مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کورونا کا شکار کیسے ہوئی، پارٹی رہنما کیا کہتے ہیں؟


شہباز شریف

پاکستان میں کورونا کی وبا اپنے عروج کی جانب بڑھ رہی ہے اور ملک میں روزانہ نئے متاثرین اور اس کے باعث ہونے والی اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک جانب حکومت عوام کو ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کا کہہ رہی ہے تو دوسری جانب بعض حلقوں کی جانب سے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے مشورے بھی دیے جا رہے ہیں۔

ملک میں کورونا کی وبا نے ہر طبقے اور شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کیا ہے، وہ اداکار ہوں، سماجی کارکن ہوں، یا سیاستدان۔

حال ہی میں کووڈ 19 کا شکار ہونے والوں میں پاکستان کی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سرکردہ اور اہم رہنما بھی شامل ہیں۔

ان میں مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر داخلہ و پلاننگ احسن اقبال، جماعت کی ترجمان مریم اورنگزیب، ان کی والدہ طاہرہ اورنگزیب، سابق وزیر اور اہم رہنما طارق فضل چوہدری کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی رہنماؤں کا بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

کوویڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد مسلم لیگ ن کے تمام رہنماؤں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو شہباز شریف کو گرفتار کرنے سے روک دیا

’لندن ہائی کورٹ میری بے گناہی ثابت کرے گی‘

شہباز شریف واپس کیوں آئے؟

شاہد خاقان عباسی

مگر سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی سیاسی قیادت کورونا کا شکار کیسے ہوئی؟ کیا یہ احتیاطی تدابیر پر عمل نھیں کر رہے تھے؟

اس ضمن میں بی بی سی نے پاکستان مسلم لیگ ن کے سنئیر رہنما احسن اقبال سے جاننے کی کوشش کی کہ مسلم لیگ ن کی سیاسی قیادت کورونا کا شکار کیسے ہوئی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت کو کورونا کا شکار کروانے کا ذمہ دار حکومت کا جبری اور انتقامی سیاسی ایجنڈا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت نے جبری طور پر اپنے انتقامی ایجنڈے کے تحت ہمارے لیے ایسے حالات پیدا کیے ہیں کہ ہم اس وائرس کا شکار ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر مجھے، شاہد خاقان، طارق فضل اور مریم اورنگزیب کو کورونا وائرس مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کی لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت کے لیے پیشی کے موقع پر لگا ہے۔’

انھوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم پہلے سے حکومت اور نیب سے کہہ رہے تھے کہ وہ وبا کے دوران دو ماہ کے لیے اپنی کارروائیاں معطل کر دے یا اگر آپ نے کسی کو طلب کرنا ہے تو آن لائن یا سکائپ کے ذریعے پوچھ گچھ کر لے مگر انھیں خطرے میں مت ڈالیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے تو اس ضمن میں نیب کو خط بھی لکھا تھا مگر وہ نہ صرف اس سے باز نھیں آئے بلکہ وہ تو انھیں گرفتار بھی کرنا چاہتے تھے۔’

ان کا کہنا تھا نیب نے شہباز شریف کو ضمانت کی درخواست دینے پر مجبور کیاا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘چونکہ ہمیں پارٹی سربراہ کے ساتھ ہائیکورٹ میں پیش ہونا تھا اور وہاں بہت زیادہ بھیڑ اور گھٹن زدہ ماحول تھا، ہم سب اکٹھے تھے لہذا میرے خیال سے ہم وہاں سے متاثر ہوئے ہیں۔’

احسن اقبال

ان کا کہنا تھا کہ اس کی ذمہ دار مقامی انتظامیہ ہے جنھیں میاں شہباز شریف کی لاہور ہائیکورٹ میں پیشی سے قبل حفاظتی اور احتیاطی اقدامات اٹھانے چاہیے تھے مگر انھوں نے اس دن کوئی اقدامات نہیں کیے تھے۔’

پارٹی اجلاس سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے یا پارٹی کے کسی رکن سے متاثر ہونے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم پارٹی کے اجلاسوں کے اندر بہت زیادہ حفاظتی اقدامات کا خیال کر رہے ہیں، زیادہ تر اجلاس سکائپ یا آن لائن کیے جاتے ہیں تاہم اگر کوئی پارٹی اجلاس کرنا بھی ہو تو اس جگہ پر اچھی طرح پہلے جراثیم سپرے کیا جاتا ہے اور تمام ارکان کی جانب سے ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلے کے خیال بھی رکھا جاتا ہے۔

‘چھوٹے سے چھوٹے اجلاس میں بھی ایس او پیز کا خیال رکھا جاتا ہے۔’

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف کے کورونا سے متاثر ہونے پر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ‘امکان ہے کہ شہباز شریف بھی لاہور ہائیکورٹ سے ہی کورونا سے متاثر ہوئے ہوں ورنہ اس کے بعد وہ نیب پیش ہوئے تھے جہاں سے ان کے متاثر ہونے کے امکانات ہیں کیونکہ نیب کا اپنا آدھے سے زیادہ عملہ کورونا کا شکار ہے۔’

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے پارٹی صدر شہباز شریف کے کورونا سے متاثر ہونے کی ذمہ داری وزیر اعظم عمران خان اور چئیرمین نیب پر عائد کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘شہباز شریف کے متاثر ہونے میں براہ راست عمران خان اور چیئرمین نیب ذمہ دار ہیں۔ شہباز شریف نے نیب کو سکائپ کے ذریعے پیش ہونے کا بھی کہا تھا، وہ کینسر کے مریض ہیں اور انھیں ڈاکٹروں نے سختی سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے، اسی لیے وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے۔’

مریم اورنگزیب

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ انھیں عمران خان کی حکومت نے مجبور کیا کہ وہ ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں اور بعد میں نیب میں پیش ہوں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم تو اس وبا کے آغاز سے ہی پارٹی میں سرگرمیاں کر رہے ہیں لیکن پہلے تو کوئی نہیں پھیلا۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کی والد طاہرہ اورنگزیب بھی شاید مریم سے ہی متاثر ہوئی ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر حکومت یہ اقدامات نہ اٹھاتی، ہمیں دو ماہ بعد پیشیوں پر بلا لیتی اور ہمیں اس طرح کے حالات میں ایکسپوز نہ کرتی تو ہم محفوظ تھے، مگر عمران خان کی حکومت نے نیب کو یہ کہا ہے کہ اپوزیشن کو ٹائٹ کرو اور مجھے انھیں پکڑ کر دو تاکہ ملک میں کوئی اختلافی آواز نہ اٹھائے۔ جس نے ہمیں یہ بیماری لگنے کے امکانات بڑھا دیے۔’

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp