یہ زندگی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان فطرتا بے چین اور غیر مطمئن ذہن کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ ہر لمحہ اس کی خواہشات اور ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ یہ سلسلہ اس کی جہان فانی میں آمد سے لے کر عالم بالا روانگی تک بلا تعطل جاری رہتا ہے۔ انسانی بچے کو دیکھیں وہ پیدا ہونے کے بعد بیٹھنے، بیٹھنے کے بعد گھٹنوں کے بل رینگنے، پھر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے اور چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ خوب سے خوب تر کی اس جستجو کے بغیر معاشی، معاشرتی و سماجی زندگی میں تنوع بھی کبھی ممکن نہیں ہو سکتا۔

مثال کے طور پر اگر منصب یا کاروبار میں ترقی کی خواہش ختم ہو جائے تو کسی کو اذیت و مشقت برداشت کرنے کی کیا ضرورت باقی رہے گی۔ تنخواہ، گریڈ اور مراعات میں اضافے کا لالچ ہی اگر نہ ہو تو رات بھر جاگ کر فائلوں سے متھا ماری کرنے اور صبح سویرے دوبارہ دفتر پہنچنے کا کھڑاک کون مول لے گا۔ انسانی ذہن کی ہمہ وقت بے چینی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس کی پسند کبھی یکساں نہیں رہتی۔ عمر کے کسی حصے میں اگر ایک شخص، چیز یا منصب کی خواہش میں ہم دبلے ہو رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد اس کی خواہش ذہن سے بالکل نکل جائے۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ خوش قسمتی سے ہماری مطلوبہ خواہش پوری ہو بھی جائے تو پھر اس کی پہلے جیسی اہمیت ہی دل میں برقرار نہ رہے۔

انسان کی زندگی کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یعنی بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا۔ عمر کے ہر حصے میں انسانی ذہن کی خواہشات کا دائرہ الگ الگ ہوتا ہے۔ کتاب زندگی کے ورق پلٹنے کے ساتھ ذہنی میلان بھی تبدیل ہوتے ہیں۔ کسی شاعر نے خوب کہا ہے

جنون ہوتا ہے ہر عمر میں جدا جدا ’
کھلونے عشق پیسہ اور پھر خدا خدا

کھلونوں میں بچوں کی رغبت چند ماہ کی عمر میں ہی پیدا ہو جاتی ہے۔ کوئی بچہ ایسا نہیں جو کھلونوں کا شوقین نہ ہو۔ تمام بچوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ہر کھلونا اس کے پاس فوراً آ جائے۔ کھیل اور کھلونے بچوں کی ابتدائی زندگی کا لازمی جزو ہیں۔ بچپن کے سنہرے دور میں بچوں کے لیے ان دونوں چیزوں کی جتنی اہمیت ہوتی ہے وہ کوئی بھی دوسری چیز پاکر اسے حاصل نہیں ہو سکتی۔ پہلے پہل والدین ہی بچوں کو کھلونوں سے روشناس کراتے ہیں پھر کچھ وقت گزرنے کے بعد بچے خود اس قابل ہو جاتے ہیں کہ والدین سے کھلونوں کی فرمائش کر سکیں۔

پیدائش کے بعد ابتدائی چند مہینے میں بچے کے لیے آواز، روشنی اور تسلسل کے ساتھ حرکت کرنے والے کھلونے خصوصی دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں۔ اس کے بعد دو سے تین سال کے بچے بھالو یا کارٹون وغیرہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد بچے رنگین پنسلوں اور ڈرائنگ وغیرہ کی ضد کرنے لگتے ہیں۔ پھر مزید بڑے ہو کر بچے اس سے بھی اکتا کر اپنے ہم عمروں سے کھیل کود اور سائیکل وغیرہ سے لطف اندوز ہونے لگتے ہیں۔

بچپن گزرتے ہی جب بلوغت کی سیڑھیاں طے ہوتی ہیں تو جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ سوچ اور خواہشات بھی یکسر بدل جاتی ہیں۔ اس دور کی ابتدا سے ہی جنس مخالف میں کشش پیدا ہونے لگتی ہے اور شدت سے مخالف جنس میں ساتھی ڈھونڈنے کی طلب ہوتی ہے۔ جب کوئی ساتھی مل جائے تو خود فراموشی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اسی کیفیت کو عشق کہا جاتا ہے۔ نوجوانی کا عشق اکثر وارفتگی یا جنون کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔ اکثر نوجوان عشق میں راتوں کی نیند اور دن کا چین کھو دیتے ہیں۔

اپنے محبوب شخص کی یاد ہر وقت دل و دماغ پر چھائی رہتی ہے۔ لوگ اس عمر میں محبوب کے ایک دیدار کو ترستے ہیں اور اس کے لیے بڑے بڑے خطرات مول لے لیتے ہیں۔ شاذ و نادر ہی مگر ایسا ہوتا ہے کہ عشق کی آگ دو طرفہ لگی ہو بیشتر اوقات یہ محبت یک طرفہ ہی رہتی ہے۔ چاہت اگر دو طرفہ بھی ہو تو بھی کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ محبت کرنے والے رشتہ ازدواج سے منسلک ہو جائیں۔ ذات برادری اور اسٹیٹس کے فرق جیسی وجوہات اکثر آڑے آ جاتی ہیں اور کسی ایک فریق کی شادی دوسری جگہ ہو جاتی ہے۔ محبت میں ایک دوسرے کے بغیر زندہ نہ رہنے اور ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی جاتی ہیں لیکن زیادہ تر ایسا ہوتا نہیں۔ کچھ وقت رونے دھونے کے بعد زندگی کی تلخ حقیقتیں محبوب کی یاد تک بھلا دیتی ہیں۔

اگلے مرحلے میں انسان کوئی ملازمت یا کاروبار شروع کرتا ہے۔ جب کاروبار یا ملازمت مستحکم ہو جائے تو ذہن میں اپنا خاندان بنانے کا خیال پیدا ہو جاتا ہے اور خواہش ہوتی ہے کہ اپنا گھر اور ننھے منے بچے ہوں۔ کوئی مناسب جیون ساتھی ملنے کے بعد شادی بھی ہو جاتی ہے اور کچھ عرصے کے بعد بچے بھی۔ بچوں کے جھولا جھولنے کی عمر کے دوران ہی مگر یہ فکر دامن گیر ہونے لگتی ہے کہ اولاد کو اچھی سے اچھی تعلیم دلانی ہے۔ اس کے لیے پھر مالی وسائل بڑھانے کی تدبیریں سوچنے لگتے ہیں۔

جوں جوں بچے بڑے ہوتے ہیں ان کا مستقبل بنانے کے لیے مالی حیثیت میں اضافے کی خواہش بھی اسی رفتار سے شدید سے شدید تر ہو جاتی ہے۔ اس خواہش میں ایک بار پھر اپنا آرام تیاگ دیا جاتا ہے۔ ہر وقت کام کام اور بس کام۔ دولت کمانے کی دھن میں بچوں کے ساتھ وقت گزارنے اور انڈر اسٹینڈنگ کا وقت بھی نہیں ملتا۔ دن رات ایک کرنے اور حلال حرام کی تمیز بالائے طاق رکھنے کے بعد بالآخر اتنی دولت جمع ہو جاتی ہے کہ بچوں کو بہترین اداروں سے اعلی تعلیم دلوائی جا سکے۔ تعلیم دلوانے کے بعد بچوں کی شادی کا مرحلہ آتا ہے اور شادی کے بعد جب بچے اپنی اپنی ازدواجی زندگی میں مگن ہو جاتے ہیں تو تنہائی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ رہ رہ کر یہ خیال آتا ہے کہ اپنی عمر یونہی رائیگاں گزار دی۔ بچپن کھیل کود، جوانی عشق و محبت اور اس کے بعد کا عرصہ مال کی ہوس میں برباد کر دیا۔

اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ متاع عمر فضول کاموں میں لٹا دی اور کتاب زندگی کے کم ہی اوراق باقی بچے ہیں۔ اس عمر میں پھر ضمیر پر نوجوانی کے عشق میں محبوب کی خاطر والدین سے کی گئی گستاخیاں اور اولاد کا مستقبل سنوارنے کی خاطر پیسہ بنانے کی دھن میں حرام اور نا جائز ہتھکنڈے ہتھوڑے کی طرح برسنے لگتے ہیں۔ عموماً یہی وقت ہوتا ہے جب آخرت میں جواب طلبی کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ جواب طلبی کا خوف پیدا ہونے کے بعد خدا کو راضی کرنے کی فکر ہوتی ہے۔

پھر لاکھ جتن کر کے جو مال جمع کیا ہوتا ہے اس سے خیرات اور صدقہ نکلنے لگتا ہے لیکن خلش پھر بھی باقی رہتی ہے۔ جو اعضا ساری عمر حکم کی پابندی کرتے رہے اس عمر میں آکر حکم عدولی اور سرکشی پر مائل ہو جاتے اس لیے پھر عبادت بھی کماحقہ نہیں ہوتی۔ یہی انسان کی زندگی ہے جس کے ہر حصے میں وہ بہت کچھ تو کرتا ہے لیکن کوئی ایک پل بھی اپنے لیے نہیں جیتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply