاں سے گلہ اور گزشتہ الیکشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے اک قریبی دوست کی بیٹی کو کورونا ہو گیا ہے۔ آج اس بیماری سے لڑتے ہوئے ہماری بیٹی کو تیسرا دن ہے اور ان کی صحت و حالت درست نہیں۔ رینڈم نیس اور بے مقصدیت کے بنیادی اصولوں پر چلتی ہوئی اس دنیا میں، ویسے ہی رینڈم اور بے مقصد انسانی زندگی کے پیراڈائم میں، ہماری بیٹی کے لیے اگلے چند دنوں میں کیا موجود ہے، میں نہیں جانتا۔ مگر اس معاملہ نے بہت شدت والا غم دے ڈالا ہے اور ذہن پر بہت دباؤ کی کیفیت ہے۔

انسان مگر جیتا ہے اور اپنی سانسیں پوری کرتا ہے۔ سوچتا ہوں کہ کبھی جو اگر خدا سے مکالمہ ہو گا تو بہت ساری عرضیاں بھی پیش کروں گا، اور یہ بھی کہوں گا کہ: ”جناب، آپ خود تو لم یلد ولم یو لد رہے، ہم انسانوں کو ستر ماؤں جتنا پیار کرنے کی اک مبہم سی امید دلائے رکھی، کیا آپ وہ محسوس کر سکتے ہیں جو بیماری کے ہاتھوں پگھلتے ہوئے بچوں کے والدین محسوس کرتے ہوں گے؟ اور اوپر سے آپ الصمد بھی ہیں ؛ یہ کیا بات ہوئی کہ اک طرف دعویٰ ہے ستر ماؤں جتنے پیار کا، اور دوجی طرف، اپنی صمدیت کا بھی؟“

پھر اللہ صاحب کو یہ بھی بتاؤں گا کہ: ”آپ تو پہلے ہی جانتے ہیں، مگر آرمی پبلک سکول میں قتل (شہید نہیں ) ہو جانے والے دو بچوں کی ماں نے اپنا ذہنی توازن کھو دیا تھا اور انہیں زنجیروں سے باندھ کر رکھا جاتا تھا۔ پھر اک اور صاحب بھی تھے جنہوں نے اپنے پیارے اس قتل عام میں کھو دیے، انہوں نے اک شعر کہا تھا کہ (مفہوم) اے خدا، تجھے کیا معلوم کہ اپنے بچے کا درد کیا ہوتا ہے!“

اپنی ذات کی حد تک میری اک سیاسی پوزیشن بھی ہے جو ہر جماعت کی حماقت کے خلاف ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم پر احمقوں کی حکومت مسلط کر دی گئی ہے اور اس حکومت کو مسلط کرنے میں اسٹیبلشمنٹ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ بات زبان زد عام ہے اور ہزاروں مرتبہ کہی اور دہرائی جا چکی ہے کہ پاکستان، بربادی کے جس بھنور میں آج دکھائی دیتا ہے، اس کی بنیادی ذمہ داری ان چند افراد پر ہی ہے جنہوں نے پاکستانی عوام کا مینڈیٹ چرانے کی تمام سازش کی۔ الیکشن سے قبل کی بھی بہت ساری نشانیاں ہیں، اور الیکشن کے دن، الیکشن کمشن کے آر ٹی ایس کے بند ہونے کی بھی اک دلیل ہے۔

اب دوست کی بیٹی کو کورونا، اللہ میاں سے گلہ اور الیکشن کا کیا کنیکشن ہے؟ ہے جناب، بالکل ہے!

محترمی عمران نیازی صاحب ابھی پرسوں اک بار پھر عوام کو بتا رہے تھے کہ تم نے خود ہی احتیاط کرنی ہے، وگرنہ اپنی موت کے خود ہی ذمہ دار ہو گے۔ محترم سیلیکٹڈ وزیر اعظم صاحب سیاحت کو کھولنے کی بھی چتاونی دے رہے تھے۔ پچھلے چار مہینوں سے کورونا کے معاملہ پر کسی بھی قسم کی، کوئی بھی واضح لیڈرشپ فراہم کرنے سے قاصر نہیں، معذور رہے۔ لاک ڈاؤن ہے، لاک ڈاؤن نہیں ہے، لاک ڈاؤن کرنا ہے، لاک ڈاؤن نہیں کرنا ہے، سمارٹ لاک ڈاؤن کرنا ہے وغیرہ وغیرہ کی اک مسلسل گردان ہے، جس نے، ایک بادشاہ را خوش آمد کالم نگار کے بقول، تیسری ذہین ترین پاکستانی قوم کو بھی اک عجب حماقت میں مبتلا کیے رکھا۔

تبلیغیں چلتی رہیں، ماتم چلتے رہے، مارکیٹیں چلتی رہیں۔ اب لوگ روزانہ کی بنیاد پر مر رہے ہیں اور کہنے دیجیے کہ جانوروں کی طرح مر رہے ہیں۔ وہ بھی مر رہے ہیں، جو ذمہ دار ہیں اور وہ بھی مر رہے ہیں، جو ذمہ دار نہیں ہیں۔

حکومتیں، ریاست کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہ اپنی جغرافیائی حدود میں پیدا ہو جانے والی روحوں کے مفاد کا تحفظ شدت کی دل و جان سے کرتی ہیں۔ حکومتیں اپنے لوگوں کے مفاد کے لیے کسی بھی حد تک جاتی ہیں اور ان کے پیچھے کھڑی ریاست، اپنے شہریوں کے مفاد کے لیے لوہے کی دیوار بن جاتی ہے۔ دنیا کی کوئی بھی ریاست، اپنے تمام شہریوں کے مفادات کا باہم تحفظ نہیں کر سکتی، مگر اکثریت کا اگر مفاد دیکھا جاتا ہو، تو شہریوں کی اکثریت، اپنی ریاست و حکومت کے ساتھ جڑی ہوتی ہے اور اپنا مال، جان، زندگی، ٹیلنٹ اس ریاست کے حوالے کر دیتی ہے۔

آپ میں سے کتنے ایسے ہیں جو اپنی پاکستانی ریاست کو اپنا مال، جان، زندگی اور ٹیلنٹ دینا چاہیں گے؟ لکھ جو بھلے مرضی ہے دیں، مگر آپ اپنے آپ سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔

تو جناب، یہی کنیکشن ہے۔

موجودہ حکومتی سیٹ اپ کے سرپرستوں کا نام سارا پاکستان، بشمول، اس جماعت کے کہ جسے منزل اعلیٰ سے ،قبولیت کی سند ملی، کہتا ہے۔ میں اگرچہ نامعلوم افراد کے قبائلی تشدد سے خوفزدہ شخص ہوں، مگر مسلط کردہ لیڈرشپ کی ناکامی، نکمے پن اور کنفیوژن نے اک قاتل بیماری، میرے گھر لا پھینکی ہے۔

کورونا میرے گھر کے پاس آن پہنچا ہے۔ میرے قریبی دوست کی بچی بیمار ہے تو بحیثیت اک باپ، میں تو خدا سے بھی الجھ جاتا، جناب۔ زمینی خداؤں میں سے کچھ غیرمتعلقہ ہو چکے، اور باقی اپنے اپنے وقت پر غیرمتعلقہ ہو جائیں گے۔ طاقت کی بنیاد پر خوف بھلے قائم ہوتا ہو، کسی قسم کی کوئی وراثت قائم نہیں ہوتی۔

میرا دعا پر یقین نہیں ہے۔ میں دعا کو، بہت ہوا تو، خود کو تسلی دینے کی اک نرم کوشش سمجھتا ہوں۔ میرا مگر مہذب اظہار پر تو یقین ہے۔ بس وہی کر دیتا ہوں۔ وہی کر دیا ہے۔ اللہ ہی ہے، جو ہمارا، اس ملک اور اس مجبور و مقہور ملک میں رہنے والوں کا وارث ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *