ایک عہد ہے کہ تیزی سے اوجھل ہو رہا ہے۔ موت کی ایسی گرم بازاری ہے گویا مٹھیوں سے خشک ریت پھسل رہی ہے۔ رفتگاں کی فہرست ہے کہ پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ ابھی ایک مانوس آواز سے محرومی، ایک دیرینہ رفیق سے فراق اور ایک قدیمی آشنا چہرے کے صدمے سے سنبھل نہیں پاتے کہ ایک اور سناﺅنی آ لیتی ہے۔ پت جھڑ تو ابھی شروع ہوا ہے، ہمارے لئے تو یہ پورا برس ہی خزاں کی ویرانی سے منسوب ہو گیا۔ موت محض ایک ہندسہ نہیں ہوتی، ہر جانے والے کے ساتھ ایک پوری دنیا پر پردہ گر جاتا ہے، کتاب ادھوری رہ جاتی ہے، ساز کے تار کسی حادثے جیسی قطعیت کے ساتھ چٹختے ہیں اور نغمہ ان دیکھے خلا میں کھو جاتا ہے۔ سیاست، مذہب اور تمدن کے ستون ہیں کہ ایک ایک کر کے بغیر آواز کیے منہدم ہو رہے ہیں۔
دوسروں کی کیا کہوں۔ میرے لئے کراچی سے آصف فرخی، بہاولپور سے رانا اعجاز احمد، ملتان سے حیدر عباس گردیزی، لاہور سے استاذی محمد خالد، قاضی جاوید اور اب اسلام آباد سے اشفاق سلیم مرزا۔ یہ شہر گویا اپنا معنی کھو بیٹھے۔ کس قدر پات گرے ہیں اب کے۔ پہلے کون سا ہم نظام الملک طوسی کے باغ میں عمر خیام سے ہم پیالہ ہو رہے تھے، یہ تھا کہ یاران ہم نفس کہیں مل بیٹھتے تھے تو جینے کا بہانہ میسر آ جاتا تھا۔ فلک ناہنجار کو یہ بھی منظور نہ ہوا۔
Read more