چین اور بھارت کی سرحدی کشیدگی اور پاکستانی ہیش ٹیگز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں انڈیا اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے اور لداخ سمیت انڈیا اور چین کے درمیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) کے مختلف مقامات پر دونوں جانب سے افواج کی موجودگی میں آئے روز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف میڈیا رپورٹس کی مانیں تو لداخ میں پینگونگ ٹیسو، گالوان وادی اور دیمچوک کے مقامات پر دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے جبکہ مشرق میں سکم کے پاس بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔ مشرقی لداخ میں پینگونگ سو جھیل کے نزدیک پانچ اور چھ مئی کو چینی اور انڈین فوجیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی تھی اور چین پینگوگ جھیل سے 200 کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے ائر بیس پر بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام کر رہا ہے۔ اس سے قبل 2017 میں انڈیا اور چین کی افواج ڈوکلام کے مقام پر آمنے سامنے آئی تھیں۔

انڈیا اور چین کے درمیاں اصل سرحدی تنازعہ کا معاملہ کچھ یوں ہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان تین ہزار 488 کلومیٹر کی مشترکہ سرحد ہے۔ یہ سرحد جموں وکشمیر، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، سکم اور اروناچل پردیش میں انڈیا سے ملتی ہے اور اس سرحد کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جبکہ انڈیا اور چین کے درمیان سرحد کی مکمل حد بندی نہیں ہوئی اور جس ملک کا جس علاقے پر قبضہ ہے اسے ایل اے سی کہا جاتا ہے اور یوں دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقے پر اپنا علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں جو کشیدگی کا باعث بھی رہا ہے۔

لداخ خطے کی وادی گلوان کے سرحدی علاقوں میں یہ واقعہ تب پیش آیا جب چین کے فوجیوں نے اپنے علاقے میں انڈین فوجیوں کو ایک سڑک کی تعمیر کرنے سے روکا جبکہ انڈیا نے فوجی نقل و حرکت کے لیے اس خطے میں دربوک سے دولت بیگ اولڈی تک 255 کلومیٹر لمبی سڑک تعمیر کی ہے۔ اس سڑک کی تعمیر سے نہ صرف وادی گلوان تک رسائی آسان ہو گئی ہے بلکہ یہ راستہ درہ قراقرم تک پنچنے میں بھی آسانی فراہم کرے گا۔

اگر اس تنازعہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ پہلی دفعہ نہیں کہ بھارت یا چین آمنے سامنے آئے ہیں۔ میرے نزدیک اشتعال انگیزی کا سبب چین کی جانب سے کرونا وائرس کے دباؤ سے توجہ ہٹانے کے لئے سرحدی معاملات پر توجہ مرکوز کرانا بھی ہو سکتا ہے یا پھر سرمایہ کاری چین کی بجائے انڈیا منتقل ہونے یا عسکری تیاروں پر چین تشویش کا شکار رہتا ہے۔ بہرحال یہ دونوں ممالک کی داخلی اور خارجی پالیسی کا معاملہ ہے جس پر کوئی بھی ملک بشمول چین اور بھارت بھی کھل کر سامنے آنے سے گریزاں ہیں۔

لیکن جہاں دو مملکوں کی یہ لڑائی سرحدی علاقوں میں جاری ہے وہیں پاکستان میں کسی دوسرے ملک کی لڑائی ہیش ٹیگز اور پاک چین ترانے بجا کر لڑی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا کے ٹیپو سلطان اور حقیقت تی وی جیسے نام نہاد انقلابیوں نے چین کو فاتح قرار دیتے ہوئے لداخ میں چینی ویزے پر ہنی مون کا پلان بھی بنا لیا ہے۔

پاکستان اور بھارت آج تک چار مرتبہ جنگ کے لئے آمنے سامنے آئے جس میں 1997 میں کشمیر پر بھارت نے پاکستانی مجاہدین کو مار بھگایا، پھر 1965 میں جب پاکستان نے چھ گروپ پر مبنی مجاہدین انڈین کشمیر میں داخل کیے تو انہیں بھی جان کے لالے پڑ گئے اور پاکستان بڑی مشکل سے اپنا دفاع کرنے میں کامیاب ہوا جس کے بعد 1971 میں نہ صرف ہم نے مشرقی پاکستان کھویا بلکہ کئی فوجی افسران بھی بھارت نے گرفتار کر لئے۔ جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ٹیبل ٹاک میں بھارت کو مات دی اور اپنے فوجی آزاد کروائے۔ 1999 میں جب پاک بھارت تعلقات تاریخ کی بہترین سطح پر تھے اور لگنے لگا تھا کہ اب باجپائی مسئلہ کشمیر بھی حل کر دیں گے تب جناب مشرف صاحب اٹھے اور کارگل کے محاذ پر چڑھ دوڑے۔

چین اور بھارت کے درمیاں ہونے والی جھڑپوں میں جس طرح ہم شامیانے بجا رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ ہماری مثال ایسی ہے کہ اولاد کسی کے گھر پیدا ہوئی اور ہم خوجہ سراؤں کی طرح ڈھول کی تھاپ پر ناچنے اس کے گھر پہنچ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *