خبردار: جنسی ہراسانی کا نیا ہتھیار آ گیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کی وجہ سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں مسائل کے انبار لگ گئے ہیں۔ سیاسی اور معاشی بحرانوں سمیت اموات، بھوک و افلاس اور گھریلو تشدد جیسے کئی مسائل میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل رائیٹس فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا کی روک تھام کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن میں سائبر ہراسمنٹ کے کیسز میں 189 فی صد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کورونا وائرس کی اس وبائی صورتحال میں بھی جنسی زیادتی اور ہراسانی کے واقعات ہوتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں گورنر ہاؤس لاہور میں ایک خاتون نے ڈاکٹر پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے جنسی زیادتی اور جنسی ہراسانی کے واقعات رونما ہوئے ہوں گے جو رپورٹ نہ ہوئے ہوں گے اپنی عزت بچانے کے لیے عورت کو اپنا منہ بند رکھنا پڑتا ہے ورنہ تو بدچلنی کا الزام اور شیطان کے سائے کا کریڈٹ عورت کے ساتھ ہی جڑا ہوتا ہے۔

کورونا وائرس نے بھی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا ہتھیار چوکیداروں، سکیورٹی گارڈوں، دکانداروں کے ہاتھوں میں تھما دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ٹمپریچر چیکر مشین کے نام پر خصوصی طور پر خواتین کو ہراساں کر سکیں۔ دیکھا گیا ہے کہ شاپنگ مالز، دفاتر، بینکس میں اکثر و بیشتر مرد حضرات ہی خواتین کا بھی ٹمپریچر چیک کرتے نظر آتے ہیں اور بد قسمتی سے ان کی نظر ٹمپریچر گن پر کم اور خواتین پر زیادہ ہوتی ہے۔ سرکاری اور نجی دفاتر میں بڑے بڑے افسران صاحبان تو اس ٹمپریچر گن سے مبرا ہوتے ہیں اور عام سٹاف کو اس ٹمپریچر گن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ ٹمپریچر گن سنبھالے سکیورٹی گارڈ بغیر سماجی فاصلے کا خیال رکھے حکومت کی طے کردہ ایس او پیز کی دھجیاں اڑاتے نظر آتے ہیں۔ ایک ہاتھ میں سگریٹ تو دوسرے ہاتھ میں کھلونا نما گن پکڑے نظر آتے ہیں۔ کورونا وائرس کی جب تک ویکسین نہیں آ جاتی تب تک ہمیں ان حالات کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا مگر اس طرح کی صورتحال رہی تو ملک میں جنسی ہراسانی کے واقعات میں حد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ اس لیے خواتین کو اس طرح کی ہراسانی سے بچانے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

دفاتر، اسپتالوں، شاپنگ مالز میں ٹمپریچر چیک کرنے والی گنوں کے بجائے ٹمپریچر چیک کرنے والے اسکینرز لگائے جائیں یا پھر خواتین کا ٹمپریچر چیک کرنے کے لیے خواتین سیکورٹی گارڈز کو مامور کیا جائے۔

تاکہ خواتین کی جنسی ہراسانی کو روکا جا سکے اور وہ خود کو آرام دہ محسوس کریں۔ کل کلاں خواتین کے اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بھی کھل جائیں گی جہاں پر یہی مرد سیکورٹی گارڈ ٹمپریچر چیک کرتے نظر آئیں گے جس کا نتیجہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ٹمپریچر گنز پر نظر کم اور خواتین کے جسموں پر زیادہ ہوگی۔

واضح رہے کہ ملک خداداد میں جنسی ہراسانی کے قوانین ہوتے ہوئے بھی جنسی ہراسانی کو قابو پانے میں ہم مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ میشا شفیع جنسی ہراسانی کیس میں عدلیہ نے یہ کہتے ہوئے مقدمہ خارج کیا کہ آپ کا (کام کی جگہ پر خواتین کی جنسی ہراسانی کے خلاف تحفظ) کے قانون کے تحت جنسی ہراسانی کا مقدمہ نہیں بنتا۔ جنسی ہراسانی کے لیے بنائے گئے قوانین صرف اور صرف کام کی جگہ اور گھر تک ہی کیوں محدود رکھے گئے ہیں راہ چلتے یا اور دیگر مقامات پر اگر جنسی ہراسانی کے واقعات وقوع پذیر ہوں تو ان کی شنوائی یا ان کے انصاف کے حصول لیے کس در کو کھٹکٹھایا جائے گا؟

جنسی ہراسانی کا کیس لڑتے لڑتے، اپنی پاک دامنی کی صفائیاں دیتے دیتے خواتین مکمل طور پر ہراساں ہو جاتی ہیں کہ کیسے ہراساں کیا؟ کہاں ہاتھ لگایا؟ کیا کہا؟ اور یہ سب سننے کو ہمارے مرد ویسے ہی بڑے بیتاب نظر آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply