درد کے صحرا کا مسافر تاج بلوچ بھی بچھڑ گیا۔۔۔!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رواں سال میں سندھی ادب کی سنگ میل جیسی شخصیات ہم سے بچھڑ گئی ہیں۔ اس سال کی ابتدا بہت نامور سینئر افسانہ نگار حمید سندھی صاحب کی جدائی سے ہوئی تھی اور وبا کے حالیہ دنوں میں تین اہم مصنفین ہم سے ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے ہیں۔ پہلے نامور ڈراما نگار اور اور افسانہ نویس عبدالقادر جونیجو گئے۔ ابھی پرسوں ہی کی بات ہے کہ، دو سو کتابوں کے مصنف، محقق اور تاریخداں عطا محمد بھنبھرو وفات پا گئے اور کل سندھی کے نامور شاعر، نقاد اور مدیر تاج بلوچ بھی خاک نشیں ہوئے۔

تاج بلوچ بہت اچھے شاعر تو تھے ہی لیکن ان کا شمار ایسے نقادوں میں ہوتا تھا جو بہت ہی نپی تلی رائے دیتے تھے۔ وہ سندھی ادب کو عالمی ادب کے تناظر میں دیکھنے کی خواہش رکھتے تھے اور سندھ کے نوجوان لکھاریوں کو مشورہ دیتے تھے کہ عالمی ادب کا مطالعہ کریں تاکہ ان کی تحریروں میں نکھار آ سکے۔

تاج بلوچ غیر معیاری تحریروں پر کڑی تنقید تو کرتے تھے لیکن کسی جونیئر کی معیاری تحریر پڑھ کر دل کھول کر تعریف بھی کرتے تھے۔

بحیثیت مدیر ان کا نام بہت ہی اہم ہے۔ جدید سندھی ادب کے حوالے سے حمید سندھی کا ماہنامہ “روح رہان” طارق اشرف کا ماہنامہ “سوہنی” اور تاج بلوچ کا ماہنامہ “سوجھرو” تاریخ ساز ادبی رسائل تھے۔ تاج بلوچ نے بیشمار نئے لکھاریوں کی تحریروں کی تصحیح کرکے ان کو شائع کیا، جن میں آج کے کئی نامور ادبا و شعرا شامل ہیں۔

وہ ایک بہت اچھے براڈکاسٹر بھی تھے۔ جب میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد پر پروڈیوسر تھا تو وہ بحیثیت کمپیئر میرے پاس پروگرام کرتے تھے۔ عین وقت پر پہنچتے تھے۔ بغیر کسی اسکرپٹ اور تیاری کے ہر موضوع پر بولنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔

ادبی حلقوں اور ذاتی نشستوں میں تاج بلوچ بہت کھرا، بلکہ کبھی کبھی بہت کڑوا بھی بولتے تھے، اس لئے کچھ لوگ ان سے نالاں بھی رہتے تھے۔ کچھ خواتین نے ان پر سنگین نوعیت کے الزامات بھی لگائے جس کی وجہ سے وہ تنقید کا نشانہ بھی بنتے رہے۔ انسان تھے اس لئے انسانی خامیوں سے انہیں مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن یہ وقت ان کو معاف کر دینے کا ہی ہے۔

تاج بلوچ کا ادبی سفر نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط رہا۔ ان کے پہلے شعری مجموعے کا نام “درد جو صحرا” (درد کا صحرا) تھا، جس کے بعد نظم و نثر پر مشتمل ان کی کئی اور کتابیں شائع ہوئیں۔ آج درد کے صحرا کا وہ مسافر زندگی کے قافلے میں شامل نہیں، لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سندھی ادب کی تاریخ میں ان کا نام سدا زندہ رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *