عید شاپنگ نے کورونا کے نئے ریکارڈ بنا دیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا بھر میں کورونا وائرس جس قدر تیزی سے پھیلا اور ہلاکتیں ہوئیں، الحمدللہ پاکستان میں اتنی تیزی سے نہیں پھیلا حالانکہ کورونا وائرس کا سب سے پہلے حملہ پاکستان کے ہمسایہ ملک چین میں ہوا تھا۔ چین سے یہ وائرس دنیا بھر میں پھیلتا رہا، اس دوران خوش قسمتی سے یہ وائرس چین کے ذریعے پاکستان میں داخل نہیں ہوسکا۔ پاکستان میں یہ وائرس کس طرح اور کہاں سے آیا یہ ایک الگ بحث ہے لیکن یہ ایک حقیقت تھی کہ پاکستان بھی اس وائرس کا شکار ہو کر رہے گا۔

گزشتہ چند دنوں سے ملک میں کورونا وائرس کے گراف میں حیران کن حد تک تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے تازہ اعداد و شمار، میڈیا کی رپورٹس اور اخبارات کے فرنٹ پیج کی سرخیاں چیخ چیخ کر بتا رہی ہیں کہ ملک میں ایک بڑے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں اور کیسز کی تعداد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے، ملک میں پہلی بار کورونا وائرس سے اموات 100 سے اوپر ہوگئیں۔

پاکستان میں جمعہ کے روز 24 گھنٹوں میں ہونے والی اموات کی سب سے بڑی تعداد ریکارڈ کی گئی جو 100 سے زائد ہے اور ایک روز میں سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد بھی 5 ہزار سے زیادہ رہی۔ اسی طرح اتوار کو ملک بھر سے کورونا کے مزید 5094 کیسز اور 66 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں جن میں پنجاب میں 32 افراد جاں بحق اور 1813 کیسز، سندھ میں 16 ہلاکتیں اور 1744 کیسز، خیبرپختونخوا میں 14 ہلاکتیں اور 486 کیسز جب کہ اسلام آباد سے 656 کیسز اور 4 ہلاکتیں سامنے آئیں جبکہ بلوچستان سے 295، آزاد کشمیر سے 65 اور گلگت بلتستان سے 35 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ملک میں لاک ڈاؤن سے قبل تک صورتحال کچھ کنٹرول میں تھی لیکن جونہی لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی خصوصاً عید سے کچھ دن قبل، لوگ اپنے گھروں سے ایسے باہر نکلے جیسے کسی قید سے رہائی پائی ہو۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان ہوا تو لوگوں نے بازاروں، مارکیٹوں کا اندھا دھند رخ کیا، اس موقع پر انھوں نے ایس او پیز کا بھی خیال نہ رکھا، شاید ان کا خیال تھا کہ کورونا ختم ہونے کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی ہے۔ اس موقع پر حکومت نے عوام کو ہر طریقہ سے سمجھانے کی کوشش کی کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطلب کورونا کی نرمی نہ سمجھا جائے لیکن لوگوں نے کسی کی نہ سنی اور عید کی خریداری میں مگن کورونا کو بھول گئے جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ میں نے اپنے کالم ”عید کی خریداری کرتے ہوئے کورونا مت خریدیں“ میں اسی بات کی نشاندہی کرتے ہوئے عوام کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایس او پیز کا خیال نہ رکھا گیا تو نتیجہ خطرناک ہوگا۔

جب حکومت لاک ڈاؤن لگاتی ہے تو لوگ شور مچاتے ہیں کہ گھروں میں قید رہ کر کس طرح گزر بسر کریں اور جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے تو کورونا سے بچاؤ کی تدابیر اختیار نہیں کی جاتیں۔ ہماری عوام بھی عجیب ہے، لاک ڈاؤن لگے تو فاقوں مرنے کی باتیں کرتے ہیں اور لاک ڈاؤن ختم ہو جائے تو کورونا سے مرنے کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ روزانہ ٹی وی پر سب دیکھتے ہیں کہ ہجوم میں جانے سے، ایک دوسرے کے نزدیک آنے سے کورونا پھیلتا ہے پھر بھی گلی محلوں، بازاروں، مارکیٹوں میں جاکر دیکھ لیں لوگ کس قدر ایک دوسرے کے نزدیک ہیں نہ صرف ایک دوسرے کے نزدیک ہوتے ہیں بلکہ ماسک اور گلوز بھی استعمال نہیں کرتے۔

ابھی تک عوام کو یہ آگاہی نہیں ہوسکی کہ کورونا کے پھیلاوکی چین کو توڑنے کے لئے ایک دوسرے سے فاصلہ اختیار کرنا ہوگا۔ اگر یہ فاصلے اختیار نہ کیے گئے تو ہر اگلے دن کورونا سے ہونے والی اموات اور کیسز کا ایک نیا ریکارڈ بنتا جائے گا۔ عوام کو آگاہی کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹائیگر فورس کو خصوصی تربیت دی جائے گی تاکہ وہ عوام کو آگاہی کے ساتھ ساتھ اپنی جان کی حفاظت کو بھی یقینی بنا سکیں۔

ملک کو اس وقت ایک عجیب و غریب صورتحال کا سامنا ہے ایک طرف معیشت کا پہیہ چلانا ہے تو دوسری طرف لوگوں کی زندگیاں بچانا ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی کی حکومت کو شروع سے ہی چیلنجز کا سامنا رہا ہے لیکن کورونا کے سائے میں معیشت کا پہیہ چلانا اور لوگوں کی زندگیاں بچانے کا چیلنج حکومت کے لئے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے پوری قوم کو دعاؤں کے ساتھ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنا ہوں گی تاکہ اس خطرناک وبا سے چھٹکارہ پایا جاسکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply