ملٹری سیکرٹری یا پرنسپل سیکرٹری، وزیراعظم کے دفتر میں کون زیادہ طاقتور؟


نواز شریف

سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور میں ان کے داماد کیپٹن رئٹائرڈ صفدر نے بھی قومی اسمبلی کے ایوان میں کھڑے ہوکر پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا مگر عملی طور پر وہ پرنسپل سیکرٹری کا شاید بال بھی بیکا نہ کرسکے کیونکہ وزیراعظم نوازشریف بدستور اپنے پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ کھڑے رہے۔

شاید یہی وجہ تھی کے برطرفی کے بعد نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو بھی فواد حسن فواد کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی اور یوں فواد حسن فواد دو وزرا اعظم کے ساتھ جمے رہے۔

اس حوالے سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ دراصل کیپٹن صفدر فواد حسن فواد کے پاس اپنے حلقے میں کسی منصوبے کی فائل لائے تھے جس پر سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر نے کوئی منفی نوٹ لکھ دیا جس پر کیپٹن صفدر معاملہ پبلک میں لے گئے۔

وہ ایسا نہ کرتے تو اچھا ہوتا کیونکہ ایسا چلتا رہتا ہے۔ عباسی کے مطابق فواد حسن فواد بہترین سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر تھے جو میرٹ اور قوائد کا خیال رکھتے۔

عام طور پر سیکرٹری اپنے جونیئرز کو وزیر اعظم کے پاس نہیں بھیجتے لیکن فواد اس روایت کے برعکس اپنے جونیئرز سے بھی بعض معاملات میں وزیراعظم کو بریفنگ دلاتے۔ دراصل وہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں بہترین اور ذہین افسران تعینات کرنے پر یقین رکھتے تھے۔

ملٹری سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری میں پیشہ وارانہ رقابت

جہاں وزیراعظم کے ساتھ کام کرنے والا سیکرٹری اس کا چہیتا ہوتا ہے وہیں ملٹری سیکرٹری بھی فوج کا نمایاں افسر ہوتا ہے۔

اسے اپنے ادارے کا مان ہوتا ہے کیونکہ اس کا نام فوج کے ملٹری سیکرٹری ونگ کی طرف سے وزیراعظم کو ایک تین رکنی پینل کے ذریعے موصول ہوتا ہے۔

وزیراعظم انٹرویو کے بعد اپنا ملٹری سیکرٹری چنتے ہیں۔ ملٹری سیکرٹری کی ذمہ داری وزیراعظم سے ملنے والے لوگوں کو ٹاِئم دینا، وزیراعظم کے ملکی و غیر ملکی دوروں کا اہتمام کرنا، وزیراعظم کے خاندان کو معاونت فراہم کرنا اور مقامی و بین الاقوامی رہنماؤں کے وزیراعظم سے فون پر روابط کو دیکھنا ہوتا ہے۔

مگر اکثر یہ افسر وزیراعظم کے ساتھ فوجی امورپر بھی تبادلہ خیال کرتا ہے اور اپنا مشورہ دیتا ہے۔

جب بیوروکریسی اور فوج کے دو قابل افسران ملک کے طاقتور ترین شخص یعنی وزیراعظم کے ساتھ کام کریں تو بعض اوقات باہمی رقابت بھی آڑے آجاتی ہے۔

ایسا ہونا فطری بھی ہے۔ اس حوالے سے جب سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے ساتھ ان کے دوسرے دورے حکومت یعنی 1997 سہ 1999 تک کام کرنے والے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی سے دریافت کیا گیا تو انھوں نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا، جو انھی کی زبانی پیش خدمت ہے۔

’میاں نوازشریف دوسرے دور حکومت میں وزیراعظم تعینات ہوئے تو مجھے پرنسپل سیکرٹری تعینات کرلیا۔ پرنسپل سیکرٹری چونکہ وزیراعظم کے تمام دفتری امور اور فائلوں کا کام سرانجام دیتا ہے اس لیے اکثر مجھ سے معمول کی بات چیت ہوتی تھی۔ دوسری طرف ملٹری سیکرٹری وزیراعظم کے تمام دوروں، ملاقاتوں، دعوتوں وغیرہ کے امور طے کرتا ہے اس لیے اس کا کام ہم سے الگ ہی ہوتا ہے۔ ہمارے کام الگ الگ ہوتے ہیں لیکن ہم اکٹھے ایک ہی جگہ یعنی وزیراعظم کے دفتر میں کام کرتے ہیں۔‘

’میں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو وزیراعظم کے ساتھ پہلے سے تعینات ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر صباحت سے ابتدا میں میری کوئی بن نہ پائی۔ ایک روز وزیراعظم نے ریڈیو پاکستان کسی تقریب میں جانا تھا تو گاڑی میں بیٹھتے وقت مجھے اپنے ساتھ بیٹھنے اور ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر صباحت کو دوسری گاڑی میں آنے کا حکم دیا۔ عام طورپر ملٹری سیکرٹری ہی وزیراعظم کے ساتھ باہر جاتے ہیں وہ دن ذرا معمول سے ہٹ کر تھا۔ گاڑی میں ہماری بات چیت ہوئی اور میں معمول کے مطابق واپس دفتر آگیا۔‘

’ملٹری سیکرٹری وزیراعظم کے ہمراہ تقریب مکمل کر کے واپس آ کر مجھ سے ملے اور کہا کہ جناب، ایسے نہیں چل سکتا۔ بولے ہمارے پاس وزیراعظم سے بات چیت کا موقع ہی یہ ہوتا ہے اس میں بھی آپ ان کے ساتھ جابیٹھتے ہیں۔ میں نے ملٹری سیکرٹری کو بتایا کہ مجھے وزیراعظم نے ایسا کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم وہ بولے کہ ایسا ہوتا رہا تو ہم اکٹھے کام نہیں کرسکتے۔‘

’ملٹری سیکرٹری کی یہ بات میں نے فوری وزیراعظم کے گوش گزاری تو انھوں نے مجھے کہا کہ آپ برا مت منائیں ویسے بھی ملٹری سیکرٹری اپنی مدت پوری کر کے جانے والے ہیں۔ تاہم میاں صاحب نے ملٹری سیکرٹری کو بلایا اور انھیں بتایا کہ سعید مہدی سے میں نے کوئی اہم بات کرنا تھی اسی لیے اسے گاڑی میں ساتھ بٹھایا۔ آپ اس بات کا برا نہ منائیں۔ وزیراعظم نے ہماری صلح صفائی کروائی اور ہم بغل گیر ہوگئے۔‘

سعید مہدی کے مطابق ’سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اور ملٹری سیکرٹری کے درمیان باہمی رقابت ایسی ہی ہوتی ہے جیسی ضلع میں ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کی۔ ایک کے پاس اختیارات تو دوسرے کے پاس وردی کی طاقت ہوتی ہے۔‘ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت بھی ہوتے ہیں تو بعض معاملات میں رقیب بھی۔

وزیراعظم کے سیکرٹری کے نیچے کم و بیش دو سے کے قریب ایڈیشنل سیکرٹریز درجن بھر جوائنٹ سیکرٹریز اور سیکشن آفیسرز کام کرتے ہیں جبکہ ملٹری سیکرٹری کے ہمراہ کرنل کی سطح کا ڈپٹی ملٹری سیکرٹری، بحریہ، فضائیہ اور فوج کے کیپٹن کی سطح کے افسران بطور اے ڈی سیز، چیف سکیورٹی آفیسر وغیرہ بھی ملٹری سیکرٹری کے معاون کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔

وزیراعظم کے ذاتی نوعیت کے کام کون کرتا ہے؟

وزیراعظم کے ساتھ ایک تیسرا اہم شخص بھی کام کرتا ہے ۔

یہ سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اور ملٹری سیکرٹری کے بعد انتہائی اہم شخص ہوتا ہے اسے پرسنل سٹاف آفیسر ٹو پرائم منسٹر کہتے ہیں۔

عام طور پر یہ پی ایس او ایک سے تین تک کی تعداد میں کام کرتے ہیں۔ پی ایس او عام طور پر وہ شخص ہوتا ہے جو وزیراعظم اپنے ساتھ لاتے ہیں یہ نجی شخص ہوتا ہے جسے عارضی بنیادوں پر وزیراعظم کے ہمراہ کنڑیکٹ پر تعینات کیا جاتاہے۔

اس کا کام وزیراعظم کے ذاتی دوستوں، خاندان اور سیاستی نوعیت کے کام کرنا ہوتا ہے۔

وزیراعظم اپنے سیکرٹری کو اہمیت دیں یا ملٹری سیکرٹری کو، پرسنل سٹاف آفیسر اہم ہو یا کوئی اور، یہ بات طے ہے کہ وزیراعظم اپنا سٹاف طے کرتے وقت دراصل ان افراد کا چناؤ کرتا ہے جو اس کی وزارت عظمی کے دوران اس کی عزت یا بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

یہ وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جن سے وزیراعظم بعض امور پر فوری بنیادوں پر مشاورت بھی کررہا ہوتا ہے۔

اگر ان میں کوئی کمزوری ہو تو وزیراعظم کو ملنے والی مشاورت اور اس کی روشنی میں کیے جانے والے فیصلے بھی کمزور ہوتے ہیں۔ جیسی شخصیت وزیراعظم کی ہوتی ہے عام طور پر ویسا ہی انتخاب وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں کا کرتا ہے اور پھر ان سب کو اکٹھے ساتھ لے کر چلنا اسی کا کام ہوتاہے۔

سعید مہدی اور لیفٹیننٹ جنرل رئٹائرڈ عبدالقیوم اس بات پر متفق ہیں کہ ’وزرائے اعظم اگر اپنے اردگرد ایسے بندوں کو رکھیں جو انھیں اچھے برے کے بارے میں بتائیں، غلطی کرنے سے روکیں تو وزرا اعظم کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور وہ تنازعات سے بچ کر اپنا کام موثر انداز میں سرانجام دے سکتے ہیں۔‘

لیکن اقتدار کا مسئلہ ہی یہی ہے کہ اس کے کانوں کو تعریف اور چاپلوسی ہی اچھی لگتی ہے۔ تنقید اور روک ٹوک کرنے والے عام طور پر اقتدار کی راہداریوں سے بے آبرو ہو کر نکالے جاتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2