معاہدہ امرتسر پر دستخط اور غلامی


گلگت بلتستان پر برٹش انڈیا کے قبضے کی کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب اینگلو سکھ وار میں پنجاب کے سکھوں کو برٹش انڈیا نے شکست دی اور اس جنگ کے بطن سے جدید شاہی ریاست جموں اینڈ کشمیر نے 1846 میں بذریعہ معاہدہ امرتسر جنم لیا۔

معاہدہ امرتسر پر گورنر جنرل آف انڈیا Sir Henry Hardinge اور مہاراجہ گلاب سنگھ آف جموں نے دستخط کیے ۔

معاہدے کے آرٹیکل 1 کے تحت گلاب سنگھ کو دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر واقع پہاڑی کوہستانی ملک اور ان کے ماتحت علاقوں کا اختیار دیا گیا۔

معاہدہ امرتسر کے تحت برٹش انڈیا نے ان مفتوحہ علاقوں کو ستر ہزار نانک شاہی میں گلاب سنگھ کو فروخت کیا۔ ای ایف نائٹ اپنی مشہور تصنیف Where Three Empires Meet میں لکھتے ہیں کہ ”بجائے اس کے کہ ہم اس دور دراز کے ملک کو جس کی اہمیت کا اندازہ اس وقت تک ہم نہیں لگا سکے تھے، اپنے پاس رکھتے، ہم نے 16 مارچ 1848 کو ایک معاہدے کے تحت اسے جموں کے مہاراجہ گلاب سنگھ کے حوالے اس لئے کر دیا کہ یہاں ہمیں بہت زیادہ خدمات سرانجام دینا پڑیں گی اور اس غیر معمولی علاقے میں اس کی بلاشرکت غیرے حکومت تسلیم کرنے کے عوض اس نے ہمیں 75 لاکھ روپے ( نانک شاہی سکہ رائج الوقت ) اس شرط پر ادا کیے تھے کہ اگر اس کی سرحدوں کے قریب ہم کسی سے برسر پیکار ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی پوری فوج کے ساتھ ہماری مدد کرتا، وہ ہماری برتری اور تفوق کو بھی تسلیم کرتا تھا اور وہ ہماری حکومت کو سالانہ تھوڑا بہت خراج بھی ادا کرتا تھا۔

نہ صرف وادی کشمیر بلکہ وہ تمام علاقے بھی جو اس وقت سکھوں نے اپنے زیر نگیں کیے تھے، جن میں لداخ، بلتستان، استور اور گلگت کے اضلاع شامل تھے، ملا کر پورا علاقہ مہاراجہ کی ایک بہت بڑی جاگیر کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ بلتستان پر سکھوں نے 1840 میں قبضہ کیا تھا اس سے پیشتر یہ سکردو کے راجہ اور دیگر راجاؤں کے زیر تسلط رہ چکا تھا۔ ”

شاہی ریاست جموں اینڈ کشمیر کے قیام کے ساتھ ہی سنٹرل ایشیا میں داخل ہونے کے لئے گلگت بلتستان میں واقع پہاڑی دروازے تاج برطانیہ کے تخیل میں سما گئے۔

معاہدہ امرتسر کے تحت گلگت، ہنزہ نگر، چترال و دیگر چھوٹی ریاستیں دریائے انڈس کے مغرب میں واقع تھیں۔

ابتدا میں برطانیہ کے مفادات ہنزہ نگر کی وادیوں سے وابسطہ نہیں تھے بلکہ ان کی دلچسپی مغربی وادیوں یعنی یاسین، چترال کی مغربی اطراف میں تھی جن کی سرحدیں افغانستان کے فرنٹیر میں واقع تھیں۔

بقول ای ایف نائٹ ”کشمیر کو ہندوستان کی شمالی فصیل اور گلگت کو ہندوستان کی سرحدی چوکی کہا جاسکتا ہے۔

جبکہ گلگت سے ملحق علاقہ جس کی تصریح نہیں کی گئی وہ بام دنیا ہے جو وہاں کا ایک بہت ہی موزوں مقام ہے، جہاں دنیا کی تین عظیم سلطنتیں ملتی ہیں، جن میں برطانیہ، روس اور چین شامل ہیں۔

حال ہی میں گلگت کے علاقے کی اہمیت برطانوی سلطنت کی نظر میں بڑھ گئی ہے چونکہ روسی فوج شمالی جانب سلسلہ کوہ ہندوکش کے دروں کو کھنگال رہی ہے۔ روسی اس علاقے کو کئی جگہوں سے عبور کرکے ہمارے اتحادیوں کے علاقوں میں داخل ہو چکے ہیں۔ تاہم اب ہم نے ہندوکش کے اس پار، مسائل سے بھرپور اس سرزمین کو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے مگر اپنی سلطنت کے تحفظ اور دوام کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی پہاڑی اطراف کے دروازوں کو نظر میں رکھے۔ ”

اگرچہ تاج برطانیہ نے مہاراجہ کی ریاست جموں اینڈ کشمیر پر کنٹرول کو تسلیم کیا مگر سنٹرل ایشیاء میں بڑھتی ہوئی روسی مداخلت نے برٹش کو ریاست جموں اینڈ کشمیر میں براہ راست مداخلت کا جواز فراہم کیا۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد 1860 میں برٹش سنٹرل ایشیاء میں بڑھتی ہوئی روسی مداخلت سے خوفزدہ تھے اس لئے گلگت ایجنسی کا قیام عمل میں لایا اور بعد ازاں برٹش انڈیا نے گلگت ایجنسی میں شامل تمام علاقے گلگت لیز ایگریمنٹ 1935 کے تحت مہاراجہ ہری سنگھ سے گلگت 60 سال کے لئے لیس پر لیا اور ان علاقوں میں اپنی سول اور ملٹری ایڈمنسٹریشن قائم کیا۔

معاہدہ امرتسر کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے
پاکستان کے مشہور اخبار The News میں مورخہ 13 مارچ 2016 کو شائع ہونے والے
ارٹیکل بعنوان
Colonial Transactions in Gilgit Baltistan
میں عزیز علی داد لکھتے ہیں کہ

The Amritsar Treaty had two salient features: the absence of local stakeholders in the decision-making process and the lack of knowledge of foreign rulers about the region. It is obvious that in defining the boundaries, no local ruler was consulted by either the British or the Kashmiri rulers.

مہاراجہ نے درحقیقت اس خطے کو کنٹرول کرنے میں بحثیت ایک مہرہ تاج برطانیہ کی مدد کی جہنوں نے مہاراجہ کو یاسین اور چترال فتح کرنے کے لئے ترغیب دی اور اس سے حوصلہ بھی دیا۔

برٹش سلطنت نے گلگت ٹاؤن میں ڈوگرہ افواج کی پوزیشن مضبوط بنانے کے بعد ریاست ہنزہ نگر کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کیے اور برٹش انڈیا نے 1886 کے لاک ہارٹ مشن کے وقت سے اپنا اثر یاسین اور چترال تک بڑھا دیا۔ ڈوگرہ افواج کی جارحیت کے خلاف کوہ قراقرم، ہمالیہ اور کوہ ہندوکش کے دامن میں صدیوں سے آباد بہادر لوگوں نے سخت مقابلہ کیا۔

سال 1877 میں تاج برطانیہ نے پہلی بار لفٹننٹ کرنل جان بڈلف کو بطور افسر برائے خصوصی ڈیوٹی گلگت میں تعینات کیا۔ پولیٹیکل ڈپارٹمنٹ آف برٹش انڈیا نے جان بڈلف کو ذمہ داری سونپی کہ وہ خطے میں کاروبار کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ سیاسی واقعات پر بھی نظر رکھے۔ چونکہ 1870 میں برٹش انڈیا اور کشمیر کے درمیان تجارتی معاہدہ ہوا تھا، مگر درحقیقت اس خطے میں سیاسی معاملات پر نظر رکھنے کے لئے کچھ خاص نہیں تھا اس لئے جان بڈلف کی اصل ذمہ داری اس خطے کو فتح کرنے میں ڈوگرہ فوج کی رہنمائی کرنی تھی۔

ریاست جموں اینڈ کشمیر کی افواج جان بڈلف کے کنٹرول سے باہر تھیں اس لئے جان بڈلف نے اپنی رپورٹ میں ڈوگرہ فوج کی گلگت ریجن کے عوام پر ظلم اور استحصال پر اپنے تحفظات کے بارے میں تاج برطانیہ کو آگاہ کیا، اس کی مفصل رپورٹنگ نے اس خطے پر بعد میں برطانیہ کی براہ راست دعویٰ کی بنیاد رکھی۔

Facebook Comments HS