زبردستی کے رشتے کا انجام – سچی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مصنف: سعد خان۔
ایک جاننے والے نے پچھلے دنوں درخواست کی کہ معاشرتی رسم و رواج اور مسائل میں الجھی خواتین اور مردوں کے لئے لازمی لکھیں۔ اور انہیں الجھانے والے ان کے اپنے والدین ہوتے ہیں۔
میں نے پوچھا حضور آپ کس مسئلے پر توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ فرمانے لگے ارد گرد نظر دوڑائیں بہت سے مسائل نظر آئیں گے۔
بندہ ناچیز کے مزید استفسار پر فرمانے لگے کہ ایک کہانی سناتا ہوں شاید آپ میرے نقطے کو سمجھ سکیں۔

وہ گویا ہوئے۔ ایک جاننے والے دوست نے پانچ سال پہلے اپنی نازوں سے پلی بیٹی کا رشتہ اپنی بہن کے ہاں کیا۔ طے پایا کہ منگنی کی بجائے نکاح کر دیا جائے۔ مقررہ تاریخ پر لڑکی اور لڑکا نکاح کے بندھن میں بندھ گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکے نے گھر والوں کی پسند کی وجہ سے زبردستی یہ رشتہ کیا اور وہ دل سے خوش نہیں تھا۔ رشتہ سراسر لڑکے کی والدہ کی ضد کی وجہ سے ہوا جو اپنے بھائی کی بیٹی کو ہی بہو دیکھنا چاہتی تھی۔

اس زبردستی کے رشتے کا اثر بعد میں نظر آنا ہی تھا۔ جب اچانک ایک روز لڑکی والوں کو ایسی اطلاع ملی جس نے پاؤں تلے سے زمین اور سر سے آسمان چھین لیا۔ ایک روز رشتہ داروں میں سے کسی کا فون آیا کہ جس لڑکے سے آپ کی بیٹی کا نکاح ہوا ہے، وہ اس وقت تھانے میں ہے اور معاملہ ایک عورت کے ساتھ تعلق کا ہے۔ اور یہ تعلق اس قدر گہرا تھا کہ خاتون اس وقت حاملہ ہو چکی ہیں اور جب اسے نکاح کی خبر ملی تو معاملہ پولیس تک لے گئی۔ اور لڑکا اس وقت تھانے میں بند ہے۔

بھاگم بھاگ تھانے پہنچے۔ شکایت کرنے والی خاتون کو کچھ لاکھ دے کر خاموش کرایا۔ اور پولیس سے جان چھڑوانے کے لئے بھی ایس ایچ او کو دو لاکھ روپے دینے پڑے۔ تاکہ معاشرے میں کچھ تو عزت رہ جائے۔

اس مسئلے کو انہوں نے دل پر لے لیا اور بیٹی کے غم میں گھلتے ایک دن خالق حقیقی سے جا ملے۔ ایک جانب بوڑھے باپ کی موت کا غم اور دوسری طرف اپنی ناقدری کا دکھ۔ منکوحہ لڑکی نے فیصلہ کیا کہ وہ کبھی اس شخص سے شادی نہیں کرے گی۔ کیونکہ جہاں قدر نہ ہو وہاں زندگی گزارنا آسان نہیں۔ اور یہ بے قدری بھی اس شخص نے کی ہے جسے وہ نکاح کے بعد اپنا سب کچھ مان چکی تھی۔

اس واقعے کو پانچ سال گزر چکے ہیں۔ وہ لڑکی ابھی بھی اپنے گھر میں ہے اور نکاح بھی برقرار ہے۔ اس لڑکے نے انا کا مسئلہ بناتے ہوئے بجائے معافی مانگنے کے یہ کہ دیا کہ اگر شادی نہیں ہوئی تو ساری زندگی ایسے ہی میرے نام کے ساتھ بندھی رہو گی اور اپنے ماں باپ کے گھر میں ہی رہو گی۔

جاننے والے صاحب نے بات کا رخ موڑتے ہوئے کہا کہ والدین جب اپنے بچوں کی شادی کا سوچتے ہیں تو ان کی رائے لینا کیوں گوارا نہیں کرتے۔ لڑکا کسی اور جگہ شادی کرنا چاہتا تھا لیکن والدین کی ضد کی وجہ سے وہ اس نکاح پر راضی ہوگیا۔ لیکن اپنی روش بدلنے کی بجائے اس نے دو خاندانوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ اگر والدین بھی اپنی اولاد پر اپنی مرضی ٹھونسنے کی بجائے ان کی مرضی کے ساتھ چلیں تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں۔

اس ساری کہانی میں اس بے چاری لڑکی کا کیا قصور، جس نے بیس سال کی عمر میں ایک ایسے شخص سے نکاح کیا جو نہ صرف اس سے دس سال بڑا تھا بلکہ وہ کسی اور کے ساتھ ناجائز تعلقات بھی بنا چکا تھا۔

کہنے لگے ہمارے معاشرے میں ایسی درجنوں کہانیاں موجود ہیں جہاں صرف خواتین کو زبردستی کے ان رشتوں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ والدین کی عزت رکھنے کی خاطر وہ کمپرومائز بھی کر جاتی ہیں۔ لیکن اس طرح وہ زندگی بھر کسی ایسے شخص کے کھونٹے سے بندھ جاتی ہیں جس نے اس رشتے کو کبھی اہمیت ہی نہ دی۔

اسلام ہمیں بنیادی اصول سکھاتے ہوئے یہ پیغام دیتا ہے کہ لڑکی ہو یا لڑکا دونوں سے رضامندی لے لی جائے۔ بالغ افراد اپنی زندگی کے سب سے اہم فیصلے کے لئے آزاد ہیں اور ان پر کوئی زور زبردستی نہیں۔

لیکن سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ قصور وار افراد اپنا قصور ماننے کی بجائے جب انا کا مسئلہ بناتے ہیں تو پھر نہ صرف گھریلو بلکہ معاشرتی نظام بھی تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ اس لئے شادی جیسے اہم معاملے میں زبردستی کی یہ رسم ہمارے معاشرے سے ختم ہونی چاہیے۔ تاکہ ایسی کئی زندگیاں تباہ ہونے سے بچ سکیں۔

کہنے لگے۔ میں ہرگز نہیں کہتا کہ والدین کی پسند سے ہونے والے رشتے ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں۔ بلکہ ایسی رشتوں میں دعا بھی شامل ہوتی ہے اور بزرگوں کی دعائیں زندگی بھر ان کے لئے خوشیاں لاتی ہیں۔ لیکن جب ماں باپ ہی اپنے بھائی یا بہن کی بیٹی یا بیٹے کے ساتھ رشتہ کرنے کے لئے زبردستی کریں تو زبردستی کے ان رشتوں کی کیا اوقات باقی رہ جائے گی۔

اکیسویں صدی ہے جہاں ہر چیز نے ترقی کی۔ تعلیم میں اضافہ ہوا، شعور اجاگر ہوا تو پھر ہم رشتوں کے معاملے میں بچوں کی رائے کے خلاف کیوں ہیں۔ اور اگر دونوں میں سے کسی ایک نے رضامندی ظاہر نہیں کی تو پھر زبردستی کے یہ رشتے آج کے دور میں کہاں چل پائیں گے۔ آج کے والدین کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ اور بچوں کی رائے کو اہمیت دینا ہوگی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply