جنت میں پہلا زُوم مشاعرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا سے وفات شُدہ پاکستانی جب جنت پہنچے تو وہاں بھی باز نہیں آئے۔ زیتون و انجیر کے باغ باغیچوں میں گھوم گھام، بازاروں میں سو فیصد رعایت پر خریداری کر، دودھ اور شہد کی نہروں میں نہا دھو کر اُنہوں نے فرشتوں اور حوران و غلمان میں بھی کرونا پھیلا دیا۔ کچھ ہی دنوں میں سب چھینکنے کھانسنے لگے تو داروغۂ جنت کو مجبوراً مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔ دودھ کی نہروں کی روانی بند، چکنی حُوروں کی فراوانی بند، مَے خانے کا رنگین پانی بند۔ سب لہریں بحریں موقوف ہو گئیں۔

جنت میں “دشتِ بیزار دِلاں” کے نام سے شاعروں کی الگ ہاؤسنگ سوسائٹی تھی۔ لاک ڈاؤن سخت ہوا تو تمام مرحوم و مغفور شاعروں کا بوریت سے بُرا حال ہوگیا۔ چُغل خوری اور غیبت کے تمام ذرائع، حتٰی کہ ایک دوسرے کی فاتحہ خوانی میں جانے پر بھی کرفیو لگ گیا۔

میر جس عطار کے لونڈے سے دوا لیتے تھے، اُس کا آنا جانا تھما تو خُدائے سخن بگڑ بیٹھے۔ خدا کو فون کرکے بولے کہ “میاں! اب یہ کونسی کتاب میں لکھا ہے ؟ عطّار کے لونڈے کو تُرنت ہمارے ہاں واپس بھیجیے”

مرزا رفیع الدین سودا ہر روز سودا سلف لینے کے بہانے امراؤ جان ادا کے ہاں تانکنے جھانکنے اور معجونِ وصل پھانکنے جایا کرتے تھے۔ وہ بھی گھر میں قید ہوکر رہ گئے۔

مرزا نوشہ جیسے بلانوش کی شراب ایسے چُھٹی کہ روزِ ابر و شبِ ماہتاب میں بھی گھونٹ دو گھونٹ کے لالے پڑ گئے۔ بوند بوند کو ترس گئے۔

اُدھر ذوق کے تمام ذوق و شوق ماند پڑ گئے۔ دربارِ بہادر شاہ ظفر میں بادشاہ کی غزلیں ٹھیک کرنے کی آڑ میں اچھی خاصی بالائی آمدنی ہوجایا کرتی تھی، سب ٹائیں ٹائیں فش ہوگئی۔

تمباکو کی سپلائی ختم ہونے کے سبب اقبال لاہوری کا حُقّہ پانی بند ہوگیا تھا سو وہ خالی چلم گڑگڑا کر فلسفۂ بے خودی پر دھیان جمائے لاک ڈاؤن کو پنجابی و فارسی گالیاں دے رہے تھے۔

جون ایلیا جس حجام سے زلفوں کو مزید بکھروانے جاتے تھے وہ سالا بھی لاک ڈاؤن کے باعث دُکان اپنی بڑھا گیا۔

ایسی دغڑ دھوم مچی کہ داغ کو دوست دغا دے گئے اور جوش کا جوش و خروش ماند پڑ گیا۔

اُستاد یوسفی جن حورانِ خلد کو پہلو میں دبائے، ٹھرک کی سڑک پر چہل قدمی اور چُہلیں فرماتے تھے، وہ سب Social Distance  کا بہانہ بنا کر روپوش ہو گئیں۔

جگر مُراد آبادی نے اپنے گھر کا نام “دردِ جگر” رکھ چھوڑا تھا۔ کسی نے پوچھا کہ مُراد آباد کیوں نہیں رکھا ؟ کہنے لگے وہاں اب مُراد سعید رہتا ہے۔

ثروت حسین الگ بوکھلائے بیٹھے تھے کہ جنت میں تو مزید خودکشی بھی نہیں ہوسکتی۔

ایسے عالم میں “بزمِ شاعرانِ خُلد (رجسٹرڈ)” نے شاعروں کی بوریت دور کرنے کے لیے ایک کُل جنتی مشاعرے کا اہتمام کیا۔ ازراہِ ہمدردی و شر پرستی کچھ شاعروں کو (جن کے نام خوفِ فسادِ خلق کی وجہ سے صیغۂ راز میں رکھے گئے ہیں) جہنم سے بھی زحمتِ سخن دی گئی۔ مشاعرہ زوم پر ہونا قرار پایا۔ پہلے تو طرح مصرع دیا گیا کہ:

اُردو کا جنازہ ہے، ذرا زُوم سے نکلے

لیکن بعد میں استاد شاعروں نے اس طرح کے طرح مصرع پر لکھنے سے انکار کردیا کہ قافیہ کافی تنگ ہے، لہذا مشاعرے کو کھلم کھلا مشاعرہ قرار دے دیا گیا یعنی فری اسٹائل کُشتی کہ ہر شاعر اپنی مرضی کی بحر میں دن دہاڑے دندناتا ہنہناتا بلبلاتا کلبلاتا پھرے۔ جو آئے آئے کہ ہم دل کشادہ رکھتے ہیں۔

میر تقی کی صدارت میں احمد فراز کو مشاعرے کی نظامت سونپی گئی اور سب شاعر اپنے اپنے گھروں سے آن لائن ہوئے۔ دارالخلافۂ جنت کے “ڈی چوک” میں چار سو بیس انچ کی بڑی سکرین پر مشاعرہ لائیو دکھانے کا اہتمام کیا گیا۔ یادش بخیر، بھلے دنوں میں تو ڈی چوک میں اتنا رش ہوتا تھا کہ دھرنوں کی آڑ میں منگنیاں رشتے بلکہ نکاح اور ہلکے پھلکے کارِ وصل تک وہیں ہو جایا کرتے تھے لیکن اب لاک ڈاؤن کے سبب چوک میں الو بول رہا تھا۔ الو کے علاوہ مشاعرہ دیکھنے والوں میں ڈھائی تین درجن کبوتروں کے علاوہ کوئی نہ تھا اور یہ ناہنجار کبوتر بھی واہ واہ کے بجائے یا تو من موہنی کبوتریوں سے محوِ وصال تھے یا بیٹ فرمانے میں مشغول۔ ہر دو کاموں کی لذت اُنہیں مشاعرے سے کہیں زیادہ محسوس ہورہی تھی۔ سچ ہے کہ کبوتر نسل ہے ہی بد ذوق۔ ان سے تو بہتر تھا کہ طوطے ہوتے۔ سالے کم از کم رٹے رٹائے جملے تو بول ہی دیتے کہ واہ واہ ! کیا شعر ارشاد فرمایا ہے وغیرہ وغیرہ۔

خیر مشاعرہ شروع ہوا تو زوم کی سکرین پر عجیب مچھلی منڈی کا سماں تھا۔ حبیب جالب جلدی اور فرطِ شوق میں بنیان ہی میں آن لائن ہوگئے کہ اُن کے گھر لباسِ فاخرہ کا یہی طور طریقہ تھا۔ انہیں مشاعرے کے دستور سے آگاہ کر کے قمیص پہننے کو کہا گیا تو بولے:”ایسے دستور کو، ایسے لنگور کو، مَیں نہیں مانتا، مَیں نہیں مانتا”

جون ایلیا اپنی آخری بوتل دو دن پہلے ہی سُڑک چُکے تھے لہٰذا اب ہاتھ میں بے رونق گلاس (اور دراز زلفوں تلے ویسا ہی منہ) لٹکائے بیٹھے تھے۔ فون کا کیمرہ اپنی گود ہی میں دھر رکھا تھا سو وقتاً فوقتاً اُن کا نُورانی چہرہ یُوں نمودار ہوتا جیسے پردے کے پیچھے سے اونٹ جھانک رہا ہو۔ بار بار پوچھتے کہ “جانی ! میری صورت نظر آرہی ہے کیا ؟”

جمال احسانی کا انٹر نیٹ بل کی عدم ادائیگی کے سبب بند تھا سو وہ اپنے پڑوسی ثروت حسین کے ساتھ ایک ہی سکرین پر آن لائن تھے اور دونوں بار بار ایک دوسرے کو درشت ٹہوکا دے کر سکرین پر منہ دکھائی کی کوشش کرتے تھے۔ مزید برآں ثروت بار بار منہ سے ریل گاڑی کی چھک چھک کی آواز نکال کر جمال احسانی کا تراہ نکال رہے تھے۔

مومن پاندان گود میں لئے آن لائن چھالیہ کُتر رہے تھے اور ناصر کاظمی بیڑی سلگائے پیڑی پر بیٹھے تھے۔

جوش ملیح آبادی کی سکرین کے نچلے دائیں کونے سے وقتاً فوقتاً ایک چکنا لونڈا اوپر جھانکتا تھا اور جوش خالصتاً لکھنوی محاورے میں اُس کی سرزنش کرکے واپس سکرین سے نیچے دفعان کردیتے تھے۔

عصمت چغتائی مشاعرہ سُننے آن لائن آئی تھیں اور مئی کے مہینے میں بھی لحاف اوڑھے بیٹھی تھیں۔ کسی نے اُن سے لحاف ہٹانے کی گذارش کرنے کی جرات نہیں کی، مبادا لحاف تلے سے ہاتھی نکل آئے، تجسس بری بلا ہے !

ہندوستان کے ایک حالیہ مرحوم شاعر نے دورانِ مشاعرہ منتظمین سے سوال داغ دیا کہ مشاعرے کا نذرانہ آن لائن بھیجا جائے گا یا دستی ؟ اس پر احمد فراز نے رائے پیش کی کہ کرنسی نوٹوں سے کرونا پھیلنے کا خدشہ ہے لہٰذا نقد ادائیگی کے بجائے فی شاعر ایک ایک بلیک لیبل ارسال کی جاوے۔ جون ایلیا چمک کر بولے کہ “ابے جانی ! مَیں بلیک لیبل نہیں پیتا، اُس سے میرا رنگ بلیک ہو جاتا ہے۔ میرے لیے ریڈ لیبل بھجوائیو۔ اور ہاں، دو ہونی چاہئیں۔ مَیں کافی بڑا شاعر ہوں”

بزمِ شاعرانِ خُلد (رجسٹرڈ) کے منتظمین کو یہ سُن کر شدید دھچکا لگا کہ معزز شعرائے کرام گھروں میں بیٹھے بیٹھے آن لائن آنے کے بھی پیسے مانگ رہے ہیں۔ اس پر صاحبِ صدر نے مداخلت کی اور واضح کیا کہ شاعر کے وقت بلکہ اوقات کی قدر کی جاوے۔

ہم فقیروں سے کج ادائی کیا

آن بیٹھے جو تُم نے پیار کیا !

مُنیر نیازی پھڑک کر بولے کہ واہ اُستاد ! مصرعۂ ثانی میں آن بیٹھے کا مطلب آن لائن بیٹھنے کا ہے۔

فیض صاحب نے لُقمہ دیا کہ “بھئی ی ی ی دیکھیے، منتظمین حضرات ! ہمارے آن لائن آنے سے آپ کے فیس بک چینل پر ٹریفک کتنی بڑھ گئی ہے۔ بھانت بھانت کے کامنٹس اور دھڑا دھڑ لائیکس آرہے ہیں۔ اُدھر جہنم والے بھی آپ کی پوسٹ شئیر کر رہے ہیں سو نذرانہ تو دینا ہوگا”

ڈیڑھ دو سو شاعروں کی بھیڑ بھاڑ میں مشاعرہ اگلی صبح تک چلا۔ مُرغانِ جنت فجر کی بانگیں دینے لگے مگر شاعروں کی بانگیں نہ تھمیں۔ وہ تو خیریت گزری کہ عزرائیل نے پیچھے سے انٹرنیٹ آف کردیا ورنہ کچھ شاعر تو صاحبِ صدر کے بعد بھی غزلیں سُنانے پر تُلے بیٹھے تھے۔ صاحبِ صدر کی کرونا پر لکھی ہوئی غزل “دیکھا اس بیمارئ دل نے آخر کام تمام کیا” نے مشاعرہ لُوٹ لیا۔ جون ایلیا کو غزلِ ہٰذا سُن کر ایسا حال چڑھا کہ وہ آف لائن ہوکر نزدیک ترین درخت پر چڑھ گئے اور بقیہ داد اُسی بلندی سے دی۔ مصحفی شیفتہ سے لپٹ گئے اور ذوق مومن کے زانو پیٹنے لگے۔ ایسی ہڑبونگ مچی کہ خدا کی پناہ۔ داروغۂ جنت بھاگا بھاگا آیا اور میسنی سی صورت بنا کر کہنے لگا کہ خدا فرماتا ہے اے ایمان والو ! اب بس کر دو! بہت ہو گئی۔

یُوں بادلِ نخواستہ جنت کا پہلا زوم مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔ آپ “بزمِ شاعرانِ خُلد (رجسٹرڈ)” کے فیس بُک پیج پر اس مشاعرے کی ریکارڈنگ دیکھ سکتے ہیں۔ شئیر کرنا مت بُھولیے گا۔ پہلے دس شئیر کرنے والوں کو فرشتۂ اجل یعنی دہشت مآب حضرت عزرائیل کے ساتھ عالمِ بالا کی مُفت سیر کروائی جائے گی اور مُشک کافور سے بھرا گفٹ باکس پیش کیا جائے گا، نیز کفن دفن کا بھی بالکل مُفت اہتمام ہو گا۔  وما علینا الا البلاغ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *