نمبردار بدلنے سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے


ابن وسیر۔۔۔

\"ibn-waseer\"سارے دن کی بھاگ توڑ کے بعد کمر، چارپائی سے لگتے ہی میر عالم عاشق کی ہائے نکل گئی۔ یہ ہائے ساری دن کی کمر توڑ تھکاوٹ کے بعد میسر آنے والے اس ایک لمحے اور اس سے ملنے والے راحت کا نچوڑ تھی۔ اپنے بازوؤں کا تکیہ بنا کر وہ راحت و سکون کے ان لمحات کی چاشنی کو محظوظ کرنے ہی لگا تھا کہ اُس کا پُتر کہنے لگا۔ \”ابا نواں چوہدری ڈاھڈا بندہ اے\”۔ (نیا چوہدری سخت بندہ ہے) وہ بھی سارا دن باپ کے ساتھ کام میں جُتا رہا تھا۔ لیکن جوان ہڈیاں ہونے کی وجہ سے وہ اتنی تھکاوٹ کا شکار نہ تھا۔ میر عالم نے شدید بیزاری کے باوجود لہجے میں اپنائیت لاتے ہوئے کہا \”پُتر سانوں کیہ فرق پیندا اے۔\” (بیٹے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے)

آج پنڈ میں نئے نمبردار کا چناؤ تھا۔ سارا دن اسی سلسلے میں خوب گہما گہمی رہی۔ پنڈ میں جب بھی ایسا کوئی موقع آتا تھا، کمیوں پر کافی بھاری گزرتا۔ دن بھر میں سکون کا شاید ہی کوئی لمحہ میسر آتا ہو۔ وہ آج صبح ہی صبح حویلی پر پہنچ گیا۔ پہلے پورے پنڈ سے چارپائیاں لا کر پنڈال میں سجاتا رہا۔ جب اس کام سے فارغ ہوا۔ تو اس کو ہر آنے والے مہمان کو چائے پانی پلانے کی ذمہ داری دے دی گئی۔ اسی کے دوران اُسے کبھی اور کام سے بھی بھیج دیا جاتا۔ اور پھر جب کوئی مہمان آتا تو چائے نہ ملنے پر اُسی کی سرزنش بھی ہو جاتی۔ یہ دن بھی ایسا ہی تھا۔ لیکن وہ اپنے پُتر کے ساتھ سارا دن کام جُتا رہا۔

اُس نے ہلکا سا پاسا مارا۔ اس کا پُتر کہنے لگا لیکن ابا فرق تو پڑتا ہے۔اس نمبردار کے ہمارے خلاف نظریات اور سوچ کافی سخت ہے۔ اُس نے اُسی لہجے میں کہا \”پُتر سانوں کیہ فرق پیندا اے\”۔ بیٹا پھر کہنے لگا ابا بات تو ٹھیک ہے لیکن جو نمبردار پہلے تھا وہ ہماری بستی میں کبھی نہیں آیا۔ لیکن جو اس سے پہلے تھا وہ دس پندرہ منٹ کے لئے ہی سہی لیکن کبھی کبھار تو ہمارے بستی میں چکر لگا ہی لیتا تھا۔ لیکن سابقہ نمبردار کبھی نہ آیا البتہ ساتھ والے میراثیوں کی بستی جاتا رہتا تھا۔ میر عالم پُتر کی مسلسل گفتگو سے سمجھ گیا کہ اُس کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے۔ وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ بیٹی کو حقہ لانے کا کہہ کر پُتر سے کہنے لگا دس پُتر \”توں سوچ کیہ ریا ایں۔\”  (بیٹا بتا تو کیا سوچ رہا ہے)

بات کو متوجہ دیکھ کر کہنے لگا دیکھ ابا جو نمبردار ابھی ہٹا ہے اس سے پہلے جو نمبردار تھا۔ وہ ہاڑی، سوہنی پر گندم اور مونجھی بھی زیادہ دیا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ خوشی غمی پر مدد بھی کر دیا کرتا تھا۔ جب کبھی ہمیں ضرورت پڑتی ہماری سُن بھی لیا کرتا تھا۔ پھر یہ آیا، اس نے ہماری ہاڑی، سوہنی بھی کم کر دی۔ جب بھی ہم نے مدد کی التجا کی سُنی ان سُنی کر دی۔ لیکن کام کا بوجھ ہم پر بڑھاتا ہی گیا۔ جب دل کرتا ہے بُلا لیتا ہے اور پھر سارا دن کام کرواتا ہے۔ خوش پھر بھی نہیں ہوتا شام کو چار روٹیوں کے ساتھ، گلاس ڈیڑھ گلاس دودھ دے کر کہتا ہے \”ہور کم کیتا کر نکمیا\” (اور کام کیا کر نکمے)۔ میر عالم نے حقے کا لمبا سا کش لیا اور کہنے لگا \”پتر گل تیری ٹھیک اے پر سانوں کی فرق پیندا اے\”(بیٹے بات تو تیری ٹھیک ہے مگر ہمیں کیا فرق پڑتا ہے)۔ نمبردار بیشک بدل جائے لیکن ان کی سوچ ہم میر عالموں کے لئے وہی رہتی ہے۔

بیٹا کچھ دیر سوچ کر کہنے لگا ابا جی دیکھو پہلے ساتھ کے پنڈ والے نمبردار سے سلام دعا تو ہماری ہے۔ اور وہ ہمارے کام بھی آجاتا تھا۔ لیکن وہ ہمارا اتنا بڑا حمایتی نہیں تھا۔ اب اُس نے اپنے فائدہ کے لئے ہماری بستی سے جو پگڈنڈی گزاری ہے اُس کے بعد اُس کی ہمارے لئے سوچ میں تبدیلی آئی ناں۔ عاشق نے ہلکا سا کھنگورا مارا اور کہنے لگا \”آہو پُتر آئی تے ہے\” (ہاں بیٹا آیا تو ہے)۔ لڑکا پھر بولنے لگا پرانے نمبردار نے ہمارے شریک میراثیوں سے کتنے مراسم بڑھا لئے ہیں۔ اُن کی اس نظریے میں تبدیلی آئی ناں۔ میر عالم پھر سوچتے ہوئے کہنے لگا \”آہو پُتر فرق تے پیا اے\”۔ لڑکا کہنے لگا ابا پہلے والے نمبردار نے ساتھی بستی کے مسلم شیخوں سے پر جو پابندیاں اس سے پہلے والے نمبرداروں نے لگائیں تھی اُن کو ہٹایا ناں۔ مطلب نظریات میں فرق آیا ناں۔ میرا عالم نے آہو پُتر اے گل وی ٹھیک ہے۔ لڑکا تو ابا پھر ہم کیوں اس نمبردار کی طرف دیکھ رہے ہیں؟ ہم کیوں اپنا سوچ اور نظریات کو نہیں بدل لیتے؟ ہم کب تک نمبرداروں کے یونہی غلامی کرتے رہیں گے؟ کب تک ہم اُن کے کہنے پر پرائی لڑائیوں میں پڑ کر اپنی مائیوں کی کوکھوں کو اجاڑتے رہیں گے؟ ابا نئے نمبردار کی جیسی بھی پالیسیاں ہوں، ہمیں تو اپنے حالات کے مطابق اب اپنی پالیسیاں بنانی ہوں گی؟ کیوں ابا کب ہوگا ایسا؟ میر عالم دوبارہ چارپائی پر لیٹ گیا۔ ایک سرد آہ بھری اور پھر مُنہ پر چادر لے کر کہنے لگا \”پر پُتر سانوں کیہ فرق پیندا اے\”۔
نوٹ: کسی بھی حالیہ الیکشن سے مماثلت محض اتفاقی ہوگی۔ شکریہ

Facebook Comments HS