ایکس کیو 58 اے ’والکائر‘: جنگی ڈرون اور پائلٹ بردار لڑاکا طیارے کے مقابلے میں جیت کس کی ہوگی؟


XQ 58A
ایکس کیو 58 اے ’والکائر‘ ایک مثالی لڑاکا ڈرون ہے تاہم یہ نہیں معلوم کہ اس کے تجربے میں کون سے طیارے حصہ لیں گے

امریکی فضائیہ جولائی 2021 میں ہونے والی ایک نمائش میں پائلٹ بردار لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں ایک جدید خود مختار لڑاکا ڈرون پیش کرے گی۔

یہ پراجیکٹ مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلنے والے ایسے جنگی جہازوں کی تیاری کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے جنھیں اڑانے کے لیے پائلٹ کی ضرورت نہ رہے۔

امریکی محکمۂ دفاع پیٹاگون کے جوائنٹ آرٹیفیشیل انٹیلیجنس سینٹر کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل جیک شاناہن نے اس تجربے کو انتہائی ‘جرات مندانہ خیال’ قرار دیا ہے۔

ایئر فورس میگزین نے بھی خود مختار لڑاکا ڈرون کی تیاری کو فوج کے لیے بہت بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔

لیفٹنٹ جنرل شاناہن نے مِچل انسٹی ٹیوٹ فار ایرو سپیس سٹڈیز میں دی گئی بریفنگ کے دوران بتایا کہ گدشتہ ہفتے انھوں نے اس پراجیکٹ کے سربراہ اور ایئر فورس ریسرچ لیبارٹری (اے ایف آر ایل) سے وابستہ ڈاکٹر سٹیو راجر کے ساتھ ای میل کا تبادلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اے ایف آر ایل ‘فضا میں انسان کے مقابلے میں ایک خود مختار نظام لائے گی۔’

جنرل شاناہن نے کہا کہ فی الحال وہ مصنوعی ذہانت کا زیادہ استعمال نہیں کریں گے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب انسان اور مشینیں مل کر کام کریں گی تو ایک ‘بہت بڑی تبدیلی’ آئے گی۔

Two F-35A Lightning II aircraft en route to the 354th Fighter Wing at Eielson Air Force Base, Alaska
ایلون مسک جیسے مبصرین کہتے ہیں کہ خود سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت لڑاکا طیاروں کے پورے نظام کو بدل کر رکھ سکتی ہے

ڈرونز کے ‘غول’

سنہ 2018 میں اس منصوبے کے آغاز پر ایک ایسے جنگی جہاز کا تصور پیش کیا گیا تھا جو تمام کارروائی بغیر پائلٹ کے انجام دے سکے گا۔

جب ائیر فورس میگزین نے ان سے پوچھا کہ کیا اس منصوبے کا مطمع نظر اب بھی یہ ہی ہے تو جنرل شاناہن نے کہا کہ وہ نہیں جانتے مگر اے آئی سے چلنے والے سسٹم مختلف کاموں کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ‘شاید مجھے 65 فٹ چوڑائی والے پروں کے حامل طیاروں کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے، شاید یہ چھوٹے خود مختار جہاز غول کی صورت میں اڑنے کی صلاحیت رکھیں گے۔’

ڈرونز کے ان غولوں کو کوئی پائلٹ کنٹرول کرے گا یا وہ خود سے کام کریں گے۔

یہ منصوبے امریکا کی فوجی صلاحیت بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال کی نئی جہتیں کھولیں گے۔

جنرل شاناہن کا کہنا ہے کہ موجودہ طیارے ایک دم سے غائب نہیں ہو جائیں گے، بلکہ مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے کارکردگی کو بہتر اور باکفایت بنایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں یہ دعوٰی کبھی نہیں کروں گا کہ موجودہ طیارے، جنگی جہاز اور منصوعی سیارے ایک چند برسوں میں ختم ہو جائیں گے۔’

اس برس کے آغاز پر ایلون مسک نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘لڑاکا جیٹ کا زمانہ گزر گیا ہے۔’

ان کا کہنا تھا کہ ایف 35 جیٹ لڑاکا جہازوں کا مقابلہ ڈرون سے ہونا چاہیے جس کے پینروں کو دور بیٹھ کر کنٹرول کیا جائے۔

اپنی ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: ‘ایف 35 اس کا مقابلے نہیں کر سکے گا۔’

جنرل شاناہن کہتے ہیں کہ فوج کو کمرشل سیکٹر میں بغیر ڈرائیور والی کاروں سے متعلق ہونے والی پیش رفت سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

البتہ انھوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ دہائی کے دروان 10 کمپنیاں لیول فور خود مختار گاڑیوں کی تیاری پر 13 سے 17 ارب ڈالر خرچ کر چکی ہیں مگر کوئی کمپنی اب تک ایسی گاڑی نہیں بنا سکی۔

لیول فور گاڑیاں بغیر ڈرائیور کے چل سکیں گی اور انھیں سڑک پر حادثات سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی کسی انسانی مدد کی ضرورت نہیں ہوگی۔


بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp