پاکستانی حکومت نے ہرڈ امیونٹی کی پالیسی کیوں اختیار کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی تقلید میں پاکستانی ریاست بھی ہرڈ امیونٹی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کرونا کی عالمی وبا شروع ہونے کے بعد سب سے پہلے ہرڈ امیونٹی پالیسی پر عمل کا آغاز برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اپنے ملک میں کیا تھا۔ تاہم جب وہ خود کورونا کا شکار ہو گئے اور برطانیہ میں اموات کی تعداد بہت زیادہ بڑھنے لگیں تو پالیسی بدل کر مجبوراً لاک ڈاؤن کرنا پڑا۔ یہی پالیسی امریکہ نے بھی اپنائی ہوئی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام رکھنے والے تمام ممالک اسی پالیسی پر گامزن نظر آتے ہیں۔ کیونکہ اس نظام میں سرمایہ دار کے کاروبار سے ہی ٹیکس، منافع، برآمدات، روزگار، کل معیشت حتی کہ پارٹی فنڈز تک ملتے ہیں۔ پرائیویٹ کاروباروں سے ہی حکومتیں چلتی ہیں۔ اس نظام میں لاک ڈاؤن جیسے اینٹی بزنس، پرو ہیلتھ، لوگوں کو گھر بیٹھے امداد دینے جیسے مہنگے اور خسارے والے اقدامات نہیں اٹھائے جا سکتے۔

ہرڈ پالیسی دراصل لاک ڈاؤن کے ذریعے کرونا وائرس کو ویکسین کی تیاری تک روکے رکھنے کی پالیسی کا الٹ ہے۔ ہرڈ پالیسی کے مطابق کرونا سے چھٹکارا پانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ وائرس کو جلد از جلد عوام میں پھیلنے دیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کا شکار ہو جائیں۔ کیونکہ جو شخص ایک دفعہ کرونا میں مبتلا ہو کر تندرست ہوگیا وہ دوبارہ کرونا کا شکار نہیں ہو سکتا۔ تاہم اس دوران آبادی کے 3 سے 4 فیصد افراد جن میں قوت مدافعت کسی بھی وجہ سے کم ہے وہ موت کا شکار ہو جائیں گے۔ اور اس طرح بچ جانے والے 96 سے 97 فیصد کبھی کرونا میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ کیونکہ مدافعت کی یہ صلاحیت جینز کے ذریعے اگلی نسل تک بھی منتقل ہو جاتی ہے۔ یوں چند لاکھ پاکستانیوں کی بلی سے کاروبار مملکت پھر سے چلنے لگے گا۔

ہرڈ امیونٹی طریقے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس سے کوئی بھی ملک وائرس پر جلد از جلد قابو پا سکتا ہے۔ نقصان صرف چند لاکھ یا پاکستان جیسے بڑے ملک میں چند ملین افراد کی موت ہے۔ لیکن اس پالیسی سے حکومت جلد از جلد معیشت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کر سکے گی۔ اور یوں سیاسی میدان میں اسے کم از کم نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ ساری قوم جانتی ہے کہ یہ وبا اللہ کا عذاب ہے اور جس کی لکھی ہوئی ہے اس کو مرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

یوں حکومت معیشت کو اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا کر کے سیاسی مخالفین کا منہ بند کر سکے گی جو اس حکومت کو نا اہل اور نکما ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ یہ وزیر اعظم صاحب کی طبیعت کو سخت گراں گزرتا ہے۔ جب تک مکمل ہرڈ امیونٹی حاصل نہیں ہوجاتی تب تک نیب، کرپشن، دھماکے، ارطغرل اور دیگر ڈرامائی شوشوں کے ذریعے قوم کا دھیان بٹایا جائے گا۔

ہرڈ امیون پالیسی کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ بصورت دیگر لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت کو عوام تک گھروں میں کھانا پینا، فنڈز اور اشیائے ضروریہ پہنچانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جو کہ پہلے سے کم ہوتے حکومتی خزانے پر اضافی بوجھ ہوتا۔ اس کے علاوہ حکومت سیاسی رسک بھی مول لینا نہیں چاہتی کیونکہ اگر لوگوں تک امداد صحیح طرح نہ پہنچ پائی تو پہلے سے مہنگائی، بے روزگاری و معاشی بدحالی کی ستائی ہوئی عوام کے اندر بے چینی پیدا ہو سکتی ہے جو کہ امریکہ کی طرح بغاوت کی طرف لے جا سکتی ہے۔ ایسے کسی بھی عوامی احتجاج کو اپوزیشن تو حکومت کے خلاف استعمال کرے گی ہی جو کہ پہلے سے ہی عوام میں غیر مقبول حکومت کے لیے خاصا چیلنج ہو سکتا ہے۔

نیز کاروبار چلیں گے تو ٹیکس اکٹھا ہو گا جس کا آئی ایم ایف کا ٹارگٹ پہلے ہی حکومت سے پورا نہیں ہو رہا۔ اسی لیے وزیر اعظم عمران خان شروع دن سے لاک ڈاؤن کے خلاف ہیں اور وہ اس کی وجہ دیہاڑی داروں کی غربت کو بتاتے آ رہے ہیں۔ حالانکہ پاکستان گندم پیدا کرنے والا زرعی، دیہاتی ملک ہے۔ اگر حکومت چاہتی تو ایسے دیہاڑی داروں تک گوداموں میں پڑی اضافی گندم پہچانے کا بندوبست کر سکتی تھی۔ اس کے علاوہ مخیر حضرات بھی حکومت کے ساتھ اپنا ہاتھ ضرور بٹاتے۔ اگر حکومت تمام سیاسی فریقوں کو اکٹھا کر کے ساتھ لے کر چلتی تو لاک ڈاؤن پالیسی پر موثر عمل ہو سکتا تھا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن کرنا ہی نہیں چاہتی کیونکہ اس نے ہر صورت اپنے سرپرست اعلی امریکہ بہادر کی تقلید ہی کرنا تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *