قومی سیاست کے حمام میں سب ننگے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر مملکت نے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس جمعہ سے طلب کرلیا ہے جہاں 12 جون کو نیا قومی بجٹ پیش کیا جائے گا۔ کورونا وبا سے ملک و قوم کوبہت نقصان ہؤا ہوگا لیکن تحریک انصاف کی حکومت کو یہ فائدہ ضرور ہؤا ہے کہ کوئی اس سے جوابدہی نہیں کرسکتا۔ گزشتہ برس سابقہ حکومتوں کی بدعنوانی اور لوٹ مار کی کہانیوں نے حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہونے دی اور اس بار کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والا بحران میں کون کس سے ذمہ داری قبول کرنے کا تقاضہ کرسکتا ہے۔

اپوزیشن ویسے بھی دیوار سے لگی ہے اور اس کے لیڈر نیب اور عدالتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ملک میں انصاف عام کرنے کے لئے قائم کیا گیا حکومتی نظام مکمل طور سے ناکام ہے لیکن حکومتی عہدوں کے نام پر خود کو حکمران سمجھنے والے اور طاقت کی بنیاد پر اختیارات پر مکمل تصرف حاصل کرنے والے ہمہ قسم عناصر مطمئن و شاد ہیں۔ اگر ناخوش ہے تو وہ اس ملک کا عام شہری جسے کچھ سجھائی نہیں دیتا کہ وہ خود کو کورونا سے بچائے یا اپنی فصلوں کو ٹڈی دل کے حملہ سے محفوظ رکھنے کا اہتمام کرے۔ اب پاک فوج کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ فوج ٹڈی دل کے خاتمہ میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ ایسے میں پاکستان کا محب وطن عام شہری تو یہی سوچنے پر مجبور ہوگا کہ ’اگر فوج اتنی متحرک و مؤثر نہ ہوتی تو اس کے مسائل کون حل کرتا‘۔

پاکستان کا سماجی،معاشی، سفارتی اور سیاسی منظر نامہ یکساں کنفیوژن اور بحران کا شکار ہے۔ یعنی کسی بھی شعبہ کا کوئی والی وارث نہیں ہے اور جس ادارے کو ان سب کا کسٹوڈین بننا تھا یعنی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارلیمنٹ، اس کے بارے میں یہی مباحث کافی سمجھے جارہے ہیں کہ کورونا کے موسم میں بھلا پارلیمانی اجلاس کا کیا فائدہ ہوگا؟ یوں بھی پارلیمنٹ میں کس نے کون سا تیر مارلینا ہے۔ گزشتہ ماہ کے دوران کورونا وائرس کے معاملہ پر منعقد ہونے والے اجلاس میں جوتیوں میں دال بٹنے کا سماں تھا۔ قائد ایوان اور اپوزیشن لیڈر نے اجلاس میں شریک ہونا ہی مناسب نہیں سمجھا اور باقی ارکان نے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے بعد اپنے اپنے گھر کی راہ لی۔

ایسے میں کہا جاسکتا ہے کہ اگر اجلاس بلا کر یہی کچھ کرنا ہے تو اس سے تو پارلیمنٹ کے بغیر لشٹم پشٹم رینگتی حکومت ہی بہترہے۔ اور پارلیمنٹ میں جس دشنام طرازی سے دل کا بوجھ ہلکا کرنا ضروری ہوتا ہے، اس کے لئے ملک کے ٹاک شوز حاضر ہیں۔ یا پھر سوشل میڈیا پر جیسی چاہے پھبتی کسی جائے اور کورونا سمیت ہمہ قسم مسائل کا جو دل چاہے حل پیش کردیا جائے، ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا۔ بس اس میں تفریح کا مسالہ تیز ہونا چاہئے تاکہ کچھ اور ہو نہ ہو، مزہ تو آئے۔ بجٹ اجلاس سے پہلے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری اور پھر ضمانت پر رہائی کے لئے بھاگ دوڑ کے دوران بجٹ اجلاس کا بھی حوالہ سامنے آیا۔ کسی ہونہار کا خیال تھا کہ حکومت نیب کے ذریعے محض بجٹ اجلاس میں خفت سے بچنے کے لئے شہباز شریف کو گرفتار کروانا چاہتی تھی لیکن اس میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اس قیاس یا خوش فہمی کو درست ماننے کی البتہ کوئی عملی دلیل موجود نہیں۔ نہ اپوزیشن نے متبادل بجٹ تجاویز تیار کی ہیں اور نہ ہی ملک و قوم کو درپیش مسائل کے بارے میں کسی اپوزیشن جماعت کا کوئی بنیادی اصولی مؤقف اور متبادل سامنے آیا ہے۔ لے دے کے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ عمران خان ’سلیکٹڈ‘ ہیں اور یہی سارے مسائل کی جڑ ہے۔

اس بات کو درست مان بھی لیا جائے تو بھی ایک نامزدگی کو مسترد کرتے ہوئے جب دوسری نامزدگی کے لئے ’جدوجہد‘ کا بڑے فخر و اعزاز کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے تو اس الزام کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے۔ اگر قوم کی قسمت میں نامزد لیڈر ہی لکھے ہیں تو اسے انتخاب کہنے اور سمجھنے کی غلطی کس خوشی میں کی جاتی ہے۔ اگر یہ دلیل ہے کہ مسلط کردہ نالائق حکومت ناقابل قبول اور لائق فائق حکومت قبول کی جا سکتی ہے تو اس سے جمہوریت کا کوئی مقدمہ مضبوط نہیں ہوسکتا۔ حکومت کسی بھی پارٹی کی ہو اگر فیصلے پارلیمنٹ کی بجائے کہیں دوسری جگہ ہونے ہیں تو حالات بے قابو ہونے پر عمران خان کی بجائے اس ’دوسری جگہ‘ کو معتوب ٹھہرانا ضروری ہے۔ اپوزیشن یہ حوصلہ کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ وہ تو آرمی ایکٹ میں ترمیمی بل کی متفقہ حمایت کرکے حب الوطنی اور قوم پرستی کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ضروری سمجھتی ہے۔ اس قضیے سے اصل یہی نکتہ برآمد ہوتا ہے کہ معاملہ سرٹیفکیٹ کا ہے۔ جسے سند جاری کرنے کا اختیار ہوگا وہی بادشاہ کہلائے گا۔

قومی سیاسی اور جمہوری عمل میں سند لینے اور فروخت کرنے کے طریقہ کو ہی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ عمران خان بے اختیار ہوتے ہوئے بھی مسرور ہیں کہ دیانت داری کے نام پر انہیں حکومت کرنے کی سند جاری ہو چکی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کوئی ایسا نکتہ تلاش کرنے میں سرگرداں ہے کہ کرپشن کے داغ کے باوجود اسے حکومت کی ٹانگ کھینچنے کا اجازت نامہ جاری ہوجائے۔ معاملات کون دیکھتا ہے اور انہیں وسیع تر قومی مفاد میں کیوں کر طے کیا جا سکتا ہے، بظاہر قومی مباحث میں اس پہلو کو خاص اہمیت حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جوابدہی کا کوئی نظام فعال نہیں ہوپاتا۔ عدالتیں حکومتی نمائیندوں کو بلا کر غصہ نکال لیتی ہیں اور یہ اہلکار اسی بات پر پھولے نہیں سماتے کہ جھنڈے والی گاڑی کے لئے اگر ججوں کی چند سخت سست باتیں سننا بھی پڑیں تو سودا مہنگا نہیں۔ ملک میں نظریہ ضرورت کا خاتمہ کرنے کے دعوے کے بعد اسی طریقہ کے احیا اور فروغ میں آلہ کار بن کر ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے ملک میں قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی بالادستی کے خواب کو چکنا چور کرنے میں حسب روایت کردار ادا کیا ہے۔

کون کس کا گریبان پکڑے اور کس کے دامن پہ داغ تلاش کئے جائیں؟ پاکستان میں قومی معاملات کے حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ سوال سب کرنا چاہتے ہیں، جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ کورونا وائرس کے عنوان سے پوری دنیا پر مسلط ہونے والے بحران میں ملکوں اور حکومتوں کے معاملات پر نگاہ ڈالی جائے تو ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ اگرچہ اس وبا کا کوئی علاج ابھی دریافت نہیں ہوسکا لیکن صرف ان ملکوں میں وبا کے حملے اور اس سے پیدا ہونے والی مشکلات سے بہتر طور سے نمٹا گیا ہے جہاں اتفاق رائے، قومی یک جہتی اور ذمہ داری قبول کرنے کی لگن موجود تھی۔ پاکستان ان چند بدنصیب ملکوں میں سر فہرست رہا ہے جہاں قومی سطح پر کسی اتفاق رائے کی نہ تو خواہش موجود ہے اور اس کے لئے کوئی کوشش دیکھنے میں آئی ہے۔ مسائل کبھی ختم نہیں ہوتے لیکن اگر ان سے نبرد آزما ہونے کی خواہش باقی رہے تو کوئی بھی قوم اپنے لئے آسودگی کا راستہ تراش لیتی ہے۔ پاکستان میں اس خواہش کے نام پر چند نعرے بلند کئے جاتے ہیں۔

ملک میں حکومت سازی کے حوالے سے 70 برس سے جاری تجربات کا سلسلہ جوں کا توں جاری ہے۔ اب بھی ایک کے بعد دوسرا مہرہ تیار رکھنے کے جوش و خروش میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ سیاست کی بساط پر سیاسی پارٹیاں اور لیڈر ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن کوزہ گری کے اس طریقہ کو مسترد کرنے کے لئے کسی تحریک کا حصہ بننے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ’ووٹ کو عزت دو‘ کا نعرہ لگا کر بالآخر نواز شریف کو لندن میں علاج کروانے اور مریم نواز کو جاتی عمرہ میں خاموشی کی زندگی گزارنے میں ہی عافیت دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں شہباز شریف سے مرد میدان بننے کی امید بھس کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہوگا۔ وہ ضمانت کروائیں گے یا جیل کی ذلت اٹھائیں گے لیکن عوامی تائید پر بھروسہ کرنے کی بجائے وہیں سے اختیار لینے کی کوشش کریں گے جہاں سے وہ بار بار دھتکارے جا چکے ہیں۔

تحریک انصاف یا عمران خان کو مطعون کرنے کی بجائے اب یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ غیر فعال پارلیمنٹ، نامزد حکومت، بے اختیار اداروں اور غیر مؤثر عدلیہ کے ہجوم میں فیصلے کرنے کا مجاز کون ہے۔ اور اختیار کے استعمال کا یہ جواز کسی ایک گروہ یا طبقہ کو کیسے حاصل ہو سکا ہے۔ سیاست دانوں کی غلطیاں اور لالچ اپنی جگہ لیکن معیشت کو تباہی اور عوامی صحت کو موت کے کنارے پہنچانے والوں سے جواب طلب کرنا ہی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ملک میں جمہوریت اور بنیادی حقوق کے تحفظ کا مقصد اسی راستے پر قدم بڑھانے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1543 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *