ایفرو امریکیوں کا دم کیوں گھٹتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تین سال پہلے کی بات ہوگی میں کام سے واپس آ رہی تھی۔ دوسری جانب مقابل سڑک کے سے پولیس کی گاڑی آ رہی تھی۔ میں نے کوئی قانونی خلاف ورزی نہیں کی تھی لیکن سنسان اور سفید نژاد آبادی کی اکثریت کے علاقے میں مجھے جانے کیوں لگا کہ یہ پولیس والا پلٹ کے ٹریفک ٹکٹ دینے کی غرض سے میری گاڑی روکے گا اور یونہی ہوا۔ اس نے پیچھے سے آکر بتیاں دکھائیں۔ جو گاڑی روکنے کا سگنل تھا۔ اب ہمارا مکالمہ کچھ اس طرح ہوا۔

پولیس: میم آپ کی گاڑی کا جھکاؤ سڑک کی دوسری جانب کی لائن پہ تھا۔ کیا آپ نے نکلنے سے پہلے شراب پی تھی؟

ہم: نہیں۔
پولیس: اپنا لائسنس دکھائیں گی؟
ہم: ضرور (ہم نے لائسنس پیش کیا)
پولیس: کیا کام کرتی ہیں؟
ہم: اسٹیٹ جیل میں منشیات کے عادی مجرموں کی تھرپسٹ ہوں۔ کہیے تو اسٹیٹ آئی ڈی پیش کروں؟
پولیس: (ایک دم لہجہ بدلتے ہوئے ) نہیں نہیں میم آپ جا سکتی ہیں۔ ہیو اے نائس ڈے۔

مجھے پتہ ہے کہ دور سے اس پولیس افسر نے میری سانولی رنگت سے دھوکہ کھایا ہوگا اور اپنا کالا شکار جانتے ہوئے پکڑنے اور ٹکٹ دینے کی کوشش کی تھی۔ مگر قریب آکر اس نے بات بنائی اور آسانی سے جانے دیا۔ میرے ساتھ تو یہ ایک بار ہی ہوا۔ امریکہ میں رہنے والے ایفرو امریکیوں کے ساتھ یہ روز کی کہانی ہے۔

میں نے امریکہ کے قید خانے کے نظام میں تین سال کام کیا ہے۔ میں اس ملازمت کو اپنی زندگی کا اہم تجربہ گردانتی ہوں کہ جس میں اگر میرے کلائنٹس مجھے جیل کے باہر اپنے ساتھ روا نسلی تفریق کی شرمناک کہانیاں سناتے ہیں تو جیل کے اندر میں اس تفریقی رویے کی میں خود چشم دید گواہ ہوں۔ پولیس کے جس تفریقی اور ناروا رویے سے امریکہ میں رہنے والے ایفرو امریکن اپنی رنگت اور نسل کی بنیاد پہ گزرتے ہیں وہ دو چار دہائیوں کی کہانی نہیں بلکہ اس کی جڑیں گہری اور دور تک جاتی ہیں۔

لہٰذا جب دس دن قبل مینیسوٹا میں چھیالس سالہ جارج فلائیڈ کی گردن کو ایک پولیس افسر ڈریک شوان نے اپنی پوری طاقت اور بے رحمی سے اس طرح دبایا کہ اس کے منہ سے بار بار یہ جملہ سناء دیا ”میں سانس نہیں لے سکتا“ ۔ تو مجھے لگا کہ یہ پولیس کا مضبوط گھٹنا نہیں بلکہ وہ پورا نظام ہے کہ جس کی جڑوں کی آبیاری نسلی تفریق اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے کی ہے۔ یہ تو دم گھونٹے کا ایک واقعہ تھا کہ جس کی شہادت ٹیکنالوجی کی وجہ سے ممکن ہو سکی اور جس سے وابستہ کرب نے پورے امریکہ ہی نہیں دنیا میں ہل چل مچا دی اور میرا دل یہ سوال پوچھنے پہ مجبور ہو گیا ہے کہ آخر اس سپر پاور ملک امریکہ میں غریب ایفرو امریکیوں کا دم کیوں گھٹتا ہے؟

کیا یہ محض ایک واقعہ تھا جس میں پولیس نے غیر دانستہ طور پہ اپنی طاقت کے زور پہ ایک بے بس انسان کا دم نکال دیا؟ آخر امریکی پولیس اور کالی رنگت والے ایفرو امریکیوں کے درمیان پرخاش کے بیج کب بوئی گئی؟ اگر ان سوالوں کے جواب مل جائیں تو آپ جان جائیں گے کہ محض چند دنوں میں اس ملک بلکہ عالمگیر سطح پہ احتجاج کا طوفان کیوں کھڑا ہوا اور بینرز پہ یہ کیوں لکھا ہے کہ ”کالوں کی زندگیوں کی وقعت ہے“ ۔ یہ نعرہ ہی نہیں 2013 میں عالمگیر سطح پہ بننے والی انسانی حقوق کی ایک تحریک ہے جسے ادارتی سطح پہ رائج تشدد پسندی اور نسلی تفریق کے خلاف ایفرو امریکیوں کے گروپ نے قائم کیا۔

سیاہ فام قوم کے خلاف پولیس کے تفریقی رویہ، ظلم اور نا انصافی کو جاننے کے لیے ہمیں تقریباً چارسو سال کی تاریخ کے اوراق پلٹنے ہوں گے کہ جب 1619 میں بیس افریقیوں کو ان کی دھرتی انگولا سے اغوا کرکے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کے بحری جہاز میں سامان یا جانوروں کی طرح ڈال کر ورجینیا لایا گیا۔ اور پھر اگلی کء صدیوں تک لاکھوں کی تعداد میں افریقی باشندوں کو امریکہ میں غلام بنا کر بسایا گیا۔ ان غلاموں کی جانوروں کی طرح بولیاں لگتیں اور صرف معمولی کھانے اور کپڑوں کے عوض ان سے گھروں اور کھیتوں کھلیانوں میں کاشت اور فصل کاتنے کا کام مفت لیا جاتا۔

امریکہ کی جنوبی ریاستوں میں ان کی غلامی کی بہت وقعت تھی جہاں زمیندار گورے ان افریقی غلاموں کی محنت کے بل بوتے پہ تمباکو، کپاس اور چاول وغیرہ کی فصلوں کی بنیاد پہ دولت کماتے۔ اس طرح اس وقت غلاموں کی تجارت سب سے بڑی منڈی تصور کی جاتی تھی۔ 1860 ء تک امریکہ میں تقریباً چالیس لاکھ افریقی امریکی غلام تھے۔ یعنی 13 فیصد آبادی۔

جنوب میں غلاموں کی نقل و حمل پہ کڑی نظر رکھنے یا پولیسنگ کرنے والے سفید فام مرد ہوتے تھے جن کو اتنے اختیار دیے جاتے کہ وہ اپنی طاقت استعمال کریں اور غلامی کے قوانین کو اپنی سختی کے حربوں سے برقرار رکھیں۔ سب سے پہلا slave patrols سن سترہ سو کی ابتداءً میں ساؤتھ کیرولینا میں شروع ہوا۔ یہ لوگ بھاگنے والوں، بغاوت اور زراعت کے قوانین توڑنے والے غلام افریقوں کو سخت سزائیں دیتے۔ بظاہر غلامی کے یہ پیٹرولز امریکہ میں ہونے ولی سول وار کے بعد ختم ہوگئے مگر پہلے وقتوں میں غلاموں کی نگرانی کرنے والی پولیسنگ نیانیس سو میں سنٹریلائزڈ میونسپل پولیس کے شعبہ کو جنم دیا۔ جو 1900 ء میں بوسٹن میں شروع ہوکر نیویارک، شکاگو، فلاڈلفیا وغیرہ میں بھی رائج ہوئے۔ اب یہ تفریقی رویہ حکومتی پالیسیوں کا حصہ بن گیا۔ جو بلیک کوڈز کی شکل میں رائج تھا۔ جس کے تحت افریقی محض مخصوص ملازمتیں ہی کر سکتے تھے اور ان کی ووٹنگ کا حق بھی محدود تھا۔

1860 ء میں تیرہویں ترمیم کے بعد بلیک کوڈز تو غیر قانونی قرار پایا مگر اب بدنام زمانہ جم کروز لاز نافذ ہوئے۔ جو اگلے اسی سالوں تک ملک کے قوانین کا حصہ بنے رہے۔ جس نے ہر سطح پہ گورے اور کالوں کے درمیان تفریق کا بازار گرم کیا۔ مثلاً اسکول، لائبریریاں، ریستوران بسیں، حتی کہ پانی کا نلکا تک علیحدہ تھا اور پولیس کا کام تھا کہ ان نسلی بنیاد پہ بنے تفریقی قوانین کو سختی سے نافذ کرے۔

انسانی کاسٹ کا یہ مکروہ نظام 1877 ء سے 1960 ء کے وسط تک جاری رہا۔ جس کی بدترین مثال لنچنگ lynching تھی جس میں مجرم کو درختوں یا اونچی جگہ پہ لٹکا کر سزا دینا حتی کہ انہیں تشدد کرکے مار بھی دیا جاتا تھا۔ اس میں مجرموں اور چوروں کی اکثریت افریقی ہوتی۔ اس عمل کے لیے پہلے سے اخبار میں خبر چھپتی اور اسے ایک تقریب کا رنگ دیا جاتا۔ اس طرح اس ظالمانہ عمل کی مدد سے معیشت، سیاست، اور ثقافت بالادستی برقرار رکھی جاتی۔

اکثر غیر مجرمانہ بات پہ بھی لنچنگ ہوتی مثلاً 1894 میں آرکنساس کے ولیم کو اس بناء پہ لٹکا دیا گیا کہ اس نے اپنے گورے مالک سے اس کی بیٹی سے شادی کی اجازت طلب کرلی تھی یا کسی نے ایک گوری عورت کو خط لکھ دیا اور کولڈ ڈرنک کی دعوت دے دی۔ 1934 ء میں ایک شخص کے گوری عورت سے تعلق ہونے کی وجہ سے پہلے اسے لٹکا کر سترہ دفعہ گولی ماری گئی اور پھراسکی لاش کو کار کے پیچھے لٹکا کر گھنٹوں شہر میں گھسیٹا گیا۔ 1800 ء کی دھائی سے 1950 ء تک چار ہزار سے زیادہ افراد کو لٹکایا گیا۔

گو آج لنچنگ نہیں ہوتی مگر امریکی پولیس کا رویہ اتنا ہی ظالمانہ ہے۔ حکومتی پالیسیوں اور پولیس کے بہیمانہ نسلی منافرت اور تفریقی رویے نے ایفرو امریکیوں میں فریسٹریشن، نفرت، اور غم و غصہ کی چنگاریاں دہکا دی ہیں۔ یہ منفی جذبات نسل در نسل منتقل ہورہے ہیں۔ سالہا سال قبل امریکہ کے جنوب میں کاشتکاری کرنے والوں کی ساتھ جو مار پیٹ، تزہیک، ان پہ کتے چھوڑنے، ان کے خاندانوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے، عورتوں کے ساتھ جنسی تشدد، زنا اور قتل کا سلوک کسی نہ کسی صورت امریکہ کے شہروں میں ابھی بھی رائج ہے۔

ابھی بھی پولیس کے ہاتھوں نہتے ایفرو امریکیوں پہ تشدد اور بلاجواز قتل گاہے بگاہے احتجاجی مظاہروں اور نسلی ہنگاموں کو جنم دیتے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ 25 مئی کو میناپولس مینیسوٹا میں پولیس افسر ڈریم شیوان کے ہاتھوں ایک نہتے ایفرو امریکی جارج فلایڈ کا قتل اور اس کے بعد ہونے والے ہنگامے اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک دن کا قصہ نہیں بلکہ صدیوں کا غم وغصہ اور فریسٹریشن ہے۔ جو آج آگ کی صورت امریکہ کے شہروں میں بھڑک رہا ہے۔

امریکہ کی تاریخ نسلی بنیاد پہ ہونے والے احتجاجی ہنگاموں سے داغدار ہے۔ آج آزادی کے باوجود پچھلی غلامی کا یہ ٹراما اگلی نسلوں میں منتقل ہوتا نظر آتاہے۔ جسے سائنس میں epigenetic کہا جاتا ہے۔ اس کا اثر جسمانی، نفسیاتی اور سماجی صحت پہ براہ راست پڑتا ہے۔ جس کو پوسٹ ٹرامیٹک سیلیو سنڈروم کہا جاتا ہے۔ اگر ہمیں آنے والی نسلوں کو ٹراما سے پاک اور صحت مند معاشرے کا شہری بنانا ہے تو اپنی پالیسیوں پہ نظر ثانی کرنی ہوگی اور طاقت کی بنیاد پہ کنٹرول کرنے کے بھیانک کھیل کو ختم کرنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *