آصف فرخی سے چند بھاگتی دوڑتی، پُرتاثیر ملاقاتیں
یہ ضروری نہیں کہ کسی بھی شخص کو جاننے کے لیئے آپ اُس سے بار بار ملیں، بعض دفعہ زندگی بھر کا ساتھ بھی آپ کو اُس کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا اور کبھی کبھی ایک ہی ملاقات میں آپ کے اندر کی تیسری آنکھ اُس میں وہ سب کچھ دیکھ لیتی ہے جو اُس کے اندر چھپا ہوتا ہے۔
پتہ نہیں اُن کی ہیزل آنکھیں شربتی مائل سُرمئی تھیں یا سُرمئی مائل شربتی، مگر اُن کی آنکھوں میں سے جھانکتا، علم و بصیرت کا سمندر بہت گہرا تھا۔ اُن کی آنکھوں میں ہلکورے لیتا کرب بہت زہریلا تھا۔ ایک نرم سی میٹھی، جگمگاتی خلوص بھری مسکراہٹ ہونٹوں پر کھیلتی ہوئی۔ ایک صاف، شفاف، ریاکاری سے پاک مسکراہٹ۔ وہ جب جب ملے، حیران کر گئے، ہر دفعہ ایک نیا، سچا اور کھرا انسان اُن میں نظر آیا۔
بے لوثی، بے اختیاری، بے قراری، گہرائی اور گیرائی، بے نام سی اُداسی سب کچھ اپنی ذات میں سمیٹ کر بھی مسکراتے ہوئے ہی ملتے، ہماری اُن سے چند ہی سرسری سی بھاگتی دوڑتی ملاقاتیں ہوئیں جن میں نہ وہ ٹھہرے نہ ہم کبھی رُکے۔
اُن سے پہلی ملاقات ڈیفنس میں اُن کے گھر پر، VOA، کے پروگرام کے لیے اُن سے انٹرویو کے سلسلے میں ہوئی، ہم اُس زمانے میں، ہیلتھ جرنل کر رہے تھے اور آصف صاحب، یونیسف میں تھے۔بڑے اخلاق سے ملے، اُس وقت بھی وہی نرم، شفیق، عیاری و مکاری کی آلودگی سے پاک مسکراہٹ اُن کے لبوں پر تیر رہی تھی، بڑے صاف گو، نستعلیق زبان، رکھ رکھاﺅ، خاندانی سبھاﺅ۔ ہم، اُنہیں ایک ہی ملاقات میں اتنا کیسے جان گئے ہم خود حیران ہیں۔
ہماری اُن سے دوسری ملاقات، حبیب یونیورسٹی میں، پروگرام "میں ہوں قائد اعظم کا پاکستان” کے حوالے سے ہوئی۔ ہمیں، وہاں کچھ ایسے طالب علموں کے انٹرویوز ریکارڈ کرنے کی اجازت چاہیئے تھی جو کچی آبادیوں اور مزدور طبقے سے تعلق رکھتے تھے اورTCF سے پڑھ کر، اسکالرشپ پر وہاں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اپنے اُسی پُرخلوص انداز میں ملے اور اجازت دلوانے میں ہماری مدد کی۔
تیسری دفعہ ملاقات نہیں تھی، بس دور سے ہی دکھائی دیئے، KLF کے میلے میں، جو یقینا اُن ہی کا لگایا پودا تھا جس کا پھل آج دوسرے کھا رہے ہیں۔ اپنی ذات کو بھول کر، دن رات ایک کر کے اُنہوں نے اسے آج اس مقام تک پہنچایا کہ جب بھی یہ میلہ برپا ہوتا ہے تو کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ وہیں ایک میلے میں ہمارے دل میں پہلی بار یہ خواہش جاگی کہ ایک دن ہم بھی بحیثیت رائیٹر اسٹیج پر بیٹھیں اور اتنے بہت سارے لوگ ہمارے بارے میں اتنا بولیں، اتنا بولیں کہ تعریف کے ڈونگرے برساتے ہوئے ہمیں بھی آسمان پر چڑھا دیں۔
ہماری، اُن سے چوتھی اور آخری ملاقات، پی ٹی وی کے اسٹوڈیو A میں ہوئی۔عشرت آفرین اُردو کانفرنس کے سلسلے میں آئی ہوئی تھی، ہر دفعہ کی طرح وہ چکنی مچھلی کی طرح ہمارے ہاتھ سے پھسلنے ہی والی تھی کہ ہم نے اُسے مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس دفعہ اربابِ بست و اختیار کچھ کچھ ہمارے قدردان تھے، صاف لفظوں میں اب تک ہم نے اُن سے کوئی پنگا نہیں لیا تھا ورنہ کلہاڑی پر خود چھلانگ لگانے کا گُر کوئی ہم سے سیکھے۔ خوش قسمتی سے جی ایم اور پی ایم ( عطا بلوچ اور عفیفہ) ایک ساتھ مل گئے۔ جب ہم نے اُن سے یہ بتایا کہ عشرت آفرین کا انٹرویو ریکارڈ کرنا ہے اور اُس کی کل کی فلائیٹ ہے تو مشروط زبانی اجازت مل گئی کہ پہلی فرصت میں عشرت کے پہلے مجموعہ کلام ( کنج پیلے پھولوں کا) ایک ایک نسخہ اُنہیں مہیّا کیا جائے۔ بخدا یہ ہماری زندگی کی پہلی رشوت تھی جو بڑے مہذب انداز میں جی ایم آفس کے اوور دی ٹیبل طے ہوئی، ہم نے گھر آ کر موصوف کو وہ نسخہ تھمایا اوروہ معصوم شخص بلا چون و چرا یونیورسٹی جا کر اسٹوڈینٹس کے ساتھ، فوٹو اسٹیٹ والے کے ہاں لائین میں لگ گیا۔ ہماری دوسری فرمائش بھی بڑی جان لیوا تھی کہ سر ورق رنگین ہی ہو تاکہ رشوت میں حقیقت کا بھر پور رنگ جھلکے۔ پھر ہم بے چینی سے عشرت کی واپسی کا انتظار کرتے رہے۔ آخر کار شریفانہ اوقات میں وہ آ ہی گئی ورنہ کبھی رات کے ایک تو کبھی دو بجے تو کبھی فون پر اطلاع کہ فلانے کے گھر رک گئی ہوں۔ موصوف نے اُسے چابی بنوا کر دے دی تھی کہ جب چاہے آﺅ، جاﺅ۔
جیسے ہی عشرت نے اندر قدم رکھا، ہم نے اُسے وہیں دھر لیا "عشرت ! پچھلی دفعہ یونیورسٹی میں جو تمہارا کلام ریکارڈ کیا تھا اُسے تو کوﺅں کی کائیں کائیں کھا گئی۔ اپنے درمیان ایک اچھی شاعرہ پا کر وہ بھی مچل گئے اور اپنی محفل سجا لی، اس دفعہ ہم کوئی رسک نہیں لیں گے اور اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ کریں گے "مگر کب ؟ کل صبح، مگر میری تو فلائیٹ ہے وہ رات کی ہے ہم اطمینان سے بولے۔ "مگر مسلہ یہ ہے کہ اتنی جلدی انٹرویو کرنے کون تیار ہو گا جو، تمہاری شاعری پر پوری دسترس رکھتا ہواور تمہیں خوب جانتا ہو” ہم پریشان سے ہو گئے، ” کون ہو سکتا ہے وہ؟” عشرت کے ذہن میں جھماکا سا ہوا” آصف فرخی، سے کہتے ہیں” "مگر وہ تو ہمیں سرسری سا جانتے ہیں” "مگر وہ میرے کہنے سے ضرور آجائیں گے” وہ اعتماد سے بولی "اتنی رات گئے فون کریں اُنہیں ؟ ابھی جاگ رہے ہوں گے”؟
رات گئے فون کیا اور صبح ہی صبح آصف صاحب اپنی مخصوص شفیق، صبح کی کرنوں جیسی نرم مسکراہٹ لئے، کلین شیوڈ، اسمارٹلی ڈریسڈ اپ سیٹ پر حاضر تھے۔ نہ یہ سوال کیا کہ کانٹریکٹ کہاں ہے؟ کتنی ڈیوریشن کا پروگرام ہے۔ ہم نے اُن کی نشست کی طرف اشارہ کیا مسکراتے ہوئے جا کر بیٹھ گئے۔ بخدا یہ ہماری زندگی کا پہلا پرگرام تھا جو ہم، جیسا ہے اور جہاں ہے کی بنیاد پر کر رہے تھے اتنا کومپرومائیز اپنے کسی پروگرام میں نہیں کیا۔ کرنٹ افئیر کے سیٹ پر بڑا سا لوگو (Logo) بنا تھا پراپس سے جا کر ایک کنگ سائیز کا گلدان اٹھوا کر لائے، اُس لوگو کو چھپایا۔ اُس وقت دل خون کے آنسو رو رہا تھا کہ یہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں۔ کس طرح کا پروگرام بنے گا؟
مگر جب آصف فرخی نے بولنا شروع کیا اور عشرت نے جواب دینے شروع کیے تو ساری کوفت، ایک مسرّت آمیز حیرت میں بدل گئی۔ کتنا خوبصورت، نستعلیق لب و لہجہ، کتنی کمال کی دسترس، لگتا تھا کہ عشرت کی شاعری، گھول کر پی گیا تھا وہ شخص ایسا لگا ایک جھیل کے کنارے کوئی بیٹھا جلترنگ بجا رہا ہو۔ عشرت کی تصنع اور بناوٹ سے پاک خوبصورت شاعری، اُس کا مترنّم لب و لہجہ اور سونے پر سہاگہ ایک نرم سی مسکراہٹ اور گہری آنکھوں میں علم و بصیرت و انکساری کا خوبصورت عکس لئے وہ شخص تھوڑی ہی دیر میں اسٹوڈیو میں ایک سحر سا طاری ہو گیا۔ اُوپر پینل پر، تین کیمروں سے کھیلتے ہوئے، PGM مونیٹر پر نظریں جمائے ہم، مبہوت سے بیٹھے تھے۔ پینل پر بیٹھی، انجینئیر لڑکیاں ( نصرت، غزالہ، فلورا اور صوفیہ) دم بخود بیٹھی تھیں۔ اسٹوڈیو بی کا اسٹاف آ کر خاموشی سے پیچھے، لائین بنا کر کھڑا ہو گیا۔
عشرت نے اپنا کلام پڑھنا شروع کیا تو ہم چونکے نصرت ! ایکو (Echo ) تو وہ چونکی اور کنسول کوقابو کیا۔ دونوں کی گفتگو کے سمندر میں جیسے ہم ڈوب سے گئے۔ ریکارڈنگ ختم ہو گئی مگر سحر باقی رہا۔ اچانک سب نے جوش سے تالیاں بجانی شروع کیں۔ کیمرہ مینز، ہیڈ فون پر مبارکباد دینے لگے تو ہم ہوش میں آئے، سب پوچھنے لگے یہ پروگرام کب آن ایئر ہو گا؟ ٹیپیں سمیٹتے ہوئے ہم نے کہا شاید آٹھ مارچ کو۔ ہمیں ضرور بتانا، یار رفعت ! کتنا قابل اور اٹریکٹیو ہے یہ شخص۔ کیا کمال کی شاعرہ ہے یہ، پلیز ضرور بتانا کب چلے گا۔ رفعت! تم ہمیشہ کچھ نیا کرتی ہو۔ مگر ہم خوشی میں نہائے ہوئے اُن دونوں پر نظریں جمائے یہ سوچ رہے تھے کہ جب دو، گیانی انسان آپس میں گفتگو کرتے ہیں تو اُس میں کتنی کشش اور کتنی طاقت ہوتی ہے، اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں ہوتا بس یہ خودبخود ہو جاتا ہے۔ ہم اٹھے اور چکردار سیڑھی سے اُتر کر جو اسٹوڈیو میں اُترتی ہے، پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ اُن کا شکریہ ادا کیا۔ عشرت کو بھی جانا تھا اُن دونوں کے جانے کے بعد بھی ہم دیر تک اُن کی اور عشرت کی گفتگو کے سحر سے باہر نہ نکل پائے۔
تھوڑی دیر میں موصوف مجلّد رشوتیں یعنی "کنج پیلے پھولوں کا” لے کر پھولی ہوئی سانسوں اور زرد چہرہ لئے پہنچ گئے، جو ہم نے شکریے کے ساتھ عطا اور عفیفہ کی میز پر رکھ دیں۔
آج ہماری نیند کا سائیکل کچھ اُلٹا ہو گیا، بے وقت سوئے، بے وقت جاگے، نیند نہیں آ رہی تھی، کچھ عجیب سی بے کلی تھی، عشرت سے آصف صاحب کی زندگی کے المیے کا پتہ چلا تو دل بھاری سا ہو گیا، وقت گزاری کے لئے "ہم سب "کے کالم پڑھنے شروع کیے تو مبشر زیدی کی تحریر پر نظر پڑی تو دل پر مزید بوجھ آ گیا پھر ایک دم وہ خود اسکرین پر آ گئے، میرے خدایا ! یہ وہ آصف تو تھے ہی نہیں اُن کی گہری آنکھیں تو بالکل خالی تھیں، چہرے پر دُکھ اور کرب کے کالے بادل چھائے ہوئے تھے اُن کے ہونٹ ہل رہے تھے مگر اُن کے اندر کا آصف خاموش تھا۔ وہ جیتے بھی کیسے؟ جب اُن کی زندگی نے اُنہیں خود دھوکا دے دیا تھا۔ وہ ایماندار تو تھے ہی، خود کو کب تک دھوکا دیتے اس لیے خاموشی سے اس بے وفا دنیا سے چلے گئے۔




