مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی۔ ۔ ۔ چند حقائق

طلب کرنا علم کا ، ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے
(مشکوۃ شریف)
حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم فرماتے ہیں
” علم کا سیکھنا ہر مرد مومن پر فرض ہے“

جس قوم کا رہبر اور پیغمبر یہ ارشاد کرے اور کلام پاک کے تقریباً 78 ہزار الفاظ میں سے جو سب سے پہلا لفظ پروردگار عالم نے رحمت اللعالمین کے قلب مبارک پر نازل فرمایا یا وہ ”اقرا“ ہے یعنی پڑھ۔

اس قوم کی جہالت اور پسماندگی کا یہ حال ہو کہ اس کے % 7۔ 42 لوگ ناخواندہ ہیں ( 2011 کی مردم شماری کے مطابق) اور ملک میں ساری قوموں میں سب سے زیادہ ناخواندہ لوگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ تو اس سے عظیم سانحہ اور زوال کا سبب اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ ہمارے مقابلے میں دیگر قوموں میں ناخواندگی کی شرح بہت ہی کم ہے۔ جیسے سکھ میں ٪ 5۔ 32، عیسائیوں میں ٪ 6۔ 25، بدھ مذہب میں ٪ 28.2 اور ہندوؤں میں ٪ 36.4 لوگ ہی نا خواندہ ہیں۔ جین مذہب جو کہ تعداد میں ہم سے بہت کم ہیں ان کی خواندگی کی شرح ملک میں سب سے زیادہ٪ 86.4 ہے۔ دیگر اقلیت بھی ہم سے کہیں زیادہ بہتر حالات میں ہیں۔ عیسائی ٪ 74.3، بدھ ٪ 71.8، سکھ ٪ 67.5 اور مسلم سب سے پیچھے ٪ 57.3 ہیں۔

مذکورہ بالا درج شرح کے تناظر میں اگر جائزہ لیں تو دیگر تمام اقلیتوں کی تعلیمی صورت حال ہم سے کہیں زیادہ بہتر ہے جبکہ وہ تعداد میں ہم سے بہت کم ہیں۔

قوم کی بدحالی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو پس پشت ڈال دیا۔ رفتہ رفتہ ہماری حالت دلتوں سے بھی بدتر ہو گئی۔ شاندار ماضی کا تذکرہ کر کے ہی ہم خوش ہوتے رہے اور ہمارا حال اور مستقبل سب تاریک ہو گیا۔ ہم فراموش کر بیٹھے کہ قومیں وہی ترقی کرتی ہیں جو حال کو کامیاب اور مستقبل کو خوشحال بناتی ہیں۔

ہمارے قوم کا المیہ یہ ہے کہ ہم لوگ دینی علوم اور عصری علوم کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر کے چلتے ہیں۔ کچھ آخرت کی سرخروئی پر توجہ دیتے ہیں تو مدرسے کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کچھ دنیا کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں تو وہ اسکول، کالج اور یونیورسٹی کا رخ کرتے ہیں۔ دونوں اس بات سے بے خبر کہ نہ اس سے دین سنورتا ہے نہ دنیا کیونکہ دونوں ہی اپنے تقاضوں پر پورے نہیں اترتے اور اصل مقصد کو پہچان نہیں پاتے۔

قوم کی تعلیمی پسماندگی میں بہت سے عوامل کار فرما ہیں۔ کچھ ہمارے مذہبی رہنماؤں نے اپنا فریضہ خوش اسلوبی سے نہیں نبھایا تو کچھ سیاسی رہنماؤں نے مصلحت پسندی کی دیوار میں قوم کی ترقی کو چنوا دیا۔ ہمارے علمائے کرام، ائمہ حضرات نے اپنے خطبات اور تقاریر میں میں عبادات، ثواب اور گناہ کو تو پوری جانفشانی سے بیان کیا، مگر علم کی فضیلت و افادیت سے متعلق آپ کی احادیث مبارکہ کو اتنی شدت سے دلوں تک نہیں پہنچایا جو اس کا حق بھی تھا اور تقاضا بھی۔ جبکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے

”اے نبی کہہ دیجئے کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے والے برابر ہو سکتے ہیں؟

سیاسی رہنما کی مصلحت کوشی اور دولت پرستی کا جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔ ہمارے سیاسی رہنما مولانا ابوالکلام آزاد نے جس شدت سے تعلیمی پالیسی بنانے اور قوم کو احساس کمتری سے نکالنے میں اپنی زندگی صرف کی آج تک اس کا ایک فیصد بھی ندارد ہے۔ آج پارلیمنٹ میں ہم صرف تعداد کی حد تک حیثیت رکھتے ہیں۔ اور اس خام خیالی میں ہی مسحور ہیں کہ ایوان میں ہم موجود تو ہیں، اس پر آشوب ماحول میں میں ہمارا منتخب ہونا ہی بہت بڑی بات ہے۔

ان سب عوامل کے درمیان میں میں جو وجوہات سب سے زیادہ اثر انداز ہے مگر نظر انداز کیے جاتے ہیں۔ وہ ہماری منفی سوچ ہماری نا امیدی ہے۔ دیہی علاقوں میں لوگوں کے دل و دماغ میں یہ سوچ پختہ ہو گئی ہے کہ مسلمانوں کو نوکری میں حصہ داری نہیں ملتی۔ ان کو تعصب کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ غریب والدین یہ سوچتے ہیں ہیں کہ پھر اپنے خون پسینے کی کمائی تعلیم پر کیوں صرف کی جائے؟ اسے کیوں نہ کوئی ہنر سکھانے میں خرچ کیا جائے جو کارآمد بھی ہے اور کسی خلیجی ممالک کی نوکری میں معاون بھی ہے۔ اس سے کم سے کم اپنا گھرانا تو خوشحال بنایا ہی جا سکتا ہے۔ اور اس منفی رجحان نے قوم کو اعلیٰ تعلیم سے دور کر دیا۔

لڑکیوں کے معاملے میں تو یہ سوچ انتہائی افسوس ناک ہے پہلے تو انھیں سیکنڈری تک ہی نہیں پہنچنے دیا جاتا ہے کہ کہیں بلوغت کی دہلیز پر کھڑی یہ زمانے کی گندگی سے آلودہ نہ ہو جائیں۔ کچھ والدین اگر اس لیول سے آگے جانے بھی دیتے ہیں، تو یونیورسٹی تک پہنچنے سے پہلے روک لیا جاتا ہے کہ کہیں وہ بغاوت کی حد تک باشعور نہ ہو جائیں اور نام نہاد عزت خاک میں مل جائے۔ اور اگر وہ فرمانبردار ہیں تو یہ خدشہ کی ایک اعلی تعلیم یافتہ لڑکی کے مدمقابل ”لڑکا“ تلاشنا دشوار ہو جائے گا۔

شہروں کی تصویر بھی کوئی بہت خوبصورت یا خوش کن نہیں ہے۔ وہاں تو والدین بچوں کو اتنی آسائشیں فراہم کر دیتے ہیں کہ وہ محنت کیے بغیر سب حاصل کر لینا چاہتے ہیں۔ معاشرے کے دوسرے عناصر بھی اس کی راہ میں حائل ہوتے ہیں ہیں۔ مول کلچر اور گیجٹس جس کی رنگینیوں میں وہ اتنا مدہوش ہیں کہ انہیں اپنے مستقبل کی کوئی پروا نہیں ہے۔ شہر کی بچیوں کا تو پورا نظام ہی درہم برہم ہے۔ ہمارے شہروں میں والدہ اور رشتہ دار کا کا سارا زور تو اسی میں ہوتا ہے ہے کہ ہماری بچیاں رونق محفل ہوں تاکہ کوئی امیر گھرانا انہیں اپنے آنگن کی رونق بنا لے۔

اسی نہج پر ان کی پرورش ہوتی ہے اور ان کے دل و دماغ میں یہی مقصد پیوست کیا جاتا ہے۔ تعلیم تو محض ان کے لیے لئے ڈگری کی شکل میں اس مقصد کو پورا کرنے کا اوزار ہوتا ہے۔ کچھ والدین جو خوف خدا رکھتے ہیں اور صوم و صلوۃ کے پابند ہوتے ہیں وہ اپنی ساری توجہ و توانائی اپنی بیٹیوں کو فرمانبردار، عبادت گزار بنانے میں ہی صرف کر دیتے ہیں۔ وہ بھی اعلی تعلیم کو اولیت اور فوقیت نہیں دیتے۔

ایسا نہیں کہ اس دنیا میں مثالیں موجود۔ نہیں ہیں۔ بہت سی ہیں اور کافی تعداد میں ہیں۔ وہ والدین بھی ہیں ایسے بچے بچیاں بھی ہیں جو فخر سے قوم کا اور ملک کا سر بلند کیے ہوئے ہیں۔ ام الخیر، علمہ افروز، شفین حسن، جنید جمشید، انصار شیخ، نورالحسن، سیرت فاطمہ ( ائی۔ اے۔ ایس، ائی۔ پی۔ ایس۔ ٹاپر) شاداب حسین (، سی۔ اے ٹاپر) اشرف قیصرانی (نیٹ ٹاپر) وغیرہ۔ مگر ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ ہماری تاریکی کو مٹانے اور مایوسی سے نکالنے کے لیے ناکافی ہیں۔ ابھی ہمیں بہت سے پہاڑ سر کرنے ہیں۔ بہت سے ریگزاروں میں کنول کھلانے ہیں۔ یہ ذمہ داری آج کے والدین اور نوجوان نسل کو لینا ہے۔ خود بھی علم کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہے اور آنے والی نسلوں کو بھی اسی نہج پر پروان چڑھانا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words