سندھ میں کوسٹل ڈیم کی تعمیر کی ضرورت
سندھ میں سمندر سے ملحقہ علاقوں میں تبدیل ہوتے ہوئے ماحول، ۔ اور دریاے سندھ کے بہاؤ میں کمی کی وجہ سے چند مسائل پیدا ہو رہے ہیں جو شدید طور پر ان علاقوں کے ماحول اور یہاں کے باسیوں کی زندگیوں پر بہت منفی اثرات ڈال رہے ہیں، جن پر سنجیدگی سے توجہ دینا اور ان مسائل کو اس طریقے سے حل کرنا کہ یہ حل سندھ اور خصوصاً ملحقہ علاقوں کے مسائل کو نہ صرف کم کرے بلکہ کئی قدرتی اور دیرینہ مشکلات کو بھی ایک اچھے موقع میں تبدیل کر دے، وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس مسئلے کو ایک سیاسی مسئلہ بنانے کے بجائے اس مسئلے کا ایک انتہائی آسان حل ہے جس کی وجہ سے کوسٹل بیلٹ اور اس کے ملحقہ علاقوں کے جملہ مسائل باآسانی حل ہو سکتے ہیں وہ آسان حل یہ ہے کہ جہاں سے دریاے سندھ سمندر میں گرتا ہے اس کے قریب ایک کوسٹل ڈیم تعمیر کیا جائے جس کی ریزر وائر بھرنے کے بعد ریور فلو بدستور، اوور فلو کی صورت میں سمندر میں گرتا رہے گا، اس ریزر وائر کے بہت سے فوائد ہیں کہ ایک تو سمندر کے آگے بڑھنے کو روکا جا سکتا ہے دوسرے انڈر گراونڈ واٹر کا معیار میٹھے پانی کی لوڈنگ کی وجہ سے بہتر ہو جائے گا، اس ڈیم کی وجہ سے کراچی اور ملحقہ شہروں کے پینے کے پانی کا مسئلہ حل ہو جائے گا اس ریزر وار کی ایک شاخ لیاری ندی کے ساتھ ملا دی جائے تو چند کیوسک کے فلو سے ہی اس علاقے کی انوائرمنٹ بہتر ہو جائے گی اور اس کے دونوں کناروں پر درخت لگانے سے کراچی شہر کی ماحولیاتی آلودگی پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کوسٹل ڈیم کے بینکس یعنی کناروں پر بھی وسیع علاقے میں جنگلات لگاے جا سکتے ہیں جو کراچی حیدرآباد اور ملحقہ شہروں کو صحرائی ریت کے بگولوں سے بچانے کے لیے سکرین کا کام بھی کریں گے اور سندھ میں معدوم ہو چکی مختلف اقسام کی جنگلی حیات کی افزائش بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
اس کوسٹل ڈیم کی دفاعی اہمیت بھی مسلمہ ہے اور یہ کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے ملحقہ شہروں کو بھارت کی طرف سے آرمڈ ڈویژن کے حملہ سے بھی محفوظ رکھے گا اور دشمن کی پیش قدمی کے خلاف ایک موثر دفاعی لائن کا کام بھی کرے گا۔ اس کوسٹل ڈیم کی وجہ سے کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں کی آبادی کو سیوریج کے پانی سے اگائی گئیں مضر صحت سبزیوں سے بھی نجات ملے گی اور دریاے سندھ میں مچھلی کی پیدا وار کے لیے بھی وسیع علاقہ اور سازگار ماحول بھی میسر آ سکے گا۔ اس ریزروائر یعنی جھیل کے قیام سے دریاے سندھ میں پیچھے سکھر تک قدیم زمانے کی طرح کشتی رانی بھی ممکن ہو سکے گی اس کے ساتھ ہی علاقے میں سیاحتی سرگرمیوں میں قابل قدر اضافہ بھی ممکن ہے۔
اگر اس ریزر وائر کی وئیر یعنی رکاوٹ یا بند کے ڈیزائن میں گنجائش رکھی جائے تو محدود تعداد میں بجلی کی پیدا وار بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس ریزروائر یعنی جھیل کو تقریباً ہر سال آنے والے سیلاب کے وقت بھرا جا سکتا ہے اور آگے ڈیڈ وئیر کی وجہ سے یہ جھیل اگلے سیلاب آنے تک قائم اور کارآمد رہے گی، سمندر میں صرف اس کا اوور فلو ہی ڈالا جائے گا۔ غرض درست سروے اور سادہ انجینئیرنگ کو بروے کار لاتے ہوئے اس منصوبے کی تکمیل سے مغربی سندھ کی قسمت بدلی جا سکتی ہے۔



