11 جون، 2004ء: درویش کی موت


1932ء میں بمبئی کے ایک ہلالی میمن خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوا اور اس کا نام ابراہیم جان محمد درویش رکھا گیا۔ درویش 21 برس کی عمر میں کراچی آ گیا اور اردو اخبار ”نئی روشنی“ اور خبر رساں ایجنسی ”پی پی آئی“ سے مختصر وابستگی کے بعد روزنامہ ”ڈان“ میں سب ایڈیٹر بھرتی ہو گیا۔ ساتھ کام کرنے والے دو چار صحافیوں کے سوا اُسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ ویسے بھی ایک لاغر سے عینک لگائے الگ تھلگ کم گو آدم بیزار سے شخص کو زیادہ لوگ جان بھی کیسے سکتے ہیں؟

اور پھر ابراہیم جان محمد درویش کے شوق بھی توعجیب سے تھے۔ یا تو وہ اخبار کی نوکری سے فراغت کے بعد دوسرے اخبار چاٹتا رہتا یا پھر پسندیدہ خبروں کے تراشے جمع کرتا۔ 1965ء میں ہندو پاک جنگ چھڑی تو ایوب خان حکومت نے اخبارات کو باقاعدہ تحریری پریس ایڈوائس دینے کا سلسلہ جاری کیا، یہ ہدایات نہ صرف اس بارے میں ہوا کرتی تھیں کہ کون سی خبر کتنی اور کیسے چھپے گی بلکہ کسی خاص مضمون نگار کو کتنے کالم جگہ ملے گی؟ اِس زمانے میں درویش نے دو کام کیے، ایک تو یہ ہدایات جمع کرنا شروع کیں اور دوسرے ڈان چھوڑ کر بزنس ریکارڈرمیں نوکری کر لی۔

1971ء کے کسی ایک دن درویش کے جمع کردہ اخباری تراشوں اور پریس ایڈوائسوں کا ذخیرہ پر اسرار طور پر غائب ہو گیا۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ کام ایک جان کار صحافی نے کیا تھا جو اب اِس دنیا میں نہیں ہے۔ درویش اس واقعہ سے اتنا دلبر داشتہ ہوا کہ بیمار ہو گیا اور صحافت کے پیشے ہی کو خیر باد کہنے کا فیصلہ کر لیا لیکن پھر وہی ہوا جیسا کچھ دنوں بعد ہوتا ہے۔ درویش نے ایک بار پھر خود کو مجتمع کیا اور نئے سرے سے حوالے، تراشے اور تازہ پریس ایڈوائسیں جمع کرنا شروع کر دیں۔

اِسی زمانے میں درویش اپنی والدہ سے ملنے بمبئی گیا اور وہاں ہندوستان کی صحافتی تاریخ اور جدوجہد پر مبنی کام اس کی نگاہ سے گزرا۔ کراچی واپسی پر اُس نے اپنے کئی ہم عصروں کے سامنے یہ تصور پیش کیا کہ پاکستان میں صحافت کے نشیب و فراز اور مسائل پر کوئی سنجیدہ اور مربوط کام کرنے کی شدید ضرورت ہے لیکن محض زبانی علمی جہاد کے عادی لوگ اس سنجیدہ اور خشک کام کو ایک دوسرے پر رکھ کر ٹالتے رہے۔ چنانچہ لاغر درویش نے یہ بھاری پتھر خود ہی اُٹھانے کا فیصلہ کیا۔

1986ء میں جب ضیاءالحق آمریت کا طوطی بول رہا تھا، درویش نے سکوت کے تالاب میں پہلا بڑا پتھر ”پریس ان چینز“ (صحافت پابند سلاسل) کی شکل میں اُچھال دیا۔ سینہ گزٹ کلچر سے پاک اَس کتاب میں متحدہ ہندوستان میں انگریزی دور سے لے کر پاکستان میں جنرل ضیاءالحق کے دور تک کی صحافتی سیاہ بختیوں کو مکمل دستاویزی حوالوں کے ساتھ قلم بند کیا گیا۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ قلم سے کتنی خوفزدہ رہی ہے، اِس کا اندازہ کتاب کے پہلے ہی باب میں درج اس واقعہ سے ہو سکتا ہے کہ ملک بننے سے صرف تین دن پہلے قائداعظم نے کراچی میں دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں مملکت کے سیکولر کردار پر جو خطاب کیا تھا اُسے اخبارات میں شائع کرنے سے قبل سنسر کر نے کی کوشش کی گئی۔

1990ءمیں جب ابراہیم جان محمد درویش کی طبیعت زیادہ خراب رہنے لگی تو اُنھوں نے بزنس ریکارڈر سے سبکدوشی لے لی مگر درویش کے اندر کا مورخ اور توانا ہو گیا اور دو برس بعد درویش کی دوسری کتاب ”پریس انڈر سیج“ (صحافت محاصرے میں) اور 1994ء میں اِسی سِلسلے کی تیسری کتاب ”دی ویب آف سنسر شپ“ (سنسر شپ کا جال) شائع ہوئی۔ مذکورہ دونوں کتابوں میں صحافت کے خلاف حکومتی ہتھکنڈوں کے ساتھ ساتھ اخباری مالکان اوربعض عامل صحافیوں کی مصلحت کوشی اور منفی کردار کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی گئی۔

اب درویش کی ہڈیاں اور پھیپھڑے اُس کا ساتھ چھوڑ رہے تھے۔ انگلیاں ٹائپ رائٹر سے ہچکچانے لگی تھیں۔ درویش سے نہ تو سیدھا بیٹھا جاتا تھا، نہ ٹھیک طور سے چلا جاتا تھا مگر اندر کی آگ نچلا بھی تو نہیں بیٹھنے دیتی۔ چنانچہ قلم سے لکھنا شروع کیا اور جب یہ بھی دوبھر ہونے لگا تو حارث (بیٹا) کی ڈیوٹی لگی کہ وہ املا لکھے۔

اِنھی حالات میں 1998ء میں جنوبی ایشیا میں جوہری بموں کے تجربات کا دل پر اتنا اثر لیا کہ ایٹمی تباہ کاریوں کو اُجاگر کرنے والی نظموں اور نثر پاروں کو ”زمین کا نوحہ“کے نام سے مرتب کر کے 2000ء میں شائع کیا۔ پھر ”ہاتھ ہمارے قلم ہوئے“ کے عنوان سے تحریر کے جرم میں سزا پانے کے موضوع پر اُردو مضامین شائع کیے۔ ادبی رسالے ارتقا کے نگراں راحت سعید نے درویش کے تیس مضامین یکجا کر کے ”انگلیاں فگار اپنی“ اور نو انٹرویوز یکجا کر کے ”باغبانی صحرا“ کے نام سے دو کتابیں شائع کیں۔ آخری دو برس کے دوران درویش دو کتابی موضوعات پر کام کر رہا تھا۔ ایک موضوع عالمی تاریخ میں حکمرانوں کی جانب سے نذر آتش کی جانے والی لائبریریوں کا احوال تھا اور دوسرا موضوع وہ کتابیں ہیں جو مختلف تاریخی ادوار میں راندہ درگاہ قرار پائیں، یہ کام نامکمل اوراشاعت کے منتظر ہیں۔

ابراہیم جان محمد درویش کا قلم جتنا طاقتور تھا اُس سے بھی زیادہ طاقتور اس کی انا تھی۔ جب بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں گورنر سندھ فخر الدین جی ابراہیم جان محمد درویش سے ملنے گھر پہنچے اور 40,000 روپے کا سرکاری چیک پیش کیا تو درویش نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ”فخرو میری اور اپنی دوستی میں گورنری کو مت لاﺅ“۔ 1995ء میں صدر فاروق لغاری کی جانب سے درویش کے لیے تمغہ حسنِ کارکردگی اور 50,000 روپے کا اعلان ہوا۔ کچھ دنوں بعد حکومت سندھ نے ایک دن میں چھ اخبارات کی اشاعت معطل کر دی۔ درویش نے تمغہ  حسن کارکردگی 50,000 روپے کے چیک کے ساتھ واپس لوٹا دیا۔ البتہ 1997ء میں انسانی حقوق کے کمیشن نے درویش کی خدمات کے اعتراف میں جو نثار عثمانی ایوارڈ دیا وہ درویش نے بخوشی قبول کیا۔

آج اگر درویش کے کمرے میں قدم رکھیں تو آپ کو پرانے اخبارات ، کچھ رجسٹر اور لکڑی کی چند کرسیاں ملیں گی۔ کتابیں کچھ زیادہ نظر نہیں آئیں گی کیونکہ درویش نے دو برس قبل ہی اپنی بیشتر کتابیں اور اخباری تراشوں کا ذخیرہ ڈان اخبار کی لائبریری کو عطیہ کر کے ہاتھ جھاڑ لیے تھے۔ ابراہیم جان محمد درویش 11 جون2004ء کو مر گیا اور اپنے پیچھے ایک ادارہ چھوڑ گیا۔

اس ادارے کا نام ضمیر نیازی ہے۔

Facebook Comments HS