EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

آصف فرخی: میرے دوست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ سن چوراسی یا پچاسی کا واقعہ ہے۔ میری طالب علمی کے طویل ترین دور کا ابتدائی زمانہ ہے۔ مجھے جرمنی آئے ہوئے شاید تین یا چار سال ہی گزرے ہوں۔ ایک دن مجھے میری یونیورسٹی کے کچھ سنیئر طلبا نے بتایا کہ ایک نوجوان طالب علم آیا ہے، کراچی سے تم اس سے مل لو۔

میں نے بخوشی ان سے ملنے کا عندیہ دے دیا۔ یوں آصف فرخی سے میری پہلی ملاقات ہافن پلٹز کے ہاسٹل میں ایک کھانے پر ہوئی۔ بات چیت کے بعد میں نے انہیں اپنے ہاسٹل مدعو کیا اور ان سے دوسری ملاقات ہوئی۔ پتہ چلا کہ وہ ایک اسکالر شپ پر جرمنی تشریف لائے ہیں اور برلن میں ولمرسڈورف میں کہیں مقیم ہیں۔

یہ وہ زمانہ تھا جب دیوار برلن اپنی پوری دہشت سے ایستادہ تھی اور دلوں کو دو پاٹ کرنے کا سبب بنی ہوئی تھی۔ مشرقی اور مغربی بلاک کے بیچ اس آہنی دیوار کے آرپار کے احوال جاننے کی جستجو سبھی کو تھی۔ اور ہم ہر نئے آنے والے کو دیوار برلن دکھانے لے جاتے تھے۔ سو آصف فرخی کو بھی لےکر گئے۔ آصف نے مگر دیوار کو صرف اس پار سے دیکھنے پر اکتفا نہیں کیا اور خواہش ظاہر کی کہ دیوار کراس کرکے مشرقی حصے یعنی مشرقی جرمنی کی سیر کی جائے۔

گو کہ میں ایک دو بار مشرقی جرمنی جا چکا تھا۔ مگر اپنی یونیورسٹی کے ساتھ، طلبا کے ٹور پر جو کسی حد تک سرکاری سطح پر ہوتا تھا۔ میں نے آصف سے کہا کہ میں معلومات حاصل کرتا ہوں کیسے جایا جاسکتا ہے۔ پھر پروگرام بناؤں گا۔ اتفاق سے بھائی جان کراچی گئے ہوئے تھے۔ اور ان کی غیر موجودگی میں، میں اپنی مرضی کا مالک ہؤا کرتا تھا۔ کسی قسم کی اجازت وغیرہ کا کوئی مسئلہ نہ تھا۔ پھر سینئر طلبا سے رہنمائی حاصل کی اور پروگرام طے ہوگیا۔

ہم اور آصف کسی زمین دوز ٹرین کے اسٹیشن پر ملے اور وہاں سے فریڈرش اسٹریٹ پہنچ گئے۔ اسٹیشن کے نیچے ہی بنی چیک پوسٹ سے گزرنے کے لیے ہمیں اپنے اپنے پاسپورٹ جمع کروانے پڑے اور ہم نے فی کس پچیس مغربی جرمنی کے مارک سے پچیس مشرقی جرمنی کے مارک خریدے، جو سراسر گھاٹے کا سودا تھا۔ عام مارکیٹ میں اول تو کوئی مشرقی جرمنی کی کرنسی لینے پر تیار ہی نہ ہوتا تھا۔ اور اگر بالفرض محال کوئی لے بھی لیتا تو شاید پچاس ساٹھ مشرقی جرمن مارک کے عوض ایک دو مغربی مارک دے دیتا۔ جبکہ اس نام نہاد باڈر پر ایک مغربی جرمن مارک کے بدلے ایک مشرقی جرمن مارک، ایک ایسی نقصان دہ تجارت تھی جس کے بغیر ہم مشرقی برلن نہیں جا سکتے تھے۔ اس کے باوجود ہمیں صرف مشرقی برلن کی حدود میں گھومنے پھرنے کی اجازت تھی۔ اور شام سے پہلے پہلے واپس جانے کی پابندی بھی۔

آصف فرخی اور ہم ادھر ادھر گھومتے گھامتے، مشرقی برلن کی پرانی بوسیدہ عمارتوں اور بے رونق گلی کوچوں کی سیر سے جلد ہی اکتا گئے۔ کچھ تاریخی عمارتوں کا مطالعہ کیا اور مقررہ وقت پر واپس روانہ ہوگئے۔ باڈر پر وہی چیکنگ اور تلاشی اور پھر ہم دونوں مغربی برلن کی گہماگہمی میں گم ہو گئے۔ اس دن کے بعد سے میری آصف فرخی سے دوستی پکی ہوچکی تھی۔ آصف کچھ عرصہ، تین چار ماہ برلن میں رہے اور پھر واپس لوٹ گئے۔ میں کراچی گیا تو وہ ان دنوں آغاخان میڈیکل کالج میں پریسپٹر تعینات تھے۔ میں نے پوچھا بھئی یہ کیا ہوتا ہے۔ ہمارے تو خرانٹ قسم کے لکچرار ہوا کرتے تھے۔ آصف دھیمے سے مسکرائے اور پھر انہوں نے اپنے شاگردوں سے ملوایا اور کہنے لگے دیکھیں ہم استاد شاگرد دوستوں کی طرح سے ملتے ہیں۔

جب میں دوسری مرتبہ کراچی گیا تو آصف یونیسف کے ادارے سے منسلک کراچی میں متعین تھے۔ ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی اور ہم لوگ دن کا کھانا کھانے طارق روڈ پر کسی چائینز رستوراں چلے گئے۔ آصف اس دوران ایک بار جرمنی ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے اور ہائیڈل برگ سے ہی واپس چلے گئے۔ سن دوہزار بارہ میں میں ان کی دعوت پر کراچی میں آرٹس کونسل میں منعقدہ اردو کانفرنس میں شرکت کے لیے گیا۔ اس پروگرام کی نظامت بھی انہوں نے سنبھال رکھی تھی۔ پھر ان سے حبیب یونیورسٹی میں ملاقات ہوئی اور ہم لوگوں نے وہاں کے کیفے ٹیریا میں دوپہر کا کھانا افضال سید صاحب کے ساتھ ہی کھایا۔ کافی گفتگو رہی۔

آصف فرخی بہت اچھے کہانی کار اور نقاد تھے۔ ان کے ذہن میں اردو ادب کا ایک ایسا خاکہ تھا جو اردو ادب کو عالمی ادب میں متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ، اس کے مقام کو متعین کروانے کا بھی باعث بنے۔ وہ خود ترجمے کیا کرتے تھے اور انہوں مجھ سے بھی فرمائش کی کہ میں جرمن ادیبوں کے تراجم ان کے رسالے دنیازاد کے لیے کیا کروں۔ میں نے ان ہی کے کہنے پر گنتھر گراس کی کہانی کا ترجمہ بھی کیا۔ مگر چونکہ میں خود بھی پیشہ کے لحاظ سے مترجم ہوں تو مجھے ادبی ترجمے کا کچھ خاص شوق نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں ابھی تک اپنی تخلیقی سیرابی کو نہیں پہنچا تو میرے لیے ادبی ترجمے کرنا اس لحاظ سے بھی مشکل کام ہے۔ مجھے اپنی تخلیقات کو ترتیب دینے کا وقت ہی کم ملتا ہے۔ میری اس سلسلے میں بھی آصف فرخی سے بات ہوئی کہ کیا صرف اردو ادیبوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دوسری زبانوں کے ادبی ترجمے کیا کریں اور کیا اردو ادیب کا یہ حق نہیں کہ ان کی تخلیقات کے تراجم کیے جائیں۔ ان کا جواب نہایت واضح تھا۔ اردو ادب کے تراجم وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اردو کے مشہور لکھاری انتظار حسین کی تخلیقات کو جب برطانوی ادبی انعام، بکر پرائز کے لیے ابتدائی طور پر نامزد کیا گیا تو آصف فرخی نے اس کے لیے پرجوش تحریک چلائی۔ تاہم وہ کسی جوڑ توڑ کے قائل نہ تھے۔ انہوں نے انتظار حسین کی ادبی کاوشوں پر روشنی ڈالنے اور ان کی تحاریر کو عوام الناس تک پہنچانے اور جیوری ممبران کو ان کی تحریروں کے ایسے پہلوؤں سے روشناس کرانے میں اپنی حدتک کوشش کی جن سے شاید وہ نا آشنا رہے ہوں۔

سن دوہزار سترہ میں آصف ایک بار پھر برلن آئے، ایک اردو کانفرنس میں شرکت کے لیے۔ اس کانفرنس میں ہندوستان، کینڈا، شمالی امریکہ اور جرمنی کے دیگر زبانوں کے ادیب شامل تھے۔ انہوں نے مجھے تمام دوستوں سے متعارف کروایا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں کوئی بہت بڑی ادبی محفل، ان کے اعزاز میں منعقد کروں۔ چنانچہ ہم چند ادبی دوست ایک ریستوراں میں ان سے ملے اور شام کا کھانا اکھٹے کھایا۔ اس دوران وہ جرمنی کی ادبی سرگرمیوں کی بابت دلچسپی سے معلومات لیتے رہے۔ ان کے اسی دورے کے دوران میں ان سے ایک انٹرویو بھی کیا جو دیسی دھوم برلن کی جانب سے نشر ہوا۔

ایک دن ہم نے دن بھر برلن کے مختلف علاقوں کی سیر کی۔ وہ اپنے اس پرانے فلیٹ پر جانا چاہتے تھے، جہاں انہوں نے سن پچاسی میں قیام کیا تھا۔ آصف فرخی ایک ہمہ جہت شخصیت تھے۔ ایک توانائی سے بھر پور انسان۔ کراچی لٹریچر فیسٹیول، اسلام آباد اور لندن لٹریچر فیسٹیول ان کے ایسے کارنامے ہیں جو ہمیشہ یادرکھے جائیں گے۔ وہ ادب اور ادیب دونوں کو عوام سے روشناس کرانے کی کوشش میں ہمیشہ مشغول رہے۔ اور خندہ پیشانی سے اپنی تمام تر توانائی اس کے لیے صرف کرتے رہے۔

بشکریہ: کارواں ناروے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سرور غزالی کی دیگر تحریریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے