ٹوٹتے اور بکھرتے پھول!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ روز قبل، پاکستان کے شہرراولپنڈی میں ایک اور زینب جان سے گئی، ایک اور پھول جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا، ایک اور چراغ بجھا دیا گیا۔

8 سالہ بچی، جس کا نام زہرہ، اور تعلق مظفر گڑھ سے بتایا جاتا ہے، روات کے علاقے میں نجی ہاوئسنگ سوسائٹی کے ایک گھرمیں ملازمہ تھی، اور اس کو مبینہ جنسی زیادتی اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بچی کے ساتھ ہونے والی ابتدائی زیادتی کی وجہ گھر کے پالتو طوطوں کو پنجرے سے اڑا دینا بتائی گئی۔ جس کے نتیجے میں، اس گھر کے رہائشی حسان صدیقی اور ان کی اہلیہ نے بچی پر بہیمانہ تشدد کیا اور زخمی حالت میں حسان صدیقی ہی بچی کو ڈی ایچ کیو ہسپتال لایا اور اسے وہاں زخمی حالت میں چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو گیا۔

بچی کی ناساز حالت کے باعث اسے فوری طور پہ ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج کرنے پہ انکشاف ہوا کہ بچی پر نا صرف تشدد کیا گیا ہے، بلکہ اسے مبینہ زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ پولیس اور ڈاکٹرز کے مطابق، بچی کے جسم کے مختلف حصوں، خاص کر رانوں کے درمیان زخموں کے نشانات تھے اور اسے مبینہ طور پہ زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ جس کی حتمی تصدیق کے لئے خون کے نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی بھیج دی گئے اور ملزم حسان اور اس کی اہلیہ کو بھی فوری کارروائی عمل میں لاتے ہوئے زیر حراست لے لیا گیا۔

ابتدائی تفتیشی رپورٹ میں ملزمان میاں بیوی کی جانب سے یہ بیان دیا گیا، کہ بچی نے طوطوں کے پنجرے کی صفائی کے دوران طوطے اڑا دیے اوردونوں میاں بیوی نے اشتعال میں آ کر اس پر تشدد کیا۔ گزشتہ روز، 3 جون 2020 کو زہرہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیائے فانی سے کوچ کر گئی ہے۔

یہ پچھلے کچھ روز میں پاکستان میں رونما ہونے والا پہلا واقعہ نہیں، بلکہ پنڈیمک اس سے قبل بھی بچوں سے زیادتی کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

روزنامہ پاکستان کی 28 مئی 2020 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق، کچھ روز قبل پاکستان کے شہر اوکاڑہ میں درندہ صفت شخص کی جانب سے آٹھ سالہ کمسن بچی کے ساتھ زیادتی کرنے کے بعد اسے پانی میں ڈبو کے مار دینے کا واقعہ پیش آیا۔

جیو نیوز کی 3 جون، 2020 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق، پاکستان کے شہرچکوال میں چودہ سالہ معذور لڑکی کے ساتھ 6 افراد کی جانب سے اجتماعی زیادتی کی گئی۔ جس میں درج کروائی گئی رپورٹ کے مطابق، 20 مئی کی رات، لڑکی کو موٹر سائیکل کے ذریعے قبرستان لے جا کے اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ اور اس کے ٹھیک کچھ دن بعد، 26 مئی، 2020 کی رات 6 نامعلوم افرادنے رات کے پہر گھر میں داخل ہوکر معذور لڑکی کو دوبارہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا کی کچھ روز قبل کی خبروں کے مطابق، ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے میں ساٹھ سالہ بزرگ خاتون شک کی بنیاد پہ پنچایت کے ہاتھوں کالی قرار دے دی گئی اوراس کے نتیجے میں، کالا ٹھہرائے گئے شخص کی دس سالہ بیٹی کو صلح کے عوض ونی کر دیا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ بچے پھولوں کی مانند ہوتے ہیں۔ جیسے، پھولوں سے باغ میں رونق ہوتی ہے، ٹھیک ویسے ہی بچے گھر میں رونق کا باعث ہوتے ہیں۔ پھولوں کو توڑنے سے باغ کی خوبصورتی مانند پڑ جاتی ہے۔ جیسے اگر کسی کا جانور ہمارے باغ میں گھس کے باغ کے خوبصورت پھولوں کو برباد کرنے کی کوشش کرے تو ہم تحلکہ مچا دہتے ہیں۔ اگر بدلتا موسم ہمارے باغات کی خوبصورتی پہ اثر انداز ہو تو اس سے بچاؤ کی ترتیبات کرتے ہیں۔ ویسے ہی ہمارے بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو روکنے میں کردار ادا کیوں نہیں کر سکتے؟ آئے دن جو یہ ہمارے پھولوں کی مانند بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی ہے اس پر ہم کیونکر خاموش ہیں؟

میں نے بچوں سے زیادتی کے واقعات کے مطالعے کے دوران بہت سے مہذب لوگوں کے خیالات و تجزیات کا مطالعہ کیا اور ان میں ریاست، موجودہ حکومت، پولیس یا انسانی حقوق کے اداروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کہ حوالے سے ہی پڑھا۔ پھر اس سب کے دوران میرے من میں ایک سوال نے جنم لیا کہ کیا سو فیصد الزام حکومت یا ریاست، پولیس یا پھر انسانی حقوق کے اداروں کو دینا بالکل صحیح ہے؟

یہ درست ہے کے ان سب واقعات کی ذمہ داری ریاست، اس وقت کی موجودہ حکومت، پولیس اور انسانی حقوق کے اداروں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ مگر کیا برسوں سے ہونے والے اس درندہ صفت عمل سے ہم یہ نہ سمجھیں کہ اس کی کچھ ذمہ داری ہمارے خود پہ بھی عائد ہوتی ہے۔ کیا ہم خود پہ تھوڑا مزید غور کرتے ہوئے یہ نہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ پہلی ذمہ داری ہی ہم پر عائد ہوتی ہے۔

پہلی بات یہ کہ، اگر حکومت، ریاست، پولیس اور دیگر ہیومن رائٹس کے اداروں کے ساتھ مل کر ہم عوام بھی ملک کی غریبی کو مٹانے کے عمل میں حصہ لیں تو میرا نہیں خیال کہ ملک سے غریبی دور نہیں کی جا سکتی۔ غریبی دور ہو گی، تو بچوں کو کم عمری میں نوکری نہیں کرنی پڑے گی۔ اور نہ ہی اس طرح کے واقعات پیش آئیں گے۔

دوسری بات یہ کہ، اوورآل پاکستان اور خاص کر پنڈی اور کراچی شہر کا یہ ٹرینڈ سراسر میری سمجھ سے بالا تر ہے کہ مائیں جب دن کے اوقات میں تھکی ہاری آرام فرماتی ہیں تو بچوں کو گلی میں کھیلنے کودنے کوچھوڑ دیتی ہیں۔ جس ملک میں ہر دو گھنٹے بعد کسی عورت، بچے یا بچی کاریپ ہو جاتا ہے وہاں بچوں کے گھرانوں کا اس طرح کا رویہ بالکل میری سمجھ سے بالا تر ہے۔

ان واقعات کے رونما ہونے کی تیسری اور سب سے بڑی وجہ، ماں باپ اور بچوں میں دوری کا پایا جانا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ ہم بس اپنے بچوں کو دوسرے کے بچوں سے بہتر بنانے، بہتر کھلانے میں ہی کیوں ساری زندگی وقف کر دیتے ہیں۔ ان کو دوسروں سے صحیح بات کرنے کا حوصلہ تو دیتے ہیں مگر کسی غلطی پر خود سے بات کرنے کا حوصلہ نہیں دیتے۔ میں بذات خود کئی ایسے واقعات کی گواہ ہوں کہ جہاں عورتیں سسرال یا میکے میں، یا پھر محلے یا خاندان میں تعلقات قائم رکھنے کے لئے بچہ یا بچی کہ ساتھ زیادتی ہو جانے کے بعد چپ رہنے اور بچے کو بھی خاموش رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔

یا ایسا ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے بچوں پر اس قدر سختی کی ہوتی ہے کہ وہ چاہ کر بھی اپنے ساتھ ہونے والے کوئی بھی غلط فعل یا واقعے کا ذکر گھر والوں سے نہیں کرتے۔

میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ، خدارا اپنی تربیت، اپنی سوچ، اوراپنے آپ کو تھوڑا خود بھی بدلنے کی کوشش کریں۔ اپنے باغ کے پھولوں کی حفاظت کی ذمہ داری پہلے خود کو دیں۔ اپنے باغ کے پھولوں کو مہکنے کے قابل بنانے کی جدوجہد پہلے خود کریں۔ اپنے پھولوں کے گملوں کو باہر کی دیواروں پہ نہیں بلکہ گھر کے اندر کی کیاریوں میں رکھیں۔

ورنہ ہر روز پھول ٹوٹیں گے! ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *