ریکھا اور پنڈی والے شاہ جی
سمجھ نہیں آتا یہ داستان فہم و الم کہاں سے شروع کریں۔ پہلے کے قصے اچھے ہوتے تھے۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، خدا کا بنایا ہوا رسول بادشاہ۔ کسی ملک میں ایک لوزر بادشاہ رہتا تھا جس کے اپنے ہی بنائے ہوئے سپہ سالار سے تعلقات جلد خراب ہوجاتے تھے اور وہ ہیوی مینڈیٹ لے کر بھی حرم کی حریم شاہ بن جاتا تھا۔
چلیں ذکر شاہ جی سے شروع کرتے ہیں۔ شاہ جی جس ادارے سے منسلک تھے وہ نام کی بجائے اپنے سربراہ کے نام کا حصہ بن گیا تھا یعنی احتساب الرحمن۔ شاہ جی کا پورا نام کیا تھا۔ ہم نہیں بتائیں گے۔ ان کی مرضی تھی کہ ہم جس سروس اور گروپ میں ہیں، اسے چھوڑ کر آتش نمرود میں عشق بن کر ان کے ادارے میں کود پڑیں۔ ہم نے یہ کہہ کر جان چھڑائی پاکستان میں احتساب کا عمل ایسا ہی ہے جیسا طوائفوں میں پردے کا رواج۔
ہم نے پوچھا کہ آپ جیسا چارلی چپلن کا جڑواں خوش مزاج بھائی اس دفتر بے معنی میں کیسے مختارے کی طرح وڑ گیا کہنے لگے سیر اور پیسہ۔
کراچی آئے تو ہم انہیں ایک میمن سیٹھ باپو صاحب کی طرف لے گئے۔ اجتماع میں راز داری کی یقین دہانی یہ کہہ کر کرائی کہ باقی دوستوں اور ان کی داشتاﺅں کو دیوار پر لگی تصویر سمجھیں۔ شاہ جی ہمارے ساتھ ہوتے تو بس اتنی احتیاط کی تلقین ہوتی کہ میرا تعارف احتسابی محکمے کے حوالے سے مت کرانا۔ ایسی محافل رنگ و بو میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے کبھی کراچی کے والوں کے سوال جواب ہوتے تو شاہ جی کا جواب اتنا ہوتا کہ میں انٹیلی جینس بیورو میں مغربی افریقہ کے کاﺅنٹر انٹیلی جنس ونگ کا نگران ہوں، میرے سامنے اگر کرغزستان، نیپال یا یوکرین کا دہشت گرد بم نصب کر کے فرار ہو رہا ہو تو میں اسے کچھ نہیں کہوں گا۔ It is not my area of jurisdiction مغربی افریقہ کے حوالے سے کوئی گملا بھی ملک میں ٹوٹ جائے تو آپ مجھے گردن سے پکڑ سکتے ہیں۔
اس دن سیٹھ نے شینا اور دو دیگر خواتین کو بلایا تھا۔ شینا کا تعلق ہوابازی اور سیاحت کے شعبے سے ہے۔ سیٹھ کی رکھیل ہے۔ شینا ذہین ہے ،حساس ہے، اوسط درجے کی حسین مگر بلا کی جامہ زیب، گفتار کی غازی، ناچتی بھی اچھا ہے۔ سیٹھ اور شینا دونوں کو ریکھا بہت اچھی لگتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ زیادہ تر ریکھا ہی کے گانوں پر ناچتی ہے۔ اس کی آواز بھی ریکھا جیسی پر اعتماد اور کراری ہے۔ آنکھ بھی ویسی ہی آہوئے ہراساں جیسی۔ جسے کراچی کے سرمہ فروش اپنی انجمن کے کہنے پر آہ بھر کے دیکھتے ہیں۔ اس رات فلم مقدر کا سکندر کے گیت "سلام عشق میری جاں ذرا قبول کر لو” پر ناچ کر شینا شاہ جی کے ساتھ آن کر بیٹھی تو کم گفتار شاہ جی طوطی شیریں مقال بن گئے۔
ڈوم پیری نیان کی اصلی شمپئین اور تلے ہوئے جھینگوں کا ملا جلا اثر تھا کہ شاہ جی نے کراچی میں پہلی دفعہ سچ بولا اور وہ بھی شینا جیسی فہمیدہ خاتون سے۔ اپنا تعلق احتساب بیورو سے بتایا مگر کچھ گھما پھرا کے۔ شاہ جی نے جب اسے مزید متاثر کرنے کی کوشش کی تو وہ گھماکر موضوع سیاحت کی طرف لے گئی۔ دس پندرہ ملک دیکھ چکی تھی سو کہنے سننے کو بہت کچھ تھا۔
ہمیں بھی لگا شاہ جی کچھ بہہ نکلے ہیں اس پر انکشاف کربیٹھے کہ وہ بیرون ملک آتے جاتے دوبئی میں لازماً ٹرانزٹ لیتے ہی۔ شینا نے وجہ پوچھی تو بتایا کہ دبئی ایرپورٹ پر ٹرانزٹ اس لیے لیتے ہیں کہ کسی بھارتی فلمی ہیروئن کا دیدار ہو جائے۔ شینا کو شاہ جی کا یہ ٹین ایجرز والا شوق دلچسپ بھی لگا اور غیر معمولی بھی۔ اس کے منہ سے انگلش والا واٹ ایسے سنائی دیا جیسے بمباٹ۔۔ شینا جس کام اور مرد سے وابستہ تھی اور جو مزاج کا سبھاﺅ تھا اس کی وجہ سے اس میں ٹوکیو کے موری ٹاﺅز کی طرح چھوٹے موٹے زلزلے کے جھٹکے سہنے کی عادت تھی۔ شینا کو لگتا تھا کہ بات چیت کی اون کے بہت سے رنگ برنگے گولے مل گئے ہیں جن سے وہ سوالات کی سلائیوں پر سوئیٹر بننے لگ گئی۔
اگلا سوال لازمی یہ ہی ہونا تھا کہ پھر کسی سے بڑی اداکارہ سے ملاقات ہوئی۔ وہ کہنے لگے تین دفعہ ایک ہی اداکارہ انہیں ملی اور وہ تھی ریکھا۔ شاہ جی نے مزید واردات یہ ڈالی اور شینا کو متاثر کرنے کے لیے کہنے لگے کہ ایک ہی بھارتی اداکارہ سے دوبئی ایرپورٹ پر گریڈ اکیس کے کسی پاکستانی ڈی۔ ایم۔ جی افسر کے تین دفعہ ملنے کہ مواقع اتنے ہی رئیر ہیں جتنا امریکہ میں سپر لاٹری کا دو دفعہ جیتنا۔
شینا نے کہا پھر تو آپ بہت ہی لکی ہیں۔ شاہ جی منھ بنا کر کہنے لگے مجھے تین وجہ سے ریکھا اچھی نہیں لگتی۔۔ ایک تو اس کی رنگت بہت کالی ہے۔ دوسرے وہ بہت ظالم ہے۔ تیسرے وہ آپ کی طرح مجھے بہت Distant and Cerebral لگتی ہے۔ باپو صاحب کو سیری برل کا مطلب خاص سمجھ میں نہ آیا مگر ڈس ٹنٹ یعنی دور افتادہ پر ایک نگاہ بے بسی سے ہمیں یوں دیکھاجیسے شکوہ کرتے ہوں کہ اسے روکو کہ ہماری عورت کو پٹو تو نہ ڈالے۔
شینا پوچھنے لگی آپ کو ڈارک اسکن کی خواتین اچھی نہیں لگتیں؟ نہیں میںRacist (نسل پرست) نہیں۔ شاہ جی نے وضاحت کی۔ ریکھا کی اسکن میں ایک کائی جیسی سبزی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وٹامن ڈی کی کمی ہو۔ سیاہ فام عورتوں میں بہت تھرو اور باﺅنس ہوتا ہے۔ آپ نے ایتھوپیا، امریکہ اور صومالیہ کی لڑکیاں دیکھیں۔ ریکھا ایسا فیل نہیں دیتی۔
شینا کہنے لگی آپ کو یہ جان کر بڑی حیرت ہوگی کہ جسے آپ کائی کی رنگت والی کہہ رہے ہیں وہی ریکھا جب مکیش اگروال سے اپنی شادی سے پہلے سن نوے کی فروری میں اپنے سسرال والوں سے ملنے گئی تو مکیش کے بڑے بھیا انیل گپتا اگروال کی بیوی نے کہا ”ارے ہمارے گھر تو حور آگئی ہے۔“
وہ آپ کو ظالم کیوں لگتی ہے؟ شینا نے پوچھ ہی لیا۔ ہمارا خیال تھا کہ شاہ جی میں بھی اونٹ والا افسر کینہ ہوگا مگر شمپین کی تراوٹ، شینا کی نرماہٹ، کیلی فورنیا کے تلے ہوئے ریکھا کی آنکھ جیسے باداموں کی ملاحت نے شاہ جی کو مائل بہ رواداری کردیا تھا۔
کہنے لگے یہ تو ممکن نہیں ہوتا کہ ایک جوڑے میں بدمزگی چل رہی ہو تو ہم اصل حقیقت جان پائیں۔ نوبت طلاق تک آن پہنچے تو ہم اس کی سائیڈ لیتے ہیں جو ہمیں اچھا لگتا ہے۔ شادی کے تین ماہ بعد سے تعلقات کشیدہ ہونے لگے تھے حالانکہ ممبئی میں جس رات شادی کا فیصلہ ہوا تو وہ اتنا اچانک تھا کہ دونوں نے اپنی ایک سہیلی کو ساتھ لے جاکررات میں مک تیشور ودیالا نام کے چھوٹے سے مندر میں پنڈت سنجے بوڈاس کو نیند سے جگایا۔ پنڈت جی کو ریکھا کو اپنے مندر میں دیکھ کر اتنی حیرت ہوئی جتنی پنڈت نہرو جی اگر ایڈونا ماﺅنٹ بیٹن کو شادی کے لیے لے کر آجاتے تو شاید انہیں زندہ دیکھ کر نہ ہوتی۔
اس نے تمام ہدایات کو بالائے طاق رکھ کر دونوں سے گنیش پوجا کرائی۔ سپتا پاڈی یعنی ایک دوسرے کا دامن باندھ کر سات پھیرے لگوائے اور شبھ کامناﺅں کے ساتھ وداع کردیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے پنڈتوں نے اسے De-Frock یعنی اپنی دھارمک ذمہ داریوں سے فارغ کر دیا۔ مارچ سن نوے میں ہونے والی شادی کا تین ماہ کے اندر ہی یہ انجام ہو گیا تھا کہ ریکھا نہ اپنے میاں کا فون سنتی تھی نہ اس سے ملنے دہلی آتی تھی۔
تنگ آ کر مکیش اپنی بڑی بھابھی کو، جس نے ریکھا کو حور پکارا تھا، لے کر ستمبر میں دہلی سے اس کے گھر بینڈ سٹینڈ ممبئی پہنچ گیا۔ ریکھا گھر پر نہ تھی اس کی سیکرٹری فرازنہ نے انہیں سمجھایا کہ ریکھا اب مکیش کو تقریباً بھلا چکی ہے۔ اتنے میں ریکھا آئی تو مکیش گاڑی کی طرف لپکا۔ اس ظالم نے کار میں واپس بیٹھ کر دروازہ دوبارہ بند کیا۔ بھابھی تک کو نمستے نہ کیا۔ ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا حکم دیا۔ مکیش برسات میں گاڑی کے ساتھ بھاگتا رہا۔ پکارتا رہا، بے چارے کا گلہ خشک ہوگیا مگر اسے رحم نہ آیا۔ سات ماہ بعد اکتوبر میں مکیش نے ریکھا کا دوپٹہ گلے میں ڈال کر اپنے فارم ہاﺅس ”بسیرا“ پر خودکشی کر لی۔ ایسا لگ رہا تھا احتساب بیورو نے ریکھا پر کوئی فائل بنائی ہوئی ہے جس سے شاہ جی پڑھ پڑھ بتا رہے تھے۔
اب سوال کرنے کی باری شاہ جی کی تھی۔ شاہ جی نے ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کمال ہے شینا بی بی ان کی طرح وہ آپ کو بھی ذہین لگتی ہے؟ کہنے لگی باپو صاحب کی عادت ہے ویب سائٹ کا لنک سنبھال کر نہیں رکھتے۔ جب ریکھا پچاس برس کی ہوگئی۔ اس کا کوئی انگریزی انٹرویو چل رہا تھا۔ میں ان کے سینے پر سر رکھ کر دیکھ رہی تھی۔ ان کی مرضی چینل بدل کر خبریں دیکھنے کی تھی۔ میں نے کہہ دیا۔ ڈونٹ یو ڈئیر۔ میں آپ کو ٹاپ سیکریٹ بتاﺅں۔ میمنوں کو انگلش میں ڈانٹو تو زیادہ ڈر جاتے ہیں۔
ہم نے دیکھا کہ افسر محاسبہ کے چہرے کے تاثرات سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ ریکھا کی موجودہ عمر۔ وہ نصف صدی والا بینچ مارک اور شینا کی اپنی عمر سب کی منی ٹریل ڈھونڈ رہے ہیں۔ شاہ صاحب ان افسروں میں سے تھے جنہیں آملیٹ اچھا لگے تو وہ شیف سے مرغی کا نکاح نامہ ضرور طلب کرتے ہیں۔
شینا کہنے لگی کمال بولتی ہے میں اس کے چار سوال اور ان کے جواب جو مجھے یاد رہ گئے ہیں وہ سناﺅں گی الفاظ میرے ہیں مگر مطلب آپ نکال سکتے ہیں۔ آپ خود ہی فیصلہ کیجئے گا وہ کتنی لی تھل (مہلک) ہے
ریکھا سے پوچھا گیا تھا کہ بطور بھانو گنیشن ریکھا آپ تو بہت موٹی اور دیکھنے بھی بہت معمولی تھیں پھر اتنی جان لیوا کیسے ہوگئیں۔ کہنے لگی ایک مرد، (نام نہیں۔ مجھ سے براہ راست کوئی تعلق نہ سہی مگر دل کے بہت قریب) یہ سب اس کی الفت کا کمال ہے۔
دوسرا سوال :آپ ان سے (امیتابھ بچن) بے تکلف تھیں؟۔ یوں کریں آپ تو مرد ہیں۔ دشوار نہ ہوگا۔ اپنے ذہن میں تکلفی کی ایک ویلیو سیٹ کرکے جو نمبر آپ بے تکلفی کا آخیر سمجھتے ہوں اس سے ضرب دے دیں۔ جو جواب آئے جان لیں ہم اتنے بے تکلف تھے۔
تیسرا سوال آپ نے امیتابھ کے اس تعلق میں کیا کچھ سیکھا؟ ہلکے سے جواب ملا ”فاصلوں کی اہمیت“
چوتھا سوال: دکھ ہے کہ وہ آپ کے ساتھ نہیں ہیں۔
اصل میں بہت کم مرد جان پاتے ہیں کہ عورت کے پاس کون ہے۔ وہ کمرے میں بند بانہوں میں جکڑی ہوئی عورت کو اپنا سمجھتے ہیں۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے وہ عورت وہاں موجود ہو تو مگر دستیاب نہ ہو۔
شاہ جی نے گھڑی دیکھی اور کہنے لگے چلنے کا وقت ہوگیا ہے۔ میرے باس بھی ریکھا جیسی باتیں کرتے ہیں۔ جس پر شینا نے مذاق کیا وہ بھی کنج جی ویرم ساڑھیاں پہنتی ہیں۔ کہنے لگے ارے نہیں، وہ مرد ہیں، بہت طاقتور سرکاری ادارے کے سربراہ۔ صبح کو باپو صاحب سے پوچھ لینا۔











