عورت ذات بہکنے کو ہر وقت تیار؟

بسمہ کو شدید تذلیل کا احساس ہوا کہ اب اسکول کا بچہ بھی اسے کم عقلی کا طعنہ دے گا۔ ”
”کیا مطلب، کیا ہوتا ہے سامنے“ اس کا لہجہ تھوڑا تیز ہوگیا۔
”چھوٹی چاچی آپ بہت معصوم ہیں۔ مگر بڑی چاچی کو معصوم مت سمجیے گا۔ یہ جو چاچو کے لیے بھائی ہے بھائی ہے کا شور کرتی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں“
”فہد بری بات ہے بچے ایسی باتیں نہیں کرتے وہ دونوں تمہارے بڑے ہیں۔“
”یہ تو بڑوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کر کیا رہے ہیں، بچے تو دیکھیں گے۔ اور ویسے بھی میں اتنا بھی بچہ نہیں ہوں جتنا گھر والے سمجھتے ہیں۔ شاید آپ سے ایک آدھ سال ہی چھوٹا ہوں گا۔“ اس نے ایک دم ہی بسمہ کا ہاتھ پکڑ لیا
” چاچی سب آپ سے ایسا سلوک کرتے ہیں مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔ مگر میں آپ کے ساتھ ہوں آپ کو جب میری ضرورت ہو مجھے بتایئے گا۔“
کہنے کو اس نے گھر والوں کے رویئے کے حوالے سے کہا مگر کچھ تو تھا اس کے لہجے میں جس سے بسمہ کو لگا وہ کسی اور ضرورت کی بات کر رہا ہے۔ اس وقت اسے فہد، اسلم جیسا لگا۔ اس نے ایک دم اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔
”فہد آپ فکر نہ کریں مجھے کوئی مسئلہ ہوگا میں باسط سے ڈسکس کر لوں گی آپ پریشان نہ ہوں۔“
”چاچی باسط چاچو آپ سے بات ہی کہاں کرتے ہیں آپ کیوں سمجھتی ہیں کہ باقی سب اندھے ہیں۔ خیر آپ کی مرضی ہے ورنہ آپ جب چاہیں میں آپ کی مدد کوتیار ہوں۔“
بسمہ کو احساس ہوہی گیا کہ وہ واقعی بچہ نہیں ہے کافی نپے تلے انداز میں اپنے مقصد کی بات کرگیا۔ بسمہ اندر تک کانپ گئی۔ وہ تو سمجھتی تھی یہ اس کا گھر ہے یہاں وہ محفوظ ہے۔ ایک دم اسے اپنی ہی حالت پہ ہنسی آئی۔ روز رات میں باسط اس ”تحفظ“ کا احساس کافی مناسب طریقے سے دلاتا ہی تھا۔ اور عموماً ہی بسمہ موازنہ کرتی دنیا والوں کے لیے اسلم کا ہاتھ پکڑنا تو غلط تھا مگر اس ظلم پہ کوئی باسط کو کچھ نہیں بولے گا جیسے بسمہ کی جذباتی اور جسمانی تکلیف کی کوئی حیثیت ہی نہ ہو۔ اب تو یہ حال تھا کہ بسمہ کے سرد رویئے سے جھنجھلا کر وہ اسے مارنے بھی لگا تھا۔ مگر بسمہ خود مجبور تھی۔ اس تکلیف کے جواب میں وہ گرم جوشی کیسے دکھاتی؟
اس نے کئی دفعہ نوٹ کیا کہ باسط اس کا موبائل بھی چیک کرتا ہے۔ حالانکہ اس کے پاس نہ بیلنس ہوتا نہ میسج پیکج۔ فائزہ کے جانے کے بعد تو پورا پورا دن وہ موبائل اٹھا کے بھی نہیں دیکھتی تھی عموماً چارج بھی کرنا بھول جاتی تو کئی دن بند پڑا رہتا۔
اتوار کو وہ ناشتہ وغیرہ بنا کر اوپر آئی تو اس کا موبائل باسط کے ہاتھ میں ہی تھا۔
”کیا مصیبت ہے تم سے ایک موبائل بھی چارج نہیں ہوتا۔ گیم کھیلنا تھا مجھے۔“
بسمہ کی نظر غیر ارادی طور پہ باسط کے موبائل پہ گئی۔
”اسی پہ کھیل رہا تھا اس کی بیٹری لو ہوگئی ہے۔ سوچا تمہارے پہ کھیل لوں مگر تم ہمیشہ کی سست عورت ایک موبائل تک چارج کرکے نہیں رکھ سکتیں۔“
اتنی دیر میں وہ بات کرتے کرتے موبائل چارجنگ پہ لگا چکا تھا۔
”مجھے ضرورت نہیں پڑتی تو یاد بھی نہیں رہتا۔“
”اوہو ایسے بتا رہی ہیں محترمہ جیسے مجھے تو پتا ہی نہیں۔ آج کل کوئی ہے ایسا جو موبائل استعمال کیے بغیر رہتا ہو۔ خود بے وقوف ہو تو دوسروں کو بھی سمجھتی ہو۔“
اس نے کہتے کہتے پاور کا بٹن دبایا۔ اسکرین آن ہوتے ہی ایک ساتھ کئی میسج آگئے۔ باسط نے ایک جتاتی ہوئی نظر بسمہ پہ ڈالی اور انباکس میں جاکر پہلا میسج کھول لیا۔
”بسمہ! پلیز مجھے معاف کردو“
”بسمہ مجھے اب تک افسوس ہے میں ایسا لڑکا نہیں ہوں پلیز مجھے معاف کردو۔“
”بسمہ اس دن تمہیں دوبارہ دیکھنے کے بعد سے یہ شرمندگی کا احساس اور بڑھ گیا ہے تم نے معاف نہ کیا تو میں مر جاؤں گا۔“
باسط با آواز بلند میسجز پڑھتا جا رہا تھا۔
اس نے موبائل سائیڈ ٹیبل پہ پٹخا
”دیکھ لیا۔ بڑی پارسا بن رہی تھی دو سیکنڈ پہلے، اب تک یاروں کو پیچھے لگایا ہوا ہے۔ شرم نہیں آتی تجھے نیچ عورت۔“
بسمہ پہ تو سکتہ طاری تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ بس اب اس کی سانس بند ہو جائے گی۔ اسے سمجھ یہ نہیں آ رہا تھا کہ اسلم کو اس کا نمبر ملا کہاں سے؟
ایک لمحے کے لیے اسے لگا شاید یہ کوئی اور ہو مگر کیسے، اور کون ہو سکتا تھا؟ اور کسی نے کچھ ایسا کیا ہی کب جس کی اسے بسمہ سے معافی مانگنی پڑے اور جس نے حال ہی میں بسمہ کو دیکھا ہو۔ بسمہ کا دماغ اسی میں الجھا تھا کہ باسط نے آگے بڑھ کے اس کے بال پکڑ لیے۔
”شرم نہیں آتی تجھے اب بھی ملنے جاتی ہے اس سے۔“
”میں کہیں نہیں گئی۔“ بسمہ اس اچانک حملے پہ گھبرا گئی اس کی آواز کانپنے لگی۔
”جھوٹ پہ جھوٹ؟ تو تیرے عاشق کو خواب میں دیدار ہوا تھا تیرا؟“
”باسط میرا یقین کریں۔ مجھے نہیں پتا یہ کون ہے اور کس بات کی معافی کی بات کر رہا ہے اور اس نے مجھے کہاں دیکھا۔“ بسمہ سسکی۔
”باسط آپ گھر میں کسی سے بھی پوچھ سکتے ہیں میں گھر سے آپ کے ساتھ ہی تو نکلتی ہوں۔“
”کیوں پوچھوں میں کسی سے؟ یہ سامنے ثبوت موجود ہے میرے۔“ ہر دفعہ بات کرتے میں وہ بالوں کو زور سے جھٹکا دیتا تھا۔ تکلیف سے بسمہ کے آنسو بہنے لگے۔
”عورت ذات ہوتی ہی نیچ ہے، شوہر کا چھونا برا لگتا ہے دوسروں کو سب اجازت ہے۔“ باسط اتنی زور زور سے بول رہا تھا کہ برابر کے کمرے سے نازیہ بھابھی اور رافع بھائی بھی نکل کے آگئے۔ نازیہ بھابھی نے آکر بسمہ کو چھڑوایا۔ باسط نے جھٹکے سے بسمہ کو دھکیلا کہ اس کا سر دروازے سے جا کر ٹکرایا اور دندناتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ رافع بھائی نے کچھ سیکنڈ پر تجسس نظروں سے بسمہ کو اور باسط کے پیچھے خالی رہ جانے والی سیڑھیوں کو دیکھا اور پھر کندھے جھاڑ کے کمرے میں چلے گئے۔ نازیہ بھابھی نے بسمہ کو سہارا دے کر بیڈ پہ بٹھایا۔
”دیکھا میں کہتی ہوں ناں، میاں کے مزاج کا خیال رکھا کرو۔ اب پھر کوئی پھوہڑ پن دکھایا ہوگا۔ تم سدھرو گی نہیں اور وہ پھر غصے میں آ کر اور زیادہ مارپیٹ کرے گا۔“
”میں نے کچھ نہیں کیا تھا۔“ بسمہ نے بہ مشکل سسکیوں کے درمیان کہا۔
”بس بی بی کہنے کی باتیں ہیں ہم عورتوں کی یہی تو غلطی ہے اپنی غلطی نہیں مانتیں اور شوہر کے ظلم کے رونے روتی رہتی ہیں۔ بسمہ شوہر مجازی خدا ہوتا ہے اس کی خدمت ہی تو عورت کی اصل جنت ہے“
بسمہ خاموشی سے گھٹنوں میں سر دیے سسکتی رہی۔ نازیہ بھابھی کچھ دیر بیٹھیں پھر شاید بور ہوکر چلی گئیں۔
روتے روتے جب تھک گئی تو پھر دماغ میں یہی بات آئی کہ اسلم کو اس کا نمبر ملا کہاں سے؟ اس نے موبائل اٹھایا سوچا میسج کرے مگر پھر یاد آیا کہ بیلنس ہی نہیں ہے کافی دیر بعد ایک دم خیال آیا تو 10 روپے کا ایڈوانس لے کر فوراً ایک دن کا پیکج کر لیا۔
پیکج کنفرم ہوتے ہی پہلا میسج اس نے یہی کیا
”کون ہو تم یہ نمبر کہاں سے ملا تمہیں“
دوسری طرف شاید وہ موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا۔ فوراً ریپلائے آیا
”میں اسلم فرقان، اس دن تم باسط بھائی کے ساتھ گھر آئی تھیں ناں اس وقت انہوں نے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنا پرانا نمبر تمہیں دے دیا ہے وہ نمبر تھا میرے پاس۔ بسمہ پلیز مجھے معاف کردو اس دن پتا نہیں مجھے کیا ہوا تھا میں بہت شرمندہ ہوں۔“
”تم نے جو میسج کیا وہ باسط نے پڑھا تھاپہلے۔“
”اوہ پھر؟ ، کچھ کہا کیا تمہیں؟ ایم سوری مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تمہارا موبائل ان کے پاس بھی ہو سکتا ہے۔ مجھے شرمندگی اتنی ہے کہ کچھ زیادہ سوچے سمجھے بغیر ہی میسج کر دیا۔ تم کہو تو میں باسط بھائی کو بات کلیئر کردوں؟“
”تم چاہ رہے ہو کہ اب وہ میرا گلا ہی دبا دیں تو موسٹ ویلکم۔“
بسمہ غصے میں اسے ریپلائے کیے جارہی تھی یہ سوچے بغیر کہ یہ مزید مسئلہ نہ بن جائے۔
”واہ بھئی پٹ کر بھی یار سے بات نہیں چھوٹی“
پتا نہیں کب نازیہ بھابھی دوبارہ آ گئی تھیں۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ باسط سے ساری روداد سن کر آئی ہیں۔
”ویسے حیرت ہے باسط جیسا شوہر ہونے کے باوجود تمہیں کسی دوسرے کی ضرورت پڑتی ہے؟“ جس گھٹیا بات تک بسمہ کی سوچ بھی نہیں پہنچتی تھی نازیہ بھابھی وہ باتیں اتنے آرام سے کر لیا کرتی تھیں جیسے ڈیلی روٹین کے کام۔
”نازیہ بھابھی مجھے نہیں سمجھ آ رہا آپ کیا کہہ رہی ہیں، کس چیز کی ضرورت؟ میرا کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔“ کچھ کچھ بسمہ کی سمجھ میں آ رہا تھا مگر وہ نازیہ کو مزید کھلنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔ مگر اسے حیرت یہ ہوئی کہ نازیہ جس طرح حوالہ دے رہی ہے کہ باسط جیسا شوہر اس سے نازیہ کا کیا تعلق۔ اسے کیا پتا کہ باسط ”کیسا“ شوہر ہے؟
”زیادہ معصوم تو تم بنو مت، فہد سے آج کل تمہارے کیا رازونیاز چلنے لگے ہیں اس کا مجھے اندازہ ہے۔ تمہارے لیے کیسے مجھ سے زبان درازی کر رہا تھا۔ یہ فہد ہی کے میسج تو نہیں؟ ویسے زیادہ ہی دلیر ہو، جو کھلم کھلا یار سے میسجنگ کی جارہی ہے۔“
نازیہ بھابھی بہت ہوگیا آپ پلیز چلی جائیں آپ کو پتا بھی ہے آپ کتنی گھٹیا بات کر رہی ہیں؟ فہد بھتیجا ہے باسط کا۔ میرا اور اس کا احترام کا رشتہ ہے۔ ”
”ہاں جی تبھی شرما کے دوپٹے ٹھیک کیے جاتے ہیں۔“
بسمہ نے بہت مشکل سے خود کو کوئی جواب دینے سے باز رکھا۔ وہ اٹھ کر باتھ روم منہ دھونے چلی گئی۔
واپس آئی تو نہ نازیہ بھابھی تھیں نہ موبائل۔
بسمہ کو اچھی طرح یاد تھا کہ وہ موبائل بیڈ پہ سامنے ہی چھوڑ کر گئی تھی۔ مگر پھر بھی تسلی کے لیے اس نے تکیے وغیرہ ہٹا کے دیکھے، سائیڈ ٹیبل کی درازیں چیک کیں مگر موبائل کہیں بھی نہیں تھا۔ اس نے واقعی نہیں سوچا تھا کہ نازیہ بھابھی اتنا زیادہ بڑھ جائیں گی کہ اس سے پوچھے بغیر اس کا موبائل اٹھا کے لے جائیں گی۔ اسے حیرت ہوتی تھی اس عورت کی اخلاقیات پہ جو ہر وقت کوئی نہ کوئی اخلاقی اور مذہبی نصیحت موقعے کی مناسبت سے تیار رکھتی مگر خود کبھی بھی کسی اخلاقی اصول کی پاسداری نہیں کرتی تھی۔ بسمہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے یہ سوچ کر کہ اب باسط اس کی ابھی ابھی ہوئی بات چیت پڑھ لے گا اس کا دل چاہ رہا تھا کہ دو تین بہت بری بری گالیاں خود کو دے اور دو تین اسلم کو۔ وہ اس وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے اسلم کو ریپلائے میسج کیا تھا۔
پھر ایک موہوم سے امید ہوئی کہ شاید کوئی بچہ کھیل کھیل میں اٹھا کے لے گیا ہو وہ فوراً بھاگ کر نیچے آئی مگر آخر کی سیڑھیاں اترے اترتے اس کے قدم آہستہ ہوگئے۔ نازیہ بھابھی اور باسط ہال کمرے میں سامنے ہی بیٹھے تھے نازیہ بھابھی باسط کے کندھے سے جڑی بیٹھی تھیں اور بسمہ کا موبائل انہی کے ہاتھ میں تھا اور وہ باسط کو اس میں کچھ دکھا رہی تھیں۔ دونوں کے سر تقریباً جڑے ہوئے تھے اور نظریں موبائل اسکرین پہ۔ باسط کے چہرے پہ واضح غصہ تھا۔ انہیں شاید بسمہ کے قدموں کی آواز آئی تو ایک ساتھ ہی سر اٹھا کے دیکھا۔ دونوں کی پوزیشن میں صرف اتنا فرق پڑا کہ سر سیدھے ہوگئے اس سے زیادہ دور ہونے کی دونوں میں سے کسی نے کوشش نہیں کی۔
نازیہ بھابھی کے چہرے پہ فاتحانہ سے تاثرات تھے۔ باسط کچھ سیکنڈ بسمہ کو غصے میں گھورتا رہا پھر ایک دم اٹھنے کی کوشش کی مگر نازیہ بھابھی نے ہاتھ پکڑ کے روک دیا اور ہاتھ سہلا کر جیسے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
”باسط آپ کمرے میں جاؤ۔ میں سنبھالتی ہوں مسئلہ، بس آپ پریشان نہ ہو۔“ نازیہ بھابھی نے ایک ہاتھ سے باسط کا گال تھپتھپایا
باسط نے فرمانبردار بچوں کو طرح سر ہلایا اور بسمہ کو گھورتا ہوا برابر سے گزر کے اوپر چلا گیا۔
نازیہ بھابھی نے تاسف سے بسمہ کو دیکھا جو واضح طور پہ بناوٹی لگ رہا تھا۔
”بسمہ کتنے افسوس کی بات ہے آپ ایک مسلمان شریف گھرانے کی لڑکی ہو، عزت دار گھرانے کی بہو ہو۔ کس چیز کی کمی ہے آپ کو جو آپ اس طرح گناہ میں مبتلا ہو رہی ہو۔“
بسمہ کو ان کا بن بن کر آپ آپ کہہ کر بات کرنا شدید زہر لگ رہا تھا۔ وہ پہلے ہی پریشان تھی۔ سر کی چوٹ میں تکلیف ہو رہی تھی پھر نازیہ بھابھی کا اس طرح موبائل اٹھا کے لے آنا، اسے ان پہ اتنا غصہ آ رہا تھا کہ کنٹرول مشکل ہورہا تھا۔
”آپ کس کی اجازت کی سے میرا موبائل اٹھا کر لائیں۔“
”لو، یعنی اپنے کیے پہ کوئی شرمندگی ہی نہیں مجھ سے پوچھ تاچھ ہو رہی ہے۔ بی بی آپ کے شوہر کو حق ہے کہ اسے آپ کی حرکتوں کا پتا ہو تاکہ وہ آپ کو گناہ میں مبتلا ہونے سے روک سکے۔ یہ اس کی شرعی ذمہ داری ہے۔“
ابھی تک جو سب اپنے اپنے کمروں میں تھے اس بلند آواز سے کی جانے والی بحث سے ایک ایک کر کے نکلنے لگے۔ پہلے ساس اور سنیہ باہر آئیں پھر ساتھ والے کمرے سے رافیعہ بھابھی آئیں۔
”کیا ہوا کیوں صبح صبح شور مچا دیا ہے۔“
سنیہ جھنجھلائی ہوئی تھی۔ اسے کالج کی وجہ سے صرف اتوار کا دن ہی نیند پوری کرنے کا ملتا تھا۔
”یہ تو اپنی پیاری چھوٹی بھاوج سے پوچھو کیا کارنامے کر رہی ہیں۔“
سنیہ نے کچھ حیرت سے بسمہ کی طرف دیکھا کیونکہ اب تک کم از کم اس نے یہی دیکھا تھا کہ بسمہ ”کارنامے“ دکھانے والی کیٹیگری کی بندی ہی نہیں تھی۔ سنیہ کو اتنا تو اندازہ تھا کہ اس میں اتنی ہمت ہی نہیں کہ وہ کچھ ایسا ویسا کام کر سکے۔ بلکہ وہ بچاری تو سسرال میں ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی رہتی۔ سسر کی بار بار کی چائے، بچوں کی نوڈلز یا چپس بنانے کی فرمائشیں، سنیہ کے کپڑوں کی استری، ساس کے پیروں کی مالش، پورا دن کسی نہ کسی کی کوئی نہ کوئی فرمائش پوری کرنے میں مصروف نظر آتی تھی اسے کارنامے دکھانے کا وقت ہی کہاں تھا۔
”نازی بھابھی آپ سے تو کم ہی کارنامے ہوں گے مگر پھر بھی ہوا کیا ہے؟“
”محترمہ کا چکر چل رہا ہے احمد کے چھوٹے بھائی سے۔“
”کون وہ اسلم! وہ تو بہت چھوٹا نہیں ہے؟ یہ جانتی ہے اسے؟“
اس بار رافیعہ بھابھی حیرت سے بول پڑیں۔
”جانتی ہی ہوگی تبھی تو وہ میسج کر رہا ہے۔ اور پتا نہیں کیا گل کھلائے ہیں دونوں نے کہ وہ معافی مانگ رہا ہے۔“
” جانتی ہی ہوگی کیا مطلب؟ یعنی ابھی تک اسے ڈھنگ سے بتانے کا موقع دیے بغیر ہی تم اس پہ اتنے بڑے بڑے الزام لگا رہی ہو؟“
”لے لیں آپ اس کی سائیڈ جب بیٹا ہاتھوں سے نکل جائے گا تو سر پکڑ کے روئیں گی۔“
”فہد کی بات کر رہی ہو؟ اس کا اس سب معاملے سے کیا لینا دینا۔“ رافیعہ بھابھی نے مشکوک نظروں سے بسمہ کو دیکھا۔ ساس اور سنیہ کی آنکھوں میں بھی یقین اور بے یقینی کے ملے جلے تاثرات تھے۔ بسمہ کو ان سب کے ردعمل پہ شدید تکلیف ہو رہی تھی وہ تقریباً سال بھر سے ان کے سامنے تھی اس کا کردار اپنے مشاہدے پہ پرکھنے کی بجائے وہ سب ایک غیر یقینی بات پہ یقین کرنے کو تیار تھے۔ کیوں؟ مگر اس کا جواب بسمہ کے پاس نہیں تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا گھر اسکول اب سسرال ہر جگہ اس نے یہی رویہ دیکھا تھا پتا نہیں کیوں لوگ پہلے سے سوچ کے بیٹھے ہوتے ہیں کہ ہر لڑکی ہر وقت بہکنے کے لیے تیار ہوتی ہے۔
”امی، سنیہ بھابھی آپ لوگ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں آپ کو واقعی لگتا ہے کہ ایسا کچھ ہوگا۔“
”لگنے کی گنجائش چھوڑی ہے تم نے؟ موبائل میں اسلم اور تمہارے میسجز ثبوت ہیں اس کا کہ کچھ تو ہوا تھا تم دونوں کے بیچ۔ اور اس کو چلو چھوڑ بھی دیں تو یہ جو تمہارے اور فہد کے بیچ چل رہا ہے وہ کیا ہے“ نازیہ بھابھی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کچھ نہ بول دیں بسمہ کی کردار کی کمزوری کے ثبوت میں۔
”یعنی کسی بھی بات کو آپ اس سے جوڑ دیں گی کہ میں کچھ غلط کر رہی ہوں نہ میسج میں کچھ ایسالکھا ہے نہ آپ نے کبھی فہد اور مجھے کوئی نامناسب بات کرتے دیکھا۔ بلکہ اس حساب سے تو آپ کے اور باسط کے درمیان بھی کچھ ہو سکتا ہے جس طرح وہ آپ کی گود میں سر رکھ کے لیٹتے ہیں آپ دونوں باتیں کرتے ہیں، جڑ جڑ کر بیٹھتے ہیں۔“
اسے اتنا شدید غصہ آیا کہ اسے جو مبہم سا وہم تھا وہ اس کی زبان پہ آ گیا اور وہ بھی صرف اپنا موقف بتانے کے لیے کہ ذرا سی بات چیت کا مطلب ناجائز تعلقات نہیں ہوتے۔
اسے احساس ہی نہیں تھا کہ غصے میں اس نے وہ راز فاش کر دیا جو چھپا ہونے کے باوجود چھپا ہوا نہیں تھا۔ بس وہ ہی بے خبر تھی۔
*****۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (جاری ہے ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ *****

