وبا اور اسلام کا طرز عمل۔ ۔ ۔
حضرت عمر ؓ کو خبر ملی کہ طاعون کی وبا نے پورے شام کو گھیر لیا ہے اور لوگ دھڑا دھڑ جانوں سے جا رہے ہیں۔ حضرت عمر ؓ بے چین ہوئے اور ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔ اچانک رکے کچھ سوچا اور قاصد کو بلایا اسے ایک خط دیا اور کہا کہ جتنی جلدی ہو سکے اس خط کو شام لے جاؤ اور امیر لشکر کے سپرد کرنا۔ قاصد نے سرپٹ گھوڑا دوڑایا اور بغیر آرام کیے دنوں کا سفر ساعتوں میں طے کرتے ہوئے بہت مختصر وقت میں شام پہنچ گیا امیر لشکر کو امیر المومنینؓ کا سلام پہنچایا اور خط اس کے سپرد کر دیا۔ امیر جیش نے خط کھولا پڑھا اور مسکرا دیا اور اس کا جواب لکھ کے قاصد کے حوالے کیا۔
یہ امیر حضورﷺ کے چہیتے صحابی حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ تھے جسے حضور ﷺ نے امین الامت کا خطاب دیا تھا۔ جب شام میں وبا کی خبر حضرت عمرؓ تک پہنچی تو اسے سب سے بڑی فکر حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کی ہوئی۔ فاروق اعظمؓ جانتے تھے کہ اگر ایسے ہی ابوعبیدہؓ کو بلا لیا تو وہ نہیں آنے والے سو اس نے فوراً خط لکھوایا اور کہا کہ شام کی مہم کے بارے ایک اہم مشورہ کرنا ہے فوراً سے پہلے دارالخلافت پہنچ جاؤ جب یہ خط پیارے نبی ﷺکے جری صحابی تک پہنچ گیا تو خط پڑھ کر مسکرانے لگے اور کہا کہ امیر المومنینؓ مجھے موت سے بچانا چاہتے ہیں میں موت سے نہیں ڈرتا اور میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ رہنے کو ترجیح دوں گا اور بلا آخر اسی وبا میں جان دے دی۔
درجہ بالا واقعے سے ہمیں دو بڑے سبق ملتے ہیں جو نبی ﷺ کے دونوں چہیتے صحابیوں کا طرز عمل ہے ایک فاروق اعظم ؓ کا کہ باوجود حضورﷺ کے وبا کے دوران احکام کا پتہ ہونے کے حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو بلا لینا اور حضرت ابوعبیدہ ؓ کا اپنے مقام کو نہ چھوڑنا۔
فاروق اعظم ؓ کا طرز عمل ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ وبا کے دنوں میں اگر یہ بہت ہی اہم معاملہ درپیش اور اور بہت ہی قیمتی جان بچانا مقصود ہو تو اپنے مقام کو چھوڑ سکتے ہیں۔ حضرت ابوعبیدہ ؓ جید صحابہ ؓ اور اصحاب بدر میں شمار ہوتے ہیں ایک وجہ تو یہ تھی کہ امیر المومنینؓ اسے نہیں کھونا چاہتے تھے اور دوسری یہ کہ اس وقت شام کا معرکہ چل رہا تھا اور اس محاذ پہ حضرت ابوعبیدہؓ کی موجودگی بہت ہی اہم تھی۔
دوسرا طرز عمل ہمیں حضرت ابوعبیدہؓ کا ملتا ہے کہ باوجود وبا کے مہلک ہونے کے اپنے مقام کو نہ چھوڑنا جو عموماً اسلام کا مزاج ہے یعنی وبائی مرض کے دوران اپنی جان کو دوسروں کی جان کے لیے خطرہ بنانے سے احتیاط کرنا۔ حضرت فاروق اعظم ؓ کا بیماری کو بیماری سمجھنا اور اس بیماری سے پیارے صحابی ؓ کا بچاؤ کرنا اور حضرت ابوعبیدہؓ کا اللہ پر مضبوط توکل کرنا۔
اگر ہم موجود مسلمانوں خاص طور پہ پاکستانیوں کا وبا کے دوران مزاج کو صحابہؓ کے مزاج کے ساتھ موازنہ کریں کو ہمیں تفریق ہی تفریق نظر آئے گا۔ ہمارے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا مزاج یا تو بہت ہی لبرل ہے یا بہت ہی متشدد۔ یا تو ہم سرے سے موجودہ وبا (کرونا وائرس) کو بیماری تسلیم ہی نہیں کرتے یا پھر ہم اسے سر چڑھا لیتے ہیں۔
اسلام کا طرز عمل اعتدال ہے نہ بہت زیادہ نہ بہت کم مگر درمیانہ۔ نہ تو ہمیں اتنا لبرل ہونا چاہیے کہ ہم اللہ پہ توکل کرنا ہی چھوڑ دیں اور یہ سمجھ بیٹھیں کہ جو ہونا ہے اس بیماری کی وجہ سے ہی ہونا ہے اور نہ ہمیں اتنا متشدد کہ ہم بیماری کو ہی ماننے سے انکاری ہوں اور یہ سمجھ بیٹھیں کہ توکل کر کے ہم جو بھی کریں بیماری ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ حضورﷺ نے بھی توکل کی مثال یہی دی ہے کہ اونٹ باندھ کے توکل کیا جائے کہ اب یہ کہیں نہیں جائے گا نہ کہ اسے کھلا چھوڑ کے توکل کیا جائے۔ اس وبا کے دوران ہمیں اللہ پہ اپنے توکل کو مضبوط بھی رکھنا اور اور بیماری سے احتیاط بھی کرنا ہے اور یہی ایک مسلمان اور اسلام کے نام لیوا کو ذیب دیتا ہے۔


