کوئٹہ کے گورکن کی ساری قبریں بک چکی ہیں
اسلم گزشتہ آٹھ سالوں سے دن قبرستان میں اور رات گھر پر بسر کرتے ہیں۔ ان کے بچوں کا نان نفقہ قبرستان سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے ہمسائے صبح گھر سے بازار کی طرف چل پڑتے ہیں اور وہ بیلچہ اور کدال کاندھے پر اٹھائے قبرستان کی جانب نکل جاتے ہیں۔
اسلم اور ان کے دیگر تین ساتھی صبح سے لے کر شام تک قبریں کھودتے ہیں۔ کبھی آرڈر پر قبر کھود لی تو کبھی پہلے سے تیار شدہ قبر بیچ ڈالی۔ میرے دوست فون پر میری بات اسلم سے کروانے کے لئے ان کے پاس گئے تو اس وقت مجھے بیلچے اور کدال کے زمین کو چیرنے اور پتھر ہٹانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
دوست نے پوچھا کیا کر رہے ہو؟ اسلم کے پراعتماد لہجے اور لاپرواہی کے انداز میں جواب نے مجھے ششدر کر دیا۔ ”چھوٹے بچے کی قبر کھود رہا ہوں“۔
آٹھ سال مردوں کے بیچ گزارنے اور تقریباً ہر روز کسی نہ کسی کو قبر میں اتارنے نے اسلم کو موت کی خوف سے بالکل لاپروا کر دیا ہے۔ دنیا کی معیشت ادھر سے ادھر ہو جائے نہ موت رکتی ہے اور نہ گورکن بے روزگار ہوتے ہیں البتہ قبرستان جتنی وسیع ہوتے جاتے ہیں گورکنوں کی مالی حالت بہتر ہوتی جاتی ہے۔ اسلم اور ان کے ساتھی آج کل اسی حالت سے گزر رہے ہیں۔
کرونا وبا کی پھیلنے کے بعد کوئٹہ میں مرنے والوں کی تعداد میں اچانک اضافے کی وجہ سے اسلم اور ان کے ساتھیوں کی کھودی گئی ساری قبریں بک چکی ہیں۔ انہوں نے کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس میں پچاس قبریں کھود رکھی تھیں جو بقول ان کے اب ساری بک چکی ہیں۔ وبا سے پہلے وہاں ایک دن میں ایک یا دو میتیں لائی جاتی تھیں لیکن اب کسی روز چھ، کبھی سات تو کبھی دس۔
جس روز یعنی یکم جون کی سہ پہر کو جب میں اسلم سے بات کر رہا تھا تو اس وقت تک بقول ان کے تین میتیں لائی جا چکی تھیں جبکہ ایک روز قبل سات افراد کو دفنایا جا چکا تھا۔ اسلم خان نے بتایا کہ رمضان کے مہینے میں جمعہ کے روز یعنی صرف ایک ہی دن میں تیرہ افراد کو سپرد خاک کیا گیا۔
اسلم کو ایک قبر کھودنے پر پندرہ سے دو ہزار روپے مل ہی جاتے ہیں لیکن اگلی ہی سانس میں وہ مہنگائی کا رونا شروع کر دیتے ہیں۔ مکان کا کرایہ، بجلی اور گیس کے بل اور بچوں کا خرچہ۔ گویا تبدیلی کے ثمرات سے ابھی تک گورکن بھی مستفید نہیں ہو سکے ہیں۔ وہ بھلے ہی دن قبرستان میں گزاریں لیکن زندگی تو تبدیلی سرکار کے سائے تلے ہی گزارنی ہے۔
موت کا سن کر ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، مردے کا چہرہ دیکھ کر رات کو نیند غائب ہوجاتی ہے لیکن جب آپ یہی سوال اسلم سے کرتے ہیں تو وہ بڑے لاپرواہی کے ساتھ کہتے ہیں ”پہلے ڈر لگتا تھا اب نہیں“
پہلے کیسا ڈر؟
”وہ ایسے کہ سارا دن قبریں کھودنے اور میتوں کو دفنانے کے بعد جب رات کو آنکھیں نیند کے لئے بند کر لیتا تو خواب میں قبرستان کے مردے قبروں سے نکل آتے تھے مگر کچھ عرصے بعد یہ سلسلہ بھی رک گیا۔ اب عادی ہوچکا ہوں۔“
(عبدالحئی کاکڑ صحافی ہیں اور پراگ میں ریڈیو مشال کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ کہانی مشال ریڈیو کی ویب سائٹ پر پشتو زبان میں چھپ چکی ہے۔ )




