کورونا اور حکومت کا رونا دھونا قابو سے باہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ خیر کرے۔ حکومت کی طفلانہ اور ناقص حکمت عملی، ریاستی اداروں کی بے تدبیری، سپریم کورٹ کے بے سروپا فیصلوں، کابینہ کی غیر فعالیت اور عجلت پسند، جذباتی، غیر منطقی اور تماش بین قوم کے نا معقول رویے کی وجہ سے آج کورونا پاکستان کے تقریباً ہر گھر میں پہنچ چکا ہے۔ موت کے سائے ہر جگہ لہرا رہے ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش، ٹیسٹنگ کٹس اور کورونا سمیت جان بچانے والی بہت سی ادویات ناپید ہو چکی ہیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق پورے پنجاب میں کورونا کی تعداد اندازاً دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ صرف لاہور میں پینتیس لاکھ مریضوں کی موجودگی کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ٹیسٹ کروانے والے دس میں سے تقریباً پانچ افراد متاثرہ نکلتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کورونا از خود نوٹس میں آخر کار ہفتے اور اتوار کو مارکیٹس کھولنے کا فیصلہ واپس لے لیا مگر افسوس یہ فیصلہ پانی سر سے گزر جانے کے بعد واپس لیا گیا۔ سپریم کورٹ حکومت اور ریاستی اداروں کو اس وقت قانون سازی کا حکم دے رہی ہے جب خطرہ پوری شدت سے ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔

یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی شخص خوشگوار موسم اور اچھے دنوں اور وسائل کو استعمال میں لا کر گھر کی چھت کا اہتمام نہ کرے مگر جب سخت طوفانی بارشوں کا زور ہو تو بارش میں کھڑے ہو کر چھت ڈالنے کی بچگانہ کوشش کرے۔ ایسے شخص کی بے تدبیری اور بے بصیرتی کو آپ کیا کہیں گے؟

آج عالمی ادارۂ صحت سمیت دنیا بھر کے سنجیدہ و فہمیدہ ادارے و افراد پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کے حوالے سے ناکام ترین ملک قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان پر سفری پابندیوں کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی حکومت کی طرف سے کورونا کے خلاف کیے جانے والے اقدامات ہمارے مقابلے میں کہیں زیادہ، ٹھوس، عملی، دیرپا اور نتیجہ خیز ہیں۔

کورونا کے حوالے سے پاکستان میں بگڑتی ہوئی اور انتہائی تشویشناک صورت حال کا سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو منیر نیازی کی زبان میں کہنا پڑتا ہے کہ

تھا منیر آغاز ہی سے راستہ اپنا غلط
اس کا اندازہ سفر کی رائیگانی سے ہوا

ہماری حکومت، نمائشی وزیر اعظم، فرمائشی کابینہ اور ریاستی اداروں نے شروع دن سے ہی کورونا کے حوالے سے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے اس معاملے میں ان کی سنجیدگی، ہوشمندی، ٹھوس حکمت عملی اور فہم و فراست کا پتہ چلتا ہو۔ وزیر اعظم کی ہفتہ وار تقریریں تضاد بیانی، بے ربطی، خود ستائشی اور عقل و فہم سے یکسر عاری مواد کا ملغوبہ رہی ہیں۔ یہ سیاسی قیادت ہوتی ہے جو قوم کو کسی خطرے سے آگاہ کر کے اس کے خلاف یکسو اور متحد کرتی ہے مگر ہماری حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ اس نے کورونا کے حوالے سے بروقت قومی اسمبلی و سینیٹ کا اجلاس تک نہیں بلوایا۔ حالانکہ حکومت کو کورونا کے خلاف موثر اقدامات کے لیے دو ماہ سے زائد کا وقت ملا تھا۔

وزیر اعظم نے ٹائیگر فورس بنا کر سیاسی مخالفین کے زخموں پر نمک پاشی کا کام تو ضرور کیا مگر کوئی ٹھوس پالیسی نہ دی۔ سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر ایسا کام کیا کہ ایران اور چین سے آنے والے زائرین اور طلبہ پورے پاکستان میں پھیل گئے۔ رہی سہی کسر تبلیغی جماعت نے نکال دی۔

جب حکومت اور ریاستی ادارے کسی تبدیلی کو قبول ہی نہیں کریں گے تو عوام کا رویہ بھی غیر سنجیدہ ہو گا۔ کورونا کے خطرے کو پوری سنجیدگی سے قبول کرنا پہلا مثبت قدم تھا۔ کاش ہماری حکومت اور ریاستی ادارے شہباز شریف حکومت کی ڈینگی کے خلاف چلائی جانے والی موثر، بروقت اور ہمہ گیر مہم کی تفصیلات ہی کا مشاہدہ کر لیتے تو آج کورونا کا خطرہ اتنی شدت سے سر نہ اٹھاتا۔

چین اور نیوزی لینڈ سمیت جن ملکوں نے کورونا پر جزوی یا کلی طور پر قابو پایا ان کی حکومتوں نے سب سے پہلا کام ہی یہ کیا اس کی سنگینی اور شدت کو محسوس کیا۔ امریکہ اور اٹلی کی قیادتوں نے پاکستانی قیادت کی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے وہاں تباہی ہوئی۔

ہسپتالوں، گشتی ہسپتالوں، ٹیسٹنگ کٹس، وینٹی لیٹرز، ادویات اور دیگر چیزوں کا اہتمام اگلے عملی اقدامات تھے مگر ہماری حکومت نے یہ اقدامات تو خیر کیا کرنا تھے الٹا عید کے کے موقعے پر مارکیٹس کھول کر کورونا کو ہر محلے میں اور ٹرانسپورٹ چلا کر ہر گھر میں پہنچا دیا۔

اب بھی نامساعد حالات میں ہمارے نمائشی وزیر اعظم اپنی بے مغز تقریروں میں صرف یہ بتا رہے کہ جولائی میں کورونا پوری پیک پر ہوگا اور انتظامات کا پوچھیے تو حکومتی وزرا گز گز بھر زبانیں نکال کر پل پڑتے ہیں۔ نمائشی وزیر اعظم اور فرمائشی حکومت کے ایسے ہی بے سروپا، الٹے سیدھے اور ناقص ترین انتظامات دیکھ کر نئے پاکستان کے شیدائی ایک پرانے صحافی نے خبردار کیا ہے کہ اگر خدا نخواستہ عمران خان پاکستان پر پانچ سال حکومت کر گیا تو پاکستان میں لوگوں کو مردے دفنانے کے لیے قبرستانوں میں جگہ نہیں ملے گی۔
اللہ تعالٰی ہمیں ایسی ظالم اور نمائشی حکومت سے نجات دلائے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply