شائستہ زید: ایک قابل تقلید مثالی شخصیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ہماری بہت مختصر اور ابتدائی ملاقات تھی اور تا حال یہ طے نہیں ہوا تھا کہ اس پرو فائل ڈاکیومنٹری کے کیا خدو خال ہوں گے۔ ہم اس وقت ٹیلی وژن کے ٹرانسمیشن سٹوڈیوز کے کنٹرول روم میں مو جود تھے اور شاید انھیں اس وقت بھی اپنے کسی اسائنمنٹ کی جلدی تھی، سو میں نے محض یہ بنیادی سوچ ان سے شیئر کی کہ اس پروفائل ڈاکیومنٹری کو مونولاگ کی شکل دیتے ہیں، ان کے پر جوش اور تائید ی رد عمل سے ہم خیالی کی طرف پیش قدمی شروع ہوئی۔

دراصل یہ پروجیکٹ ایک ڈاکیومنٹری سیریز کا حصہ تھا ( اور بعض دوسری ڈاکیومنٹری میں میز بان کو لے کر شخصیت سے سوالات کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ) مجھے نہیں معلوم وہ خود کس لئے مونولاگ کی قائل تھیں، نہ میں نے ان سے یہ جاننا مناسب سمجھا، میرا نقطہ نظر اس ٹریٹمنٹ کے حوالے سے یہ تھا کہ منتخب شخصیت کو پچیس منٹ کی ایک ڈاکیومنٹری میں پورا وقت ملنا چاہیے۔

یوم پاکستان کے حوالے سے 1997 میں تیار کی جانے والی اس سیریز میں غیر معمولی پرفارمنس دکھا نے والی ممتاز شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنا تھا اور اس فہرست میں محترمہ شائستہ زید صاحبہ کا نام بھی شامل تھا۔

اس سے قبل میری شائستہ زید صاحبہ سے کبھی با قاعدہ ملاقات نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی وہ مجھ سے یکسر واقف تھیں۔ میری گھبراہٹ یہ تھی کہ کہیں میری ڈاکیومنٹری ملک کی اس معتبر اور سنجیدہ شخصیت کے مقام سے ہٹ کر نہ ہو، ان کا خوف یہ تھا کہ وہ اپنے پورے کیریر میں پہلی بار میڈیا کے لئے وقت نکال رہی تھیں اور یہ کہیں بیک فائر نہ ہو جائے۔

یوں اس ماحول میں ہماری ریکاڈنگز کا آغاز ہوا۔ شائستہ زید صاحبہ کی پہلی خوبی جس کے بارے میں ہر کس و ناکس، سبھی متفق تھے ( اور بعد میں جس کا ہمیں خود بھی بخوبی اندازہ ہوا ) وہ وقت کی پابندی تھی۔

سرکاری ماحول اور زیادہ افراد کی ٹیم کے ساتھ، خصوصاً آؤٹ ڈور میں طے شدہ وقت پہ یکجا ہونا، ہمارے ہاں عام طور پر مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال میں، میرے لیے اس کا حل یہی تھا کہ ٹیم کو ملاقات کا مقررہ وقت، ایک یا دو گھنٹے کے فرق سے بتایا جائے، سو یہ ترکیب کار گر رہی۔

ہماری پہلی لوکیشن ان کا ( سی بی ) کالج تھا۔ وقت کی پابندی کی پہلی جھلک بھی ہم نے تب دیکھی جب انھیں پرنسپل آفس میں موجود ہونے کے بجائے، پرنسپل آفس کے باہر، ٹیم کے انتظار میں موجود پایا۔ یہی نہی ان کے چہرے پہ آنے والی دھیمی مسکراہٹ، ٹیم کی وقت کی پابندی کے لئے بھی اظہار تشکر کا پتہ دے رہی تھی۔

پرنسپل صاحبہ نے ان کے لئے تعریفی کلمات کی بارش شروع کردی۔ ان کے خیالات سے شائستہ زید صاحبہ کی کالج میں مقبولیت اور شعبہ تدریس سے ان کی گہری وابستگی نمایاں ہوتی جا رہی تھی۔

پرنسپل صاحبہ کے و یوز میں دو باتیں ایسی تھیں جو حقیقتاً چونکا دینے والی کہی جا سکتی ہیں، ایک یہ کہ شائستہ زید نے کبھی غیر ضروری چھٹھی نہیں کی اور دوسری یہ کہ آج تک پورے کیریر میں وہ کبھی کالج کے لئے لیٹ نہیں ہوئیں۔ غیر ضروری چھٹی نہ کرنا تو ان کی ڈسپلن لائف کا عکس ہو سکتا ہے، مگر کبھی لیٹ نہ ہونا، یہ کیوں کر ممکن ہوا، یہ جب ہم نے جاننا چاہا اور ٹریفک، آندھی، طوفان کا حوالہ دیا تو انھوں نے بہت سادگی سے جواب دیا ”جب خود ڈرائیو کرنا ہو، تو لیٹ ہونا، کیسے ممکن ہے“۔

ہمارا اگلا پڑاؤ، شائستہ زید صاحبہ کی ابتدائی تعلیم کے حوالے سے راولپنڈی کا قدیم ترین مشنری اسکول تھا جہاں ان کے شاندار تعلیمی ریکارڈ کے باوجود انھیں پچھلی نشستوں پہ بٹھایا جاتا تھا جس کی وجہ شائستہ زید صاحبہ نے اپنا سرو قد ہو نا بتا یا۔

تعلیم کے اپنے ابتدائی مقامات سے گزرتے ہوئے، ان کا اسکول کے ماحول میں کھو جانا، اپنے پرانے اساتذہ کی مو جو د گی کو محسوس کرنا اور گزرے ماہ و سال کی چاپ سننا، نہایت فطری عمل تھا اور اس طرح ڈاکیومنٹری کی ریکاڈنگز سمیٹتے ہوئے، ہماری آخری لو کیشن یقینی طور پر ان کا گھر تھا، جہاں حیرت کا مزید سا مان سب کا منتظر تھا۔ گھر کی دیواروں پر سجی تمام خوب صورت پینٹنگز شائستہ زید صاحبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کا نتیجہ تھیں۔ گھر کی پر کشش گارڈننگ میں بھی کسی مالی کا عمل دخل نہیں تھا، اور تو اور، گھر کے وائٹ واش میں بھی انھیں کسی کو زحمت دینا گوارا نہیں۔ یہ مشکل مرحلہ بھی گھر کے افراد مل جل کر طے کرتے ہیں۔

شائستہ زید صاحبہ کی مصروفیت اور اس کے تسلسل کا اندازہ کچھ یوں لگا یا جا سکتا ہے کہ اس پروفائل ڈاکیومنٹری کے لئے، ان کی اپنی خواہش پر ایک مختصر انگریزی نظم ریکارڈ کی جانی تھی جس کے لئے صرف ان کی آواز درکار تھی۔ ٹیلی وژن کی معمول کی سات بجے شام کی خبروں کے لئے جب وہ تشریف لائیں تو تجویز دی گئی کہ ان کی آڈیو ریکارڈنگ کا کام کیوں نہ آج ختم کر لیا جائے۔ انھوں نے صورت حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ کسی طور ممکن نہیں کیوں کہ خبروں کے اس بلیٹن کے بعد مجھے گھر پہنچنا ہے، جہاں رات کا کھا نا پکانا ہے اور جوں ہی اس سے فرصت ہو گی ریڈیو پاکستان کی گاڑی گھر کے باہر آموجود ہو گی، اس لئے دو تین منٹ بھی آگے پیچھے ہوئے تو سارا شیڈول ڈسٹرب ہو جائے گا“۔

اس پرو فائل ڈاکیومنٹری میں ان کی شخصیت پہ رائے دینے کے لئے کن احباب کو شامل کیا جائے، اس کے لئے، اور دوسرے ناموں کے علاوہ انھوں نے انیتا غلام علی صاحبہ اور راحت کاظمی صاحب کے نام لئے۔ اول الذکر ان سے پہلے ریڈیو پر انگریزی خبروں کا جانا پہچانا نام تھا جبکہ موخر الذکر کالج کے تقریری مقابلوں کی دنیا میں ان کے حریف رہے تھے۔ انیتا غلام علی صاحبہ مصروفیت کی وجہ سے اپنے کمنٹس نہ دے سکیں اور راحت کاظمی ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے ڈاکیومنٹری کی تکمیل کے طے شدہ عرصے میں دستیاب نہ ہوئے۔

کالج میں تد ریس سے لے کر الیکٹرانک میڈیا میں نیوز ریڈنگ اور پھر اس درمیان ہو نے والی ان کی تخلیقی، سماجی اور گھریلو مصروفیات کو دیکھتے ہوئے بجا طور پر انھیں ( نہایت فخر کے ساتھ) ، ایک قابل تقلید مثالی شخصیت ہی قرار دیا جا نا چاہیے۔

( شائستہ زید صاحبہ کا ارسال کردہ، وہ گریٹنگ کارڈ، جو اس ڈاکیومنٹری کے فیڈ بیک کے طور پر، انھوں نے ٹیم کے لئے پیش کیا )
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *