انسان اور شترمرغ


انسان حیاتیاتی طور پر خطرے کو بھانپنے والا اور اس سے بچنے والا جاندار ہے۔ ہماری بائیوکیمسٹر ی ہمیں آنے والے خطرات سے آگاہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں سب سے پہلے ہمارا حیاتیاتی اور عصبی نظام اس کو رسپانڈ کرتا ہے۔ جسم سے مختلف کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں جس کی نتیجے میں ہمارے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کی پتلیاں پھیل جاتی ہیں، جسم میں سنسناہٹ کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات پسینے سے شرابور ہو جاتے ہیں۔ چہرے کا رنگ تغیر پذیر ہو جاتا ہے۔ خوف سے نمٹنے کے لیے ہمار ا دماغی نظام ہمیں ہدایات دیتا ہے کہ اب اس خطرے سے نمٹنے کے لیے کیا کرنا ہے۔ ا س طرح کا رسپانس ان خطرات کی صورت میں ہوتا ہے جن سے ہمارا اچانک واسطہ پڑتا ہے اور خطرے کا منبع اور نوعیت مجسم شکل میں ہمارے سامنے ہوتا ہے۔

جب سے انسان روئے زمین پر آیا ہے اسے مختلف مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ زلزلے، قحط، سیلاب، وبائی بیماریاں، جنگیں، بھوک، افلاس، غلامی، سیاسی جبر و استبداد اور انسانی نسل کشی اس کی چند بڑی مثالیں ہیں۔ اگرچہ انسان نے علم کے میدا ن میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن علم اپنے ساتھ تضادات کو بھی جنم دیتا ہے۔ بدلتی دنیا کے ساتھ ہمارے مسائل بھی بدلتے رہیں گے۔ ایام کی سختی سے انسان کو چھٹکار ا ملنا مشکل لگتا ہے۔

زلزلے ہیں، قحط ہیں، آلام ہیں
کیسی، کیسی دختران مادر ایام ہیں (اقبال)

اپنی حیاتیاتی بنت کے بر عکس، اجتماعی مصائب جیسے قدرتی آفات وغیرہ میں انسانی رویہ قدرے مختلف مشاہدہ کیا گیا ہے۔ آفات سے نمٹنے اور ان سے بچنے کے بارے میں ہمارے نظریات اور تاثرات ذاتی تجربات، مشاہدات اور اردگرد کے لوگوں اور ثقافت کے ساتھ معاشرتی تفاعل کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔ سائنسی اور تیکنیکی علم اپنی جگہ مگر معاشرتی اعتقادات اور توہمات اور ثقافتی منطق اپنی جگہ۔ لہٰذا اجتما عی آفات تحقیق کرنے والے سائنسدان جہاں آفات کے معاشرے پر مختلف اثرات کا سائنسی مطالعہ کرتے ہیں اس کے ساتھ انھوں نے آفات کی معاشرتی اور نفسیاتی پہلو کا بھی احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

جب کوئی آفت آتی ہے تو سب سے پہلا اقدام لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کا ہوتا ہے جسے ریسکیو سٹیج کا نام دیا جاتا ہے۔ کچھ آفات اتنی یکلخت اور اچانک ہوتی ہیں کہ لوگوں کو احتیاطی تدابیر کرنے اور سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا جیسا کہ زلزلہ، سونامی وغیرہ۔ لیکن سب آفات میں ایسا نہیں ہوتا۔

ایک دہائی قبل وطن عزیز کو تاریخ کو بد ترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا جس نے ملک کی ایک چوتھائی آبادی کو متاثر کیا۔ سیلابی پانی انگلینڈ کے رقبے کے برابر ملک کے طول و عرض میں پھیل گیا۔ دریائے سندھ میں آنے والی طغیانی کا ہمیں پہلے سے علم تھا۔ مختلف ذرائع مثلاً ٹی وی، اخبار، انٹرنیٹ، اور مقامی حکومت کے ذریعے لوگوں کو خبردار کیا گیا کہ وہ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ حتٰی کہ جن علاقوں میں سیلابی پانی آنے کا یقینی خطرہ تھا وہاں بھی لوگوں نے گورنمنٹ اور دوسرے مقامی اداروں کی ہدایات پر کان دھرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

بلکہ کچھ لوگ اپنے دل کی تسلی کے لیے خود جا کر سیلابی پانی کی سطح، سمت اور جگہ کا معائنہ کر کے آتے تھے۔ لیکن جب انھیں ہدایات دی جاتی کہ کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں تو وہ کچھ ایسی دلیلیں پیش کرتے جو عقل اور منطق کے برعکس ہوتی۔ حتیٰ کہ کچھ لوگوں نے یہاں تک کہ دیا کہ ”جب تک سیلابی پانی ان کے پاؤں پر نہیں ٹکراتا تب تک وہ اپنا گھر بار نہیں چھوڑیں گے“ ۔ بہت سے لوگ اس غلط فہمی میں بھی مبتلا تھے کہ سیلابی پانی ان کے رہائشی علاقوں میں داخل نہیں ہو گا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب اس طرح کے لوگوں کو رات کے اندھیرے میں سیلاب نے آن پکڑا تو مال مویشی اور گھر کا سامان تو ایک طرف ان کے لیے زندگی بچانا مشکل ہو گیا۔

معاشرتی نفسیات کے ماہرین کے مطابق دراصل کچھ ایسے عوامل کار فرما ہیں جو اس طر ح کی سوچ کو جنم دیتے ہیں۔ اپنے گھر اور علاقے سے جذباتی وابستگی، بے یقینی، معاشی حالات، محفوظ مقامات کے بارے لاعلمی، نئی جگہ کا خوف، عارضی پناہ گاہوں میں سیکیورٹی کے خدشات، بچوں ا ور عورتوں کے لیے خوراک کی دستیابی اور ثقافتی حساسیت مثلاً عورتوں اور لڑکیوں کو ایک ایسی جگہ پر منتقل کرنا جہاں پر غیر محرم لوگ موجود ہوں جیسے عناصر شامل ہیں۔ دیہی علاقو ں میں لوگ اپنے مو یشی بھی ساتھ لے کر جاتے ہیں جن کے لیے علیحدہ بندوبست جیسے مسائل شامل ہیں۔ یہ تمام عوا مل مجموعی طور پر ایک ایسے رویے کی بنیاد رکھتے ہیں جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔

اسی طرح کا رویہ کرونا کی آفت کے دوران بھی دیکھا جا رہا ہے۔ کیوں کہ و ائرس ایک نہ نظر آنے والی چیز ہے اس لیے اس کے بارے لوگوں کو یقین دلانا اور بھی مشکل ہو رہا ہے۔ پھر اس پہ مصداق کہ کرونا کے بارے سوشل میڈیا پر بہت سے سازشی نظریات زیر گردش ہیں۔ آج کل کے دور میں غیر ضروری معلومات کی بھرما ر کی وجہ سے سچائی تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔ ان حالا ت میں لوگوں کو قائل کرنا کہ وہ حفاظتی اقدامات کریں اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔

نفسیاتی علوم کے تناظر میں جب تک کوئی شخص یا اس کا کوئی قریبی عزیز اس آفت میں مبتلا نہیں ہو جا تا تب تک ان کو یقین دلانا مشکل لگتا ہے۔ لوگوں میں یہ رحجا ن پایا جاتا ہے کہ حالات ابھی قابو میں ہیں جس کی وجہ سے وہ کسی آنے والی آفت سے بچاؤ، اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھاتے۔ ماہرین نفسیات نے اس ذہنی حالت کو ”معمول کے مطابق کیفیت کی طرفداری“ (نارمیلسی بئیس) کا نام دیا ہے۔ یہ ایک ایسی ذہنی کجی ہے جس میں مبتلا افراد خطرے کی انتباہ کو درخو ر اعتنا نہیں سمجھتے یا پھر اسے معمولی سمجھتے ہیں۔ کچھ سائنسدان انسانوں کو اس رویے کو شتر مرغ کے رویے سے تشبیہ دیتے ہیں جو خطرے کو بھانپنے اور اس سے بچنے کی بجائے اپنی گردن ٹانگوں میں دبا لیتا ہے۔ ارسطو کے بقول یہ رویہ حیا تیاتی نہیں بلکہ سماج کی پیداوار ہے۔

اب جب کہ کرونا ہماری دہلیز پر آن پہنچا ہے تو ہمیں اس ذہنی حالت سے باہر آنا چاہیے۔ سب کچھ معمول کے مطابق ہوتا تو بچے سکول جا رہے ہوتے، بازاروں اور پارکوں کی رو نقیں بحال ہوتی اور زندگی رواں دواں ہوتی۔

Facebook Comments HS