انتظار حسین کے نام آصف فرخی کا یادگارخط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1980 میں آصف فرخی صاحب لاہور آئے تو انتظار صاحب نے انھیں اپنی کتاب ’آخری آدمی ‘دی جو انھوں نے ٹرین میں پڑھ ڈالی ۔ کراچی پہنچتے ہی مصنف کو خط کے ذریعے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا،جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیس برس کی عمر میں گہری ادبی سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔ ’آخری آدمی ‘انتظار صاحب کے فنی سفر کا اہم پڑاﺅ ہے اور اس کے افسانوں کی تفہیم میں تو پکی عمر کے نقادبھی ٹھوکر کھاجاتے ہیں۔ آصف صاحب نے جب یہ خط لکھا اس وقت کسے خیال ہوگا کہ وہ آگے چل کر انتظار صاحب کے جہانِ فن کے شارح بنیں گے۔کچھ عرصہ پہلے فون پر انھیں اس خط کے بارے میں بتایا اور کہا کہ کوئی دن جاتا ہے اسے پبلک کردیا جائے گا۔یہ سن کر کہا ضرور،بھئی تم کو کون روک سکتا ہے۔
’آخری آدمی‘کے بارے میں آصف صاحب نے خط میں جن خیالات کا اظہار کیا پہلے وہ پڑھ لیں، اس کے بعد کتاب سے جڑی ایک دلچسپ حکایت کا بیان۔
” آپ کی کتاب ہم نے ریل میں ہی پڑھ ڈالی۔ واہ صاحب کیا کہنے، اس کی بدولت سفر خوب کٹا۔ الٹی طرف سے کتاب پڑھنی شروع کی اور آخری مضمون سب سے پہلے پڑھ ڈالا۔ یوں تو افسانہ نویس کو افسانوی عمل کے بارے میں مضمون نہیں لکھنا چاہیے کہ اس سے اُس تنائو میں کمی واقع ہوتی ہے جو فن کی تخلیق کی طرف اُکساتا ہے، لیکن آدمی بیان دے تو آپ کے اس مضمون سا۔ مزے کی بات یہ کہ اس مضمون میں کئی Statements ایسے ہیں جن کو اگر آپ منشور بنائیں تو میں بے دھڑک ان پر اپنے دستخط کر دوں۔
سیکنڈ رائونڈ والی کہانی تشنہ محسوس ہوئی اگرچہ اس میں آپ نے بعض اسٹروک غضب کے لگائے ہیں خصوصاً اس کا خاتمہ جس Uncertainity پر ہوا ہے وہ پاکستان کی سیاسی صورت حال کے حوالے سے نہ صرف Artistic بلکہ Prophetic ہے۔ ‘ٹانگیں ‘اور ‘پرچھائیں ‘خوب کہانیاں ہیں۔’ زرد کتا‘ اور’ آخری آدمی‘ کا تو کہنا کیا۔’ زرد کتا ‘کے حوالے سے ایک بات: ہماری تہذیبی روایت میں جو حکایات اور ملفوظات وغیرہ شامل ہیں، ان کی افسانویت یعنی یہ امر کہ ان کی Significance کسی واقع یا ”وقوعے“ کے exposition پر منحصر ہے، ان کی افسانویت گویا ان کی significance کے لیے ایک cover-up ہے، ایک فریم ہے، گویا ”سرپوش“ ہے۔ آپ نے الٹی طر ف سے کام شروع کرکے، یہ کار نمایاں کیا کہ افسانویت کی طرف سے، یعنی افسانوی اسٹرکچرکو بنیاد بنا کر اس حقیقت کی طرف مراجعت کی ہے جو عصر حاضر میں کھوئی گئی۔ اس طرح آپ نے ان حکایتوں کی افسانویت کو اردو فکشن کے لئے Rediscover کیا۔ اس عہد ابتلاءکی اتنی سچی تصویریں کہ Apocalypse کا مزہ آ گیا۔ اب آپ کی اگلی کتاب کا انتظار رہے گا۔“


اس سفر میں ایک مسافر نے یہ کتاب مانگ کر آصف صاحب کو بے چین کردیا، جب تک کتاب واپس دسترس میں نہ آگئی انھیں قرار نہ آیا۔ اس اضطرابی کیفیت کے بارے میں خط کے آخری حصے میں لکھا:
” ریل میں رات کے وقت یہ کتاب پڑھتے پڑھتے مجھے ذرا اونگھ سی آنے لگی تو سامنے کی برتھ والے مسافر نے کتاب مانگی کہ ذرا دکھائیں۔ کتاب اسے میں نے دے تو دی مگر اس وقت تک کوشش کر کے اپنے آپ کو جگائے رکھا جب تک کہ اس نے کتاب واپس نہ کر دی کہ کہیں وہ کتاب لے کر غائب نہ ہو جائے اور میں ٹاپتا رہ جائوں۔“
آصف صاحب کی تدفین کے روز ممتاز محقق عقیل عباس جعفری صاحب سے فون پر بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ دونوں کی پہلی ملاقات 1980 میں لاہور سے کراچی جاتے ہوئے ٹرین میں ہوئی۔ ہم نے جعفری صاحب سے پوچھا کہیں یہ مارچ کا مہینہ تو نہیں تھا؟انھوں نے حیران ہو کر پوچھا، آپ کو کیسے معلوم ہوا؟اس پر ہم نے انھیں آصف صاحب کے خط کا بتایا جس پر 7 مارچ 1980 کی تاریخ درج ہے ، ان سے کہا کہ اس سفر میں کسی مسافر نے ’آخری آدمی ‘پڑھنے کے لیے مانگ کر انھیں خاصا بیکل کیا۔ یہ بات سن کر جعفری صاحب نے اعتراف کرلیا کہ وہ ’جرم ‘انھی سے سرزد ہوا تھا۔
انتظار صاحب کا مضمون ’ اپنے کرداروں کے بارے میں ‘آصف صاحب کی طرح جعفری صاحب کو بھی پسند آیا۔
اس میں انتظار صاحب نے بتایا ہے کہ ان کے ناولٹ ’دن ‘میں تحسینہ کے کردارکو حقیقی جان کر، سعید محمود نے اس کے بارے میں ،ان کے بھانجوں اور بھانجی سے ٹوہ لینی چاہی تو انھیں جواب ملا:
” ہمارے ماموں اول پٹال لکھتے رہتے ہیں۔ تحسینہ وسینہ کوئی نہیں تھی۔ “
یہ تو تھا انتظار صاحب کے عزیزوں کا جواب ،دوست کے تجسس پر ان کا تخلیقی ردعمل یوں سامنے آیا:
‘’بات یہ ہے کہ ایک شکل ، میر صاحب کو مہتاب میں نظر آئی تھی اور ایک صورت مجھے خواب میں دکھائی دی، اور چاند میں نظر آنے والی شکلیں زمین پر نظر نہیں آتیں اور خواب میں دکھائی دینے والی صورتیں عالم بیداری میں دکھائی نہیں دیتیں۔‘’
اس بیان سے جعفری صاحب کو غزل کا یہ مطلع مہیا ہوگیا :
جو شکل میر کو مہتاب میں نظر آئی
وہ شکل رات مجھے خواب میں نظر آئی


یہ وہ زمانہ تھا جب پروین شاکر کی ’خوشبو‘کُو بہ کُو پھیلی تھی اور ان کا دوسرا مجموعہ ’صد برگ ‘لاہور سے شائع ہوا تھا جسے جعفری صاحب نے انارکلی سے آئیڈیل بک ہاﺅس سے خریدا اور دوران سفرپڑھنے کے لیے ساتھ رکھ لیا۔ انھیں کتاب پڑھتے دیکھ کر آصف صاحب سے رہا نہ گیا ۔پوچھا ، یہ کون سی کتاب ہے ؟اس پر انھیں بتایا گیا کہ پروین شاکر کی نئی کتاب ہے۔ آصف صاحب نے کہا ان کا تو ایک ہی مجموعہ ’خوشبو‘ ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ جعلی ہو، اس پر جعفری صاحب نے جواب دیا:”ہرگز نہیں، خوشبو تو ہمیں حفظ ہے، اس میں تمام چیزیں نئی ہیں۔ اور خوشبو اور اس کتاب کا ناشر بھی ایک ہے “
2018 میں کراچی میں معروف فکشن نگار ، شاعر اور مترجم سید کاشف رضا کی لائبریری میں جھانکنے کا موقع ملا تو وہاں ’آخری آدمی ‘کا وہ نسخہ دیکھا جو انتظار صاحب نے جمیل الدین عالی کو پیش کیاتھا۔ کاشف رضا کو یہ کتاب عالی صاحب کی زندگی میں ہی ریگل کراچی سے پرانی کتابوں کے بازار سے ملی ۔
یہ ضروری نہیں کہ کتاب کے فٹ پاتھ پر جانے میں عالی صاحب کی غفلت کو دخل ہو، فٹ پاتھ پر کتابیں پہنچنے کے پیچھے متفرق کہانیاں ہوتی ہیں۔ اس لیے ہم یہ بتاتے سے تو قاصر ہیں کہ ’آخری آدمی ‘ پرانی کتابوں کے بازار میں کیسے پہنچی لیکن ایک بات ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ عالی صاحب کو انتظار صاحب کی کتابوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یہ راز ہم پر آصف صاحب نے کھولا ۔ اس حوالے سے ایک واقعہ بھی ان نے سنایا جو بعد میں انتظار صاحب پر ان کی کتاب میں آگیا ہے ، بس اس میں جمیل الدین عالی کا نام نہیں لکھا ، ان کی طرف اشارہ ہے جو عقل مند کے لیے کافی ہوتا ہے۔ وہ واقعہ کیا ہے ؟اس کے لیے ہم آصف صاحب کی کتاب ’چراغِ شبِ افسانہ ‘ سے رجوع کرتے ہیں جس میں انھوں نے لکھا:
وہ (انتظار صاحب کی اہلیہ عالیہ بیگم)سادہ مزاج خاتون تھیں اور ادبی معاملات پر گفتگو کے دوران مداخلت نہیں کرتی تھیں، تاہم ایک موقعے پر میں نے ان کو برہم بھی دیکھا ہے۔ انتظار صاحب اور وہ ایک موقع پر کراچی تشریف لائے تو ادا جعفری نے اپنے گھر پر ایک نشست کا اہتمام کیاجس میں کراچی کے کئی سربرآوردہ ادیبوں کو دعوت دی۔ ایک مشہور شاعرنے ، جو مشہور زیادہ ہیں اور شاعر کم ، انتظار صاحب سے بے تکلف ہوتے ہوئے اس محفل کو بتایا کہ انھوں نے آج تک انتظار صاحب کی کوئی کتاب نہیں پڑھی۔انتظار صاحب اس فقرے کو سننے کے بعد چپ رہے لیکن بھابھی مجھے مخاطب کرتے ہوئے چمک کر بولیں کہ جس بات پر ان کو شرمندہ ہونا چاہیے ، اس بات کو بڑے فخر سے بیان کررہے ہیں۔ بھابھی کے ایک جملے نے ان بلند بانگ شاعر کو خاموش کردیا۔ ان شاعر کے بیان کے بارے میں بھابھی کی برہمی محفل کے خاتمے کے بعد بھی جاری رہی۔اس دوران انتظار صاحب بیٹھے ہنستے رہے اور بھابھی کے دو ٹوک جواب کے بعد کسی اور کو مزید کچھ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ “

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply