کورونا کے پھیلنے میں افواہوں کا کردار
کوئی مژدہ نہ بشارت نہ دعا چاہتی ہے
روز اک تازہ خبر خلق خدا چاہتی ہے
اس وقت ہمارے پیارے وطن میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ اور اموات دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ہمارے ہسپتال کورونا کے مریضوں سے بھر چکے ہیں۔ اس تمام صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ جی ہاں یقیناً ہمارا جواب حکومت ہے۔ اگرچہ حکومت کی گو مگو پالیسی کا کردار اپنی جگہ، لیکن ویسے بھی یہ ہمارا مزاج بن چکا ہے کہ ہم ہر مسئلے کا الزام حکومت کی نا اہلی سمجھ کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ من حیث القوم ہم نے کبھی یہ سوچا کہ اس کے پھیلاؤ میں ہمارا کیا کردار ہے اورکیا ہم بھی اس کو پھیلنے سے روک سکتے تھے؟
صورتحال کا شروع سے جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ ہمارے یہاں کورونا کا پہلامریض 26 فروری کو آیا اور اس کے بعد رفتہ رفتہ کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہو ا، لیکن خوش قسمتی سے ہمارے وطن کا شمار ان ملکوں میں تھا جہاں اس کا پھیلاؤ بہت آہستہ اور اموات کی شرح بہت کم تھی، بدقسمتی سے یہی وہ وقت تھا جب سازشی عناصر نے بہت سی افواہوں کو جنم دینا شروع کر دیا، کہ
کورونا محض ایک ڈرامہ ہے اور کوئی بیماری نہیں ہے
کورونا یہود و ہنود کی سازش ہے، تاکہ وہ مسلمانوں کو مساجد سے دور کر سکیں
کورونا کے زیادہ سے زیادہ مریض دکھا کر حکومت امداد اکٹھی کر رہی ہے
اسپتالوں میں ہر بیماری کے مریض کو کورونا کا مریض ثابت کیا جا رہا ہے
اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کو زہر کا ٹیکا لگایا جا رہا ہے
ان افواہوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ کورونانہ صرف عوام میں بہت تیزی سے پھیلا اور روزانہ ہزاروں کی تعداد میں مریض آنا شروع ہو ئے بلکہ بدقسمتی سے پاکستان میں وائرس میں مبتلا ہونے اور مرنے والے نوجوان ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہوگئی ہے، اس میں نہ صرف وہ نوجوان شامل ہیں جن کے آگے خوبصورت مستقبل حسین خواب اور ایک روش کئیرئیر تھا بلکہ ایسے تجربہ کار مسیحابھی شامل تھے جو ہمارئے ملک کا اثاثہ تھے، اور جنہیں اس مقام تک پہنچنے میں کئی دہائیاں لگیں، المیہ یہ ہے کہ قوم کے ان مسیحاؤں نے نہ صرف ہماری وجہ سے اپنی جانیں گنوائیں بلکہ ان سازشی عناصر کی پھیلی ہوئی افواہوان کی وجہ سے ہم انہیں قاتل قرار دیتے ہیں۔
ان افواہوں کے پھیلے اور پھیلانے کا ذمہ دار کون ہے یقیناً ہم سب ہیں، جو سوشل میڈیا پر آنے والے کسی بھی ایسی افواہ کو صرف ایک کلک سے لاکھوں لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں، اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ۔ ۔ ۔
مومنوں اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کو اپنی نادانی سے نقصان پہنچا دو، پھر تم کو اپنے کیے پر نادم ہونا پڑی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (سورہ حجرات : 6)
کیا ہم نے کبھی ایک کلک کرنے سے پہلے تحقیق کی کہ یہ غلط ہے یا صحیح اور اس کو پھیلانے سے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں، اور کیا نقصان دیکھنے کے بعد ہمیں ندامت ہوئی؟
اسی طرح نبی پاک کا فرمان ہے کہ۔ ۔ ۔
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو آگے پھیلا دے (صحیح مسلم :11)
ایک لمحے کے لئے بھی کبھی یہ خیال آیا کہ کہیں ہم کسی سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے تو نہیں پہنچا رہے؟
اگر آج بھی ہم سب اپنا احتساب کرتے ہو ئے سنجیدگی کے ساتھ کورونا جیسے حساس معاملے کو دیکھیں تونہ صرف ہم سازشی عناصر کو کچلنے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ انشا اللہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستانی قوم کورونا جیسی وبا سے نمٹنے میں کامیاب ہو جائے گی۔


