کیا پرنٹنگ پریس کی راہ میں رکاوٹ قرآن تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بعض یورپی مصنفین نے یہ دعوی کیا ہے کہ مسلمانوں کا پرنٹنگ پریس سے احتراز کرنا محض تاریخی اتفاق یا حادثہ نہیں تھا بلکہ اس کے مذہبی اسباب تھے۔ مسلمان اپنے مذہبی تصورات کی بنا پر پریس کو نہیں اپنا سکتے تھے کیونکہ ان کا مذہب بنیادی طور پر زبانی روایت پر انحصار کرتا ہے۔

اس خیال کو پروفیسر فرانسس رابنسن نے کافی شد و مد سے بیان کیا ہے۔ موصوف لندن یونیورسٹی میں ہسٹری آف ساوتھ ایشیا کے استاد رہے ہیں۔ مسلم تاریخ بالخصوص جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی تاریخ ان کا اختصاصی شعبہ ہے۔ کیمبرج ہسٹری کی کچھ جلدوں کی ادارت کے فرائض بھی سرانجام دیے ہیں۔ پروفیسر موصوف نے 1992 میں لندن میں ایک لیکچر دیا تھا جس کا عنوان تھا:

Technology and Religious Change: Islam and the Impact of Print

 یہ لیکچر اگلے برس جریدے ماڈرن ایشین سٹڈیز میں شائع ہوا ۔ اس میں مسلمانوں کے پرنٹنگ پریس کو اختیار نہ کرنے کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ مسلمانوں کی بارہ سو سالہ علمی روایت اصلاً زبانی روایت ہے۔ قرآن کا زبانی ابلاغ مسلمانوں کے تعلیمی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کو حفظ کرنا اور اس کی تلاوت کرنا مسلم تہذیب کا شعار ہے۔ چنانچہ یہ طریقہ دوسرے علوم کے ابلاغ و ترسیل پر بھی اثر انداز ہوا۔ اس لیکچر میں میرے خیال میں کلیدی جملہ یہ ہے:

The Quran was always transmitted orally.

پروفیسر موصوف کا نام بہت بڑا ہے اس لیے واقعاتی غلطی کو بیان کرنا اچھا تو نہیں لگتا لیکن اس کی تصحیح بھی ضروری ہے۔ پروفیسر صاحب نے بیان کیا ہے کہ ان کا لکھنئو کے فرنگی محل خاندان سے تقریباً ربع صدی پر محیط دوستانہ تعلق ہے۔ اس خاندان کا ایک فرد اس لیکچر میں بھی موجود تھا۔ انھوں نے لیکچر اس فرد اور اس کے خاندان کے نام معنون کیا ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے شاہ اسماعیل شہید کی کتاب تقویۃ الایمان کو سید احمد بریلوی کی تصنیف قرار دیا ہے۔ صراط مستقیم بھی سید احمد کے ملفوظات ہیں جو اصلاً شاہ اسماعیل اور ایک اور صاحب کے تحریر کیے ہوئے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے سید احمد کو شاہ عبد العزیز کے خاندان سے قرار دیا ہے حالانکہ ان کی اس خاندان سے کوئی رشتہ داری نہیں تھی۔ ان واقعاتی تسامحات سے قطع نظر، مجھے ان کے مسلم تہذیب کے فہم پر کسی قدر حیرت ہوئی ہے بلکہ صدمہ پہنچا ہے۔ میرا تجربہ یہی ہے کہ مغربی دنیا میں بھی زیادہ تر صاحبان علم و تحقیق ابتدائی طور پر قائم کردہ تصورات سے بہت کم باہر نکلتے ہیں۔

پروفیسر رابنسن کو یہ بات بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ تینوں براہیمی مذاہب، یہودیت، نصرانیت اور اسلام، اصلاً مبنی بر کتاب مذاہب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں یہودیوں اور نصرانیوں کو اہل کتاب کہا گیا ہے۔

یہ بات معلوم و معروف ہےکہ وحی الہٰی جب نازل ہوتی تو نبی کریم ﷺ فوراً اس کو لکھوانے کا اہتمام کرتے۔ تاریخ میں کاتبین وحی کے نام محفوظ ہیں۔ اگر کچھ صحابہ کرام نے قرآن حکیم حفظ کیا اور ان کے بعد مسلمانوں میں حفظ قرآن کی روایت آج تک جاری و ساری ہے تو اس سے یہ نتیجہ کسی طور پر اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمان علم کی ترسیل کے لیے زبانی روایت کو ترجیح دیتے تھے۔ قرآن اگر کسی اختلاف کے بغیر روایت ہوا ہے تو اس کا سبب حفظ نہیں بلکہ اس کا تحریر کیا جانا ہے۔ کسی اختلاف کی صورت میں تحریری متن کی طرف ہی رجوع کیا جاتا تھا۔ احادیث نبوی کو چونکہ تحریر نہیں کرایا گیا تھا اس لیے ان کی روایت میں اختلافات واقع ہوئے ہیں۔ حتی کہ خطبہ حجۃ الوداع کا کوئی متفق علیہ متن موجود نہیں۔

زبانی روایت کا معاملہ بھی صرف احادیث نبوی تک محدود رہا ہے۔ ابتدا میں اس بات پر ضرور بحث ہوئی کہ احادیث ٓ کو ضبط تحریر میں لانا چاہیے یا نہیں۔ اس بحث کا فیصلہ بھی تحریر کے حق میں ہی ہوا تھا۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ تابعین نے اپنے مجموعے مرتب کرنا شروع کر دیے تھے۔ جب حدیث کے باقاعدہ مجموعے، جنھیں صحاح کہا جاتا ہے، تصنیف ہو گئے تو زبانی روایت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد علم حدیث کی تعلیم ان کتابوں سے ہی دی جاتی رہی ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کی علمی، تعلیمی روایت کو زبانی روایت قرار دینے کا کوئی جواز دکھائی نہیں دیتا۔

یہ عمارت اس مقبول عام مفروضے کی بنیاد پر تعمیر کی گئی ہے کہ عربوں میں قبل از اسلام اور بعد از اسلام کئی صدیوں تک تحریر کا رواج نہیں تھا۔ مشہور یہی ہے کہ مسلمانوں میں تصنیف و تالیف کا سلسلہ عباسی دور میں شروع ہوا۔ بیسویں صدی میں اس موضوع پر ہونے والی تحقیق اس مفروضہ کو غلط ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

امریکی پروفیسر روتھ میکنسن نے سن (1936-37 ) میں تین اقساط میں سلسلہ مقالات بعنوان “عہد بنو امیہ میں عربی کتب اور کتب خانے” جریدہ The American Journal of Semitic Languages and Literatures, میں شائع کیا۔ اس کے بعد اپریل 1939 میں اسی جریدہ میں مزید معلومات پر مبنی ایک سپلیمنٹ شائع کیا۔ ان مقالات میں اس نے کافی شواہد جمع کیے جن سے پتہ چلتا ہے کہ سن 20 ہجری میں مصر کی فتح کے بعد پپائرس کا استعمال وسیع پیمانے پر شروع ہو گیا تھا۔ بنو امیہ کے دور میں شاعری اور امثال کو ضبط تحریر میں لانے کے علاوہ نثری کتابوں کی تصنیف کا آغاز ہو چکا تھا۔ اس بات کے بھی شواہد موجود ہیں کہ لوگوں میں کتابیں جمع کرنے کا شوق بھی پید ا ہو چکا تھا۔

پچاس کی دہائی میں مصری محقق ناصر الدین الاسد کی تحقیق بھی روتھ میکنسن کی بات کی تائید کرتی ہے۔ اس نے مختلف مثالوں سے ثابت کیا ہے کہ “آغاز اسلام اور عہد بنو امیہ میں سامان نوشت و خواند سستے داموں دستیاب اور ہر شخص کی رسائی میں تھا اور پہلی صدی ہجری کے نصف تک پہنچتے پہنچتے باقاعدہ کتب خانوں کا سراغ ملنے لگتا ہے۔( ڈاکٹر خورشید رضوی، “عربی ادب قبل از اسلام”، ص 283 )

بنو امیہ کی حکومت جائز تھی یا ناجائز، ظالمانہ تھی یا نہیں؟ ان سوالات سے اس حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا کہ وہ ایک وسیع سلطنت تھی جو دو براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی۔ رقبے کے لحاظ سے ولید بن عبد الملک کی سلطنت وسیع ترین تھی۔ چنانچہ حکومت کی انتظامی ضرورتیں انھیں علم اور کتاب کے حصول پر مجبور کرتی تھیں۔ جغرافیہ کا علم ان کی بنیادی ضرورت تھی۔ اسی طرح یونانی اور پہلوی دیوان (سرکاری ریکارڈ) کو عربی میں ترجمہ کروانا پڑا۔ ساسانی بادشاہوں کے احوال پر مشتمل ایک باتصویر کتاب کسی قلعے سے ہاتھ لگی تو اسے ہشام بن عبد الملک کے لیے ترجمہ کیا گیا۔ اسی طرح ساسانی شہزادی بہ آفرید کے سامان سے ملنے والی کتاب کو حجاج کے لیے عربی میں ترجمہ کیا گیا۔ روتھ میکنسن کی یہ بات درست دکھائی دیتی ہے کہ بنو امیہ کے دور کی ثقافتی تاریخ کا از سر نو جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔

جدید تحقیقات کی روشنی میں قبل از اسلام عرب شاعری کے مکمل طور پر زبانی روایت ہونے کا نظریہ بھی علمی طور پر قریب قریب مسترد ہو چکا ہے۔ جیسا کہ معلوم و معروف ہے کہ 1925 میں مارگولیتھ نے اپنے ایک مقالے میں قبل از اسلام کی عربی شاعری کو جعل سازی قرار دیا تھا۔ پھر اسی موقف کا مشہور مصری ادیب طہٰ حسین نے اپنی کتاب میں اعادہ کیا تھا۔ اس نقطہ نظر کا سب سے مفصل اور مدلل جواب مصری محقق ناصر الدین الاسد کی جانب سے دیا گیا تھا جس کی اصابت کو ابھی تک تسلیم کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب نے مذکورہ بالا عالمانہ اور محققانہ کتاب کی جلد اول میں ناصر الدین الاسد کی تحقیق کا خلاصہ بیان کر دیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کتبات، دستاویزات اور دیگر شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ “قدیم عرب میں تحریر کا رواج اس سے کہیں زیادہ تھا جتنا بالعموم خیال کیا جاتا ہے۔ عربوں میں فن تحریر اسلام سے کم از کم تین سو برس قبل سے پایا جاتا تھا”۔

فلسطینی مسیحی سکالر عرفان شہید نے رومن ایمپائر اور بیزنطیم کے عربوں کے ساتھ چھ صدیوں پر ( 64 قبل مسیح سے لے کر 636ء، جنگ یرموک تک) محیط تعلقات پر عمیق تحقیق کی ہے۔ اس تحقیق میں بھی قبل از اسلام کے عربوں میں، بالخصوص چوتھی صدی عیسوی میں، شاعری کے وجود کا پتہ ملتا ہے۔ رومنوں کی تاریخ میں عرب شاعروں کا تذکرہ ملنے کا مطلب ہے کہ عربوں کے ہاں شاعری موجود تھی۔ لہذا ان قطعی تردیدی شواہد کی موجودگی میں مارگولیتھ اور طہٰ حسین کے موقف میں کوئی جان باقی نہیں رہتی۔

قبل از اسلام دور میں بھی ” موضوعات تحریر میں عہد نامے، حلف نامے، میثاق، تجارتی دستاویزیں اور ذاتی خطوط بھی شامل تھے۔ اسی طرح غلاموں سے معاہدہ زر آزادی تحریر میں لایا جاتا تھا۔” (ایضاً) قرآن حکیم نے بھی معاہدات کو لکھنے کا حکم دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ میں آمد کے بعد یہودیوں اور دیگر قبایل کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا تھا جسے میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔

تعجب ہوتا ہے کہ پروفیسر رابنسن نے اپنے لیکچر سے چالیس، پچاس برس پہلے ہونے والی تحقیقات سے اعتنا کرنا مناسب خیال نہیں کیا۔ بہرحال ان شواہد کی بنا پر ان کی اس بات سے اتفاق کرنا ممکن نہیں کہ مسلمان مکتوبہ لفظ کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ اس موقف کی تردید کے لیے بے پناہ تاریخی شواہد موجود ہیں۔ مسلم تہذیب نے ضخیم تصنیفی سرمایہ پیدا کیا ہے۔ کتب کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے۔ مذہبی علوم کے علاوہ دنیوی علوم کے ہر شعبے میں گراں قدر تخلیقات پیش کی ہیں۔ آج بھی یورپ کے کتب خانوں میں ہزاروں کی تعداد میں سائنسی موضوعات پر عربی مخطوطات موجود ہیں۔ ابن ندیم سے لے کر دور حاضر کے ترک سکالر ڈاکٹر فواد سیزگین نے کتابیات مرتب کرنے کا فریضہ سر انجام دیا ہے جن سے اس تصنیفی سرگرمی کے پھیلاو کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

آٹھویں صدی کے نصف دوم میں مسلمانوں نے چینیوں سے کاغذ بنانے کا فن سیکھا اور اس کو جلد ہی ایک صنعت کا درجہ دے دیا۔ اسی طرح چینیوں سے بلاک پرنٹنگ کا طریقہ بھی سیکھا جو فاطمی عہد خلافت میں کئی صدیوں تک استعمال ہوتا رہا۔ اس پر کتابیں چھاپنا تو مشکل تھا لیکن قرآنی دعاوں اور آیات پر مبنی تعویز چھاپنے کے لیے اس طریقے کو استعمال کیا جاتا تھا۔

اس طول کلام سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر پرنٹنگ پریس کو اختیار کرنے میں تاخیر ہوئی تو اس کے اسباب مذہبی نہیں تھے، نہ قرآن حکیم پرنٹنگ پریس کی راہ میں رکاوٹ تھا۔

یہ بات درست ہے کہ ترک علما ابتدا میں قرآن حکیم کی طباعت کی مخالفت کرتے رہے ہیں لیکن اس کے اسباب شرعی نہیں کچھ اور تھے۔ ترک معاشرہ بڑی حد تک تصوف کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ مذہبی عقیدت کا رنگ بہت گہرا تھا۔ ترکوں کی مذہبی عقیدت کا انداز دیکھنا ہو تو عثمانی سلاطین نے مسجد نبوی کی تعمیر نو کے لیے جس انداز کا اہتمام کیا تھا اس کا مطالعہ کافی چشم کشا ہو گا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس پر صلاح الدین محمود صاحب نے ایک بہت عمدہ مضمون لکھا تھا۔

ترک علما کا خیال تھا کہ پرنٹنگ کے عمل کے دوران میں کچھ ایسے اعمال سے واسطہ پڑ سکتا ہے جو مذہبی کتب کی شان اور تقدس کے منافی ہوں۔ ابتدا میں انھوں نے قرآن حکیم کی جلد بندی کی اجازت بھی بہت مشکل سے دی تھی کیونکہ سلائی کے لیے مقدس صفحات میں آر سے سوراخ کرنا اور ان پر ہتھوڑا مارنا پڑتا ہے۔ تاہم جلد بندی کو اس کی افادیت کی بنا پر قبول کرنا پڑا۔ بصورت دیگر صفحات کے گم ہونے یا ضائع ہونے کا اندیشہ تھا۔

یہی حال پرنٹنگ کا تھا۔ ابتدا میں پریس کی چھپی کتابوں کی ناپسندیدگی کا ایک بڑا سبب یورپ میں شائع ہونے والی عربی کتب میں بہت زیادہ اغلاط کا پایا جانا تھا۔ چنانچہ ابراہیم متفرقہ نے جب پریس لگانے کی اجازت طلب کی تو اس میں بطور خاص اغلاط سے پاک کتابوں کی اشاعت کا ذکر کیا گیا تھا۔ شیخ الاسلام کے خط میں پروف ریڈرز کے تقرر پر اصرار کیا گیا تھا۔

پرنٹنگ میں ایک مسئلہ تکنیکی تھا۔ عربی الفاظ کو ٹائپ میں ڈھالنا ایک دشوار کام تھا کیونکہ ایک ایک حرف کی چار چار شکلیں ہیں۔ ابتدا میں جو ٹائپ بنایا گیا وہ دیدہ زیب بھی نہیں تھا۔ لیکن جونہی لیتھوگرافی کی ٹیکنالوجی وجود میں آئی مسلمانوں نے بلاتاخیر اس کو اپنا لیا کیونکہ وہ کتابت ہی کی توسیع تھی۔ پروفیسر رابنسن خود اعتراف کرتے ہیں کہ جب اٹھارویں اور انیسویں صدی میں قاہرہ اور استنبول میں قرآن کی طباعت شروع ہوئی تو اس پر کوئی ہنگامہ برپا نہیں ہوا بلکہ اسے قبول کر لیا گیا۔ یعنی شریعت طباعت سے منع نہیں کرتی تھی البتہ کچھ لوگوں نے اپنے فہم و بصیرت کی بنا پر وقتی طور پر دینی کتابوں کی طباعت کی مخالفت کی تھی۔

اب رہ گیا یہ سوال کہ پرنٹنگ پریس کو اختیار نہ کرکے معاشرے میں روشن خیالی پیدا کرنے کا موقع ضائع کر دیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ پریس ایک ذریعہ ضرور ہے لیکن وہ بجائے خود روشن خیالی کا سبب نہیں بن سکتا۔ اس کے لیے اور بہت کچھ درکار ہوتا ہے۔ اب ہمیں پریس کو استعمال کرتے ہوئے دو سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اس عرصے میں ہم نے روشن خیالی کی طرف کتنا سفر طے کیا ہے؟ علم و تحقیق کے کون سے کوہ گراں سر کیے ہیں؟ جو کچھ پریس میں چھپ رہا ہے اس کی افادیت اور قدرو قیمت کیا ہے؟ دنیا بھر میں طبع ہونے والے کتب و رسائل کا بڑا حصہ نرا کچرا ہے۔ کارل پوپر اسے اشاعتی دھماکے کا نام دیتا تھا۔ طبع شدہ مواد سے لوگ جہاں علم حاصل کر رہے ہیں وہاں اپنے اپنے تعصبات اور جہالت میں رسوخ بھی پیدا کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply