کرونا اور ہمارے بدلتے نظریات



کرونا وائرس جو اس وقت پوری دنیا کے لیے ایک مصیبت ہے، اس نے نومبر 2019 سے ہی چائنہ میں اپنا خوف پھیلانا شروع کر دیا اور ہزاروں کے حساب سے لوگ اس سے متاثر ہورہے تھے حتی کہ پورا چائنہ اس سے متاثر ہو گیا۔ چین سے نکل کر اس نے جنوری 2020 تک پوری دنیا میں پنجے گاڑنا شروع کر دیے، جہاں یہ جان لیوا مرض لوگوں کی زندگیاں نگل رہا تھا وہاں ہی وہ ممالک جو اس سے متاثر نہیں تھے ان لوگوں کی اس کے متعلق سوچ بھی مختلف تھی اور اس سلسلے میں پاکستان کی عوام بھی ہمیشہ صف اول میں کھڑی نظر آئی۔

جنوری میں یہ وائرس امریکہ، برطانیہ سمیت پوری دنیا میں تقریباً پھیل چکا تھا اور ہمارے ہاں یہ تاثر عام تھا کہ یہ کافروں پر اللہ کا عذاب ہے وہ حرام کھاتے ہیں اس لیے اللہ کی پکڑ میں ہیں یہ مسلمانوں کو کچھ نہیں کہتا حتیٰ کہ ہم صرف حرام نہیں کھاتے باقی سب حرام کام کرتے ہیں اور شراب کی شکل میں حرام پیتے بھی ہیں۔ لیکن فروری میں جب یہ وائرس نکل کر مسلم دنیا میں پھیلا تو ساتھ ہی ہمارا ردعمل بھی بدل گیا جو پہلے اللہ کی طرف سے عذاب تھا اب اسے پاکستانی عوام اللہ کی طرف سے نازل کی گئی آزمائش سمجھ کر دل بہلانے لگی۔ غرض یہ کہ ہم اس مسئلے کی نوعیت سمجھنے سے ہی قاصر تھے، ہم نے پیاز سے لے کر کلونجی تک ہر ایک چیز سے علاج بھی دریافت کر لیا۔ مارچ میں جب وائرس پاکستان میں پھیلا تو ہم نے اسے حکومتی کھاتے میں ڈالنا شروع کر دیا کے حکومت کی ناقص پالیسیوں سے وائرس پھیلا۔

کرونا کی بدلتی صورت حال کی طرح پاکستانی عوام ہر ماہ کے حساب سے اپنے تجزیے بھی بدل رہی ہے۔ پہلے ہم ماننے کو تیار نہیں تھے کہ یہ بھی کوئی مرض ہے لیکن بعد میں ماننے لگے اور اپریل، مئی میں جب ہم لاک ڈاؤن میں رہ رہ کر تھک گئے جو برائے نام تھا تو ایک نئی بحث شروع کر دی سوشل میڈیا پر کہ کرونا نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں یہ سازش ہے۔ ہمارا میڈیا خوف پھیلا رہا ہے یہ جان بوجھ کر کیس بڑھا رہے ہیں تاکہ امداد لے سکیں اور کسی نے کہا کے یہ بل گیٹ کی چال ہے۔

غرض ہمارے ہاں ہر ماہرین فیس بک نے اپنی رائے عوام تک پہنچانا اپنا اولین فریضہ سمجھا۔ عید کے دنوں تک ہماری عوام کی سوچ اس حد تک آ گئی کہ ”جو ہوگی دیکھا جائے گا مرنا تو ایک دن ہے“ یہاں تک کہ ہم نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر عید کی خریداری کی جبکہ سب کچھ بند ہونے کے سبب عید پے بھی گھر میں ہی رہنا تھا۔ تو ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کے بے شک

”کل نفسٍ ذآئقة الموت“ جہاں رب یہ فرماتا ہے کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے وہاں خداوند تعالی یہ بھی فرماتا ہے کہ ”انسان کی جان قیمتی ہے اس کی حفاظت کرو۔“

ہم جو کہ جذباتی، عدم برداشت کے حامل، افواہ سازی کی چلتی پھرتی فیکٹریز، سنی سنائی باتوں کو آگے بڑھانے والے اورمشورہ ساز ہجوم ہیں۔ اللہ کی کتاب سے غافل، اس کے حبیبﷺکے احکامات سے ناآشنا اور خلافت راشدہ کی تعبیرات سے بے فکر اپنی ماہرانہ تجاویز کے گھوڑوں پرسوار سرپٹ دوڑتے ہیں۔

ان لوگوں کو حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کا کہوں تو جواب دیتے ہیں مرنے سے ڈرتے ہو کیا، ان کو نبیﷺ کے اطوار حسنہ بتاؤ تو یہ حوالہ مانگتے ہیں۔ بے شک سب کچھ اللہ تعالی کے حکم اور اس کی بنائی ہوئی تقدیر سے ہوتا ہے، البتہ بیماریوں سے بچنے کے لیے اللہ تعالی پر توکل کرتے ہوئے ا سباب کو اپنانا مستحب ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے :
فر من المجذوم فرارک من الاسد صحیح البخاری،
جذام کی بیماری میں مبتلا مریض سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔

ایک موقع پر ایک مجذوم آپﷺ سے بیعت ہونے کے لیے آیا تو نبی کریمﷺ نے ہاتھ ملائے بغیر ہی اسے بیعت کر لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ احتیاط کے درجہ میں بیماری کے ظاہری اسباب سے بچناجائز ہے۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ اسے چھو لیتے تو وہ صحت یاب ہو جاتا۔ تو پھر کیا حرج ہے کہ کچھ دنوں کے لیے اپنے آپ کو گھروں تک محدود کر لیا جائے؟

تو پھر کیا حرج ہے ماسک پہن لیا جائے تاکہ وینٹی لیٹر ماسک پہننے سے بچ سکیں؟

تو پھر کیا حرج ہے کہ جراثیم کش صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھولیے جائیں تاکہ زندگی سے ہاتھ نہ دھونا پڑیں؟ وبا کی موت کے مطلق کہا گیا ہے کہ وبا میں مرنے والا شہید ہے لیکن تب جب آپ احکام الٰہی کے مطابق وبا میں حفاظتی اقدام اپنائیں اور پھر بھی آپ شکار ہو جائیں تو شہید ہیں لیکن اگر آپ جان بوجھ کر موت کے منہ میں جائیں اور حفاظت کو مد نظر نہ رکھیں حکومتی اقدام کو پش پشت ڈال دیں تو آپ ہلاک ہیں۔

آج جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں اس وقت پاکستان میں 98 ہزار سے زائد کیسز ہیں جو کہ چائنا سے بھی زیادہ ہیں۔ چائنا جہاں سے یہ وبا پھوٹی، جو اس وبا کا مرکز تھا، اس نے اس مرض پر قابو پالیا صرف عوام کے دانشمندانہ رویہ سے۔ مجھے اس بات کا ڈر ہے کے امریکہ کی طرح اگر ہمارے ہاں بیس لاکھ کے قریب کیسز پہنچ گئے تو ہم کیا کریں گے جب کہ ہم معاشی طور پر بھی اتنے مضبوط نہیں ہیں، کیا ہمارے ہسپتال اتنا بوجھ اٹھا پائیں گے۔ ہمیں سنجیدہ ہونا ہو گا نہیں تو ہم ہر گلی سے جنازہ نکلتا دیکھیں گے، اب ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایک تہذیب یافتہ قوم ہونے کا ثبوت دیں گے یا پھر اپنے پیاروں کو منوں مٹی تلے پہنچانے کا انتظام کریں گے فیصلہ ہمارا ہے۔ ۔ ۔

Facebook Comments HS