حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا مزار محفوظ ہے، شام سے عثمان قاضی کی تحقیق


 ”ہم سب“ کے عثمان قاضی اپنے دفتری فرائض کے سلسلے میں شام میں تعینات ہیں۔ سوشل میڈیا پر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے مزار کی بے حرمتی کی خبریں وائرل ہوئیں تو انہوں نے کئی ہفتے کی کوشش کے بعد عینی شاہدین کی مدد سے صورت حال کو جانا اور یہ خبر دی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا مزار محفوظ ہے اور اس سلسلے میں چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ مکمل احوال اور مزار مبارک کی تازہ تصاویر اس خبر میں شامل ہیں۔

ادلب کے مشرق میں معرۃ النعمان نامی قصبہ واقع ہے۔ یہاں ”دیر مار سمعان“ یا ”سینٹ سیمون چرچ“ نامی مشہور کنیسہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے زندگی میں ہی اپنی جیب سے اس کلیسا کے منتظمین کو رقم ادا کر کے اپنی قبر کی زمین خریدی تھی اور وہ اسی احاطے میں زیر خاک محو خواب ہیں۔

یہ قصبہ کوئی دس برس سے مختلف باغی گروہوں کے قبضے میں رہا اور وہ آپس کی لڑائی میں اسے ایک دوسرے سے چھینتے رہے ہیں۔ اس سال کے شروع میں بھی حضرت عمر ثانی کے مزار کو آگ سے ضرر پہنچنے کی اطلاع آئی تھی لیکن شاید بوجوہ اسے اس قدر شد و مد سے سوشل میڈیا پر مشتہر نہیں کیا گیا۔ اس جانے بوجھے اغماض کا تعلق اس وقت اس مقام پر قابض گروہ کی سیاسی اور فرقہ وارانہ وابستگی سے ہونا بعید از قیاس نہیں ہے۔

مارچ میں اس محاذ پر جنگ میں تیزی آ گئی اور چند ہفتے قبل شام کی سرکاری فوج اپنے روسی اور ایرانی حلیفوں کے ہمراہ اسے باغیوں سے واگزار کروانے میں کامیاب ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی مذکورہ بالا مزار کی بے حرمتی کی خبر اور اس کی مبینہ تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں جن میں اس حرکت کا کھلم کھلا الزام شامی حکومت کی حلیف ایرانی ملیشیا پر لگایا گیا۔

میری شام میں موجودگی کی وجہ سے احباب اور اہل خانہ نے مجھ سے اس معاملے کی چھان بین کے لیے کہا لیکن شام کی سمت سے ادلب تک اب بھی امدادی کارکنان، خصوصاً غیر ملکیوں کی رسائی نہیں ہے چونکہ جنگ اب بھی جاری ہے اور علاقے میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا بھی واضح خطرہ ہے۔

بہت تگ و دو کے بعد کسی دوست کے توسط سے ایک حلبی بندے سے رابطہ کرنے میں کامیابی ہوئی جو اتفاق سے سنی ہے اور اس دستے کا حصہ تھا جو سب سے پہلے معرۃ النعمان میں داخل ہوا۔ خبر واحد تھی اور اس سے رازداری کا وعدہ کیا تھا لہذا اسے اس وقت سوشل میڈیا پر نہیں لگایا۔

اس کے مطابق یہ جگہ مذہبی شدت پسند باغی گروہ ”ہیئۃ التحریر الشام“ کے قبضے میں تھی اور وہ اسے دفتر کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ اسے وہاں فرنیچر اور مقامی آبادی سے جمع کیے گئے ”حفاظتی ٹیکس“ کے ریکارڈ کے جلے ہوئے کاغذات ملے۔ مزار کی عمارت اور قبر کے تعویذ کو جنگ میں نقصان پہنچا تھا۔ چند ماہ قبل ہونے والی آتش زدگی بھی وہاں قابض گروہ کے ذخیرہ کیے گئے گولہ بارود میں آگ لگنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ قبر کھودنے کا البتہ کوئی نشان نہ تھا۔

دو روز قبل، ہمارا ایک ہم کار جان اور ملازمت جوکھم میں ڈال کر واگزاری کے بعد موقع پر پہنچنے والے محکمہ آثار قدیمہ کے اولین افسران کے ہمراہ وہاں جانے میں کامیاب ہو گیا۔ اس نے زبانی اور تصویری شہادت بہم پہنچائی تو دل کو اطمینان ہوا۔

سالوں کی عدم نگہداشت، قابضین کے اسے دفتر، باورچی خانے، سٹور اور قیام گاہ کے طور پر استعمال کرنے، چند ماہ قبل بیرونی احاطے میں گولہ بارود پھٹنے اور تازہ جنگ میں گولیاں چلنے کے سبب عمارت کی دیواروں، محرابوں، کھڑکیوں اور چھت کے گنبد کو نقصان پہنچا ہے۔ دیگر اموی اور عباسی خلفاء کی پختہ، تعویذ دار قبروں کے برعکس، حضرت عمر بن عبدالعزیز اور ان کی زوجہ محترمہ کی قبریں، ان کی وصیت کے مطابق اوپر سے کچی چھوڑ دی گئی تھیں۔ قبر کے مقام کی نشان دہی اور اوپر کی مٹی کے انبار کو سہارا دینے کے لیے پستہ قد سنگی احاطہ سا البتہ بنایا گیا تھا۔ اس سنگی دیوار کی اوپری سطح پر چند دراڑیں تھیں، لیکن وہ بھی امتداد زمانہ کی وجہ سے پڑی دکھائی دیتی تھیں۔ کسی بھی فریق کی جانب سے کھدائی، منتقمانہ بے حرمتی یا نوادرات کی چوری کی کوشش کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔

تازہ ترین تصاویر اور مفصل احوال عثمان قاضی کے مضمون میں موجود ہیں۔

مفصل مضمون پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا مزار مبارک شہید ہوا یا نہیں؟ شام سے عینی شہادت

Facebook Comments HS