معلم اخلاق اور اخلاقی ادب

دین اسلام اخلاق اور کردار سازی پر بہت زور دیتا ہے اور تاریخ ِ انسانیت میں صرف سرور کائنات ﷺ کی ذات ہی ایک ایسی منفرد اور ممتاز ذات ہے جن کے جملہ اخلاق حسنہ اس قدر تفصیل سے تاریخی کتابوں میں موجود ہیں کہ ان کی زندگی کا کوئی بھی گوشہ پوشیدہ نہیں۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے قرآن مجید و فرقان حمید میں سرکار دوعالم ﷺ کی زندگی کو پوری انسانیت کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے

Read more

زندگی کا سفر اور ملال

مہاتما کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں اپنے سارے جنم یاد تھے۔ انتظار حسین اور آصف فرخی نے جاتک کہانیاں کے نام سے جو کتاب مرتب و ترجمہ کی ہے، اس میں وہ کہانیاں شامل ہیں جو مہاتما بدھ اپنے پیروکاروں کو سنایا کرتے تھے۔ بھکشو تمام دن جنگلوں، پہاڑوں، وادیوں، بستیوں میں پتہ نہیں کیا تلاش کرتے پھرتے۔ وہ مانگتے کسی سے نہ تھے، تاہم کوئی کھانے پینے کی شے دے دیتا تو انکار بھی نہ کرتے۔

Read more

سید کاشف رضا کا شعری مجموعہ: ممنوع موسموں کی کتاب

ایسے میں جب شاعر کا تیسرا مجموعہ کلام شعری دُنیا میں وارد ہونے کو ہو تب اُس کے گزشتہ کلام کا ذکر چھیڑنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ ایک شخص جو ادبی منظر نامے پر کئی جہتوں اور حوالوں سے جانا جاتا ہو اُس کی اصل شخصیت کو کھوجنا کسی طور مشکل کام ہے۔ سید کاشف رضا کا نام سُنتے ہی دو حوالے تو فوراً آپ کے ذہن میں آتے ہیں، بطور مترجم اور بطور فکشن نگار۔ تعارف کا حوالہ

Read more

اختر جمال: ایک اہم افسانہ نگار کی یاد میں

چونکہ میں نے کم عمری سے ادبی رسائل پڑھنے شروع کر دیے تھے۔ لہٰذا ابتدا میں علامات اور تجریدی کہانیاں لکھنے کے بجائے نسبتاً عام فہم اور سادہ اسلوب میں لکھے افسانے زیادہ متاثر کرتے تھے۔ ایسے افسانے نگاروں میں ایک نمایاں نام اختر جمال کا تھا۔ جن کی ادبی رسائل میں افسانے کے ساتھ تصویر بھی چھپتی تھی۔ گھنے بالوں کا بہت خوبصورت جوڑا، ساڑھی زیب تن کیے ہوئے، با وقار چہرے پہ نمایاں ذہین گہری مگر اداس آنکھیں۔

Read more

انتظار حسین اور ریوتی سرن شرما کی دوستی

سکول میں انتظار حسین کے سنگی ساتھی اور بھی تھے لیکن ادھر سکول چھٹا ادھر دوستی تمام۔ بس ریوتی سرن شرما وہ اکلوتا ہم جماعت ٹھہرا جس سے دوستی سکول چھوڑنے کے بعد بھی قائم رہی۔ دونوں کے محلے قریب قریب تھے، اس لیے بھی برابر ربط رکھنا ممکن رہا اور یگانگت میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ میٹرک کے بعد ریوتی کے والد نے آگے پڑھنے نہ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بیٹے نے کاروبار اور زمینوں کو

Read more

انیتا آپا ( انیتا غلام علی) کا ایک خط

( خط سے پہلے تعارفی مضمون ملاحظہ ہو۔ ) میں نے اپنی کتاب ”سب میرے لعل و گوہر“ انیتا غلام علی کے نام کرتے ہوئے لکھا تھا، سیف (سندھ ایجوکیشن فاونڈیشن ) کی منیجنگ ڈائریکٹر انیتا غلام علی (انیتا آپا ) کے نام جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے منچھر جھیل کی کشتیوں تک میں اسکول قائم کر کے محنت کش بچوں کی آنکھوں میں تابناک مستقبل کے سپنے دیکھنے کی جرات پیدا کی۔ ” اپریل 2012 ء میں اس

Read more

دوزخ نامہ: ناول، ٹائم مشین یا ادھڑی پھٹی دھرتی کا نوحہ

کیا تقسیم کے بعد برصغیر دوزخ بن گیا تھا؟ کیا 47 کی تقسیم 90 سال پہلے کے غدر کی ایکسٹنشن تھی؟ فتح تو کمپنی بہادر کی تھی ہی ہاں ہندو مسلم پھوٹ سے مزید آسان ہو گئی تھی۔ تقسیم کی اس کہانی کو کئی زاویوں سے فن میں مختلف اصناف میں پرکھا گیا ہے۔ عینی بی بی ہوں، انتظار حسین ہوں یا پھر نسیم حجازی۔ لکھنے والے اس واقعے کو عبرت بھی بنایا کیے ، اس سے سوال بھی اٹھایا

Read more

عصمت کی ٹیڑھی لکیر , ہم جنسیت ، مساس اور نسائیت !قسط نمبر 2

اگر عسکری صاحب اردو ادب کے ان پچاس لاجواب صفحات کی لا جوابی کو کھول دیتے، بڑائی بیان کر دیتے تو ان کا کیا جاتا؟ لیکن شاید اُن کی منشا یہ نہیں تھی۔ اب میں یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ ان میں یہ صلاحیت ہی نہیں تھی۔ ایک جملہ لکھنا تھا، لکھ دیا۔ اب لوگ پوچھتے رہیں اور عسکری صاحب کے پرچم بردار آنکھیں مٹکاتے رہیں، بات ادھوری رہ گئی اور ادھوری ہی رہے گی۔ لیکن خود عسکری صاحب

Read more

انیسویں صدی کے یورپ کے اردو سفرناموں پر سرسری نظر

سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے۔ سفر کی کئی اقسام ہیں جیسے تعلیمی سفر تعلیم کے لئے، تبلیغی سفر، تجارتی سفر، سیاسی سفر (یورپ میں ریفیوجی بننا) ، شاہی سفر بادشاہ یا حکمراں کا، جنگی سفر، مہماتی سفر ایڈونچرز کرہ شمالی جانا ماؤنٹ ایورسٹ، تصوراتی سفر چاند یا مریخ پر جانا، ہجرت کا سفر کسی دوسرے ملک چلے جانا، مذہبی سفر حج بیت اللہ یا در گاہ، سفیروں کے سفارتی سفر، ادبی سفر مشاعرے یا لیکچرز، تفریحی سفر۔ سر سید نے

Read more

بلوچ دانش سے ایک بھید بھرا مکالمہ

  زندگی میں بہت کم ایسے لوگ ملتے ہیں جن کی سادگی و منکسرالمزاجی پہلی ملاقات میں ہی دل میں گھر کر جاتی ہے۔ جن کے ساتھ گزرا وقت آپ کی زندگی کا اثاثہ اور جن کی شخصیت، ذہانت خوش طبعی اور خوش مزاجی آپ کو زندگی کو دیکھنے، برتنے اور جینے کا ایک نیا سلیقہ و زاویہ دے جاتی ہے۔ جو مشکل حالات کی سختیوں کو بھی مسکرا کر جھیلتے ہیں اور سماجی شعور کو پروان چڑھانے میں اپنی

Read more

اردو افسانہ، جنگ، عصرِ حاضر اور فلسطین

جنگیں جہاں دنیا میں تباہی و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہیں وہیں جنگوں کے دوران نئے جذبے اور نئے ولولے وجود میں آتے ہیں۔ ہر شعبۂ زندگی پر جنگوں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عالمی افسانہ اور اردو افسانہ بھی جنگوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ جنگ کے اردو افسانے پر اثرات اور فلسطین اور اردو افسانہ پر بات کرنے سے قبل ہم اردو افسانے کا مختصر جائزہ لیں گے۔ جہاں تک اردو افسانے کا تعلق

Read more

کچھ اقبال ساجد کے بارے میں

محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب آپ کا ادبی مکتوب نظر نواز ہوا جس میں آپ نے لاہور کی ایک منفرد ادبی شخصیت زاہد ڈار صاحب سے قلمی تجدیدِ ملاقات کا سامان کیا ہے۔ آپ کے خط سے پاک ٹی ہاؤس اور اس کے مستقل ”نشینوں“ کی یادیں بھی تازہ ہو گئیں اور زاہد ڈار کی شاعری سے بھی حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ اس حوالہ سے دل چسپ بات یہ کہ زاہد ڈار صاحب ان شخصیات میں سے تھے جن

Read more

"متن ،قرات اور نتائج”:تعارفی مطالعہ

تخلیق، تنقید اور تحقیق ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ ان میں سے ایک بھی کمزور پڑ جائے تو ادب کا معیار تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ محاسن و معائب میں فرق کرنا ،اوصاف و اقدار کا تعین کرنا اور موازنہ و ترجیح اس کی بنیادی خصوصیات ہیں۔ شوماخر نے اپنی کتاب “Elements of Critical Theory”میں تنقید کے حوالے سے جس چیز پر زیادہ زور دیا ہے ،وہ غیر جانب داری(Unbiasedness)ہے۔معاصر عہد میں کئی ایسے ناقدین ہیں

Read more

عمرو عیار: عیاری کے سردار اور چکمہ بازی میں ماہر کردار کا حقیقت میں بھی کوئی وجود تھا؟

داستان امیر حمزہ کا یہ اصل کردار کیسا تھا۔ یہ بھی معلوم کر لیتے ہیں کہ اس کی خوبیاں اور خامیاں کیا تھیں اور نیکی اور بدی کی قوتوں کے مابین ہمہ وقت چلتی کشمکش پر مشتمل اس داستان میں اس کی اہمیت کیا تھی۔

Read more

کچھ محبت کچھ بے بسی

انور سن رائے اور عذرا عباس دونوں پاس پاس بیٹھے ہوں تو ان کی میٹھی میٹھی نوک جھوک مزا دیتی ہے اور وہ بے پناہ محبت بھی جو ان کے تیکھے جملوں کے اندر سے ابلتی مچلتی محسوس کی جا سکتی ہے۔ دونوں تخلیق کار ہیں اور اپنے اپنے الگ تخلیقی وجود میں مست اور رُجھے ہوئے۔ ہم لکھنے والوں کو بھی ان دونوں کی پر خلوص محبت حاصل ہے۔ جب جب کراچی جانا ہوتا ہے اس تخلیق کار جوڑے

Read more

آصف فرّخی: پل بھر کو اَمر، پل بھر میں دھواں

آصف فرخی کو گزرے چار برس ہو گئے۔ چار برس پہلے دنیا کو حیران کر کے رخصت ہو جانے والے آصف فرّخی اردو کی ادبی دنیا کی متحرک ترین شخصیت تھے، وہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار تھے۔ کیا نہیں تھے وہ، ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر۔ تراجم کے میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں تھیں۔ جہاں انھوں نے بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا تھا وہیں پاکستان کے

Read more

کتاب: پھرتا ہے فلک برسوں۔ 2 (خاکے )

مصنف: اصغر ندیم سید صاحب تبصرہ: عرفان علی جناح گر قبول افتد! جیسا کہ میں نے خاکہ نگاری کے فن یا صنف سے اتنی دیر بعد واقف ہوا اور اس کا مجھے افسوس بہر حال رہے گا۔ اگر میں گلزار صاحب کی کتاب ”گر یاد رہے۔“ نہ پڑھتا تو شاید اب تک خاکہ نگاری سے بے بہرہ رہتا۔ اور اگر وہاں بھی جاوید صدیقی صاحب والا خاکہ نہ پڑھتا تو! اصغر ندیم سید صاحب، یہ میرے لیے بچپن کی ایک

Read more

کتاب ”جس کی تھی بات بات میں ایک بات“ پر تبصرہ

محمود الحسن صاحب کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی حقیقی عمر سے ذرا کچھ تاخیر سے پیدا ہوئے۔ ان پر بھری جوانی میں بھی بزرگی طاری رہی، انتظار حسین صاحب، شمیم حنفی صاحب، زاہد ڈار صاحب، مستنصر حسین تارڑ صاحب، شمس الرحمٰن فاروقی صاحب، محمد سلیم الرحمٰن صاحب، وجاہت مسعود صاحب اور آصف فرخی صاحب جیسے معتبر نابغوں اور بزرگانِ علم و ادب کی محفلوں میں بڑی عقیدت سے بیٹھنے والے، ان کی گفتگو کو سعادت

Read more

جوتی کلش چھلکے

آصف فرخی نے کسی زمانے میں اپنے ایک انگریزی مضمون میں محمد سلیم الرحمن کو Invisible Man لکھا تھا. اب ان وزیبل مین کا ترجمہ کیا ہو ؟ "نادیدنی آدمی” مگر نہیں؛ یا شاید "غیر مرئی آدمی”! غیر مرئی یعنی جسے کوئی دیکھ نہ سکے چھو نہ سکے! مگر سب سے سچی بات تو میر صاحب نے کہہ رکھی ہے دیدنی ہے پہ بہت کم نظر اتا ہے میاں  ہمارے سلیم صاحب ہیں ایسے ہی ادمی: دیدنی آدمی اور دیدنی

Read more

سومناتھ مندر: جب ’بت شکن‘ محمود غزنوی کی طرف سے مسمار کی گئی عبادت گاہ کا دوبارہ افتتاح کیا گیا

سمندر کنارے پتھر سے تعمیر اس مندر کو محمود غزنوی نے نہ صرف لوٹا بلکہ عصری مورخین کے مطابق اس میں موجود بتوں کو بھی توڑا تھا۔

Read more

نینا عادل کی کتاب: مقدس گناہ

مصنفہ: صاحبہ تبصرہ: عرفان علی جناح (ڈنور) آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں! رنگ تھے چار۔ رنگوں سے بھرا ہوا یہ ناول میرا ایک طلسمی تجربہ ٹھہرا۔ یا پھر مصنفہ کی محنت اتنی باریکیوں تک کو بیان کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہاں آپ کو رنگوں کی دنیا ملے گی۔ شبدوں میں جو رنگ ہوتے ہیں وہ ہر ورق کر نظر آئیں۔ مجھے تحریر، الفاظ اور خیالات کی بہتی ہوئی روانیوں نے بے حد لطف پہنچایا۔ میں نے

Read more

اقبال خورشید کا فن انٹرویو اور فکشن سے مکالمہ

”وہ بوڑھا ہو گیا تھا۔ چند دانت گر گئے۔ بہت سے بال سفید ہو گئے۔ مجھے وہ توقع سے زیادہ پراسرار اور تروتازہ محسوس ہوا۔ تو میں نے اسے دیکھا (گو میں اسے پہلے بھی دیکھ چکا تھا) ، اور اسے سنا، (گو پہلے بھی سن چکا تھا) ، اور اس آواز کو اتنا ہی جوان پایا، جتنی وہ پہلے تھی۔“ یہ کتاب محض مکالموں کا بیان نہیں، سپاٹ سوال و جواب کی تکرار نہیں، انٹرویو جب ہونے والی گفتگو

Read more

تارڑ کے خس و خاشاک زمانے اور سفیر اعوان

دیکھا گیا ہے کہ وہ لکھنے والے جو عوامی سطح پر مقبول ہو جاتے ہیں ان کے فن کی بارے میں سنجیدہ تنقیدی مکالمہ رک سا جاتا ہے۔ جو تسلیم کیا جا چکا اس پر تنقید کی کیا ضرورت ؛ بات ”بلے بلے“ سے آگے نہیں بڑھتی۔ ہم نے ایسا منٹو کے ساتھ ہوتے دیکھا تھا اور اب مستنصر حسین تارڑ کے باب میں دیکھ رہے ہیں۔ منٹو مقبول تھا اور یہی کافی سمجھا جاتا رہا۔ فن سے زیادہ شخصی

Read more

شمس الرحمن فاروقی کی ناول نگاری

ایک ذرا مڑ کر اردو دنیا کی ان ساری شخصیات کو دیکھ آئیں جنھوں نے رواں زمانے کے صفحات پر ایک سے زیادہ جہتوں سے اپنے دستخط ثبت کیے اور محترم ٹھہریں توان سب سے الگ اور نمایاں مقام پر ایک شخصیت ملے گی؛ شمس الرحمٰن فاروقی۔ میں ہمیشہ سے ان کی غیر معمولی تنقیدی صلاحیتوں کا معترف رہا ہوں۔ مجھے موقع ملتا رہا ہے کہ ”شعر، غیر شعر اور نثر“ ، ”تفہیم غالب“ ، ”شعر شور انگیز“ اور ”اردو

Read more

ایاز میلو اور جیل کی ڈائری

ابھی میں سولہویں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کے بعد کراچی ہی میں تھا کہ سندھی شاعرہ، ادیبہ اور ماہر تعلیم محترمہ سلمیٰ لغاری کی طرف سے ایک پیغام مل چکا تھا کہ مجھے ”ایاز میلو“ میں ضرور شرکت کرنی ہے۔ یہ سلمیٰ لغاری کوئی اور نہیں معروف ایکٹیوسٹ امر سندھو ہیں ؛ جی ایاز میلو کی مدارالمہام۔ محترمہ نورالہدیٰ شاہ نے بتایا تھا کہ سندھی عورت کی آگہی کے باب میں جتنا عملی کام امر سندھو اور ان کی

Read more

اُردو افسانہ :بیان اور بیانیہ کی آمیزش

فن قصہ گوئی کے تشکیلی عناصر میں ”بیانیہ“ کو اولیت حاصل ہے۔ بیانیہ کے بغیر کسی قصے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مگر قصے کا بیانیہ عام بیان سے مختلف ہوا کرتا ہے۔ عام بیان میں صرف ترسیل کو مرکزیت حاصل رہتی ہے، جبکہ قصے کا بیانیہ، طریقہ اظہار پر مرتکز رہتا ہے۔ افسانہ یوں تو فن قصہ گوئی کی مکمل اکائی کا محض ایک جزو ہے لیکن وقت کے بہاؤ کے ساتھ اب افسانہ ایک خود مکتفی

Read more

ارنستو سباتو کا ناول ”سرنگ“ :تعارفی مطالعہ

ارنستو سباتو 1911 ء کو ارجنٹینا میں ایک چھوٹے سے گاؤں ”روجاس“ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی ملک سے حاصل کی اور اعلی تعلیم کے سلسلے میں پیرس منتقل ہو گئے۔ وہاں انھوں نے طبعیات کے علم میں دسترس حاصل کی، تحقیق و تدریس اور تخلیق کو زندگی کا مقصد بنایا اور یونیورسٹی میں طبعیات کی پروفیسرشپ پر فائز ہوئے۔ طبعیات کے ساتھ ساتھ سائنس کے دیگر مضامین میں بھی، ان کی معلومات حیرت انگیز تھیں۔

Read more

رؤف امیر ایوارڈ

(پاکستان یوتھ لیگ کی جانب سے ڈاکٹر رؤف امیر تعلیمی (وقف) ایوارڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر رؤف امیر ممتاز شاعر، نقاد، محقق، استاد اور کئی کتب کے مصنف تھے اور جب وہ پاکستان چیئر، ایبلائی خان یونیورسٹی آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ ورڈ لینگویجز، الماتی، قزاقستان میں خدمات سر انجام دے رہے تھے تو دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔ عالمی یوم تکریم اساتذہ کے موقع پر تقسیم ایوارڈ کی شاندار تقریب واہ کینٹ کے ایک

Read more

گفتگو روشنی ہے

(محمد حمید شاہد ہمارے درمیان موجود ایک نادرہ روزگار، منفرد اور رسیلے شخص کا نام ہے۔ کیا خوبصورت زندگی ہے کہ علم، حیرت اور تخلیق سے عبارت رہی ہے۔ محترمہ لبنیٰ صفدر نے لاہور سے شائع ہونے والے رسالے ”ارژنگ“ کے لیے محمد حمید شاہد سے ایک مصاحبہ کا اہتمام کیا، جس میں بہت اہم ادبی موضوعات زیر بحث آئے۔ محمد حمید شاہد کے جوابات تو اپنی جگہ گہر بار تھے لیکن لبنیٰ صفدر نے بھی سوال کرنے کا حق

Read more

سعدیہ قریشی اور ”کیا لوگ تھے“

سعدیہ قریشی نے ”کیا لوگ تھے لکھی“ اور کیا خوب لکھی۔ افتخار عارف صاحب کے کتاب پر اظہار خیال کی پہلی سطر ہی پل جھپکتے میں مجھے اس دنیا میں لے گئی جب نسیمہ بنت سراج کے کالم پڑھے بغیر مجھے چین نہیں پڑتا تھا۔ اپنے وقت کی اِس اہم کالم نگار کو ہم لوگ کیسے بھولے بیٹھے ہیں؟ زبان و بیان کے حُسن میں ڈوبی ہوئی تحریر کی مالک اس خاتون بارے کبھی کہیں ایک لائن پڑھنے کو نہیں

Read more

ایک زمانہ ختم ہوا ہے

ناصر عباس نیر نئی تنقید میں اپنی شناخت مستحکم کرنے کے بعد ، مابعد جدید تنقیدی مباحث اور لسانیات سے لے کر اردو ادب کی تشکیل جدید اور مابعد نو آبادیاتی ادب پر اپنے خیالات میں ہمیں الجھا پاکر کوئی چھے برس پہلے اچانک اپنے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”خاک کی مہک“ لے کر آ گئے تھے۔ یہ مجموعہ اردو کی ادبی دنیا کے لیے اچانک آ لینے والی اور حیرت زدہ کرنے والی خبر بن گیا تھا۔ میں اس

Read more

محمد حمید شاہد کی کتاب: اندر کا آدمی

محمد حمید شاہد، یہ نام ادب کی دنیا میں یقیناً بہت پرانا ہے، نقاد بھی ہیں۔ مجھے ان کے نام اور کام سے واقف ہونے میں بڑا وقت لگا۔ بڑی مدت۔ مطالعے کا شوق رکھتے ہوئے، محمد حمید شاہد صاحب کے نام سے انجان رہنا ایک اپنی طرز میں نقصان تو ہے نہ! پہلی بار، ان کے نام سے واقفیت ہوئی جب ان کا ایک ناول ”مٹی آدم کھاتی ہے“ دیکھا۔ بک کارنر کے پورٹل پر۔ کتاب کا سرورق اتنا

Read more

ہم آپ سے سڑکوں پر برہنہ گھومنے کی آزادی نہیں مانگ رہے: ڈاکٹر رامش فاطمہ سے مکالمہ

انٹرویو: اقبال خورشید ۔ ۔ سرخیاں : کیا ”می ٹو“ اور ”فیمینزم“ پر تنقید کرنے والوں کو ان تحریکوں کا اوریجن پتا ہے؟ جذباتی وابستگی انسانوں سے ہو یا شہروں سے، وہ خراج مانگتی ہیں ایمرجنسی میں ڈیوٹی کے بعد لگا، جیسے لفظ پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہو کیا ہمیں عورت قبول ہے؟ وہ عورت، جو پراعتماد ہے، ہنس سکتی ہے، جو چاہے لکھ سکتی ہے، جہاں چاہے جا سکتی ہے۔ عورت، جو سوال اٹھا سکتی ہے؟ یہی

Read more

ہم نے ہیرو ازم کے لیے غزنوی اور غوری کو ادھار پر لیا ہوا ہے: فرنود عالم

سرخیاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا خطاطی کی طرح ماضی کا حوالہ بن جائے گا سوشل میڈیا سے پہلے روشن خیالوں کے لیے اظہار کے آزاد مواقع میسر نہیں تھے معروف کالم نگار، ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ اور سماجی مبصر، فرنود عالم سے ایک مکالمہ انٹرویو: اقبال خورشید جبر کی تاریکی میں اس کے الفاظ کی بازگشت امید افزا ہے، پرشور سناٹے میں اس کی آواز روشن خیالی کی نوید ہے۔ یہ اس شخص کا تذکرہ جو اندھیری سرنگ میں، بغیر رکے

Read more

فردوسی: ’عجم کو زندہ کرنے والے‘ فارسی شاعر جو محمود غزنوی سے انعام حاصل نہ کر سکے

یہ کوئی ہزار سال پرانی بات ہے جب ہندوستان پر محمود غزنوی کے پے در پے حملے ہو رہے تھے اور اس نے اپنے تقریبا 30-31 سالہ دور حکومت میں کوئی 17 بار ہندوستان کے مختلف علاقوں میں حملے کیے اور بڑی مقدار میں مال غنیمت حاصل کیا۔

Read more

قطبی ستارہ: کامریڈ ظفر محی الدین

ظفر محی الدین 3، جنوری، 1948 ء کو حیدرآباد دکن (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ہجرت کے بعد ان کے والدین نے حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں سکونت اختیار کی۔ ان کے والد غوث محی الدین جو جامعہ عثمانیہ کے گریجویٹ اور معروف رسالہ ماہ نامہ ”سویرا“ حیدرآباد، دکن کے مدیر اعلی تھے ان کے فکری اور علمی حوالے سے استاد تھے جن کی خصوصی تربیت نے انہیں مطالعے، مشاہدے اور قلم و قرطاس کی اہمیت سے روشناس کرایا۔ 1960

Read more

آصف فرخی: اردو سندھی ادب کا بندھن

( 2 جون 2023 کو معروف افسانہ نویس اور مترجم جناب آصف فرخی کی یاد میں آرٹس کونسل کراچی کی لائبریری میں کانفرنس کے دوران مختصر گفتگو) میں یہاں کوئی ”پدرم سلطان بود“ کہنے نہیں بلکہ آصف فرخی صاحب کی یاد میں حلقہ ارباب کے ساتھ لفظوں کی خاموشی میں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں چونکہ ان کی وفات کے سال میں ان سے دو چار مرتبہ فون پر بات ہوئی اور کووڈ کے

Read more

آصف فرخی پر مضمون جو مل ہی نہیں رہا

میرا یقین مانیے، مضمون تو میں نے قلم برداشتہ یکم جون 2020 ہی کو لکھ لیا تھا اور تین جون کو اسے حتمی شکل میں کمپیوٹر میں محفوظ کر دیا تھا یہی سوچتے سوچتے کہ اسے کس دوست کو سناؤں؟ کہاں اشاعت کے لیے بھیجوں؟ بس سوچتا ہی رہ گیا۔ آج کوئی تین برس بعد پرانا لیپ ٹاپ کھولنے کا موقع ملا تو ڈیسک ٹاپ پر یہ ان پیج فائل دکھائی دی ہے۔ فائل پر کلک کرتا ہوں تو پیج

Read more

بیاد آصف فرخی

کہتے ہیں، سنا ہے اور پڑھا بھی ہے کہ ادب کا موضوع زندگی ہے اور تنقید کا موضوع ادب۔ زندگی میں ایکشن اور ادب میں اسلوب بندے کو دوسروں سے الگ اور ممتاز کرتے ہیں۔ آصف فرخی نے جس طرح ادب میں اپنی الگ شناخت اور اسلوب بنایا تھا وہ انھوں نے زیست نامکمل کے بعد زیست مکمل میں بھی منتقل ہونے سے پہلے پہلے بقول میر اس کا اہتمام کیا تھا کہ مرنے سے تم ہمارے خاطر نچنت رکھیو

Read more

اردو میں افسانوی تنقید کا نیا پیراڈائم اور آصف فرخی

(یکم جون آصف فرخی کی برسی کا دن ہے) اکیسویں صدی میں سنجیدہ تنقید کا پورا اسٹرکچر بدل گیا ہے۔ تھیوری اور فکشن کے حوالے سے بیانیات کے مباحث نے فکشن کی تنقید کا پورا پینترا ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس ذیل میں مغرب میں تو بے شمار کام ہو رہا ہے لیکن ہمارے ہاں بھی چند ناقدین ہی سہی کچھ نہ کچھ عمدہ کام کر رہے ہیں۔ ان میں گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی اور ڈاکٹر

Read more

ادب کے فروغ میں ریڈیو کا کردار

برصغیر میں ریڈیو دوسری جنگ عظیم سے قبل آیا۔ لیکن امریکہ میں اس کا استعمال 1920 میں شروع ہو گیا تھا۔ نشریات سننے کے لیے کرسٹل ریڈیو بنایا گیا جو بیٹری یا کسی دوسری طاقت کے بغیر کام کرتا تھا۔ اس ریڈیو سیٹ میں اسپیکر نہیں تھا اور سننے والوں کو ایر فون لگانا پڑتا تھا۔ اس عشرے کے وسط میں سائنسدانوں نے ایسا ریڈیو تیار کر لیا جو بجلی کی قوت سے چلتا تھا۔ ریڈیو ایک ایسی ایجاد ہے

Read more

عرفان جاوید کا انٹرویو

ناپید ہوتی کتابوں کے ساتھ ہم بھی آہستہ آہستہ تحلیل ہو رہے ہیں پاکستانی ادیب کو ہمارے معاشرے میں کم ہی مرکزیت حاصل رہی اردو ناول کا مستقبل مضبوط ہے، البتہ افسانے اور خاکے کم زور نظر آتے ہیں باکمال خاکہ نویس اور فکشن نگار، عرفان جاوید سے چند دل چسپ سوالات انٹرویو نگار: اقبال خورشید کتابیں ان کا عشق۔ اسی عشق نے لکھنے کی جوت جگائی۔ تخلیق کی خواہش کو مطالعے کی کمک ملی، تو عرفان جاوید کا قلم

Read more

شہر مدفون کی ایک گلی اور حسن کوزہ گر

شمیم حنفی 6 مئی 2021 کو رخصت ہوئے تھے۔ دو برس گزر گئے۔ جانا تو سبھی کو ہے۔ موت اچھے لوگوں کو اچک لینے میں کچھ عجلت پسند واقع ہوئی ہے۔ چند روز قبل برادرم محمود الحسن سے شمیم بھائی کی باتیں ہوتی رہیں۔ اب ان کا حکم موصول ہوا ہے کہ "ہم سب” پر شائع ہونے والی شمیم حنفی صاحب کی زیر نظر تحریر پھر سے شائع کی جائے۔ تعمیل کئے بغیر چارہ نہیں۔ اس تحریر کے ساتھ شمیم

Read more

شاعر، فکشن نگار، مترجم اور صحافی سید کاشف رضا سے ایک مکالمہ

وہ شہر کراچی کا ایک کردار ہے۔ میں اسے سڑکوں پر چلتے پھرتے دیکھتا ہوں۔ کبھی وہ کسی سرد نیوز روم میں سر جھکائے خبریں بنا رہا ہوتا ہے۔ کبھی کسی مشاعرے میں شعر کہہ رہا ہوتا ہے۔ میں نے اسے جنبش قلم سے ناول تخلیق کرتے ہوئے دیکھا، اور کی بورڈ کی ”ٹک ٹک“ میں کتابوں کے تراجم کرتے ہوئے۔ مگر سب سے پر وقت وہ منظر ہے، جس میں وہ مطالعہ کر رہا ہے، برادرز کراموزوف کا مطالعہ۔

Read more

گوہر تاج صاحبہ کی کتاب: خاک سے کیمیا ہوئے جو لوگ

فیس بک پر اس کتاب کا علم ہونے پر محترمہ گوہر تاج صاحبہ کی خدمت میں کی گئی درخواست کو قبول کرتے ہوئے انہوں نے مجھے یہ ای۔ میل کے ذریعہ ارسال کر دی۔ پہلے دن ہی نصف پڑھ لی اور بوجہ مصروفیت اس کا مطالعہ اگلے دن مکمل ہوا۔ کتاب ”خاک سے کیمیا ہوئے جو“ جس طرح سے نام سے ظاہر ہے ایسے لوگوں کے حالات پر مشتمل ہے جن میں اکثر سے گوہر تاج براہ راست یا قریبی

Read more

بڑی حویلی کی بیبیاں: تاب ناک کہانیاں

ایک سال پہلے جب انعام ندیم نے اطلاع دی کہ وہ ذکیہ مشہدی کی کہانیوں کا انتخاب کر رہے ہیں تو حیرت کے ساتھ ایک تجسس بھی ہوا، کیوں کہ کئی سال پہلے اجمل کمال کا کیا ہوا ان کے افسانوں کا ایک انتخاب ”پارسا بی بی کا بگھار“ کے عنوان سے چھپ چکا تھا۔ اس کی اشاعت سے بھی پہلے ذکیہ مشہدی کی کہانیاں آج میں چھپ کر اردو افسانے کے پرستاروں کو چونکانے کے ساتھ اپنا گرویدہ کر

Read more

ایک شاندار کانفرنس کا احوال جو اس دنیا میں نہیں ہو رہی

ہمیشہ سوچتی ہوں کیا پروین شاکر اب بھی شعر کہتی ہوں گی ۔ پھر خود ہی فیصلہ کر لیتی ہوں کہ آرٹسٹ تو آرٹسٹ ہے کہاں دماغ، دل اور انگلیوں پر کنٹرول رہتا ہو گا۔ جہان بدل جاتا ہے انسان تو وہی رہتا ہے نا؟ پھر سوچتی ہوں پروین شاکر کیسی غزلیں کہتی ہوں گی ؟ سامعین آج بھی ان کی پڑھت کے دلنشیں انداز کے مداح ہوں گے ؟ آج بھی خوشبو کی شاعرہ جہاں جاتی ہوں گی خوشبو

Read more

عرفان جاوید کے 6 نادر آدمی

”اگر آپ اردو ادب میں بطور قاری جوان رہنا چاہتے ہیں تو کوشش کریں کہ آپ کو عرفان جاوید کا “ عرفان ”حاصل ہو جائے! مجھے یقین ہے کہ آپ کو اردو، ادب اور مطالعہ کا جاوید بھی حاصل ہو جائے گا“ ۔ میں یہ بات بڑے وثوق اور اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ میں جناب عرفان جاوید سے گزشتہ 5 سالوں سے ذاتی ملاقاتوں، گفتگو اور ان کی پانچ کتابوں، ”دروازے، کافی ہاؤس، سرخاب، عجائب

Read more

عرفان جاوید کی خاکہ نگاری

خاکہ نگاری ایک دل چسپ لیکن مشکل فن ہے۔ اس کے لیے لکھنے والے میں مہارتِ تامہ کا ہونا ضروری ہے۔یہ سوانح نگاری کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس سے الگ ہے کیوں کہ خاکہ نگار کسی انسان یا اس کی شخصیت کو جانب داری سےقارئین کے سامنے پیش نہیں کرتا بلکہ وہ اس کے حوالے سے اپنے تجربات و مشاہدات وخیالات اور ان کے اخذ و قبول کا ایک آئینہ پیش کرتا ہے۔خاکہ نگاری کو جو بات اہم اور

Read more

ضیا بار افراد کے خطوط بنام پروفیسر اصغر عباس (علی گڑھ) : ایک تعارف

انگریزوں کی ہندوستان آمد سے جہاں زندگی کے دیگر معاملات متاثر ہوئے وہیں رسل و رسائل نے بھی اثرات قبول کیے۔ ڈاک کا محکمہ قائم ہوا اور خطوط ارسال کرنے کا رواج عام ہوا۔ تحقیق کے مطابق جو پہلا خط دریافت ہوا ہے وہ 1822 ء کا ہے لیکن اردو ادب میں غالب کے خطوط نے جو شہرت حاصل کی وہ کسی اور کے نصیب میں نہیں آئی۔ ”عود ہندی“ اور ”اردوئے معلیٰ“ کے توسل سے اس عہد کی سیاسی

Read more

یہ جنوں مالک اشتر کا بہت اچھا ہے

” عبادات سے روحانی طہارت اور نفس کو فیض یقیناً پہنچ سکتا ہے لیکن مادی یا طبعی مسائل کا حل ان میں کھوجنا منطقی عمل نہیں ہے“ ۔ (کیا کرونا وائرس اللہ کا عذاب ہے۔ ص: 43 ) ”۔ ”اس سماج کی زبان پر اس وقت آبلے پڑ جاتے ہیں جب ریڈ لائٹ ایریا میں کوئی دلال مرد سڑک پر گھوم گھوم کر جسم بھنبھوڑنے والے کسی بھوکے کو تلاش کرتا ہے تاکہ دلالی حاصل ہو سکے۔ یہ اخلاق کی

Read more

کرونائی ادب اور ”وبا تے وسیب“

کورونا کی وبا نے جہاں عالمی معیشت اور سیاست کو متاثر کیا، وہیں اس نے تخلیقی ذہنوں پر بھی اثرات مرتب کیے۔ انسانی فکرو نظر، تصورات اور مزاج وہ نہ رہے جو کرونا سے پہلے تھے۔ انسانی نفسیات اور رویوں نے وہ رخ اختیار کیا جو انسان کے گمان سے بھی بالا تر تھا۔ ان رویوں اور رجحانات کو معاصر تخلیقی ذہنوں نے شدت سے محسوس کیا۔ شاعری اور فکشن کی دنیا میں کئی ایسے فن پارے تشکیل پذیر ہوئے

Read more

کتاب ”22 لوگ“ پر تبصرہ

مصنف سجاد پرویز تبصرہ شاہانہ جاوید اردو ادب میں ایک نئی صنف تیزی سے مقبول ہو رہی ہے ”مصاحبہ“ ، بہت سے لوگ اس نئے لفظ سے واقف نہ ہوں لیکن انٹرویو لفظ کو اچھی طرح پہچانتے ہوں گے۔ اردو ادب میں انٹرویوز کی روایت کتنی پرانی ہے معلوم نہیں لیکن آج کے دور میں یہ صنف ادب، مصاحبہ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ بہت سے لکھنے والے اسے فروغ دے رہے ہیں آج یہ ایک مقبول صنف بن

Read more

چیک پوائنٹ چارلی اور ریڈ لائن کے دکھیارے

1955 میں پیدا ہونے والے انیس اشفاق ہمارے زمانے میں اردو فکشن کی امید ہیں۔ لکیر کے اس پار لکھنو کے گلی کوچوں میں جنم لیا اور اسی شہر کی مرقع گلیوں میں بسنے والی سادھارن زندگیوں کی تصویریں کھینچتے ہیں۔ مشاہدے کی نکتہ رس تفصیل، احساس کا سوز دروں اور بیان میں جوہر تراش ایسا ضبط، اردو نثر نے ایسے معجزے کم دیکھے ہیں۔ مصحفی نے لکھا تھا، اب دیکھو تو قلعی سی ان کی ادھڑ گئی ہے /

Read more

آزادی اور بے وطنی کے بیچ پون صدی

آپ کا نیاز مند پیدا ہوا تو لہو کی لکیر کھنچے 17 برس گزر چکے تھے، بے گھری کے نشان ابھی باقی تھے۔ منٹو نے پہلے سے آزادی اور بٹوارے کی حکایت لکھ رکھی تھی، کچھ کے لئے سب لٹ گیا تھا اور کچھ کے لئے ’کھول دو‘ کی سکینہ تک رسائی کا پروانہ مل گیا تھا۔ پنجاب ہی نہیں، بنگال میں بھی بٹوارہ ہوا تھا۔ شرمندگی ہے کہ بنگال کے بٹوارے کی چبھن بہت بعد میں امیتابھ گھوش کو

Read more

انتظار حسین: بدھا کے زمانے کا تخلیقی حسن پرست

”تمہارے یوں ملنے کا جرمانہ یہ ہے کہ جتنے دن میں یہاں برلن میں ہوں، تم میرے ساتھ رہو گے۔ بولو، منظور؟“ اردو ادب کی بستی میں یادگار قصہ کہانیاں متعارف کروانے والے اپنی طرز کے آخری تخلیقی آدمی انتظار حسین صاحب میرے سلام اور تجدید تعارف کے رسمی جملے ختم ہوتے ہی چہک کر گویا ہوئے تھے۔ جرمن اتحاد کے بعد متحدہ برلن میں سہ روزہ بین الاقوامی اردو سیمینار اپنی نوعیت کا اولین ادبی اجتماع تھا جس کا

Read more

آصف فرخی: انھیں تنہائی نے مار ڈالا

”مبشر صاحب، اب تک آپ کو پتا چل چکا ہو گا کہ میری بیوی نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔“ آصف فرخی کے یہ الفاظ سن کر مجھے ایک جھٹکا لگا۔ میں گاڑی چلا رہا تھا۔ کرسمس کی وجہ سے سڑک سنسان تھی ورنہ گاڑی لہرانے کی وجہ سے حادثہ ہو سکتا تھا۔ ”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آصف بھائی؟ نہیں، مجھے نہیں پتا تھا۔ افسوس۔ ایسا کیوں ہوا“ میں بوکھلا گیا تھا۔ وہ آصف بھائی کا آخری دورہ امریکا

Read more

اندھے کباڑی کے خواب

پرندے اس برس کتنے کم نظر آئے ہیں۔ بہار کے رنگ ماند ہوئے تو گرما کی صبحوں کا جادو بھی گویا کہیں کھو گیا ہے۔ انجیر کا پھل گرمی کی شدت سے شاخوں ہی پر ٹھٹھک گیا ہے۔ خوش رنگ سبز خوشوں نے گہرا کاسنی جامہ نہیں اوڑھا، دیس کے نوجوانوں کی طرح خوشی کی ناتمام آرزو میں سبزہ نودمیدہ سے محروم ہوئے اور پھر دیکھنے میں بے رنگ اور بھیتر میں بے رس ہو گئے۔ انگور کی شاخوں میں

Read more

”التوائے مرگ“: حوزے ساراماگو کے ناول کا ترجمہ

ہم جب کسی ترجمے پر گفتگو کرنے یا روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو پہلے پہل یہ معاملہ درپیش ہوتا ہے کہ ترجمہ اپنے اصل متن کے کس قدر قریب ہے۔ ”التوائے مرگ“ کے بارے میں اس حوالے سے جب میں نے اپنی رائے مرتب کرنے کے لیے حوزے ساراماگو کے ناول Death with Interruptions پر نگاہ کی، تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ فیصلہ کرنا میرے اختیار سے باہر ہے۔ وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنی دانست

Read more

ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو: انسانیت کا عظیم خدمت گار

انسانیت اور خدمت ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں بالکل اسی طرح ڈاکٹر اور انسانیت کی خدمت بھی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ پاکستان کے قیام سے قبل اور آج تک مسیحی مذہب کے لوگوں نے ملکی ترقی، فلاح و بہبود اور استحکام کے لئے جو خدمات سرانجام دیں وہ تاریخ کا ایک ایسا سنہری باب ہے جو روز ہمیشہ دمکتا رہے گا۔ لیکن شعبہ تعلیم اور صحت میں اس قوم کے لوگوں کی خدمات انسانیت کے

Read more

ایڈیٹر ہوں ضرورت ہے مجھے خون دو عالم کی

(اخبارات اور جرائد میں ادارتی مدیر اور سب ایڈیٹر کا کام ایک دلچسپ مشقت ہوتا ہے۔ کبھی تو انتظار حسین، رضا علی عابدی، انورسین رائے، آصف فرخی، نورالہدیٰ شاہ، شاہد ملک، شاہد محمود ندیم اور لینا حاشر جیسے لکھنے والوں سے واسطہ پڑتا ہے جن کے روشن لفظوں پر نظر ڈالنا بجائے خود ایک اعزاز ٹھہرتا ہے۔ کبھی کچھ لکھنے والے (آپ کے نیاز مند ہی کی طرح) کم علم اور کوتاہ ہنر بھی ہوتے ہیں۔ یہ سوچ کر ان

Read more

سرور جاوید: صاحب اسلوب شاعر و نقاد

2001 ء کی بات ہے کورنگی میں واقع سول ہسپتال کے ڈاکٹر حضرات کو سندھی پروفیشنل زبان پڑھانے کا پراجیکٹ ملا تھا پراجیکٹ کے کوارڈینیٹر اس وقت کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر اکادمی ادبیات پاکستان آغا نور محمد پٹھان تھے۔ کلاس شروع ہوئے اب میں روسٹرم پہ آیا اور باری باری سے سب نے اپنا تعارف کرایا۔ طلباء و طالبات میری عمر کے بھی تھے اور سینیئر بھی تھے۔ ایک نام طاہرہ نگہت نیر پی ایچ ڈی ڈاکٹر بھی تھیں۔ انہوں نے

Read more

انتظار حسین: ہندوستانی تہذیب کا نوحہ خواں جو یادوں کی بوریاں اٹھائے پاکستان آیا تھا

انتظار حسین دو فروری 2016 کو لاہور میں ہی وفات پا گئے اور یوں ہندوستان اور پاکستان کی تہذیب کا نوحہ رقم کرنے والا خاموش ہو گیا۔

Read more

عفرا بخاری اور سنگ سیاہ کے افسانے

دسمبر کی چھٹیوں سے غالباً ایک یا دو دن پہلے زمیندار کالج گجرات کی پارکنگ میں میری ملاقات احمد عطا سے ہوئی۔ احمد عطا نے ایک کتاب مجھے دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے دوست عامر فراز کی والدہ کا افسانوی مجموعہ ”سنگ سیاہ“ ہے۔ سرورق پر کتاب کے نام کے نیچے بنی تین تصویروں کو میں نے بغور دیکھتے ہوئے کہا کتاب کے نام کی مناسبت سے ٹائٹل پر سیاہ پس منظر میں بنے یہ تین نسائی چہرے

Read more

دبے پاؤں آتی میل کاٹ تبدیلی کا قصہ

حکومتیں لاکھ خراب سہی، ان کی کارکردگی مایوس کن سہی مگر وہ بھی کسی انفرادی یا غیر سرکاری پروجیکٹ کو کامیاب ہوتا دیکھتی ہیں تو اس کی روشنی میں نہانا چاہتی ہیں۔ پڑھیے وسعت اللہ خان کا کالم۔

Read more

ریڈیو پاکستان کے ڈپٹی کنٹرولر نیوز سجاد پرویز کی پہلی کتاب بائیس لوگ شائع ہو گئی

ریڈیو پاکستان کے ڈپٹی کنٹرولر نیوز سجاد پرویز کی پہلی کتاب بائیس لوگ کو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور نے شائع کر دیا ہے۔ سجاد پرویز نے گزشتہ دو عشروں کے دوران ریڈیو پاکستان کیلئے یہ تمام انٹرویوز کیے تھے جو اب ریڈیو پاکستان کی آرکائیو کا حصہ ہے۔ تصاویر پر مبنی رنگین کتاب میں بائیس مشہور قومی شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں جنہوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سر انجام دی ہیں۔ان میں ڈاکٹر آصف فرخی، آصف نورانی، پروفیسر ڈاکٹر

Read more

مشتاق احمد یوسفی کے منتخب کرداروں کا نفسیاتی و غیر نفسیاتی مطالعہ

اردو نثر میں مزاح کی پہلی بڑی اور جاندار آواز خطوط غالب ہیں۔ غالب ؔکی نثر میں پہلی بار اردو اپنی آزاد اور فطری روش پر قدم رکھتی ہے۔ جہاں عقل، جذبہ اور طرز اظہار تینوں میں فطری رنگ و آہنگ کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ خطوط غالب ؔ کے بعد اردو طنز و مزاح کے میدان میں سب سے بڑا انقلابی اقدام لکھنؤ میں ”۔ اودھ پنچ“ کے اجراء کا تھا۔ اودھ پنچ سے وابستہ مزاح نگاروں میں سرشار،

Read more

آصف فرخی بحیثیت مترجم

ڈاکٹر آصف فرخی ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں۔ انہیں ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔ تراجم کے میدان میں انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا، اور پاکستان کے مقامی ادب کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اردو میں لکھنے کا آغاز ”نیا ناول“ نامی مضمون سے ہوا۔ آنے والے برسوں میں باقاعدگی سے لکھا۔ انگریزی زبان میں بھی لکھا۔ ابتدائی

Read more

میں اور مشک پوری کی ملکہ۔ ایک مکالمہ

سوال: آپ کو یہ ناول لکھنے کا خیال کیسے سوجھا؟

مصنف: چند سال پہلے میں ایوبیہ نیشنل پارک گلیات کی حدود میں کامن لیپرڈ کے موضوع پر ایک ڈاکومینٹری کے سکرپٹ پر کام کر رہا تھا۔ اس دوران مجھے کامن لیپرڈ اور گلیات کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ اس سلسلے میں دو ایک بار مری سے پندرہ بیس میل کی مسافت پر گلیات بھی جانا ہوا۔ موضوع ایسا تھا جس نے میری ذات کی گہرائیوں میں ارتعاش پیدا کر دیا اور مجھے اپنے بچپن کے ساتھ جوڑ دیا۔ میں ابھی تیسری چوتھی کلاس میں ہوں گا کہ مجھے اردو ڈائجسٹ میں شکاریات کو پڑھنے کی لت لگ گئی تھی۔

Read more

انیس ہارون کی کتاب: ویرانی دل و دنیا – کورونا کے شب و روز کا روزنامچہ

گزشتہ سال مارچ سے جب کرونا کی وجہ سے ہم گھروں میں بند ہو گئے تو ہر کسی نے اس قید تنہائی کا اپنے طور پر کوئی علاج نکالا۔ آپ تصور کر سکتے ہیں کہ انیس ہارون جیسی ایکٹوسٹ اور مجلسی خاتون کے لئے یہ عرصہ کتنا کٹھن گزرا ہو گا۔ انیس اور ان کے جیون ساتھی سید ہارون احمد پہ یہ مصرعہ صادق آتا ہے کہ۔ :سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے۔ ہم نے انہیں ہمیشہ دوسروں

Read more

جس محلے میں تھا ہمارا گھر

سجاد احمد صدیقی کی کتاب پر تبصرہ پڑھنے سے پہلے بس اتنا سمجھ لیجیے کہ ڈاکٹر شیر شاہ سید اور آصف فرخی کے دوست ہیں۔ پھر یہ ہی نہیں شیر شاہ ہمت بڑھائیں اور آصف فرخی پیدائشی مصنف قرار دے کر ان کا سب سے پہلا مضمون ’ ہم سب‘ میں شائع بھی کروا دیں۔ تب پھر سوچ کو پرواز اور اظہار کو روانی کیوں نہ ملے۔ سال بھر کے وقفے سے ان کے تین چار مضامین ’ہم سب‘ میں شائع

Read more

محمد سلیم الرحمٰن: کرکٹ سے محبت کے 76 برس اور وزڈن سے تعلق

ممتاز ادیب محمد سلیم الرحمٰن کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ادب ہے۔ گزرے ساٹھ برسوں میں مختلف اصنافِ ادب کو باثروت بنایا۔ ادب سے ہٹ کر دیگر کئی علوم میں انھیں گہری دلچسپی ہے۔ انگریزی میں ایسے افراد کو Polymath اور اردو میں جامع العلوم کہا جاتا ہے۔ علم و ادب کی دنیا سے باہر بھی ان کی توجہ کا میدان خاصا وسیع ہے جس میں کرکٹ بھی شامل ہے۔ اس کھیل سے ان کے اُس دیرینہ اور پختہ تعلق

Read more

لوح خاک پر گراں مایہ تحریر: ڈاکٹر آصف فرخی

کتابوں کے ڈھیر میں اکیلا، تنہا بچہ بیٹھا ہے اس کے چہرے پر سنجیدگی کے آثار نمایاں ہیں جیسے کسی گہری سوچ میں غرق ہے، یہ تصویر ڈاکٹر آصف فرخی کی پسندیدہ تصویر تھی جو وہ بچپن میں بنایا کرتے تھے ان کی والدہ تاج بیگم نے مجھے ہنستے ہنستے بتایا۔ وہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ مصوری کا شوقین تھا طلسم ہوش ربا تو کم عمری میں ہی پڑھ لی تھی اور پھر گھر کی ادبی فضا نے ان کے

Read more

دو صدیوں کا انسان ۔ آصف فرخی

آصف سے میری تفصیلی گفتگو سترہ اپریل کو ہوئی تھی۔ وہ دنیا زاد کے ”وبا نمبر“ کی تیاری میں مصروف تھے۔ اور چاہتے تھے کہ جلد از جلد پرچے کے لئے کچھ بھیجوں۔ میں نے کہا ایک غیر مطبوعہ نظم ہے ”پرندے چہچہاتے ہیں“ ۔ ادھر سے آواز آئی۔ اچھا عنوان ہے! ۔ پھر ٹھہر کر بولے، اور آپ کی وہ نظم جو ’ہم سب‘ میں آئی ہے (وبا کے دنوں میں ایک نظم) عمدہ نظم ہے اسے اور بڑھائیے۔

Read more

ڈاکٹر آصف فرخی دوستوں کو جُل دے گئے

گستاخی معاف ڈاکٹر صاحب، آپ نے کھیل کے آداب کی خلاف ورزی کی ہے۔ چپکے سے تالہ بندی کا تالہ توڑ کے دوستوں کے گھیرے سے نکل لئے، جو ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے کہ یہ ہوا کیا اور اب وہ کیا کریں! پچھلے دو ماہ سے شگفتگی اور امید کے رنگ لئے، مرصع اردو میں حالاتِ حاضرہ پہ کہی جانے والی باتوں اور دیس دیس کی کہانیوں نے ہر کسی پر ایسا جادو کیا تھا کہ بار بار

Read more

انتظار حسین کے نام آصف فرخی کا یادگارخط

1980 میں آصف فرخی صاحب لاہور آئے تو انتظار صاحب نے انھیں اپنی کتاب ’آخری آدمی ‘دی جو انھوں نے ٹرین میں پڑھ ڈالی ۔ کراچی پہنچتے ہی مصنف کو خط کے ذریعے اپنے تاثرات سے آگاہ کیا،جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیس برس کی عمر میں گہری ادبی سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔ ’آخری آدمی ‘انتظار صاحب کے فنی سفر کا اہم پڑاﺅ ہے اور اس کے افسانوں کی تفہیم میں تو پکی عمر کے نقادبھی ٹھوکر کھاجاتے

Read more

آصف فرخی: میرے دوست

یہ سن چوراسی یا پچاسی کا واقعہ ہے۔ میری طالب علمی کے طویل ترین دور کا ابتدائی زمانہ ہے۔ مجھے جرمنی آئے ہوئے شاید تین یا چار سال ہی گزرے ہوں۔ ایک دن مجھے میری یونیورسٹی کے کچھ سنیئر طلبا نے بتایا کہ ایک نوجوان طالب علم آیا ہے، کراچی سے تم اس سے مل لو۔ میں نے بخوشی ان سے ملنے کا عندیہ دے دیا۔ یوں آصف فرخی سے میری پہلی ملاقات ہافن پلٹز کے ہاسٹل میں ایک کھانے

Read more

آصف فرخی: سنہری مونچھوں والا نوجوان

(آج ڈاکٹر آصف فرخی کی پہلی برسی ہے۔ 16 ستمبر 1959 کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر آصف فرخی کا یکم جون 2020 کو انتقال ہوا تھا۔) نجانے سن ننانوے تھا یا دو ہزار، یہ خادم ایک پیشہ ورانہ کام کے سلسلے میں کراچی گیا تو حسبِ معمول سیدھے عزیزم حارث خلیق کے گھر جا کر بستر پٹکا۔ کچھ دیر بعد کچھ ادب دوست احباب تشریف لے آئے اور محفل جم گئی۔ یہ آصف اسلم فرخی سے رسمی ملاقاتوں کا نقطہ

Read more

تاریخ کے فرقے اور ہمارا اثاثہ (دوسرا حصہ)

ہمارے ہاں صوبوں کی سطح پہ بھی یہ تقسیم واضح ہے ایک طرف راجہ داہر ہیرو ہیں تو دوسری طرف محمد بن قاسم۔ ایک صوبے میں صرف پنجاب کے ہیروز کی بات ہوتی ہے تو دوسرے میں پشتون، سندھی یا بلوچ کی، پنجاب کی نصابی کتب پڑھ کر غنی خان، خوشحال خان خٹک یا رحمان بابا کے بارے میں جاننا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کے پی کی کتابوں میں بلھے شاہ، وارث شاہ یا سلطان باہو کے بارے میں۔

Read more

جھوٹا خواب: الطاف بھائی کی حکومت اور حقیقت

مہاجر قومی موومنٹ کی تاریخی کامیابی پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی تھی۔ الطاف حسین نے کراچی میں ہر قسم کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ طلبا تنظیموں میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور اسلامی جمعیت طلبا میں اردو بولنے والے کارکن ٹوٹ ٹوٹ کر ایم کیو ایم کی طلبا تنظیم آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) میں شامل ہو گئے تھے۔ کیا شیعہ، کیا تبلیغی، کیا جماعتی، کیا وہابی،

Read more

ڈاکٹر شیر شاہ سید کے جنم دن پر ’دل چارہ گر‘ کا تحفہ

26 مارچ، ڈاکٹر شیر شاہ کا جنم دن، کیا اس تاریخ کو پیدا ہونے والے ان ہی عادت و اطوار، خصوصیات کے حامل ہوتے ہوں گے جیسے ہمارے شاہ صاحب ہیں۔ کون سا وقت، کون سی دعا، کون سا برج، کون سا ستارہ کون سا سیارہ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سورج نہ ستارہ، برج نہ سیارہ، شبھ گھڑی نہ دعا۔ ڈاکٹر عطیہ ظفر سی ماں، اور سید ابو ظفر سے باپ جن بچوں کے حصے میں آئیں تب ایک

Read more

کورونا کی عالمی وبا کے دنوں میں پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب

(اس مضمون کا متن انڈس کلچرل فورم کی جانب سے 21 فروری کو اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے میں پیش کیا گیا، جو معمولی ترامیم کے ساتھ ’ہم سب‘ کے قارئین کے لئے حاضر ہے۔ تاہم یہ ایک سرسری جائزہ ہے جو کسی بھی صورت پاکستان کی مادری زبانوں میں ہونے والے کام کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ یہ موضوع ایک مفصل اور جامع تحقیق کا متقاضی ہے جس کے لئے یہ مضمون ناکافی

Read more

آدمی کائناتی ابتری کی روح ہے: زاہد ڈارکی یاد میں

زاہد ڈار ( 1936ء۔ 2021ء) نے اپنے پیچھے چند سوگوار احباب کے علاوہ نظموں کے تین مجموعے ( ”درد کا شہر“ ، ”تنہائی“ اور ”محبت اور مایوسی کی نظمیں“ ۔ ”آنکھ میں سمندر“ انتخاب ہے) ادب کے ان تھک قاری کا امیج اور کچھ سوال چھوڑے ہیں۔ یہ سوال ان کی نظموں سے بھی متعلق ہیں اور ان کے طرز حیات سے بھی۔ اکثر ادیب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے لیے ادب طرز حیات ہے۔ یعنی ان کی

Read more

برہمن آباد: ’چار دروازوں والے شہر‘ کے نیچے اسلامی تہذیب سے کئی صدیوں قبل کے آثار برآمد

شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے شعبے آرکیالوجی نے حالیہ سائنسی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ یہاں قبل اسلام تین عیسوی صدی کی آبادی کے آثار بھی موجود ہیں۔

Read more

محمود غزنوی اور سومنات مندر برصغیر کے تاریخی بیانیے کا اہم حصہ کیسے بنے؟

کیا محمود غزنوی کا مقصد محض لوٹ مار کرنا تھا؟ کیا وہ صدق دل سے اسلام کی خدمت کرنا چاہتے تھے اور اسلام کی ترویج کرنے کے لیے ہندوستان آئے تھے؟ یا انھوں نے واقعتاً ہندوؤں کی تذلیل کرنے کے لیے ان کے مندروں کو پامال کیا اور ان کی مورتیوں کو توڑ دیا؟

Read more

ہمارے فاروقی صاحب

عجیب سی بات ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا ہے گھر میں شمس الرحمن فاروقی کا نام یوں سنا جیسے کوئی گھر کا آدمی ہے جو باغی ہو گیا ہے۔ کبھی والد برائی کرتے کبھی چچا نما والد کے دوست، زیادہ تر ا دبی نشستوں میں فاروقی صاحب کے نام کا چر چا رہتا، کسی نہ کسی حوالے سے نام آ جاتا، پھر یا تو یہ کہا جاتا کہ بہت ذہین آدمی ہے یا یہ کہا جاتا کہ فاروقی ایک

Read more

نوجوان لکھنے والوں کو کیا پڑھنا چاہیے؟

کچھ نوجوان دوستوں نے استفسار کیا ہے کہ اردو غیر افسانوی نثر کی کون سی کتابیں پڑھنا مفید ہو گا تا کہ ان کی اپنی تحریر میں سلاست اور روانی پیدا ہو سکے۔ نیز وہ اردو نثر کے مختلف اسالیب سے آشنا ہو سکیں۔ مجھے اس سوال سے بہت خوشی ہوئی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ وسیع مطالعے کے بغیر ہمارے نوجوان اردو زبان پر کماحقہ عبور حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اور اگر ان کی تحریر غیر مؤثر ہو

Read more

2020 ء : کب کیا ہوا؟

سال 2020 کو الوداع خوشی کے ساتھ یقیناً نہیں بلکہ بوجھل دل کے ساتھ، دکھ اور تکلیف کے ساتھ، افسوس اور تاسف کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ یہ سال دنیا کی تاریخ میں کورونا (کووڈ 19۔ ) کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ رواں سال شروع ہوا تو اکثر لوگوں کی سوچ تھی کہ یہ سال دنیا کے لیے، لوگوں کے لیے بہتر سال ثابت ہوگا لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس، یہ جس

Read more

بھیشم ساہنی، انعام ندیم اور ”امرتسر آ گیا ہے“

یہ سترہ اٹھارہ سال پہلے کی بات ہے، مجھے میرے پیارے دوست آصف فرخی نے دو کتابیں ایک ساتھ عنایت کی تھیں۔ ان کتابوں میں سے ایک کانام تھا: ”اور کہاں تک جانا ہے؟“ جب کہ دوسری تھی: ”درخواب“ ۔ دونوں شاعری کے مجموعے اور دونوں شاعر میرے لیے نئے۔ تاہم آصف فرخی نے کہا تھا: ”انہیں پڑھیے ضرور آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔“ ان میں سے پہلی کتاب اکبر معصوم کی تھی۔ وہی اکبر معصوم جو آصف فرخی کی

Read more

اردو کی 13 ویں عالمی کانفرنس تشنگی کا احساس لیے اختتام کو پہنچی

خیال یہی تھا کہ کوڈ 19 آرٹس کونسل آف پاکستان کی انتظامیہ کو کورونا کی دوسری شدید لہر کانفرنس کو آگے بڑھا دے گی۔ لیکن منتظمہ کورونا کو خاطر میں نہ لائی اور اردو کی 13 ویں عالمی کانفرنس طے شدہ دنوں میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ اس فیصلہ پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب بھی ہو گئی۔ آرٹس کونسل کے روح رواں احمد شاہ صاحب عہدہ کچھ بھی ہو لیکن وہ گزشتہ کئی سالوں سے کونسل کا بوجھ کامیابی سے اٹھائے ہوئے ہیں۔

افتتاحی اجلاس میں ان کا فرمانا تھا کہ ”وہ 13 سال قبل شروع ہونے والی روایت کو زندہ رکھنا چاہتے تھے“ ۔ روایات زندہ رہیں اچھی بات ہے لیکن روایت پھر روایت ہوتی ہے، برقرار رہیں تو مناسب اگر نامساعد حالات اور خوف کی فضاء کی وجہ سے برقرار نہ بھی رہیں تو کوئی قیامت نہیں آجاتی۔ کانفرنس سے جڑی بعض روایات بھی ہیں جو نامساعد حالات کے باوجود قائم رہیں تو اچھا ہوگا۔ ایس او پیز پر سختی سے عمل ہوا، یہ بھی اچھی بات رہی، سرکار کی چاہت ہو تو تمام پابندیاں ہوا ہوجاتی ہیں۔

Read more

کراچی میں نئے ڈھب سے عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد

شہر کراچی میں علمی، ادبی، سماجی اور تفریحی سرگرمیوں میں سب سے زیادہ فعال ادارہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ہے۔ جہاں ہر روز ہی کوئی نہ کوئی تقریب کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔ کہتے ہیں جب زندگی کے ہنگاموں اور دن بھر کی مصروفیات سے آپ اکتا جائیں، تھک جائیں اور سکون کی تلاش میں؟ ہوں تو شام کی کچھ ساعتیں آپ آرٹس کونسل میں گزارلیں۔ جوں ہی آپ اس پر شکوہ عمارت میں داخل ہوتے ہیں آپ کو

Read more

لیلی للامی کی کتاب: امید اور دوسرے خطرناک مشاغل

اردو قارئین کا کتاب سے رشتہ جوڑنے اور مطالعے کو فروغ دینے میں جو کام اجمل کمال کی آج کی کتابوں اور آصف فرخی کی شہرزاد نے کیا ہے اس کی نظیر کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس میں خاص طور پر عالمی ادب کے معیاری تراجم اور مناسب داموں میں نفیس اور دیدہ زیب کتابوں کی اشاعت شامل ہے۔ ایسی ہی ایک پیپربیک مراکش کی لیلی للامی کی ’امید اور دوسرے خطرناک مشاغل‘ تھی۔ محمد عمر میمن نے اسے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

امید اور دوسرے خطرناک مشاغل ایسے پرعزم افراد کی کہانی بیان کرتی ہے جو بہتر زندگی کی تلاش میں اسپین ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے رستے میں رکاوٹیں حائل ہوتی ہیں مگر وہ مصروف عمل رہتے ہیں۔ وہ معاشرہ کی جکڑ سے آزاد ہو کر کھلی فضا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ انہیں پردیس کی سختیوں کا اندازہ ہے۔ لیکن خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے انہیں یہ قدم اٹھانا پڑے گا۔ ان کی زندگی میں کہیں یادوں کی ٹھنڈی چھاؤں ہے اور کہیں انتظار کی کڑی دھوپ۔ وعدوں کے سائے طویل ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی امید انتہائے کار پاش پاش ہو جاتی ہے۔ آنے والے وقت کی فکر میں انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کا حال ان کے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔

Read more

وبا کے دنوں میں بحران کی پیش گفتہ افواہ

ایک عہد ہے کہ تیزی سے اوجھل ہو رہا ہے۔ موت کی ایسی گرم بازاری ہے گویا مٹھیوں سے خشک ریت پھسل رہی ہے۔ رفتگاں کی فہرست ہے کہ پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ ابھی ایک مانوس آواز سے محرومی، ایک دیرینہ رفیق سے فراق اور ایک قدیمی آشنا چہرے کے صدمے سے سنبھل نہیں پاتے کہ ایک اور سناﺅنی آ لیتی ہے۔ پت جھڑ تو ابھی شروع ہوا ہے، ہمارے لئے تو یہ پورا برس ہی خزاں کی ویرانی سے منسوب ہو گیا۔ موت محض ایک ہندسہ نہیں ہوتی، ہر جانے والے کے ساتھ ایک پوری دنیا پر پردہ گر جاتا ہے، کتاب ادھوری رہ جاتی ہے، ساز کے تار کسی حادثے جیسی قطعیت کے ساتھ چٹختے ہیں اور نغمہ ان دیکھے خلا میں کھو جاتا ہے۔ سیاست، مذہب اور تمدن کے ستون ہیں کہ ایک ایک کر کے بغیر آواز کیے منہدم ہو رہے ہیں۔

دوسروں کی کیا کہوں۔ میرے لئے کراچی سے آصف فرخی، بہاولپور سے رانا اعجاز احمد، ملتان سے حیدر عباس گردیزی، لاہور سے استاذی محمد خالد، قاضی جاوید اور اب اسلام آباد سے اشفاق سلیم مرزا۔ یہ شہر گویا اپنا معنی کھو بیٹھے۔ کس قدر پات گرے ہیں اب کے۔ پہلے کون سا ہم نظام الملک طوسی کے باغ میں عمر خیام سے ہم پیالہ ہو رہے تھے، یہ تھا کہ یاران ہم نفس کہیں مل بیٹھتے تھے تو جینے کا بہانہ میسر آ جاتا تھا۔ فلک ناہنجار کو یہ بھی منظور نہ ہوا۔

Read more

عمیرہ احمد کیوں مقبول ہیں؟

جناب مسعود اشعر نے اپنے ہفتہ وار کالم میں اردو نقادوں اور جامعات کے اردو کے پروفیسروں کو جھنجھوڑا اور شر مندہ بہ یک وقت کیا ہے۔ بجا کیا ہے۔ انہوں نے عائشہ صدیقہ کے ایک انگریزی مضمون (جو 29 جون کے فرائیڈے ٹائمز میں چھپا ہے) کو بنیاد بنایا ہے جس میں اردو کے عام پسند فکشن کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ عائشہ صدیقہ نے اس مضمون کا عنوان”اردو ہیروز، ولنز اور وکٹمز“ رکھا۔ عائشہ صدیقہ کا بنیادی استدلال

Read more

ڈپٹی نذیر احمد کی آخری کتاب اور عظیم بیگ چغتائی

اس سلسلے کے پہلے مضمون میں ہم نے دیکھا تھا کہ کس طرح ڈپٹی نذیر احمد کی آخری کتاب ”امہات الامہ“ جلائی گئی۔ اس کہانی کے بعد تو 1912 میں ڈپٹی نذیر احمد وفات پا گئے اور اس کتاب کی کہانی بھی بظاہر انجام تک پہنچتی نظر آئی مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہوا۔ کچھ عرصے بعد مولانا راشد الخیری نے اس کتاب کو اپنی خواتین کے رسالے میں قسط وار شائع کیا مگر کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ شاہد احمد

Read more

جب ڈپٹی نذیر احمد کی آخری کتاب نذر آتش کی گئی

مرحوم ڈاکٹر آصف فرخی نے اپنے ایک مضمون میں ڈپٹی نذیر احمد کے ناول توبة النصوح کا ذکر کیا ہے جس میں نصوح کچھ کتابوں کو نذر آتش کرتا ہے۔ یہ کتابیں نصوح کے بیٹے کی ہیں جنہیں نصوح قابل اعتراض قرار دے کر جلادیتا ہے۔ اس کتاب پر بات کرتے ہوئے میرے دوست اجمل کمال نے مجھے یاد دلایا کہ بالآخر خود ڈپٹی نذیر احمد بھی ایسے ہی سلوک کا شکار ہوئے تھے جب ان کی زندگی کے آخری

Read more

جون ایلیا: فیس بک اور واٹس ایپ پر ’اردو کے مقبول ترین شاعر‘ کو پڑھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جون ایلیا کی شاعری خصوصاً محبوبہ کو مخاطب کر کے کی جانے والی شاعری نوجوانوں کو متوجہ کرتی ہے۔ مگر یہ فیس بک کا کمال ہے کہ جون ایلیا اس وقت اردو کے مقبول ترین شاعر بن چکے ہیں۔

Read more

پاکستان میں صحافت پہ کیا گزری؟

ضمیر نیازی آبروئے قلم بھی ہیں اور آبروئے صحافت بھی۔ ان کا سر بلند قلم کبھی سر قلم نہیں کیا جا سکا۔ وہ ہمیشہ جنوں کی حکایات خونچکاں لکھتے رہے۔ ضمیر نیازی نے اپنی زندگی کو خودی اور خودداری کے جس جوہر کے ساتھ برتا وہ کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ جہاں اہل قلم قبیلوں میں بٹے ہوں، لفظ خریدے اور بیچے جاتے ہوں اور گفتار سے کردار کی سند چھین لی گئی ہو، وہاں ایک مرد علم

Read more

مالک اشتر کی جنوں پاشی

فیسبک کی جگمگاتی دنیا میں جو سنجیدہ نوجوان حلقۂ احباب میں شامل ہوئے یا جنہوں سے اپنی منفرد تحریروں سے متاثر کیا انہیں میں ایک نام مالک اشتر کا بھی ہے۔ پیشے سے ایک پروفیشنل صحافی ہیں اور حالات حاضرہ، مسلمانوں کے مذہبی، سماجی اور اقتصادی مسائل پر ان کا رخش قلم ایک رفتار سے رواں دواں رہتا ہے۔ میری اگرچہ ان سے بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی مگر سوشل میڈیا کے ذریعے جو کچھ میں نے جانا ہے اس حوالے

Read more

موت کو الوداعی بوسہ!

بے جان سرد جسم، بے نور آنکھیں، ساکت چھاتی، دل کی بیرونی عضلاتی دیوار اور ہمارے تیزی سے حرکت کرتے ہاتھ، بے ترتیب سانسیں، سینے سے باہر کو آتا دل! ہم بے طرح ہانپ رہے تھے لیکن رک نہیں سکتے تھے۔ اس ٹھٹھرے ہوئے جسم میں بے بس دل کی منجمد حرکت کو واپس لانا تھا ہمیں! ایک دو تین چار پانچ …. پندرہ دفعہ چھاتی دبانا تھی اور پھر منہ سے منہ ملا کے ایک سانس دینا تھی۔ سانس

Read more