محمد بن قاسم سندھ کیوں آیا تھا؟
کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ محمد بن قاسم کو ”گھس بیٹھیا“ اور راجا (عموماً راجہ لکھا جاتا ہے جو اردو قواعد کے لحاظ سے غلط ہے ) قومی ہیرو کا درجہ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مختلف سطح پر ان کی کوششیں جاری رہی ہیں۔ اسی سلسلے کی تازہ کڑی حالیہ دنوں میں ایک بار پھر سامنے آئی ہے جب اس مذموم مقصد کے لیے اہل بیت کا نام استعمال کر کے کہا گیا کہ محمد بن قاسم سندھ میں اسلام کی خدمت کرنے نہیں آیا تھا بلکہ ان اہل بیت کو واپس لینے آیا تھا جو بنو امیہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر ہجرت کر کے سندھ میں آگئے تھے اور راجا داہر نے انہیں پناہ دی ہوئی تھی۔
ایسے کو تیسا کے تحت پہلا سوال یہ بنتا ہے کہ جس نے محمد بن قاسم کو سندھ بھیجا تھاچلو وہ تو اہل بیت کا دشمن تھا لیکن اس کے معزول ہونے کے بعد جس نے محمد بن قاسم کو بیڑیوں میں جکڑ کر قید خانے میں پابند سلاسل کیا اور موت کا ایندھن بنایا کیا وہ اہل بیت کا ہمدرد تھا اور کیا اس کا تعلق بنو امیہ سے نہیں تھا؟
تاریخ کی تمام کتابوں میں محمد بن قاسم کے آنے کی وجوہات لکھی ہوئی ہیں لیکن مرزا جہلمی نے کہا کہ وہ بھی تاریخ ہے اور جو میں نے کہا وہ بھی تاریخ ہے اور اس طرح وہ اپنی بات پر آج تک اڑے ہوئے ہیں۔ ان کی اور ان کے متبعین کی خدمت میں عرض ہے کہ تاریخ صرف بیان نہیں کی جاتی ہے بلکہ اسے تحقیقی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے اور پھر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ آیا یہ بات صحیح ہے یا غلط؟ محمد بن قاسم پر لگائے گئے اس الزام کے تین بنیادی اہم پہلو ہیں اورتحقیق کے بعد ماننا پڑتا ہے کہ یہ محض سفید جھوٹ ہے۔ پہلا پہلو اہل بیت اطہار کا، دوسرا پہلو محمد بن قاسم یا فتح سندھ جبکہ تیسرا پہلو راجا داہر کا ہے۔ کالم کی تنگ دامنی تینوں پہلوؤں پر فرداً فرداً بحث کی اجازت نہیں دیتی۔ اس لیے مختصر تذکرہ کیا جائے گا لیکن بات ان شاء اللہ (عموماً انشاء اللہ لکھا جاتا ہے جو بالکل غلط ہے ) واضح ہو جائے گی۔
فتح سندھ ترانوے ہجری (93ھ ) کا واقعہ ہے اور یہی سال راجا داہر کی موت کا بھی ہے۔ حضرت علی کی شہات 40 ہجری میں ہے، امام حسن کی شہادت 50 ہجری ہے اور امام حسین کربلا کے تاریخی معرکے میں 61 ہجری میں شہید ہوئے۔ لہذا ان حضرات کے تو سندھ میں راجا داہر کے ہاں پناہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مرزا اور ان کے ہمنواجب یہ کہتے ہیں کہ اہل بیت نے ہجرت بنوامیہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر کی تھی تو وہ اپنی بات کو 41 ہجری کے ساتھ مقید کر دیتے ہیں کیونکہ سلطنت اموی کی بنیاد حضرت امیر معاویہ نے 41 ہجری میں ہی رکھی تھی۔
اسی طرح جب وہ یہ کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم انہیں پناہ گزین اہل بیت کو واپس لینے آیا تھا تو بھی ان کی بات 95 ہجری کے ساتھ مقید ہو جاتی ہے کیونکہ اس کے بعد تو محمد بن قاسم زندہ ہی نہیں تھا۔ اہل بیت کی ہجرت کو بنوامیہ اور محمد بن قاسم کے ساتھ مختص کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اہل بیت نے ہجرت 41 ہجری اور 95 ہجری کے درمیان کی۔ یعنی جو کچھ ہوا انہی 54 سالوں میں ہوالیکن جب اس بات کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک شرلی ہے جسے اہل بیت کے مقدس نام کی آڑمیں راجا داہر کوہیروبنانے کے لیے چھوڑا گیا ہے۔
امام حسن اور امام حسین کی اولاد کو اہل بیت کہاجاتا ہے۔ علامہ شبلنجی کا کہنا ہے کہ امام حسن کے تین فرزند عبداللہ، قاسم اور عمر میدان کربلا میں شہید ہو گئے تھے۔ نورالابصار اور ارشاد مفید کے مطابق آپ کے کل آٹھ بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں۔ مطالب السؤل کے مطابق آپ کی نسل صرف حضرت زید اور حضرت حسن المثنیٰ سے آگے چلی۔ امام حسن المثنیٰ کی وفات 97 ہجری اور حضرت زید کی وفات 120 ہجری میں ہوئی اورتدفین مدینہ منورہ میں ہوئی۔ یعنی ان دونوں کی وفات محمد بن قاسم کے شہادت کے بعد ہوئی اوران کے بارے میں کہیں بھی کوئی روایت موجود نہیں ہے کہ انہوں نے سندھ کی طرف ہجرت کی ہو۔
امام حسین میدان کربلا میں حضرت علی اکبر اور علی اصغر کے ہمراہ شہید ہو گئے تھے۔ ان کی اولاد میں سے سوائے امام زین العابدین کے کوئی زندہ باقی نہیں بچا تھاجو 95 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہی خالق حقیقی سے ملے اور وہیں ان کی مرقد ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ امام حسن اور امام حسین کی اولاد میں سے کسی فرد نے سندھ کی ہجرت نہیں کی۔ اب آ جاتے ہیں امام زین العابدین کی اولاد کی طرف، شیخ مفید اور علامہ سیوطی کے ہاں انہوں نے گیارہ لڑکے اور چار لڑکیاں چھوڑیں۔
یہاں بھی سوال یہی ہے کہ امام زین العابدین نے جب 95 ہجری تک خود سندھ کی طرف ہجرت نہیں کی بلکہ اپنے آبا و اجدادکی طرح ڈٹ کر مظالم کا مقابلہ تو کیسے ممکن ہے کہ ان کی اولاد سنت حسینی کو بھول گئی ہویا انہوں نے مظالم میں باپ کا ساتھ دینے کی بجائے سندھ کی طرف راہ فرار اختیار کر لی ہو؟ آپ کے صاحبزادے حضرت زیدباختلاف روایات 125 ہجری میں کوفہ میں میدان جنگ میں شہید ہوئے جبکہ امام باقر کی شہادت 114 ہجری میں ہوئی۔
غرض کہ کہ بنوامیہ کی امارت یعنی 41 ہجری سے محمد بن قاسم کی شہادت یعنی 95 ہجری تک اہل بیت کے سب افراد عرب علاقوں بالخصوص حجاز مقدس میں ہی موجود تھے۔ 41 ہجری سے پہلے کسی کی ہجرت کا دعویٰ کرنا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ مخالفین کا دعویٰ باطل ہو جاتا ہے اور 95 ہجری کے بعد بھی ہجرت کا دعویٰ فضول ہے کیونکہ اس سال محمد بن قاسم شہید ہو چکاتھا تو شہادت کے بعد وہ کیسے اورکسے واپس لینے سندھ آیا تھا؟ معلوم ہوتا ہے کہ اس ”شرلی“ کا مقصد راجا داہر کو ہیرو بناناتھا ورنہ محمد بن قاسم کا نام نہ لیا جاتا لیکن جب بندہ نفرت میں اندھا ہو تو وہ اسی طرح کی غلطیاں کرتا ہے جس سے اس کی ”تحقیق کا غبارہ“ خودبخود ہی پھٹ جاتا ہے۔
یاد رہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز 87 ہجری سے لے کرتقریباً 92 ہجری تک حجاز کے گورنر رہے جبکہ 99 ہجری سے 101 ہجری تک وہ خلیفہ بنے۔ اہل بیت کے گھرانے بھی حجازمقدس میں ہی تھے۔ عمر بن عبدالعزیز کے بارے میں کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ اہل بیت پر ظلم کرتے ہوں۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ حجاز کے باہر یا اندر سے اہل بیت کے کسی فرد نے ان کے ہاں پناہ لینے کی بجائے راجا داہر جیسے فاسق کے ہاں پناہ لی ہو۔ آخر میں ایک نقد سوال کہ امام حسن، امام حسین اور کربلا میں ان کے شہید ہو جانے صاحبزادوں کے نام تو سب کو معلوم ہیں۔
محمد بن قاسم کی شہادت 95 ہجری تک جتنے بھی اہل بیت زندہ تھے وہ کوئی گمنام فرد نہیں تھے بلکہ امام حسن اور امام حسین کی اولاد یا ان کے پوتے تھے جن کے نام اور حالات سے آگاہی کتب رجال و سیر میں دستیاب ہے، ان میں کسی ایک کی بھی سندھ کی طرف ہجرت کی کوئی ایک روایت موجود ہو تو کم از کم مجھے لازمی دکھائیے تا کہ علم میں اضافہ ہو۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو سرعام دھڑلے سے راجا داہر کو اپنا مرشد بنانے کا اعلان کریں لیکن خدارا! اس مقصد کے لیے اہل بیت کے نام پر سیاست نہ کریں۔


