بیما، لبوان باجو، کوموڈو – قسط 4

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Last Chance to See
Author: Douglas Adams
مترجم: اظہر سعید

اب یہ تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ کم از کم آج کی فلائٹ تو ہمارے بغیر ہی جائے گی۔ ہم نے مردہ دلی سے سامان اٹھا کے ایک وین میں رکھا اور ٹریول ایجنسی کا رخ کیا۔ وہاں بھی ہمارے ساتھ تقریباً وہی کچھ ہوا جو ائرپورٹ پہ ہوا تھا یعنی ایجنسی والے سارا ملبہ ائر لائن پہ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے لیکن بالآخر ہم وہاں سے اگلے روز کے لیے کنفرم ٹکٹ لے کے ہی ٹلے۔ ایجنسی نے ہماری رہائش کے علاوہ بالی کی سیر کے لیے ایک وین کا انتظام بھی کر دیا۔

بالی کی سیر کے دوران ہمیں اندازہ ہوا کہ جانوروں کو ڈھونڈھ کے ان کی طرف اشارہ کرنا بھی ایک کاروبار ہے۔ بلکہ اگر آپ بیٹھنے یا کھڑے ہونے کے لیے صحیح جگہ کا انتخاب کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو آپ اس بندے کی طرف اشارہ کر کے بھی مناسب پیسے کما سکتے ہیں جو جانوروں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ ہم نے تاناہ لوت کے مندر کے باہر دیکھا۔ ساحل کے پاس ایک بہت نیچی لیکن چوڑی سی غار ہے جس کی ایک دیوار میں دو پیلے رنگ کے سانپ رہتے ہیں۔ غار کے سامنے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جو سیاحوں سے پیسے وصول کر کے ایک ڈبے میں ڈال دیتا اور غار کے اندر کھڑے ہوئے اپنے ساتھی کی طرف اشارہ کرتا۔ جب آپ ادھر دیکھتے تو اس کا ساتھی غار کی دیوار میں بنے ہوئے سانپوں کے بل کی طرف اشارہ کرتا جس کے بعد آپ کو سانپوں کی ایک جھلک دکھائی دے جاتی۔

اس شاندار کاروبار کے علاوہ بالی کی سیر میں کوئی قابل ذکر چیز دیکھنے کو نہ ملی۔ ہم نے اپنے گائیڈ سے کہا کہ ہمیں ان جگہوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جہاں عموماً سیاح جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ہمیں ان جگہوں پہ لے گیا جہاں وہ ایسے لوگوں کو لے کے جاتا تھا جو کہتے تھے کہ ہم باقی سیاحوں سے مختلف جگہوں پہ جانا چاہتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی ہر طرف سیاح گھوم رہے تھے، اس لیے ہم نے بالی کو خدا حافظ کہا اور اپنے ہوٹل چلے گئے۔

اگلی صبح ہم ڈینپاسر ائر پورٹ سے ہوائی جہاز پہ سوار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ بیما پہنچنے پہ ہمیں بتایا گیا کہ لبوان باجو کے لئے آج تو کوئی فلائٹ نہیں ہے۔ آپ کل معلوم کیجئے گا۔ لیکن اب تک ہم انڈونیشیا کے اندر کامیابی سے ہوائی سفر کرنے کے پیچیدہ رموز سے آشنا ہوچکے تھے اس لیے ہم نے ان کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا اور مصر ہو گئے کہ ہمیں آج ہی لبوان باجو جانا ہے، جس کے تھوڑی دیر انہوں نے ہمیں ایک چھوٹے سے بوسیدہ طیارے میں دھکیل دیا جو رن وے پہ اڑان بھرنے کے لیے تیار کھڑا تھا۔

جہاز میں بیٹھ کے اس کا جائزہ لیا تو دل بیٹھ گیا۔ یہ شاید پچاس سال پہلے واقعی ہوائی جہاز ہوگا لیکن اب محض ایک ڈھانچہ تھا۔ ہر چیز ٹوٹی پھوٹی، خستہ اور زنگ آلود۔ کاک پٹ کا دروازہ سرے سے غائب تھا۔ مارک نے کچھ دیر کاک پٹ کے اندر غور سے دیکھنے کے بعد کہا، اس کے آدھے سے زیادہ ڈائل اور میٹر تو کام ہی نہیں کر رہے۔ میں نے کہا یہ تو بہت اچھی بات ہے، میٹر کام نہ کر رہے ہوں تو پائلٹ اپنی پوری توجہ جہاز اڑانے پہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ مارک نے میری بات کا بہت برا منایا لیکن میں نے پرواہ نہیں کی۔

بات دراصل یہ ہے کہ اس طرح کے ہوائی سفر کے بارے میں میں نے ایک لائحہ عمل بنایا ہوا ہے جس کی وجہ سے میں جہاز میں بالکل نہیں گھبراتا۔ جہاز سے زیادہ خوفزدہ تو میں کار میں ہوتا ہوں۔ لیکن جہاز میں گھبرانا میں نے چھوڑ دیا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ایک دفعہ آپ جہاز میں سوار ہوجائیں اور اس کے دروازے بند ہو جائیں تو اس کے بعد آپ کے اختیار میں قطعاً کچھ نہیں رہتا۔ اس لیے خوامخواہ پریشان ہونے کا فائدہ؟

اس قسم کے جہاز میں بیٹھ کے شروع سے آخر تک میں احمقوں کی طرح مسکراتا رہتا ہوں۔ اس کے مختلف حصوں سے آنے والی خوفناک آوازوں میں جوں جوں اضافہ ہوتا جاتا ہے، توں توں میری مسکراہٹ اور پھیلتی جاتی ہے۔ لیکن اگر جہاز شدید ہچکولے کھانے لگے یا بہت تیزی سے نیچے جانا شروع کردے تو مسکراہٹ سے کام نہیں چلتا، بلکہ میں قہقہے لگانا شروع کر دیتا ہوں جس سے دوسروں مسافروں کو یقین ہوجاتا ہے کہ میں اپنا دماغی توازن کھو چکا ہوں۔

سو حسب معمول بیما سے لبوان باجو تک کی فلائٹ میں میں مسکراتا رہا جبکہ مارک کے چہرے کا رنگ ہر نئے جھٹکے کے ساتھ اور بھی زرد ہو جاتا۔ لبوان باجو میں لینڈنگ کافی دلچسپ تھی، کیونکہ جہاز کا لینڈنگ گیئر پھنس گیا تھا اور رن وے کے اختتام پہ نظر آنے والے درخت قریب آتے جا رہے تھے۔ کاک پٹ کی چھت میں لگے ہوئے ہینڈل کو دونوں پائلٹ مل کے اپنی طرف کھینچ رہے تھے اور ہم آگے کی طرف جھکے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے کہ جہاز رن وے پہ لینڈ کرے گا یا رن وے کے پار گھنے جنگل میں گر کے تباہ ہو گا۔ جب درخت کافی قریب آ گئے تو دونوں پائلٹ ہینڈل کے ساتھ لٹک گئے اور گیئر نے پائلٹوں کے مجموعی وزن کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے بعد نہ صرف یہ کہ جہاز کے پہیے ایک دھماکے سے رن وے سے ٹکرا گئے بلکہ جہاز اچھلتا کودتا رن وے کے آخری سرے پہ پہنچ کے رک بھی گیا۔

ہم ائرپورٹ سے باہر نکلے تو ہمیں توقع تھی کہ مسٹر چانڈو نامی صاحب ہمیں لینے کے لئے آئے ہوئے ہوں گے جن کے ذمے ہمارے اگلے سفر کے سارے انتظامات تھے۔ لیکن ہماری توقع کے برعکس ہمیں دو مقامی باشندے ملے جن میں سے ایک کا نام کیری اور دوسرے کا موس تھا اور انہی سے معلوم ہوا کہ وہ مسٹر چانڈو کے کارندے ہیں۔ اب تک ہم جتنے لوگوں سے ملے تھے ان میں صرف چانڈو ہی ایسا تھا جس کے نام کے ساتھ مسٹر باقاعدگی سے لگایا جاتا تھا۔

اس لیے ہم اس نتیجے پہ پہنچے کہ چانڈو کوئی توپ چیز ہے جو ہر کس و ناکس کو لینے ائر پورٹ پہ نہیں آتا۔ کیری کچھ شاطر قسم کا انسان تھا جو کسی بات کا صاف اور سیدھا جواب نہیں دیتا تھا۔ اس کو دیکھ کے یوں لگتا کہ وہ ہمیشہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اگر وہ آپ کی طرف دیکھ کے مسکراتا تو اس کی مسکراہٹ آپ تک پہنچنے سے پہلے راستے میں ہی کہیں گم ہو جاتی۔ تاہم موس، کیری سے بہتر تھا اور قابل اعتبار معلوم ہوتا تھا۔ مسٹر چانڈو کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ فی الحال مصروف ہیں لیکن جلد ہم سے ملیں گے۔

ہم نے ان کی پک اپ میں سامان رکھا اور سامان کے اوپر بیٹھ کے لبوان باجو کے قصبے کی طرف روانہ ہو گئے۔ گزشتہ تجربات کی روشنی میں ہم نے ضروری سمجھا کہ پہلے میرپاٹی ائر لائن سے واپسی کی ٹکٹیں دوبارہ کنفرم لی جائیں۔ ائر لائن کے جھونپڑی نما دفترمیں داخل ہوئے تو دیکھا کہ بنیان، نیکر اور ہوائی چپل میں ملبوس ایک اہلکار ایک ننھے سے فیلڈ ریڈیو کی کھڑکھڑاہٹ سن رہا ہے۔

معلوم ہوا کہ یہی ائر لائن کا مقامی مینیجر ہے، جو یہاں کے سارے انتظامات سنبھالتا ہے۔ اسے اپنے ٹکٹ دکھا کے انہیں کنفرم کرنے کی درخواست کی تو جواب میں اس نے کہا کہ وہ ہمارے نام یاد رکھنے کی کوشش کرے گا۔ پھر مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے بولا، ”مجھے ان لوگوں سے مل کے بالکل خوشی نہیں ہوتی جو ریٹرن ٹکٹ لہراتے ہوئے نمودار ہوتے ہیں کیونکہ یہ سراسر نا انصافی ہے۔ آپ کو خود سوچنا چاہیے کہ لبوان باجو میں رہنے والوں کو بھی پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے ریٹرن ٹکٹ کی بجائے واپسی کا ٹکٹ لبوان باجو سے خریدنے میں کیا حرج ہے؟“ ۔

ہم نے وعدہ کیا کہ آئندہ اس بات کا خیال رکھیں گے، جس سے جھونپڑی کا ماحول کچھ خوشگوار ہو گیا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا کہ واپسی کی فلائٹ پہ کتنے مسافر ہیں۔ اس نے کہا، آٹھ۔ لیکن اس کے سامنے دھری لسٹ پہ ہم تینوں کے علاوہ صرف ایک اور نام تھا۔ میں نی کہا، لسٹ پہ تو صرف چار لوگوں کا نام ہے، آٹھ کیسے ہو گئے۔ اس نے کہا، ”کیوں کہ اس فلائٹ پہ ہمیشہ آٹھ مسافر ہوتے ہیں“ ۔

اور چند روز بعد ہم نے دیکھا کہ اس کی بات سو فی صد درست تھی۔ واپسی کی فلائٹ پہ آٹھ مسافر ہی تھے۔ میر پاٹی ائرلائن یہ کیسے کر لیتی ہے، یہ راز اگر برٹش ائر ویز اور دوسری بڑی فضائی کمپنیوں کو معلوم ہو جائے تو ان کے سالانہ منافع میں کروڑوں ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

لبوان باجو میں داخل ہوئے تو ہوا گرمی اور نمی سے بوجھل تھی، لیکن تھوڑی دیر بعد لبوان باجو کی گلیوں میں بہتی نالیوں کی بدبو ہر چیز پہ غالب آ گئی۔ گیسٹ ہاؤس یا چھوٹے ہوٹل کو انڈونیشیا میں لوسمن کہتے ہیں۔ ہم ایک لوسمن میں جا کے مسٹر چانڈو کا انتظار کرنے لگے۔ ہمارا خیال تھا کہ اس کے آتے ہی ہم کوموڈو کے لئے نکل پڑیں گے اس لیے لوسمن میں کمرے لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چیک ان نہ کرنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ سارا ہوٹل خالی تھا، اس لیے ہم نے سوچا کہ اگر یہاں ٹھہرنے کی ضرورت پڑ بھی گئی تو جب جی چاہا، کمرے لے لیں گے۔

ہم وقت گزارنے کے لیے سامان ایک طرف رکھ کے لوسمن کے ڈائننگ ہال میں جا بیٹھے۔ وقت گزرتا رہا، ہم بیٹھے گپ شپ کرتے رہے اور اس دوران اکا دکا مسافر لوسمن میں ٹھہرنے کے لیے آتے رہے۔ شام کے سائے گہرے ہونے لگے تو ہمیں شبہ ہوا کہ شاید آج کوموڈو نہ جا سکیں اور ہوٹل میں ہی رات گزارنی پڑے۔ اب لوسمن کے عملے سے بات کی تو معلوم ہوا کہ سب کمرے تو بک ہوچکے ہیں تاہم انہیں اپنے مہمانوں کو یوں بے یار و مددگار چھوڑنا بھی گوارا نہیں اس لیے انہوں نے ایک کوریڈور میں ہمارے سونے کا انتظام کر دیا، یعنی کوریڈور کا فرش ہمارے حوالے کر دیا کہ اگر جی چاہے تو وہاں لیٹ جائیں، ورنہ چہل قدمی کر لیں۔

شام ڈھلے مسٹر چانڈو نے آ کے خوشخبری دی کہ تمام انتظامات ہو چکے ہیں اور ہم صبح سات بجے کوموڈو جانے کے لیے تیار رہیں۔ بکری کے بارے میں ہمارے استفسار پہ اس نے جواب دیا کہ، ”کوموڈو میں بہت بکریاں ہیں۔ لیکن اگر آپ نیک شگون کے طور پہ بکری کے ساتھ سفر کرنا چاہتے ہیں تو اس کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔“ ہم نے کہا کہ اس کی چنداں ضرورت نہیں جس کے بعد وہ ہمیں شب بخیر کہہ کے چلے گئے اور ہم رات کا کھانا کھا کے سونے کے لیے لیٹ گئے۔

لیکن لبوان باجو میں سونے کی حسرت ہی رہی۔ علی الصبح مرغوں کی بانگوں کی وجہ سے آنکھ کھل جانا تو معمول کی بات ہے لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب مرغے یہ فیصلہ نہ کر پائیں کہ صبح کب ہوئی ہے۔ رات کے ایک بجے انہیں یہ غلط فہمی ہوئی اور آدھ گھنٹے تک لبوان باجو ان کی بانگوں سے گونجتا رہا۔ ڈیڑھ بجے کے قریب کتوں کی لڑائی شروع ہوئی تو مرغوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ خاموش ہو گئے۔ ایک گھنٹے بعد کتوں کا میچ اختتام کو پہنچا تو مجھے یہ جان کے کافی حیرت ہوئی کہ صرف دو بلیاں چالیس کتوں سے زیادہ شور مچا سکتی ہیں۔ اس کے بعد مرغے پھر شروع ہو گئے لیکن جب دودھ والا ٹرک ہارن بجاتا ہوا گزرا تو انہیں دوبارہ سمجھ آ گئی کہ ابھی کچھ رات باقی ہے۔ بالآخر طلوع آفتاب سے ذرا پہلے کے سناٹے میں مجھے نیند کا ایک جھونکا آیا ہی تھا کہ سچ مچ کی صبح ہو گئی اور مرغے پہلی مرتبہ صحیح وقت پہ بانگیں دینے لگے۔

اس کے کچھ دیر بعد ہم ساحل پہ کھڑے اپنی کشتی کا انتظار کر رہے تھے جہاں کیری حسب معمول ہمیں یہ اطلاع دینے کے لیے موجود تھا کہ چند ناگزیر وجوہات کی بنا پہ مسٹر چانڈو تشریف نہیں لا سکیں گے اس لیے وہ ہمیں کوموڈو لے جائے گا۔ ہم رتجگے کے ماروں میں تکرار کی ہمت نہیں تھی، اس لیے ہم خاموشی سے کشتی میں سوار ہو گئے۔ سمندر میں اگرچہ طغیانی تھی لیکن سفر ہماری توقع سے کم خطرناک ثابت ہوا اور ہم تقریباً چار گھنٹے میں کوموڈو پہنچ گئے۔
(جاری ہے )

اس سیریز کے دیگر حصےبالی، بیما، لبوان باجو (قسط 3 )۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *