ریسرچ روم سے ہاسٹل تک ایک واک
یہ 2017 کی بات ہے جب میں اپنے ایم فل کا کورس ورک مکمل کرچکا تھا اور ایک تحقیقی مسئلہ کی تلاش میں تھا۔ ایم فل یا ایم ایس کی ڈگری دو حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلے حصے میں کچھ کورسس پڑھنے پڑھتے ہیں اور جب وہ تمام ضروری کورسس پڑھ لیں تو دوسرا مرحلہ آتا ہے، تھیسس لکھنے کا۔ ہم اس دوسرے مرحلے کو اپنی زبان میں ”ریسرچ فیز“ کہتے ہیں۔ اس دوسرے مرحلے کا بنیادی مقصد یہ سکھانا ہوتا ہے کہ تحقیق کیسے کی جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں ہم سائنسدانوں کے لکھے گئے تحقیقی مضامین جو مختلف بین الاقوامی جریدے شائع کرتے ہیں، انہیں پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہماری رہنمائی کے لئے ہمارے اساتذہ، سینئرز، ریسرچ سکالرز اور اسی تحقیق سے جڑے دوست موجود ہوتے ہیں۔
نسٹ میں جب شام کے پانچ بجتے، تو ایک مختلف نظارہ ہوتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے سب کو جانے کی جلدی ہے سوائے ان کے جو نسٹ کے ہاسٹل میں قیام پذیر ہیں۔ بلکہ ہاسٹلائٹ کی بھی کوشش ہوتی تھی کہ وہ بھی ڈپارٹمنٹ نہ رکیں اور ہاسٹل چلے جائیں، کیوں کہ ہاسٹل بھی گھر لگنے لگتا ہے۔
پانچ بجنے کے بعد ہمارے ڈپارٹمنٹ کا ریسرچ روم بھی خالی ہونا شروع ہوجاتا تھا۔ اور بہت چند لوگ رہ جاتے تھے۔ یہ وہ وقت ہوتا تھا، جب بہت خاموشی ہوتی تھی۔ اکثر دوست چلے گئے ہوتے تھے، جو بار بار کبھی چائے اور کھانے کے بہانے کیفے لے جاتے تھے۔ پھر یہ وہ وقت ہوتا جب میں اپنے تحقیقی مسئلہ پر اچھے سے غور کر سکتا تھا۔ بہت الجھن ہوتی ہے جب کوئی بات سمجھ نہ آ رہی ہو یا دماغ مسئلے کے دوسرے پہلو کی طرف اشارہ نہ کرے۔
یہ سب سوچتے سوچتے ساڑھے چھ بج جاتے۔ اور پھر ریسرچ روم عمومی طور پر بالکل خالی ہوجاتا تھا۔ مجھے ہاسٹل کے کمرے سے زیادہ یہاں بیٹھنا اچھا لگتا تھا۔ گھڑی اور خالی کمرے کو دیکھ کر پھر سے میں اپنے کام میں مگن ہوجاتا تھا۔ اور پھر کم و بیش ساڑھے سات بجے اچانک سے کمرے کا دروازہ کھلتا اور یونس چاچا داخل ہوتے اور کہتے، ”چلو بھئی ٹائم ختم، مجھے کھانا کھانے جانا ہے“ اور پھر وہ مجھ سے کچھ دیر اپنی باتیں کرتے۔ میں جلدی جلدی اپنا لیپ ٹاپ اور کاغذ بیگ میں رکھتا اور یونس چاچا کو خدا حافظ کہہ کر ڈپارٹمنٹ کی گول سیڑھیاں اترنے لگتا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب میں خود کو ایک آزاد پنچھی کی طرح محسوس کرتا تھا جو شام ہونے پر گھر کو لوٹ جاتا ہے۔
نومبر کے مہینہ میں رات کے وقت اسلام آباد میں اچھی خاصی ٹھنڈ ہوتی ہے۔ اب مجھے واک کر کے اپنے ہاسٹل جانا ہوتا تھا، اور میں پورا دن اسی واک کے انتظار میں رہتا تھا۔ ڈپارٹمنٹ سے ہاسٹل کا فاصلہ بہت تھوڑا ہے اگر بہت آہستہ بھی چلا جائے تو 10 منٹ لگ جاتے ہیں۔ مجھے پورے دن میں سب سے اچھا وقت یہی لگتا تھا۔ ریسرچ روم سے باہر آتے ہوئے ایک خیال جو میں سب سے پہلے دماغ سے نکال دینا چاہتا تھا، وہ یہ تھا کہ یہ مسئلہ (تحقیقی) کب حل ہوگا؟ کیوں کہ مسلسل یک سوئی سے ایک مسئلے پر سوچنے، غور کرنے اور اس کے حل نہ ہونے سے دماغ پر دباؤ پڑتا ہے، جو کہ نیچرل اسٹریس ہے، سب کو ہوتا ہے۔ اب یہ کوئی زندگی کا مسئلہ تو تھا نہیں، جس پر کسی فلسفی یا ماہر نفسیات سے رائے لی جاتی۔
یہاں سے میری واک کا آغاز ہوتا اور میں نے جتنے دن یہ واک کی، ہر دن ایک ہی نظم سنی جو کہ فیض کی بہت مشہور نظم ہے۔ ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ“ ۔ اس واک کے دوران یوں لگتا تھا کہ زندگی میرے گرد طواف کر رہی ہے اور اس نظم کے سر اور بول میرے اندر سرایت کر رہے ہیں۔ دماغ کو جیسے کسی نے کچھ دیر کے لئے سکون کی دوا دے دی ہو۔ اور میرا ہاسٹل کی طرف سفر شروع ہوجاتا۔ پھر جب یہ بول کانوں کو ٹکراتے ؛
” میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات“
اسی لمحے میرے چہرے پر ایک اطمینان سی کیفیت ہوتی اور میں خود سے مسکرانے لگتا۔ اور وہ لڑکی مجھے یاد آنے لگتی جو میرے خیالوں میں بسیرا کرتی تھی۔ پھر مجھے محسوس ہوتا کہ اس کے ہوتے ہوئے زندگی کے تمام غم کہیں کھو جائیں گے اور میں اس مسئلے کو بھی بھول جاؤں گا جس پر میں تحقیق کر رہا ہوں۔ ”تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے“ ۔
اور پھر جب حمیرا چنا یہ گاتی
تری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو ایسا لگتا تھا اس پوری دنیا میں صرف دو ہی لوگ ہیں۔ ایک میرے خیالوں میں بسنے والی لڑکی اور ایک میں۔ اور میں اس لڑکی کی آنکھوں میں کہیں کھو سا جاتا اور مجھے راستے کی ٹھنڈ بھی محسوس نہ ہوتی تھی۔ پل کو یوں لگتا تھا کہ جیسے زندگی کے تمام مسئلے حل ہو گئے ہیں اور تقدیر بھی میرے آگے جھک گئی ہے اور میں کامیابی کی طرف گامزن ہوں۔ ایک قوت سی محسوس ہوتی تھی جو سب کچھ فتح کر لے۔ ”تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے“
اور جب فیض کی نظم کا یہ حصہ سماعتوں تک پہنچتا تو؛
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
ریشم و اطلس و کمخاب میں بنوائے ہوئے
جا بہ جا بکتے ہوئے کوچہ و بازار میں جسم
خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے
تو دل بہت اداس ہوجاتا کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کس طرح سے نچلے طبقے کا استحصال کر رہا ہے۔ پھر وہ مزدور میری آنکھوں کے گرد گھومنے لگتا جس کو اتنا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے اور وہ طوائف جس کو اپنا پیٹ بھرنے کے لئے جسم کو بیچنا پڑتا ہے۔ زندگی کے غم جوں ہی پھر سے یاد آنے لگتے تو کانوں میں یہ آواز
لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے
اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے
پھر سے اس کے خیالوں میں لے جاتی اور میں زندگی کے سارے غم، دکھ اور پریشانیاں بھول کر اسے یاد کرنے لگتا اور پھر کہیں کھو جاتا۔ کچھ دیر میں ایک چوراہے پر آکر رک جاتا، وہیں روڈ کراس کر کے میرا ہاسٹل تھا اور پھر میں یہ آخری شعر سنتا۔
”اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ”
یہ ایک چھوٹی سی واک کا منظر ہے۔ ہمارا کیمپس اتنا بڑا ہے کہ بس چلتے جائیں اور قدرت سے محظوظ ہوتے جائیں۔ غالب خوب کہہ گئے تھے ؛ ”ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا“ ۔


