پچاس لاکھ گھر یا آخری آرام گاہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکومت کورونا کے احسانات تلے دبی چلی جا رہی ہے۔ مورخ اس پہلو پر ضرور لکھے گا کہ پاکستان میں ایک ایسی حکومت بھی برسراقتدار آئی تھی جو بظاہر انصاف کے نام پر قائم ہوئی تھی لیکن ایک کورونا نامی وبا نے اس کو بیساکھیاں فراہم کیں اور ان بیساکھیوں کے سہارے یہ حکومت دیگر حکومتوں کی نسبت زیادہ چلتی ہوئی دکھائی دی۔ کورونا کا تازہ ترین کمال یہ ہے کہ اس نے پیرس کلب کو پاکستان کے قرضے چھ ماہ کے لئے اور جی 20 کو ایک سال کے لئے مؤخر کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

یہ وہ قرضے تھے انہیں مؤخر کرنے کے لئے عمران خان سارے اسلامی ممالک کے سربراہوں کو بھی ساتھ لے جاتے تو قرضے مؤخر نہ کرا پاتے لیکن کورونا کا تاج پہنے ہوئے حکومت کو دیکھ کر پیرس کلب اور جی 20 والے قرضے مؤخر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ کورونا کے حیران کن کمالات دیکھ کر کبھی کبھی ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ بھی اسٹیبلشمنٹ کا ہی ”مہرہ“ ہے کیونکہ حکومت کے خلاف یہ الزام تو اب سچ ثابت ہو ہی چکا ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار تک رسائی کے لئے پاکستان تحریک انصاف کی بھرپور مدد کی وگرنہ ہنوز دلی دور است کا معقولہ تحریک انصاف کے لئے ہی تھا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمارے کئی ادارے حکومت کو گرانے اور سنبھالنے میں کام کرتے دکھائی دیے جیسا کہ ماضی قریب میں بھی اور اب بھی نیب بھی ”حسب ذائقہ“ حکومت کے لئے سیاسی خدمات سرانجام دیتا ہوا دکھائی دیتا ہے لیکن جو کام کورونا نے حکومت کے لئے کیا ہے وہ نیب، عدالتیں اور حتی کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی نہیں کر پائی۔ نیب سیاستدانوں کو بلیک میل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے لیکن آج تک نیب کسی بھی حکومت کو مہنگائی اور بے روزگاری کے مقابلے میں شیلٹر دینے میں ناکام رہا ہے جبکہ کورونا نے موجودہ حکومت کو نہ صرف مہنگائی جیسی عفریت سے بچایا ہوا ہے بلکہ عوام روزگار ملنے کی بجائے روزگار کھو بیٹھے ہیں لیکن کورونا کے خوف سے وہ نہ تو مہنگائی کا الزام حکومت پر لگاتے ہیں اور نہ ہی بے روزگاری کا جرم حکومتی کھاتے میں ڈالنے پر تیار دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح نیب اپوزیشن کو گرفتار کر کے لیڈروں سے جزوقتی طور پر محروم کرتا رہا ہے لیکن اپوزیشن کی آواز کو کبھی بھی دبانے میں کامیاب نہیں ہوا مگر کورونا نے یہ بھی کرشمہ کر دکھایا ہے کہ اپوزیشن کی کہیں آواز ہی سنائی نہیں دے رہی بلکہ اپوزیشن کے اندر عوام کے دکھوں کی بجائے اپنے ہی کئی دکھ جاگ چکے ہیں۔

تھانوں، کچہریوں اور سرکاری دفاتر میں ہونے والی زیادتیوں کے خلاف عوام اکثر گلے شکوے کرتے دکھائی دیتے تھے لیکن کورونا نے ایسی ”شٹ اپ“ کال دی ہے کہ اب کسی کو نہ ظلم یاد ہے اور نہ ہی زیادتی۔ موجودہ حکومت کے آغاز میں عوام الناس اسے آخری امید کے طور پر دیکھا کرتے تھے لیکن حکومت کے پہلے دو سال مکمل ہونے کے بعد عوام حکومت کو ”آخری آرام گاہ“ کے طور پر دیکھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ویسے بھی وزیراعظم عمران خان نے اس کا برملا اظہار بھی کیا تھا کہ آرام تو صرف قبر میں ہی مل سکتا ہے۔ لہذا مہنگائی، بے روزگاری اور ٹڈی دل جیسی وباؤں کے باوجود عوام حکومت کے خلاف کورونا کے ڈر سے نہیں بول رہے لیکن دن بدن عوام کے اندر ”اعتماد“ بڑھ رہا ہے کہ موجودہ حکومت آخری امید نہیں بلکہ ”آخری آرام گاہوں“ میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔

کچھ دل جلے تو اب بھی یہ سوچنے لگے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے جو پچاس لاکھ گھروں کا اعلان کیا تھا وہ پچاس لاکھ آخری آرام گاہیں ہی تھیں۔ اگر دیکھا جائے تو گزشتہ ستر سالوں میں بے چاری عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دے کر جتنے دھوکے ہوئے ہیں اس وجہ سے عوام میں بھی آخری آرام گاہ کی طلب زیادہ ہو گئی ہے کیونکہ پاکستان کے حکمرانوں نے اپنی عوام پر ثابت کر دیا ہے کہ یہ دنیا دھوکے کا گھر ہے اور پورے یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ کورونا کے نام پر بھی عوام سے دھوکہ کیا جا رہا ہے وگرنہ دیگر مہلک امراض ابھی جلاوطن نہیں ہوئے۔

کورونا نے سب سے زیادہ سیاسی فائدہ چونکہ پی ٹی آئی کو پہنچایا ہے اس لئے کورونا کا بڑا سا مجسمہ بنا کر بنی گالہ اور وزیراعظم آفس کے گیٹ پر نصب کر دیا جائے تاکہ حکومتی عمائدین اور وزیر مشیر آتے جاتے کورونا کے احسانات کو محسوس کریں۔ البتہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے پارٹی سیکرٹریٹ کے باہر کورونا کے مجسمے لگا کر کارکنوں کو جوق در جوق کنکریاں اور جوتے مارنے کی سہولت فراہم کریں کیونکہ اگر کورونا نمودار نہ ہوتا تو مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) نے تخت بزدار پر مضبوط ہاتھ ڈال دیا تھا مگر کورونا نے آ کر سارا کھیل ہی بگاڑ دیا۔ وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ اگست کے آخر میں کورونا عروج پر ہو گا لیکن یہ نہیں بتایا کہ یکم ستمبر سے کیا کورونا ختم ہونا شروع ہو جائے گا؟ حالانکہ نام نہاد کورونا اگلے تین سال بھی عروج پر ہی ہو گا۔ زوال کس کس کا ہوگا؟ یہ تین سال بعد پتہ چلے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 92 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat

Leave a Reply