جب اسرائیل نے مصری فضائیہ کی دھجیاں اڑا دیں

ریحان فضل - بی بی سی ہندی، دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسرائیلی طیارے

Getty Images

اس لڑائی کی ابتدا پانچ جون سنہ 1967 کو ہوئی تھی۔ اسرائیلی وقت کے مطابق صبح 7:10 بجے تھے۔ فرانس میں پچاس کی دہائی میں بنائے گئے راکٹوں سے لیس 16 میجسٹری فاؤگا تربیتی طیارے نے ہیٹزور ایئر بیس سے پروان بھری۔

یہ فاوگا طیارے مسٹیئر اور میراج جیٹ طیاروں کے ذریعہ استعمال کی جانے والی فریکوئنسیاں ٹرانسمٹ کر رہے تھے اور یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ میسٹیر اور میراج طیارے کی طرح فضائی گشت کی ڈیوٹی پر ہیں۔ اس کے چار منٹ بعد اصل حملہ آور اوریگن نے ہیٹزور ہوائی اڈے سے اڑان بھری۔

اور پھر اس کے پانچ منٹ کے بعد رماٹ ڈیوڈ ایئر بیس سے میراج جنگی طیاروں کا ایک مکمل اسکواڈرن اور ہیٹزیرم ایئر بیس سے دو انجنوں والے 15 واٹورز طیاروں نے پرواز کی۔ ساڑھے سات بجتے بجتے اسرائیلی فضائیہ کے 200 طیارے فضا میں تھے۔

اس سے قبل اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر موٹٹی ہاڈ کا ریڈیو پیغام تمام پائلٹوں کے ہیڈ فون پر سنا گیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا ‘اڑیے، دشمنوں پر چھا جائیے، اسے برباد کر کے اور اس کے ٹکڑوں کو پورے صحرا میں پھیلا دیں تاکہ آنے والی کئی نسلوں تک اسرائیل اپنی سرزمین پر محفوظ رہ سکے۔’

زمین سے صرف 15 میٹر کی بلندی پر پرواز

سنہ 1967 کی جنگ کے حوالے سے مشہور کتاب ‘سکس ڈیز آف وار’ کے مصنف مائیکل بی اورین لکھتے ہیں: ‘یہ تمام طیارے زمین سے صرف 15 میٹر کی بلندی پر اڑ رہے تھے تاکہ مصر کے 82 راڈار مراکز ان طیاروں کی راہ کا پتہ نہ لگا سکیں۔ ان میں سے زیادہ تر طیارے سب سے پہلے مغرب میں بحیرہ روم کی سمت گئے تھے۔ وہاں سے انھوں نے یو ٹرن لیا اور مصر کی جانب مڑ گئے۔ دوسرے طیاروں نے بحر احمر سے مصر کے اندر ہوائی اڈوں کا رخ کیا۔ تمام طیارے بہت سختی کے ساتھ ریڈیو ‘خاموشی’ پر عمل پیرا تھے۔ بیک وقت اڑنے والے پائلٹ ہاتھ کے اشاروں سے ایک دوسرے سے رابطہ کر رہے تھے۔ سارا کھیل ہی یہ تھا کہ مصر کے ساحل پر پہنچنے سے پہلے وہ اس کے بارے میں کچھ نہ جان سکیں۔

اس سے قبل اسرائیلی فضائیہ کے چیف آف آپریشن کرنل رفا ہارلیو نے تمام پائلٹوں سے کہہ رکھا تھا کہ طیارے کی تکنیکی خرابی ہونے کے بعد بھی انھیں ریڈیو پر رابطے قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں انھیں اپنے طیارے کو سمندر میں کریش کرنا ہوگا۔

چھ روزہ جنگ

وزراء کو بھی خفیہ مشق کی خبر نہیں

یہ سارے اسرائیلی پائلٹ مصری پائلٹوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تربیت یافتہ تھے۔ ان کے طیارے ‘اڑنے کے اوقات’ بھی ان سے زیادہ تھے اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اس کے تقریبا تمام 250 طیارے مکمل طور پر آپریشنل تھے۔

انھوں نے مصری فضائی اڈوں کو اڑانے کی کئی بار ‘فرضی’ مشق کی تھی۔ اس مشق کو اس قدر خفیہ رکھا گیا کہ اسرائیل کے چند وزراء کو چھوڑ کر زیادہ تر وزراء کو بھی اس کی بھنک بھی نہیں تھی۔

جرمنی میں پیدا ہونے والے اسرائیلی جاسوس وولف گینگ لاٹز نے اپنے آپ کو سابق ایس ایس آفیسر بتا کر مصری فوج کے اعلی عہدیداروں سے دوستی کر لی تھی۔

سنہ 1964 میں اپنی گرفتاری سے قبل انھوں نے اسرائیل کو مصر کی کئی خفیہ معلومات پہنچا دی تھیں۔ اسرائیل کو اپنے دوسرے جاسوسوں سے مزید خفیہ معلومات حاصل تھیں۔

ان میں سے علی الالفی نامی ایک شخص تھا جو صدر ناصر کی مساج کیا کرتا تھا۔ مصری فضائیہ کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے اپنے جنگی طیاروں کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

ایہود یانے اپنی کتاب ‘نو مارجنز فار ایرر: میکنگ آف دی اسرائیل ایئرفورس’ میں لکھتے ہیں: ‘مصر نے اپنے تمام طیارے کو ان کے’ میک ‘کے مطابق تعینات کر رکھا تھا۔ مگ، الیوشن اور ٹوپو لیو طیاروں کے مختلف ٹھکانے تھے۔ اگرچہ ان کی فضائیہ نے ان کے لیے کنکریٹ’ہینگرز’ بنانے کی تجاویز دی تھیں لیکن ایک بھی ہینگر تیار نہیں ہوا تھا۔ مصر کے سارے جہاز کھلے آسمان کے نیچے کھڑے تھے اور ان کے آس پاس کسی بھی طرح کے سینڈ بیگ کا بندوبست بھی نہیں کیا گیا تھا۔ اسرائیل کی فضائیہ کے کمانڈر موٹٹی ہاڈ کہا کرتے تھے کہ ‘جنگی طیارے کے زیادہ آسمان میں کوئی بھی چیز خطرناک نہیں ہے لیکن زمین پر وہ اپنا دفاع کرنے کے بھی قابل نہیں ہوتے۔’

چھ روزہ جنگ

حملے کے وقت مصری پائلٹ ناشتہ کر رہے تھے

جب اسرائیل نے حملہ کیا اس وقت تقریبا تمام مصری طیارے زمین پر تھے اور ان کے پائلٹ ناشتہ کر رہے تھے۔ وہ یہ فرض کر رہے ہیں کہ اگر اسرائیلی حملہ کریں گے بھی تو وہ صبح سویرے ہی کریں گے۔

لہذا ان کے تمام طیارے گشت لگا کر مصر کے وقت کے مطابق صبح 8.15 بجے تک اپنے ٹھکانوں پر لوٹ آئے تھے۔

اس وقت اسرائیل میں صبح کے سات بج کر 15 منٹ ہو رہے تھے۔ مائیکل بی اورین اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ‘اس وقت صرف چار ٹرینی پائلٹ فضا میں تھے اور ان میں سے کسی کے پاس کوئی جارحانہ صلاحیت نہیں تھی۔ اسی وقت المازا بیس سے دو الیوشن 14 ٹرانسپورٹ طیاروں نے پرواز کیا۔ ایک طیارے میں فیلڈ مارشل عامر اور ایئر کمانڈر سدیقی محمود سوار تھے۔

دوسرے طیارے کے لیے محکمہ داخلہ انٹلیجنس کے سربراہ حسین الشافعی، عراقی وزیر اعظم اور ایک سینیئر سوویت مشیر ابو سوویر ہوائی اڈے کی طرف جارہے تھے۔

تمام مصری ہوائی کمانڈرز یا تو ان دو طیاروں میں بیٹھے تھے یا ان میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے اترنے کے منتظر تھے۔ ان الیوشن طیاروں کو اپنے راڈار پر دیکھ کر اسرائیلی قدرے پریشان بھی ہوئے کہ کہیں وہ ان کے بڑھتے ہوئے طیاروں کو نہ دیکھ لیں۔

چھ روزہ جنگ

حملے کی پہلی وارننگ اردن کے ‘اجلون’ راڈار سینٹر سے ملی

اسرائیل کے بڑھتے ہوئے طیاروں کے بارے میں پہلی خبر ان الیوشن طیاروں سے نہیں بلکہ برطانیہ کی جانب سے اجلون کو دیے جانے والے راڈار سسٹم سے دی گئی۔

سوا آٹھ بجے سٹیشن کی راڈار اسکرینوں پر بار بار ‘بلپس’ ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اگرچہ اردن کی فضائیہ بڑی تعداد میں اسرائیلی طیاروں کی سمندر کی جانب نقل و حمل کی عادی ہوچکی تھی لیکن اس بار ان کے متحرک ہونے کی کثافت پہلے سے کہیں زیادہ تھی۔

ڈیوٹی پر تعینات افسر نے پہلے سے طے شدہ کوڈ ورڈ ‘اناب’ یعنی جنگ عمان میں جنرل ریاض کے صدر دفتر بھیج دیا۔

انھوں نے اس اہم معلومات کو قاہرہ میں مصر کے وزیر دفاع شمس بدران تک بڑھایا۔ لیکن اس اہم ‘ٹپ آف’ کو ان کی جانب حل نہیں کیا جا سکا۔

مصر نے اردن کو بتائے بغیر ایک دن پہلے ہی اپنی ‘انکوڈنگ فریکوئنسیز’ کو تبدیل کردیا تھا۔

‘اجلون’ پر تعینات ماہرین اس بات کا اندازہ نہیں کرسکے کہ آیا ان کے راڈار پر آنے والے ‘بلپس’ اسرائیلی جنگی طیارے کے تھے یا سمندر میں اڑنے والے امریکی یا برطانوی طیاروں کے۔

اچانک ان کے راڈار کی اسکرین پر یہ ظاہر ہوا کہ ان طیاروں نے سینا کا رخ کیا ہے۔ انھوں نے کوڈ ورڈ کے ذریعے مصر کو متنبہ کرنے کی متعدد کوششیں کیں لیکن ان کوڈ ورڈز کو مصر میں نہیں پڑھا جاسکا۔

چھ روزہ جنگ

Getty Images
مصر کے دوسرے صدر جمال عبدالناصر

اسرائیل نے اپنی پوری فضائیہ حملے میں ڈال دی

لیکن اگر یہ پیغامات پڑھ بھی لیے گئے ہوتے تو وزیر دفاع شمس بدران وہاں موجود نہیں تھے کہ اس پر فوری کارروائی کی جا سکتی۔ کچھ گھنٹوں پہلے وہ یہ حکم دے کر سونے چلے گئے تھے کہ انھیں بیدار نہ کیا جائے۔

اسی طرح ڈیکوڈنگ کے انچارج کرنل مسعود الجنیدی اور فضائی کارروائیوں کے سربراہ جنرل جمال عفیفی بھی وہاں موجود نہیں تھے۔

محمود ریاض اپنی کتاب ‘دی سٹرگل فار پیس ان مڈل ایسٹ’ میں لکھتے ہیں کہ ‘فضائیہ کی انٹلیجنس ڈیپارٹمنٹ نے متعدد بار اسرائیل کے حملوں کے بارے میں متنبہ کیا لیکن سپریم ہیڈ کوارٹر میں تعینات فیلڈ مارشل عامر کے ساتھ وفاداری کرنے والے اور ناصر پر اعتماد نہیں رکھنے والے افسروں نے اسے نظر انداز کر دیا۔

اسرائیلیوں کے لیے یہ چند لمحے بہت قیمتی ثابت ہوئے۔ اس حملے میں اسرائیل نے اپنی فضائیہ کے 12 طیاروں کے سوا تمام طیاروں کو جھونک دیا تھا۔

دوسرے لفظوں میں اس نے اپنے ملک کے آسمان کی حفاظت خدا پر چھوڑ دیا تھا۔

بعد میں اسرائیل کے وزیر اعظم بننے والے یتزاک رابن نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ‘ ہم اس حملے کی کامیابی کے بارے میں پوری طرح مطمئن نہیں تھے۔ اس حملے کے ناکام ہونے کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے دشمن کے فضائی اڈوں پر حملہ کرنے کا ایک اور منصوبہ بنا رکھا تھا۔ اسرائیلی فضائیہ کے صدر دفتر میں میں، موشے دایان، ویزمان، اور اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر موٹٹی ہاڈ حملے کے نتائج کا انتظار کر رہے تھے۔ پہلے 45 منٹ پورے ایک دن کی طرح لگ رہے تھے۔’

اسحاق ربین

Getty Images
اسحاق ربین

اسرائیلی طیاروں نے چار کے فارمیشن میں حملہ کیا

اب تک اسرائیل کے پہلے اڑنے والے طیارے سمندر پار کر چکے تھے۔ انھوں نے الیکٹرانک جیمنگ ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سویت طیاروں کو اپنے حملے کا پتہ نہیں لگنے دیا۔

اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ موٹٹی ہاڈ نے اسرائیل دفاعی رپورٹ میں لکھا: ‘اسرائیلی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے انھیں اپنا پہلا ہدف نظر آیا۔ فاید اور کیبرت فضائی اڈوں کے بارے میں مصری انٹلیجنس ڈیپارٹمنٹ کو غلط فہمی تھی کہ یہ اسرائیلی طیاروں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ تمام مصری جیٹ طیارے نصف دائرے کی شکل میں کھلے میں کھڑے تھے۔ بہت سارے ہوائی اڈوں پر صرف ایک ہوائی پٹی تھی۔ ہمیں صرف انھیں بلاک کرنا تھا۔ اس کے بعد وہاں طیاروں کو کوئی موقع نہیں تھا۔’

آسمان بالکل صاف تھا۔ اسرائیلی جیٹ طیارے یکایک 9000 فٹ کی اونچائی تک گئے اور وہ پہلی بار مصر کے راڈارز پر نظر آئے

پھر ان طیاروں نے نیچے کی جانب غوطہ لگایا۔ وہ چار کی فارمیشن میں نيچے اور دو طیاروں نے جوڑا بنا کر حملہ کیا۔ ہر ایک طیارے نے تین چکر لگائے۔ ان کی پہلی ترجیح رن وے کو تباہ کرنا تھا، پھر طویل فاصلے کے طیارے کو تباہ کرنا تھا جو اسرائیلی شہروں کے لیے خطرہ ہو سکتے تھے اور پھر حتمی مقصد مگ طیاروں کو پرواز کے لائق نہیں چھوڑنا تھا۔

ہر چکر کے لیے سات سے دس منٹ کا وقت دیا گیا تھا۔ واپسی کے لیے 20 منٹ، طیارے میں ایندھن بھرنے کے لیے آٹھ منٹ اور پائلٹ کے آرام کے لیے 10 منٹ مقرر کیے تھے۔ ایک گھنٹے کے اندر طیارے دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے۔ اس ایک گھنٹہ کے دوران مصری فضائی اڈوں پر مستقل حملے ہوتے رہے۔

موشے دیان

Getty Images
موشے دیان

فرانس کی مدد سے تیار کردہ ڈیورنڈلز بموں کا استعمال

فاید ایئر بیس پر مسٹیئر طیاروں سے حملہ کرنے والے کیپٹن اویہو بن نون نے یاد کرتے ہوئے کہا: ‘جب ہم اپنے ہدف پر پہنچے تو آسمان صاف ہو چکا تھا۔ جب میں غوطہ لگا کر بم گرانے والا تھا تو میں نے دیکھا کہ رن وے ایک سرے پر چار مگ پرواو کی تیاری کر رہے تھے۔ میں نے ان پر ہی اپنے بم گرا دیے جس کے نتیجے میں ان میں سے دو تو فورا ہی آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔

یہ وہ ‘ڈیورنڈلز’ بم تھے جو اسرائیل نے فرانس کے ساتھ خفیہ مشن کے تحت بنائے تھے۔ 180 پاؤنڈ کے ان بموں کی خاصیت یہ تھی کہ وہ بہت درست نشانہ لگاتے تھے۔

ایک بم گرنے کے بعد پانچ میٹر چوڑا اور 1.6 میٹر لمبا گڑھا بنتا تھا جس کی وجہ سے رن وے قابل استعمال نہیں رہ جاتا تھا۔ فوری طور پر مرمت کرنا بھی مشکل تھا کیونکہ مختصر فاصلوں پر بموں کے ‘فیوز’ پھوٹتے رہتے تھے۔

ابو زبیر اڈے پر ایک گھنٹے کے اندر ہی ایسے سو سے زیادہ بم گرائے گئے۔ بن نون نے مزید کہا: ‘ہم نے اڈے پر موجود 40 مگ طیاروں میں سے 16 کو تباہ کردیا اور واپسی میں ہم نے سام 2 کی بیٹری بھی نہیں چھوڑی۔ اوپر سے ہم نے دیکھا کہ پورا اڈہ شعلوں سے گھرا ہوا تھا۔’

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14036 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp