پاکستان میں کورونا کے ابتدائی مریضوں پر کیا بیتی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ گزشتہ سال نومبر سے پھیلی ہوئی عالمی وبا کورونا وائرس بلاشبہ موجودہ دور کے تمام انسانوں کے لئے کسی حد تک نیا اور سنگین ترین حادثہ ہے۔ موجودہ صدی کا انسان اس سے پہلے قدرتی آفات اور محدود پیمانے پر وباؤں کو بھگت چکا ہے جیسے ہانگ کانگ فلو ( H 3 N 2۔ 1968۔ 1970 ) انفلوئنزا کی طرح کا یہ وائرس بھی دنیا بھر میں پھیلا تو اس کی وجہ سے ایک ملین سے زائد لوگ موت کی وادی میں اتر گئے اور شہروں کے شہر ویران ہو گئے۔

اس کے علاوہ ایڈز ( HIV/ AIDS۔ 1981۔ Present ) ایڈز کا پہلا کیس 1981 میں سامنے آیا۔ اس کی وجہ سے ابھی تک 75 ملین لوگ متاثر ہو چکے ہیں جب کہ 32 ملین مارے جا چکے ہیں۔ انسانی بد اعمالیوں اور بے اعتدالیوں کی وجہ سے پھیلنے والا یہ مرض آج تک پوری شدت سے نہ صرف موجود ہے بلکہ ناقابل اعلاج گردانا جاتا ہے۔

اور اب 2020 میں کرونا وائرس چین کے ایک شہر سے نکلا اور پوری دنیا میں تباہی مچا دی۔ ابتدا میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں اور ان کے لواحقین کو جن مسائل سے گزرنا پڑا وہ اس پورے منظر نامے کا سب سے زیادہ افسوسناک پہلو ہے جس پر خاموشی اختیار کی گئی۔ پوری دنیا میں اب تک لاکھوں افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں، جدید ترین ممالک کے نظام صحت اس حوالے سے مشکلات کا شکار دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ہر گزرتا ہوا دن مریضوں کی تعداد میں اضافے کی خبریں سنا رہا ہے۔ وطن عزیز کی بات کروں تو یہاں کورونا وائرس کو شروع دن سے ہی مشکوک اور عالمی سازشی تھیوری سمجھا گیا۔ جس کی اہم ترین وجہ حکومتی سطح پر لاپرواہی کا مظاہرہ شامل ہے جبکہ لاک ڈاؤن کے نام پر جو مذاق کیا گیا اس نے لوگوں کی غیر سنجیدگی میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔

دوسری جانب کورونا وائرس سے متاثرہ ابتدائی مریضوں کے لیے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جانب سے جو اختیار کیا گیا، وہ انسانیت کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر بھی اب کافی محتاط ہو گئے ہیں اور انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ یہ جنگ انہوں نے ہی لڑنی ہے کیونکہ نہ حکومت نہ ان کا ساتھ دینا ہے اور نہ ہی عوام نے۔ تاہم ابھی بھی نجی ہسپتالوں کا رویہ غیر انسانی ہی ہے اور اس حوالے سے صوبائی حکومتوں کی خاموشی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

ابتدائی مریضوں کے معاملے میں صورت حال اس وقت گمبھیر ہو گئی تھی جب کراچی میں حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ اب تک کورونا وائرس سے صرف ایک ہی ہلاکت ہوئی ہے جو کہ خاتون کی ہے جس سے دس میں سے نو افراد کی کورونا سے ہلاکت مشکوک قرار پائی اور ان کے لواحقین کے لیے گونا گوں مسائل نے جنم لیا۔ جو پہلے ہی اپنی پیاروں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے نالاں تھے۔ انہی ابتدائی دس مریضوں میں ایک مریض ہم ٹی وی سے وابستہ اور ”تھوڑی سی وفا“ اور ”میں ہار نہیں مانوں گی“ کی تخلیق کار معروف ڈرامہ نگار سارا مجید کے والد حافظ عبدالمجید بھی شامل تھے۔

جنہیں نو مارچ کو عمرہ واپسی پر سانس کی تکلیف شروع ہوئی تو آغا خان ہسپتال کراچی میں لے جایا گیا۔ جہاں بھاری بھرکم فیسوں کی ادائیگی کے باوجود ان کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کیا گیا اور ایسے ٹیسٹ کرانے کو ترجیح دی گئی جن کی ضرورت بھی نہیں تھی اور سارا کے بقول ابھی تک ان کی رپورٹس بھی انہیں فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کا کیس بگڑ گیا جس نے گویا انہیں ہسپتال میں اچھوت کا درجہ دے دیا۔ ڈاکٹروں نے ان کے روم کا وزٹ کرنا چھوڑ دیا۔

یہ ڈاکٹروں کی جانب سے کی جانے والی وہ لاپرواہی تھی جس نے حافظ عبدالمجید کی تکلیف میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ آغا خان ہسپتال میں اپنے والد کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی وجہ سے سارا مجید نے انہیں وہاں سے شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور انہیں ایک اور نجی ہسپتال میں منتقل کیا گیا۔ ڈاؤ ہسپتال میں بھی انہیں بوجوہ کورونا وائرس اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جو اس سے قبل وہ آغا خان ہسپتال میں کر چکے تھے تاہم یہاں سارا کو یہ ڈھارس بندھی کہ علاج شروع تو ہوا ہے۔

سارا کے والد کا جانا شاید ٹھہر گیا تھا، شفاء منجانب اللہ ہے تاہم ہم اپنے مریضوں کو اس لیے مسیحاؤں کے پاس لے کر جاتے ہیں کہ وہ اس اذیت کی شدت کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے جس سے مریض اور لواحقین گزرتے ہیں۔ تاہم وبائی امراض میں شاید طبی عملے کا رویہ بدل جاتا ہے کیونکہ ان کی اپنی زندگی بھی داؤ پر لگی ہوتی ہے مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مریضوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک اختیار کیا جائے۔ جبکہ ہسپتال سرکاری ہوں یا نجی چھوٹا عملہ پیسہ وصول کیے بغیر تعاون نہیں کرتا۔

سارا مجید نے جو تفصیلات اور اپنے والد کی جو تصاویر شیئر کی ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ ہیں کہ ایک سانس لیتے ہوئے ناتواں بزرگ کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا گیا کہ ان پر اپنی جان اپنے ہاتھوں سے ختم کرنے کی سوچ غالب آ گئی۔ تاہم اللہ نے انہیں اس گناہ سے بچا لیا اور ان کو اس اذیت بھری زندگی سے نجات دے دی، جس کے ذمہ دار وہ خود نہیں تھے۔ جس کا ذمہ دار ہمارا صحت کا وہ نظام ہے جس میں ایمرجنسی کی صورت میں نمبٹنے کی صلاحیت نہیں۔ ہماری حکومتیں ہیں جنہوں نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک عوامی صحت کے منصوبوں کو کبھی فوقیت نہیں دی، عوام کی تعلیم اور صحت ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ اس لیے آج کا پاکستان کورونا وائرس کے محاذ پر ناکام دکھائی دے رہا ہے۔

حافظ عبدالمجید جیسے کئی بزرگ مسیحاؤں کے خوف کی بھینٹ چڑھ گئے۔ لیکن ابھی ان کے امتحان باقی تھے، دن 1 بجے ان کا انتقال ہوا تو میت رات 8 بجے پلاسٹک میں لپیٹ کر ایمبولنس میں ڈال دی گئی۔ فیملی آٹھ گھنٹے تک وارڈ کے باہر کھڑی رہی اور پھر پولیس کو ساتھ روانہ کیا گیا۔ غسل ہوتے ہی فیملی کو کہا گیا کہ کہیں ہائی وے پر دور جا کر ایدھی والے دفنا آئیں گے بغیر جنازہ کے شاید لاوارثوں کے قبرستان میں۔ جب انہوں نے شہر کے اندر کسی قبرستان میں دفنانے کی بات کی اور صبح فجر تک کا وقت مانگا تو نہیں دیا گیا۔ کس طرح رات بھر میت ایدھی سینٹر کے سامنے ایمبولینس میں رکھی رہی سرد خانے میں رکھنے بھی نہیں دی گئی اور گھر تک لے جانے کی اجازت تو ہرگز نہیں تھی۔

سارا کی فیملی کے تین لوگ رات بھر وہیں رہے 10 بجے سے صبح 5 بجے تک۔ باری باری ایمبولینس کے پاس کھڑے ہوتے کہ ایمبولنس میں کوئی بلی یا کتا نہ گھس جائے۔ سارا اپنے شریک مشکلات کے ساتھ رات 2 بجے کے قریب دو تین قبرستانوں کے چکر لگا کر آئی تاہم کوئی گورکن کورونا وائرس سے متاثرہ میت کی قبر بنانے کو تیار نہیں تھا جبکہ پولیس ہسپتال سے ان کے ساتھ تھی اور حسب روایت مسلسل تنگ کر رہی تھی۔ آخر کار ڈی ایچ او کی معاونت سے صبح فجر کے بعد نماز جنازہ ہوئی میت ایمبولنس میں رکھی رہی اور دور کھڑے ہوکر چند لوگوں نے نماز جنازہ ادا کی اور محمد شاہ قبرستان میں حافظ عبد المجید کی باعزت تدفین ممکن ہوئی۔

مگر یہاں بھی ایک ان کی قبر، سارا کی فیملی کو ایک اور آزمائش سے گزرنا پڑا۔ تدفین کے اگلے دن کچھ شر پسندوں نے قبر کو نقصان پہنچایا۔ یہ سماجی انتہا پسندی کا سب سے زیادہ بدنما چہرہ تھا جو سارا نے بتایا۔ تاہم قبر پھر سے بنوا دی گئی ہے مگر ابتدائی کرونا مریضوں کے لئے کوئی بھی انتظامات نہیں تھے صرف فیملیز کو تنگ کیا گیا اور انہیں جس ذہنی اذیت کا شکار بنایا گیا اس کی ذمہ دار حکومت بھی ہے۔ حتیٰ کہ آغا خان ہسپتال میں جب ان کے ساتھ برا سلوک کیا جا رہا تھا تو سارا کے شوہر نے ان حالات کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی جس پر انہیں سیکورٹی گارڈز نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ وہ حالات تھے جن سے حافظ عبدالمجید، ان کی مسز اور سارا کی فیملی گزری۔ شاید کورونا وائرس سے متاثر تمام افراد اور ان کے خاندان کو اچھوت سمجھا جا رہا ہے اور انہیں روحانی اور قلبی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے اور تاحال گزرنا پڑ رہا ہے۔ خدارا کورونا وائرس ایک وبائی مرض ہے جو صرف ایک انسان نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے مہلک ثابت ہو رہا ہے۔ جبکہ یہ وبا انسانی تعلقات کی بہت بڑی آزمائش بھی بن رہی ہے کہ کون اپنوں کو تنہا چھوڑ رہا ہے اور کون ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ آپ میں، ہم سب مل کر بھی سارا اور ان کی فیملی کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کا مدوا نہیں کر سکتے تاہم مذمت کا ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں کہ مجھے شکوہ ظلمت شب سے زیادہ بہتر اپنے حصے کی شمع جلانا لگتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *